Category: ملیشیا


October 13, 2015
13Oct15_DU ملیشیا01
Malaysia Airlines Flight 17 was shot down over eastern Ukraine by a Russian-made Buk missile, the Dutch Safety Board concluded on Tuesday in its final report on the crash in July 2014 that killed all 298 people on board, most of them Dutch.
But the long-awaited findings of the board, which was not empowered to address questions of responsibility, did not point the finger at any group or party for launching the missile.
A bitter war was raging in eastern Ukraine between Russian-backed separatists and Ukrainian government forces when the aircraft was downed and, amid a huge international outcry, many Western experts and governments immediately blamed the rebels.
“A 9N314M warhead detonated outside the aeroplane to the left side of the cockpit. This fits the kind of warhead installed in the Buk surface-to-air missile system,” said Safety Board head Tjibbe Joustra, presenting the report.
Russia for its part disputes that a Buk may have been used. Deputy Foreign Minister Sergei Ryabkov responded to the report by saying there had been “an obvious attempt to draw a biased conclusion, and carry out political orders”, according to Russian news agencies.
The Safety Board report said that simulations of the missile’s trajectory showed it came from somewhere in an area covering some 320 kilometres southeast of Grabovo, Ukraine — an area mostly controlled by separatists.
The makers of the Buk said their tests had shown that the aircraft could not have been hit by a missile fired from rebel-controlled territory.
Although the report did not assign blame, it is almost certain to further strain diplomatic ties between the Netherlands and its allies and Russia.
Also read: Dutch to release Malaysia Airlines Flight 17 crash report
Dutch Prime Minister Mark Rutte urged Russia to cooperate fully with a separate criminal investigation that the Netherlands is leading, with participation from Malaysia, Australia, Ukraine and Belgium.
The White House called the report an “important milestone in the effort to hold accountable those responsible”.
“Our assessment is unchanged – MH17 was shot down by a surface-to-air missile fired from separatist-controlled territory in eastern Ukraine,” National Security Council spokesman Ned Price said in a statement.
The report also seemed certain to strengthen calls within the airline industry for a review of how information is shared in conflict zones.
The board found that Ukraine should have closed the airspace over the conflict zone, and that the 61 airlines that had continued flying there should have recognised the potential danger.
It recommended international aviation rules be changed to force operators to be more transparent about their choice of routes.
However, Hennadiy Zubko, head of a separate probe by Ukraine, said Ukrainian authorities had followed the established procedure.
“All the recommendations from the ICAO (International Civil Aviation Organization) were carried out … Ukraine closed its airspace below 9,750 metres (32,000 feet),” he told journalists in Kiev.
The British pilots’ union BALPA called for states and operators to share accurate information on where it is safe to fly.
“Passengers and pilots want an open and uniform level of safety, not one that is decided in secret and in different ways by airlines and countries,” Stephen Landells, flight safety specialist at BALPA, said in a statement.
Also read: The Week Ahead – At A Glance
The safety board’s report said that a 9N314M (Buk) warhead had exploded to the left of the aircraft’s flight cabin, sending shrapnel hurtling with “tremendous force” into the plane.
The detonation killed three crew members instantly and caused the break-up of the aircraft, with the nose separating first, followed by a section of the tail and rear fuselage.
Shrapnel fragments all pointed to a ground-launched Buk missile, it said.
The victims were from the Netherlands, Malaysia, Australia, Indonesia, Britain, Germany, Belgium, The Philippines, Canada and New Zealand.
After the crash, many experts and Western governments said they believed the rebels had fired on the Malaysia Airlines plane, mistakenly believing it was a Ukrainian military transporter.
Also read: Putin Turns to Ukraine Playbook in Syria
Rutte, speaking of the separate criminal investigation, said: “In regard to our relationship with Russia, this inquiry has an enormous impact, both in the Netherlands and abroad and certainly in Russia.
“What I want to do now is appeal to the Russian authorities to respect and cooperate with this report,” he said.
“The obligation we now have is that we do all we can to ensure that those who are responsible face justice.”
At a meeting with victims’ families earlier on Tuesday, Joustra said it was likely that passengers who were not killed by the impact of the missile would have been rendered unconscious very quickly by the sudden decompression of the aircraft and the lack of oxygen at 33,000 feet.
The report said it was likely that the occupants “were barely able to comprehend the situation in which they found themselves”. None could have survived impact with the ground, it said.
Joustra spoke at the Gilze-Rijen military base where the flight cabin of the Boeing 777 has been assembled painstakingly from wreckage.

