Category: کیوبا

دہشت گردی کے معاونین کی فہرست میں نام ہونا ہی نہیں چاہیے تھا

15Apr15_BBCکیوبا01BBC_BU

کیوبا نے امریکہ کی جانب سے اس کا نام ’دہشت گردی کے معاونین‘ کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا نام اس امریکی فہرست میں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
امریکہ کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا جا رہا ہے جب اس کے کیوبا سے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔امریکی صدر اوباما نے کیوبا اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتری کا اعلان پچھلے سال دسمبر میں کیا تھا تاہم کیوبا کے خلاف تجارتی پابندیاں برقرار ہیں جو صرف امریکی کانگریس ہی اٹھا سکتی ہے۔امریکہ اور کیوبا کے درمیان سفارت خانے کھولنے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ کیوبا کا نام اس امریکی فہرست میں ہونا تھا جس میں شام، ایران اور سوڈان کے نام بھی شامل ہیں۔امریکہ سے روابط کے لیے ذمہ دار کیوبن سفارت کار جوزفینا وڈال نے منگل کی شب ایک بیان میں کہا کہ ’کیوبا کی حکومت امریکی صدر کی جانب سے کیوبا کو اس فہرست سے خارج کرنے کے منصفانہ فیصلے کو سمجھتی ہے، جس میں اس کا نام شامل ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارا ملک خود دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے جس میں 3478 افراد کی جانیں گئیں جبکہ 2099 معذور ہو گئے۔کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں عام شہریوں نے بھی امریکی فیصلے پر پسندیدگی ظاہر کی۔ ایک شہری ارلنڈا گیرونسیلے نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا: ’ہم دہشت گرد نہیں بلکہ ان کا الٹ ہیں۔ ہم تو امن و سکون کے حامی ہیں۔
15Apr15_BBCکیوبا02
ایک اور شہری سارا پینو نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’وقت آ گیا ہے کہ اوباما اس بات کو تسلیم کر لیں کہ کیوبا وہ نہیں ہے جس کا پرچار وہ دنیا بھر میں کرتے رہے ہیں۔ یہ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات کی بحالی کا وقت ہے۔اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکی صدر براک اوباما کیوبا کا نام دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے حذف کر دیں گے۔صدر اوباما نے امریکی کانگریس کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ کیوبا کی حکومت نے پچھلے چھ ماہ میں عالمی دہشت گردی کی کسی قسم کی مدد نہیں کی ہے بلکہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عالمی دہشت گردی کے خلاف مدد کرے گی۔وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جوش ارنسٹ نے کہا کہ امریکہ کو اب بھی کیوبا کی پالیسیوں اور اقدامات سے کچھ اختلافات ہیں لیکن ان کا تعلق ’دہشت گردی‘ سے نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیوبا کا نام ہٹ جانے کے بعد ایران، سوڈان اور شام کا نام اس فہرست میں شامل رہے گا۔تاہم ربپلکن پارٹی کے لیے سینیٹ کے رکن اور 2016 کے صدارتی انتخاب کے لیے جماعت کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے کے خواہشمند مارکو روبیو نے امریکی صدر کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کیوبا بدستور دہشت گردی کے معاونین میں شامل ہے۔کیوبن نژاد امریکی سینیٹر نے پیر کو کہا کہ ’وہ امریکی قانون سے بھاگنے والوں کو پناہ دیتے ہیں جن میں وہ شخص بھی شامل ہے جس نے نیو جرسی میں 30 برس قبل ایک پولیس اہلکار کو قتل کیا تھا۔
15Apr15_BBCکیوبا03
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ یہ وہی ملک ہے جو شمالی کوریا کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں کے حصول پر عائد پابندیوں سے بچنے میں مدد دے رہا ہے۔کیوبا کا نام امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے اس فہرست میں 1982 میں شامل کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکہ کا کہنا تھا کہ کیوبا کی حکومت مسلح انقلاب کے لیے ان تنظیموں کی مدد کر رہا ہے جو دہشت گردی کا سہارا لیتی ہیں۔امریکہ کی 2013 کی دہشت گردی پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیوبا سپین کے باسک علیحدگی پسند گروہ ایٹا کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔ تاہم کیوبا ان الزامات کی تردید کرتا آ رہا ہے۔1959 انقلاب کے بعد امریکہ اور کیوبا کے تعلقات میں اہم موڑ1960: امریکہ نے سفارتی تعلقات ختم کر دیے اور تجارتی پابندیاں عائد کردیں1961: امریکہ نے بے آف پگز پر قبضے کی حمایت کی جو ناکام رہی۔ فیدیل کاسٹرو نے کیوبا کو کمیونسٹ ملک قرار دیا اور اس کا جھکاؤ سوویت یونین کی جانب شروع ہوا1962: امریکہ کی جانب سے حملے کے ڈر سے کاسٹرو نے سوویت یونین کو کیوبا میں جوہری میزائل نصب کرنے کی اجازت دی۔ اس کی وجہ سے دو عالمی طاقتیں ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئیں1980: کاسٹرو کی جانب سے پابندی اٹھائے جانے پر سوا لاکھ کیوبنز، جن میں زیادہ تر سزائے یافتہ افراد تھے، کیوبا سے بھاگ کر امریکہ پہنچے1993: سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے کیوبا پر تجارتی پابندیاں مزید سخت کر دیں1999: مہاجرین کی کشتی میں سوار ایک بچے کو فلوریڈا میں اس کی ماں کے حوالے کیا گیا جبکہ اس بچے کے باپ کی، جو کیوبا میں رہائش پذیر تھا، خواہش تھی کہ بچہ اس کے حوالے کیا جائے۔ عدالتی فیصلے کے بعد امریکہ نے یہ بچہ اس کے باپ کے حوالے کر دیا۔2002: امریکی نائب سیکریٹری جان بولٹن نے کیوبا کا نام ’ایکسس آف ایول‘ میں شامل کیا2014: صدر اوباما نے کیوبا کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو معمول پر لانے کا اعلان کیا

