Category: چین

اکستانی میزائل اور لڑاکا طیارے کارکردگی میں امریکی ہتھیاروں سے کئی گنا بہتر، رپورٹ

October 31, 201531Oct15_UN میزائیل01
UNews

بیجنگ: دنیا بھر میں پاکستان کے تیارکردہ ہتھیاروں کی مانگ بڑھتی جارہی ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین کے مشترکہ تعاون سے تیار کردہ ایچ جے ایٹ ٹینک شکن میزائل20 ممالک کو برآمد کررہا ہے۔
چین کی ایک معروف ویب سائٹ وانٹ چائنا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان یہ ٹینک شکن میزائل چین سے حاصل ہونے والے لائسنس کے تحت تیار اوربرآمد کررہا ہے، پاکستان نے ان ٹینک شکن میزائلوں کو80 کی دہائی میں استعمال ہونے والے امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائل کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایچ جے ایٹ ٹینک شکن میزائل ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں امریکی میزائلوں سے کئی گنا بہتر ہیں اور پاکستان اب تک 20 ممالک کو10 ہزار ایچ جے ایٹ ٹینک شکن میزائل فروخت کرچکاہے۔پاکستان جن ممالک کو یہ ٹینک شکن میزائل فروخت کر رہا ہے ان میں بنگلہ دیش، مصر، بولیویا، کینیا، ملائشیا، مراکش، ایکواڈور، شام، سوڈان، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اورچین کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ حاصل ہونے کی وجہ سے مستقبل میں پاکستان کو اسلحہ سے متعلق مزید ٹیکنالوجی ملنے کی امید ہے۔دوسری جانب بیجنگ کے سینا ملٹری نیٹ ورک کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک مشترکہ طور پر تیار کئے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر جیٹ طیاروں کی ٹیکنالوجی کو بھارت اور امریکا تک رسائی سے محفوظ رکھیں گے۔ ویب سائٹ کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر کا بلاک ٹو ورژن چین میں ژیاؤلونگ ایف سی ون کے نام سے تیار کیا گیا ہے اور پاکستانی فضائیہ کا حصہ بن چکا ہے جس میں سافٹ ویئر کی بہتری اور ہوا میں ایندھن بھرنے کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔یاد رہے کہ امریکا نے پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کا معائنہ کرنے کے درخواست بھی کی تھی جسے پاکستان نے مسترد کردیا تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر امریکا کے ایف 16 طیاروں سے قدرے بہتر ہے کیونکہ یہ وزن میں ہلکا، دشمن کے ریڈار پر کم نمایاں ہوتا اور ایندھن کے اضافی ٹینک بھی لے جاسکتا ہے، اس کے علاوہ فضا سے فضا تک مار کرنے والے 4 میزائل لے جاسکتا ہے جو ریڈار سے رہنمائی لیتےہیں۔جے ایف 17 تھنڈر کے حوالے سے پاک فضائیہ کی مارکیٹنگ ٹیم کے سربراہ ائیر کموڈور خالد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 7 ہزار گھنٹے کی پروازیں کی گئیں جس میں اس طیارے کی پرواز اور کارکردگی کو بہت موثر دیکھا گیا۔
31Oct15_Exp میزائیل02
Advertisements

داعش : چینی اور ناوریجیئن یرغمالی برائے فروخت

September 10, 2015
10Sep15_AA برائے فروخت01
al-Arabia

عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قابض سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے کہا ہے کہ اس نے ایک چینی اور نارویجیئِن شہری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اس نے ان دونوں کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔اوسلو میں ناروے کی وزیراعظم ایرنا سولبرگ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ داعش نے ایک نارویجیئن شہری کو یرغمال بنا رکھا ہے لیکن انھوں نے کہا ہے کہ ناروے اس کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کرے گا۔داعش نے اپنے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے میگزین دابق میں ان دونوں یرغمالیوں کی تاوان کے بدلے میں رہائی کی پیش کش کی ہے۔ یہ میگزین ٹویٹر پر جاری کیا جاتا ہے۔البتہ اس نے یہ نہیں بتایا کہ ان دونوں کو کہاں سے اور کب پکڑا گیا تھا اور اب انھیں کہاں زیرحراست رکھا ہوا ہے۔

ان دونوں کے بارے میں داعش نے الگ الگ اشتہار شائع کیا ہے اور ان کی تصاویر کے ساتھ لکھا ہے کہ وہ برائے فروخت ہیں۔اس اشتہار میں داعش نے صلیبیوں ،کافروں اور ان کے اتحادیوں کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ اس قیدی سے اس کی اپنی حکومت دستبردار ہوچکی ہے اور اس نے اس کو خرید کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔اس کے بعد تصویر کے آخر میں لکھا ہے:”جو کوئی بھی اس کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرنا چاہتا ہے تو وہ درج ذیل ٹیلی گرام نمبر پر رابطہ کرسکتا ہے۔یاد رہے کہ یہ پیش کش محدود مدت کے لیے ہے”۔تاہم اشتہار میں داعش نے یہ نہیں بتایا ہے کہ چینی یا نارویجیئن شہری کی قیمتِ فروخت کیا ہے اور اس رقم کی ادائی کے لیے وقت کب ختم ہورہا ہے یا ہوگا۔اشتہار میں چینی یرغمالی کی شناخت فان جنگ ہوئی کے نام سے کی گئی ہے۔اس کی عمر پچاس سال ہے اور وہ کنسلٹینٹ ہے۔ادھر اوسلو میں وزیراعظم سولبرگ نے نیوز کانفرنس کے دوران نارویجیئن یرغمالی کا نام اولے جان گرمسگارڈ افستاد بتایا ہے۔اس کی عمر اڑتالیس سال ہے۔وہ ٹرنڈھیم میں ایک جامعہ کے ساتھ وابستہ تھا۔اس کو جنوری میں شام میں پہنچنے کے فوری بعد اغوا کر لیا گیا تھا۔انھوں نے ایک لگ بیان میں کہا کہ ”میں ناروے کے ایک شہری کے اغوا کی تصدیق کرسکتی ہوں۔اس کو شام میں قیدی کے طور پر رکھا جارہا ہے۔اس کیس کی پیروی کے لیے ایک کرائسیس سیل قائم کردیا گیا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ ”یہ ایک سنجیدہ اور پیچیدہ معاملہ ہے ۔ہمارا مقصد اپنے شہری کو بحفاظت واپس ناروے لانا ہے”۔