فرانس کے ساحل سے لاپتہ ملائیشین طیارے کا ملبہ مل گیا

06Aug15_AA ایم ایچ 370al-Arabia

VIDEO ویڈیو دیکھنے کے لئےویڈیو کے درمیانی بڑے بٹن کو چھوڑ کر نیچے دئے ہوے چھوٹے بٹن پر کلک کریں

ملائیشیا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے بحرِ ہند کے ایک جزیرے کے ساحل سے ملنے والا ملبے کا ٹکڑا 17 ماہ قبل لاپتا ہونے والے ملائیشین طیارے کا ہی ہے۔ملائیشیا کے وزیرِاعظم نجیب رزاق نے اپنے ٹی وی بیان میں بتایا کہ بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد تصدیق کی ہے کہ ری یونین نامی جزیرے کے ساحل سے ‘بوئنگ 777’ کے پر کا جو ٹکڑا ملا تھا وہ لاپتا پرواز ‘ایم ایچ 370’ کا ہی ہے۔06Aug15_News۲ ایم ایچ 370طیارے کے ملبے کا لگ بھگ دو میٹر طویل ٹکڑا اور کچھ دیگر سامان گزشتہ ہفتے مڈگاسکر کے نزدیک واقع جزیرے ری یونین کے ایک ساحل سے ملا تھا جسے تفصیلی معائنے کے لیے فرانس بھیجا گیا تھا۔ملائیشین حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کے ٹکڑے کا فرانس کی وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والی اس عالمی شہرتِ یافتہ لیبارٹری میں تجزیہ کیا گیا جہاں طیارہ سازی کی صنعت کے 600 سے زائد ماہرین کام کرتے ہیں۔فرانسیسی لیبارٹری میں کی جانے والی جانچ پڑتال میں ملائیشیا، امریکا، چین، فرانس اور بوئنگ کمپنی کے نمائندے بھی شریک ہوئے تھے۔ماہرین کو امید ہے کہ ملبے کے تفصیلی معائنے سے فلائٹ ‘ایم ایچ 370’ کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں معلومات سامنے آ سکیں گی جو مارچ 2014ء میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے کھلے سمندر کے اوپر لاپتا ہو گئی تھی۔لاپتا ہونے والا طیارہ ‘بوئنگ 777’ تھا جس پر 239 مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ کئی ملکوں کی ٹیمیں کئی ماہ تک سمندر میں لاپتا طیارے کے ملبے کی تلاش میں سرگرم رہی تھیں لیکن پر کا متذکرہ حصہ ملنے سے پہلے 16 ماہ تک کسی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا تھا۔ملائیشین طیارے کی گمشدگی کا معاملہ ہوابازی کی تاریخ کے چند سرِ فہرست لاینحل معموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

پر کا ٹکڑا ایم ایچ 370 کا ہی ہے

06 August, 2015
06Aug15_News۱ ایم ایچ 370BBC

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بحر الہند میں ری یونین جزیرے سے پچھلے ہفتے ملنے والے جہاز کے پر ٹکڑا 2014 میں لاپتہ ہونے والی ملائشیئن ایئر لائن کی پرواز ایم ایچ 370 کے طیارے کا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ فرانس میں پر کے ٹکڑے کا جائزہ لینے والے ماہرین نے اس بات کا حتمی تعین کر لیا ہے کہ پر کا ٹکڑا ایم ایچ 370 کا ہی ہے۔کوالالمپور سے بیجنگ جانے والا یہ مسافر بردار طیارہ آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 افراد سوار تھے، جن میں سے بیشتر چینی باشندے تھے۔ سیٹلائٹ معلومات کی بنیاد پر حکام کا خیال ہے کہ مسافر طیارہ اپنے متعین راستے سے بھٹک کر بہت دور بحرِ ہند کے جنوبی حصّے میں سمندر میں گر گیا تھا۔06Aug15_News۲ ایم ایچ 370آسٹریلیا کی سربراہی میں طیارے کی تلاش کے لیے جاری آپریشن میں جنوبی بحرہند کے وسیع علاقے میں تقریباً 4000 مربع کلومیٹر کے علاقے میں طیارے کے ملبے کو تلاش کیا گیا۔اس طیارے کی تلاش میں کئی ممالک کی متعدد ماہ سے جاری مشترکہ کوششیں بھی رنگ نہیں لا سکیں، البتہ ملائیشیا کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس طیارے کی تلاش ختم نہیں کی۔وزیراعظم نجیب رزاق نے کہا کہ انھیں انتہائی افسوس کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرنا پڑ رہی ہے کہ اب ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ ایم ایچ 370 کی پرواز جنوبی بحر الہند میں گر گئی۔06Aug15_News۳ ایم ایچ 370انھوں نے امید ظاہر کی شاید اب اس پرواز کے مسافروں کی ورثا کی دردناک بے یقینی ختم ہو جائے گی۔تفتیش کاروں کو امید ہے کہ وہ ایم ایچ 370 کی سمندر میں گرتے وقت اس کی رفتار معلوم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ان معلومات سے ماہرین کو سمندر میں غرق جہاز کے دیگر حصوں کی تلاش میں آسانی ہو گی جو اب تک ڈھونڈے نہیں جا سکے۔

