Category: پاکستان

گیتا کی گھر واپسی کہیں سیاسی فیصلہ تو نہیں؟

Noember 22, 2015
22Nov15_BBC گیتا01
BBC

گذشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج ایک پریس کانفرنس میں بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔ اس کی وجہ حکومت کی کوششوں کے بعد گیتا کی بھارت واپسی تھی۔
سماعت اور گویائی سے محروم گیتا نامی ایک لڑکی پڑوسی ملک پاکستان سے 15 سال بعد واپس لوٹی تھی۔گیتا کو پریس کے سامنے مرکزی حکومت کی ایک بڑی کامیابی کی طرح سے پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں گیتا کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک تصویر جاری کی گئی۔ وہ بہت ہی خوبصورت تصویر تھی جس میں دونوں خوش نظر آ رہے تھے۔
لیکن کیا یہ جشن اور یہ خوشیاں قبل از وقت تھیں؟
22Nov15_BBC گیتا02
حکومت کا اپنی پیٹھ تھپتھپانا شاید قبل از وقت خوشی اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ بعد میں وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سورپ کا بیان آیا کہ گیتا کا ڈی این اے بہار کے جناردن مہتو سے میل نہیں کھاتا۔آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے گیتا کے ڈی این اے نمونے کی جانچ کی تھی۔وکاس سورپ کے مطابق گیتا کو بیٹی کہنے والے مزید دعویدار ہیں جن کے ڈی این اے نمونے کو گیتا کے ڈی این اے سے ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گیتا اس وقت مدھیہ پردیش کے ایک غیر سرکاری ادارے کے آشرم میں رہ رہی ہیں جہاں وزیر خارجہ ان سے پیر کو ملنے جائیں گی۔
22Nov15_BBC گیتا03
ڈی این اے ٹیسٹ کے میل نہ کھانے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آخر گیتا کا خاندان کون اور کہاں ہے؟لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ گیتا کو بھارت واپس لانے کی اتنی جلدی کیا تھی؟وہ کراچی میں رفاحی فاؤنڈیشن ایدھي میں مزے سے رہ رہی تھی جہاں اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ اس کا دل لگا ہوا تھا۔ وہاں گیتا اپنے مذہبی کام بھی کر رہی تھی۔ اسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔گیتا کو اپنے خاندان کی تلاش ہے۔ اسے اس خاندان سے ملانا ایک قابل ستائش کوشش ہے جس کے لیے حکومت کی تعریف بھی کی گئی۔ کیا گیتا کی واپسی میں حکومت نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے؟
22Nov15_BBC گیتا04
کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ پہلے اس کے والدین ہونے کا دعوی کرنے والوں کے ڈی این اے نمونے کو کراچی بھیج کر گیتا کے ڈی این اے نمونے سے ملایا جاتا؟ ایدھي فاؤنڈیشن نے گیتا کو بھارت واپس بھیجنے میں کوئی کسر نہیں دکھائی۔ اگر گیتا کو کچھ اور وقت تک وہاں رہنے دیا جاتا تو کیا فرق پڑتا؟یہ سچ ہے کہ ایک تصویر دیکھ کر گیتا نے مہتو خاندان کو اپنے خاندان کے طور پر تسلیم کیا تھا، لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر اسے بہار کے اس خاندان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا تھا۔اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں اس کی واپسی کی کوشش ایک سیاسی فیصلہ تو نہیں تھا؟
Advertisements