Advertisements

امریکہ اور کیوبا کے وزرائے خارجہ کی ’تاریخی‘ ملاقات

10Apr15_BBCکیوبا01BBC_Orig

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے پانامہ میں کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو رودریگز سے ملاقات کی ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان نصف صدی سے زیادہ عرصے میں اعلیٰ سطح کے حکام کا پہلا باقاعدہ رابطہ ہے۔ادھر امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کیوبا کا نام دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی کر دی ہے۔اگر اس سفارش پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں کیوبا اور امریکہ میں ان دونوں ممالک کے سفارتخانے دوبارہ کھلنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔وزرائے خارجہ کی ملاقات پانامہ میں براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کے 35 ممالک کی سربراہی کانفرنس کے آغاز سے قبل ہوئی ہے۔بند کمرے میں ہونے والی اس بات چیت کی زیادہ معلومات منظرِ عام پر نہیں آئی ہیں۔ماضی میں کیوبا اور امریکہ کے اعلیٰ حکام 1959 میں ملے تھے جب فیدل کاسترو اور امریکہ کے نائب صدر رچرڈ نکسن کی ملاقات ہوئی تھی۔اس ملاقات کے دو برس بعد فریقین نے سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے اور اب گذشتہ برس ہی امریکہ کے موجودہ صدر براک اوباما نے باہمی تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولنے کی بات کی تھی۔10Apr15_BBCکیوبا02براک اوباما خود بھی اس سربراہ اجلاس کے دوران پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر کیوبن رہنما راؤل کاسترو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔یہ دونوں رہنما جمعے اور سنیچر کو پانامہ میں براعظم شمالی و جنوبی امریکہ کے 35 ممالک کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی کیوبن رہنما آرگنائزیشن اف امریکن سٹیٹس کے سربراہ اجلاس میں شریک ہے۔امریکی سینیٹ کی امورِ خارجہ کی کمیٹی کے رکن سینیٹر بین کارڈن نے کیوبا کا نام نکالنے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اہم قدم ہے۔کیوبا ایران اور شام کے ہمراہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جنھیں امریکہ بارہا عالمی دہشت گردی کا مددگار قرار دیتا رہا ہے۔اس فہرست میں کیوبا کا نام پہلی بار 1982 میں شامل کیا گیا تھا جب اس نے باسک علیحدگی پسندوں اور کولمبیا کے فارک باغیوں کو پناہ کی پیشکش کی تھی۔
10Apr15_BBCکیوبا03سینیٹر کارڈن کا کہنا ہے کہ محکمۂ خارجہ کی جانب سے کیوبا کا نام فہرست سے نکالنے کی سفارش ایک ماہ تک ہونے والے تکنیکی جائزے کا نتیجہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ’یہ کیوبا کے ساتھ ایک زیادہ ثمرآور تعلق بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔اگر صدر اوباما اس سفارش کو قبول کر لیتے ہیں تو امریکی کانگریس کے پاس ان کے اس فیصلے کو رد کرنے کے لیے 45 دن کا وقت ہوگا۔خیال رہے کہ امریکی کانگریس میں صدر اوباما کے کیوبا سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے منصوبے کے کئی مخالفین موجود ہیں جن میں کیون نژاد امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز سرفہرست ہیں۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیوبا کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا معاملہ سربراہی اجلاس کے دوران امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