ملائیشیا: بڑی تعداد میں قبروں کی دریافت

25May15_DU روہنجیا01DU_BU

کوالالمپور: ملائیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب تارکین وطن کی 139 قبریں دریافت ہوئی ہیں۔
ملائیشیا کے وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ قبریں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے افراد کی تو نہیں ہیں، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان قبروں سے کتنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی تھائی سرحد کے قریب درجنوں قبریں ملی تھیں جو زیادہ گہری نہیں تھی۔ اس کے بعد تارکین وطن کو لے جانے کے لیے انسانی اسمگلروں کے زیراستعمال راستوں پر تھائی لینڈ نے خصوصی کارروائی کی تھی۔ تھائی لینڈ کی اس کارروائی کی وجہ سے اسمگلروں تارکین وطن کو سمندر کے راستے سے ملائیشیا لے جانے پر مجبور ہوئے۔ لیکن ہزاروں کی تعداد میں یہ لوگ اس وقت سمندر میں محصور ہوکر رہ گئے جب اسمگلروں نے انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا، اور کسی بھی ملک نے انہیں اپنی سرحد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ آن ملائیشیا کی قومی پولیس کے سربراہ خالد ابو بکر نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ کے 28 کیمپوں میں 11 سے 23 مئی کے درمیان یہ قبریں ملی ہیں اور کچھ قبروں میں ایک سے زیادہ لاشیں ہو سکتے ہیں۔ خالد ابوبکر نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ’’گیارہ مئی سے 23 مئی تک کی جانے والی کارروائی کے دوران 139 قبریں دریافت ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ قبریں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کی ہیں یا نہیں۔

ملائیشیا میں’تارکینِ وطن‘کی اجتماعی قبریں دریافت

24May15_BBC روہنجیا01BBC_Orig

ملائیشیا میں حکام نے کہا ہے کہ انھیں کئی اجتماعی قبریں ملی ہیں اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ یہ پناہ کے متلاشی تارکینِ وطن کی ہیں۔
وزیرِ داخلہ زاہد حمیدی کے حوالے سے اخبار ملائیشیا سٹار نے لکھا ہے کہ یہ 17 قبریں تھائی لینڈ کی سرحد کے نزدیک ان خالی کیمپوں میں سے ملی ہیں جہاں انسانی سمگلر پناہ گزینوں کو رکھتے تھے۔
24May15_BBC روہنجیا02
ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہاں سے کتنی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔تھائی لینڈ کے اس روٹ سے بھی بہت قبریں ملیں تھیں جہاں سے انسانی سمگلر میانمار یعنی برما سے جانیں بچا کر بھاگنے والے روہنجیا مسلمانوں کو لے کر جاتے تھے۔لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملائیشیا میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہوں۔
24May15_BBC روہنجیا03
تھائی لینڈ نے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کی خصوصی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے تھائی لینڈ کی پوری کی پوری برادریاں سمگلروں کی مدد کرتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انھیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے
24May15_BBC روہنجیا04
جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے۔ خیال ہے کہ ہجرت کرنے والے کئی لوگ یہاں بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہو گئے تھے۔ہر سال ہزاروں لوگ تھائی لینڈ کے ذریعے ملائیشیا سمگل کیے جاتے ہیں۔ ملائیشیا کے اخبار کا کہنا ہے کہ تازہ ترین قبریں ملائیشیا کی ریاست پرلس میں پادانگ بیسار اور وانگ کیلیان کے علاقوں کے نزدیک سے ملی ہیں۔
24May15_BBC روہنجیا05
اخبار اتوسان ملائیشیا نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 30 اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں ’سینکڑوں انسانی ڈھانچے‘ پائے گئے ہیں۔ سٹار اخبار کے مطابق ان قبروں میں ہجرت کرنے والے تقریباً 100 روہنجیا مسلمانوں کی لاشیں ہیں۔ ان علاقوں کے سمندروں میں میانمار میں جور و ستم اور بنگلہ دیش میں غربت سے تنگ آ کر فرار ہونے والے ہزاروں تارکینِ وطن کشتیوں میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
24May15_BBC روہنجیا06
ان میں سے 3,000 سے زیادہ ملائیشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے ساحلوں پر اتارے جا چکے ہیں۔گذشتہ ہفتے سے ملائیشیا اور انڈونیشیا تارکینِ وطن کی کشتیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ میانمار نے بھی دو دن قبل ایک کشتی بچائی تھی۔ ملائیشیا اور انڈونیشیا نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ کشتیوں کو واپس سمندر میں نہیں بھیجیں گے
24May15_BBC روہنجیا07
اور ان کے ساحل پر اترنے والوں کو عارضی پناہ دی جائے گی۔ تھائی لینڈ نے بھی کہا ہے کہ وہ کشتیوں کو واپس بھیجنا بند کر دے گا۔