مخدوم امین فہیم انتقال کرگئے

November 21, 201521Nov15_AF02 ڈانDU

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما مخدوم امین فہیم طویل علالت کے بعد 76 برس کی عمر میں کراچی کے مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
وہ طویل عرصے سے بلڈ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔مخدوم امین فہیم حال ہی میں لندن سے کراچی منتقل ہوئے تھے جہاں وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اہم رہنماؤں نے ان سے ہسپتال میں ملاقات بھی کی تھی۔مخدوم امین فہم کے انتقال کی خبر نشر ہونے کے بعد پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے ہسپتال کا رخ کیا۔خاندانی ذرائع کے مطابق امین فہیم کی میت کو ان کے آبائی علاقے ہالا منتقل کیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلانمشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
21Nov15_AF03 ڈان
چار اگست 1939 کو سندھ کے علاقے ہالا میں پیدا ہونے والے مخدوم امین فہیم سندھ کے بااثر جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی مخدوم امین فہیم کو سیاسی میراث میں ملی تھی، مخدوم طالب المولیٰ کے نام سے جانے جانے والے اُن کے والد مخدوم محمد زمان پارٹی کے بانیوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے سینئر نائب صدر بھی تھے۔ مخدوم امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب چیئرمین کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر بھی تھے.مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینطیر بھٹو کے قابلِ اعتماد ساتھی تصور کیے جاتے تھے، بالخصوص اُن دنوں جب محترمہ پرویز مشرف کے دور میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہی تھیں۔ سندھ یونیورسٹی سے 1961 میں گریجویشن کرنے والے مخدوم امین فہیم پہلی بار 1970 کے عام انتخابات میں رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ اب تک 6 مرتبہ رکنِ منتخب کیے جاچکے تھے۔ جنرل مشرف کے دور میں انہیں وزارتِ عظمیٰ کی بھی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کردیا۔2008 کے انتخابات میں مخدوم فہیم مٹیاری، حیدرآباد (پرانا حیدرآباد ون) کے حلقہ این اے 218 سے منتخب ہوئے تھے۔ 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد، پارٹی کی عملاً سربراہی آصف علی زرداری نے سنبھالی، جس کے بعد محسوس کیا جارہا تھا کہ امین فہیم سیاسی لحاظ سے دیوار سے لگ چکے ہیں۔پارٹی قیادت سے اختلافات کے علاوہ 2008 میں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر بھی ان کا نام مسترد کردیا گیا، جس کا سبب ماضی میں پرویز مشرف سے ان کے رابطے بتائے جاتے ہیں۔تاہم مختصر دوری کے بعد، ایک بار پھر پارٹی قیادت اور ان کے درمیان قربتیں بڑھیں اور انہیں وفاقی کابینہ میں بطور وفاقی وزیرِ تجارت شامل کرلیا گیا۔اس سے قبل بھی امین فہیم نے پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت میں مختلف قلمدانوں کے لیے بطور وفاقی وزیر خدمات سرانجام دیں۔ وہ بینظیر بھٹو کے 1988 سے 1990 تک پہلے دور حکومت میں مواصلات اور 1994 سے 1996 تک دوسرے دور حکومت میں ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس کے وفاقی وزیر رہے۔وہ سروری جماعت کے روحانی پیشوا اور مخدوم طالب المولیٰ کے گدی نشین بھی تھے۔
تعزیتی پیغامات

پیپلز پارٹی رہنما مخدوم امین فہیم کے انتقال پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف،سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور دیگر شخصیات نے گہرے دکھ و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نواز شریف نے مخدوم امین فہیم کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور کہا کہ وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم پارٹی کے اہم ستون تھے اور ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پرنہیں ہوگا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے لیے امین فہیم کی قربانیوں کوہمیشہ یادرکھا جائے گا۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مطابق مخدوم امین فہیم کے انتقال سے پیپلز پارٹی سوگ میں ہے۔مخدوم امین فہیم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا ایک اہم سپاہی ’آج ہم میں نہیں رہا‘ اور مخدوم امین فہیم کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں کیا جاسکے گا۔ دیگر شخصیات نے ٹوئٹر پرتعزیتی پیغامات پوسٹ کیے۔
21Nov15_AF04 ڈان
21Nov15_AF01 اےآر وائیDU

دورہ امریکا : آرمی چیف کا انسداد دہشتگردی کے خلاف پرعزم

November 17, 2015
راحیل شریف 03
DU

اسلام آباد : امریکا کے پانچ روزہ دورے پر گئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پینٹاگون میں امریکی ڈیفنس سیکرٹری ایشٹن کارٹر سے ملاقات کرے دوطرفہ دفاعی تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا۔
پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ٹوئیٹ پیغامات کے ذریعے منگل کو جنرل راحیل شریف کے پینٹاگون کے دورے کے بارے میں بتایا۔ملاقات کے دوران امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو سراہا اوردہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کا اعتراف کیا۔ایشٹن کارٹر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ امریکا اپنا کردار ادا کرے گا اور دہشتگردی و انتہاپسندی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان کی ہر کوشش کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔

امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے انسداد دہشتگردی کے لیے پاکستانی کوششوں کو ” خطے کے امن کے لیے مواقع کھولنا” قرار دیا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور امریکا دہشتگردی اور انتہا پسندی کے عالمی عفریت کے خلاف رابطوں کو جاری رکھیں گے۔ملاقات کے دوران جنرل راحیل شریف نے خطے کے چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کرے گا۔