انڈونیشیا، ملائشیا سمندری محصورین کی عارضی مدد کو تیار


ملائیشیا اور انڈونیشیا روہنگیا سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی کشتیوں کو گذشتہ دنوں کی طرح ساحلی علاقوں سے واپس نہیں موڑے گا۔ تینوں ملک اپنی سمندری حدود میں موجود تارکین وطن کو عارضی پناہ دینے پر رضامندی ہو گئے ہیں۔اس امر کا اعلان ملائیشین وزیرِ خارجہ انیفا امان نے اپنے تھائی اور انڈونیشیئن ہم منصب سے بدھ کے روز ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے کہا کہ’ان لوگوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انھیں جس قسم کے حالات کا سامنا ہے اس میں ہم انھیں اپنے ساحلی علاقوں میں رکھنے کو تیار ہیں۔مسٹر امان نے یہ بھی کہا کہ وہ سرگرمی کے ساتھ تارکین وطن کی تلاش نہیں کریں گے اور اگر وہ ان کے ساحل پر اترے تو انھیں اس شرط پر عارضی پناہ دیں گے کہ بین الاقوامی برادری ایک سال کے اندر ان کی آباد کاری یا واپسی میں تعاون کرے گی۔بتایا گیا ہے کہ تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد یہ اطلاع موصول ہوئی کہ انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں موجود ماہی گیروں نے مزید350 تارکین وطن کی جان بچائی ہے۔مدد حاصل کرنے والے ایک تارک وطن عبدالحق نے خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کو بتایا کہ وہ چار مہینوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشتی کا انجن خراب ہو گیا تھا اور کپتان بھاگ گیا تھا۔خیال رہے کہ تینوں ممالک میانمار میں ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں اور بہتر معاش کی تلاش میں ملک چھوڑنے والے ان سینکڑوں بنگالیوں کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں جو کھلے سمندر میں کشتیوں میں محصور ہیں۔اس سے قبل بدھ کی صبح انڈونیشیا کے صوبے آچے کی مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ گذشتہ شب ماہی گیروں نے صوبے کے مشرقی علاقے میں 102 تارکینِ وطن کو زندہ بچایا۔ جبکہ صبح سویرے 272 افراد کو بدھ کی صبح ساحل پر لایا گیا۔خیال رہے کہ میانمار [برما] پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ملک چھوڑنے والوں کو روکے تاہم میانمار اس حوالے سے مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہا اور اس نے خود پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میانمار کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ’جو کوئی بھی سمندر میں مصیبت میں گرفتار ہے اسے انسانی بنیادوں پر مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔خیال رہے کہ ملائیشیا پہلے ہی 45 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے تاہم اب اس نے مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینے سے انکار کیا ہے۔تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کہتے ہیں کہ وہ سمندر میں محصور تارکینِ وطن کی مدد تو کریں گے تاہم وہ ان کے لیے اپنی سرحدیں نہیں کھول سکتے۔پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ژو ہتائے کا کہنا ہے کہ اگر دعوت نامے میں ’روہنگیا‘ کا استعمال کیا گیا تو ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ ان کا ملک روہنگیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