پنٹاگون جنرل راحیل کے دورہ امریکا پر شکر گزار

November 17, 2015راحیل شریف 03DU

امریکا کے محکمہ دفاع (پنٹاگون) نے کہا ہے کہ وہ دوطرفہ امور پر مشاورت کے لیے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا پر ان کے شکر گزار ہیں۔
سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آرمی چیف کی امریکی حکام سے اہم ملاقاتوں کے دوران امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا جنرل راحیل شریف کے امریکا پہنچنے پر سیکریٹری دفاع، نائب سیکریٹری دفاع اور چیئرمین نے ان کا استقبال کیا.اس موقع پر ان کا کہنا تھا، “ہم جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا پر ان کے شکر گزار ہیں اور دوطرفہ دفاعی تعلقات کے فروغ کے لیے ان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے خواہاں ہیں۔”محکمہ دفاع کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے سپہ سالار منگل (17 نومبر کو) پنٹاگون میں سیکریٹری دفاع ایشٹن کارٹر، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اور سینٹ کام کے سربراہ سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ پڑھیں : آرمی چیف کا دورہ امریکا: جوہری معاملے پر بات نہیں ہوگی
جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز امریکی آرمی کے چیف آف اسٹاف جنرل مارک مائیلی سے بھی ملاقات کی تھی، جبکہ وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن سے بھی ملاقات کریں گے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جنرل راحیل شریف اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کی رواں ہفتے کے آخر میں ملاقات کی بھی تصدیق کی۔
John Carryجان کیری یورپ اور ترکی کے دورہ کے بعد آج وطن واپس پہنچیں گے۔امریکا کے سرکاری ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کی وائٹ ہاؤس میں امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس سے ملاقات کے ساتھ امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات کے امکانات ہیں۔
Joe Biden
یہ بھی پڑھیں : جوہری اثاثوں کی سیکیورٹی پر آرمی چیف مطمئن
جنرل راحیل شریف امریکا کے سینیئر قانون سازوں سے بھی کیپیٹل ہل میں ملاقات کریں گے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اپنے 5 روزہ دورے کے دوران امریکا کے تمام اہم سیاسی، دفاعی اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔جنرل راحیل کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کی اس فہرست سے پنٹاگون کے اس بیان کی بھی نفی ہوتی ہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار بغیر دعوت کے امریکا کا دورہ کر رہے ہیں اور پنٹاگون ان کی درخواست پر تمام ملاقاتوں کے انتظامات کر رہا ہے۔
Pentagon

Adnan Sami Khan Is Proud To Be Known As An Indian

November 16, 201516Nov15_Misc عدنان سمیع01
Adnan Sami Khan has not been given Indian citizenship but after his latest request to the Indian government to stop his deportation the government gave him permission to stay in the country for as long as he wants. Adnan Sami Khan made it very clear that he has no intentions to come back to Pakistan. He is very happy with his life In India and he couldn’t care less what the people in Pakistan think about him. According to one of the leading Indian Newspapers Adnan Sami Khan said, “I have heard that people in Pakistan are not very happy with this news and are burning my effigies. But I’m happy that I have finally found my home.”
16Nov15_Misc عدنان سمیع02Adnan Sami Khan went to India in 2001 after his stay in the country for many years the Pakistani government refused to renew his passport and that is when he asked the Indian government to legalize him in the country. Adnan Sami Khan wants Indian government to give him citizenship since he is not a citizen of any country now. He said, “I’m very thankful to the Indian ­government for considering my plea. But I’m waiting for the day the government grants me ­citizenship of this country. Right now I’m from no man’s land because my Pakistani ­citizenship has been renounced now.”
Sharing his feelings for India the singer said, “The love, adulation and warmth that I got from India is the reason why I chose this country. People all over the world know me as an Indian artist. I could have chosen any other country and wouldn’t have had to go through problems claiming my citizenship. But it is India where my heart is and has always been.”

پاکستان: سرکاری وعوامی سطح پر فرانس سے اظہار یکجہتی

November 16, 201516Nov15_AA نواز01al-Arabia

پاکستان نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ وہ فرانس میں معصوم لوگوں کے خلاف اس دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ ضرورت کے اس وقت میں پاکستان فرانس کی حکومت اور وہاں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک ان حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔اُدھر پاکستانی وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں بھی پیرس میں حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔بیان میں پاکستانی حکومت اور عوام کی طرف سے جانی نقصان پر فرانس کی حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان فرانس کے ساتھ کھڑا ہے۔وزارت خارجہ کے بیان میں ایک مرتبہ پھر حکومت کے اس موقف کو دہرایا گیا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔پاکستانی حکومت کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں اور دینی حلقوں کی طرف سے بھی پیرس میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ملک میں سوشل میڈیا پر سرگرم افراد نے فرانس کے پرچم کے رنگوں سے اپنی ڈسپلے تصاویر کو اورلیپ کر کے فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

انگلینڈ کو شکست، سیریز پاکستان کے نام

November 05, 201505Nov15_DU انگلینڈ01DU

شارجہ:پاکستان نے انگلینڈ کو تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں 127 رنز سے شکست دے کر سیریز دو صفر سے اپنے نام کرلی.
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم میچ کے آخری روز 284 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 156 رنز بناکر آئوٹ ہوگئی.
05Nov15_DU انگلینڈ03میچ کے آخری روز انگلینڈ نے 46 رنز دووکٹوں کے نقصان پر اننگز کا آغاز کیا تو اس وقت انھیں جیت کے لیے 238 رنز درکار تھے، لیکن پاکستانی اسپن باؤلرز نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدا میں ہی انگلینڈ کو مشکلات سے دوچار کردیا۔
یاسر شاہ نے اپنے پہلے ہی اوور میں جو روٹ کو 6 رنز پر آؤٹ کیا جبکہ ذوالفقار بابر نے ٹیلر کو دورنز پر چلتا کردیا.اگلے ہی اوور میں یاسر نے بیئراسٹو کو صفر اور ذوالفقار بابر نے سمیت پٹیل کو بھی صفر پر آؤٹ کرکے میچ پاکستان کے حق میں کردیا، کھانے کے وقفے سے قبل ہی عادل راشد 22 رنز بنا کر راحت علی کی گیند پر بولڈ ہوگئے.
05Nov15_DU انگلینڈ04
کھانے کے وقفے پر انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے کپتان الیسٹرکک کے 50 رنز ناٹ آؤٹ کے بدولت 120 رنز بنائے تھے جبکہ دوسرے طرف اسٹورٹ براڈ دس رنز بناکر ان کا ساتھ دے رہے تھے.انگلش ٹیم کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ کھیلنے کے لیے آئی تو اسٹورٹ براڈ 20 رنز بناکر یاسر شاہ کا شکار ہوئے جبکہ کپتان الیسٹر کک 63 رنز بناکر شعیب ملک کی گیند پر سرفراز کے ہاتھوں اسٹمپ ہوگئے، اس وقت انگلینڈ کا اسکور 150 رنز تھا. پہلی اننگز میں فیلڈنگ کے دوران زخمی ہونے والے بین اسٹوکس دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ کے لیے آئے اور 12 رنز بنا کر یاسر کی گیند پر آؤٹ ہوگئے انھیں بھی سرفراز نے اسٹمپ کیا اورانگلینڈ کی پوری ٹیم 156 رنز پر ڈھیر ہوگئی.
05Nov15_DU انگلینڈ05دوسری اننگز میں پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے چار، شعیب ملک نے تین اور ذوالفقار بابر نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ راحت علی کے حصے میں آئی. دوسرے ٹیسٹ میچ کے ہیرو وہاب ریاض دوسری اننگز میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کرپائے.میچ کے چوتھے روز پاکستان کی ٹیم 355 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی اور انھیں 283 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی.پاکستان کی جانب سے اوپنر محمد حفیظ نے 151 رنز کی شان دار اننگ کھیلی. دیگر کھلاڑیوں میں اسد شفیق 46، کپتان مصباح الحق 38، سرفراز احمد 36 اور اظہر علی 34 رنز بناکر نمایاں رہے.
05Nov15_DU انگلینڈ06انگلینڈ کی جانب سے اسٹورٹ براڈ نے تین اور جیمز اینڈرسن نے دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا. جبکہ انگلینڈ نے ہدف کے تعاقب میں جارحانہ آغاز کیا معین علی نے 22 رنز بنائے لیکن ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے شعیب ملک نے انھیں آئوٹ کرکے انگلینڈ کے سامنے رکاوٹ کھڑی کی جبکہ ای ین بیل کو بھی ملک نے پویلین بھیج دیا وہ کوئی رن نہیں بنا سکے.پہلی اننگز میں پاکستان 234 اور انگلینڈ کی ٹیم 306 رنز بناکر آئوٹ ہوگئی تھی.انگلینڈ نے 1928 میں آسٹریلیا کے خلاف 332 رنز کا ہدف عبور کیا تھا جو ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں ہدف کے حصول میں بہترین کارکردگی ہے جبکہ ایشیا میں ان کی بہترین کارکردگی جب انھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف پانچ سال قبل ڈھاکا میں 209 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔
05Nov15_DU انگلینڈ07پاکستان نے انگلینڈ کو دبئی میں دوسرے ٹیسٹ میں 178 رنز سے شکست دی تھی جبکہ پہلا میچ خراب روشنی کے باعث ڈرامائی انداز میں برابر ہوگیا تھا اس وقت انگلینڈ کو جیت کے لیے محض 15 رنز درکار تھے. پاکستان نے سیریز دو صفر سے اپنے نام کرکے آئی سی سی کی رینکنگ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ہے اسے قبل 2006 میں پاکستان نے مختصر عرصے کے لیے یہ پوزیشن حاصل کی تھی.محمد حفیظ کو بہترین کارکردگی پر میچ کا جبکہ یاسر شاہ کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا.
05Nov15_DU انگلینڈ0805Nov15_DU انگلینڈ10