Category: مغربی ممالک

برطانیہ کے فضائی حملوں میں داعش کے 330 جنگجو ہلاک

September 17, 2015

برطانیہ کی شاہی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے حملوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران شام اور عراق میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے قریباً تین سو تیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔برطانوی وزیردفاع مائیکل فالن نے جمعرات کو پارلیمان میں ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ”یہ اعداد وشمار اندازے پر مبنی ہیں مگر برطانیہ کے زمینی دستوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے حملوں کے موثر ہونے کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا مشکل ہے”۔

انھوں نے کہا کہ ”ہمارا یہ یقین نہیں ہے کہ برطانیہ کے فضائی حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی کوئی ہلاکتیں ہوئی ہیں”۔واضح رہے کہ برطانیہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر گذشتہ سال ستمبر سے بمباری کررہے ہیں۔

برطانیہ شام میں داعش کے خلاف فضائی مہم میں شریک نہیں ہے۔برطانوی پارلیمان نے شام میں فضائی حملوں کی منظوری نہیں دی تھی جبکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اس مقصد کے لیے پارلیمان کی منظوری کے خواہاں ہیں۔

تاہم کیمرون کی قدامت پسند جماعت کے بعض ارکان فضائی حملوں کو شام تک توسیع دینے کی مخالفت کررہے ہیں اور اپوزیشن جماعت لیبر کے نومنتخب لیڈر جرمی کاربائن ماضی میں جنگ مخالف مہم چلاتے رہے ہیں۔اس لیے اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ وہ پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

ڈیوڈ کیمرون نے اسی ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں رائل ائیرفورس کے ایک ڈرون حملے میں داعش کے ساتھ مل کر لڑنے والے دو برطانوی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی فضائیہ نے یہ ڈرون حملہ اپنے دفاع میں کیا تھا اور مرنے والوں میں سے ایک برطانیہ میں دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

جرمنی 5 لاکھ افراد کو پناہ دینے پر رضامند

September 08, 2015
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین01
al-Arabia

جرمن وائس چانسلر سگمار گیبرئیل نے کہا ہے کہ جرمنی کئی سالوں تک ہر سال پانچ لاکھ تک پناہ گزینوں کو قبول کرسکتا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توقعات کے مطابق جرمنی میں رواں سال آٹھ لاکھ سے زائد پناہ گزین آئیں گے جو کہ 2014 سے چار گنا زیادہ ہیں۔انہوں نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا دیگر یورپی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین02
یو این ایچ سی آر کے مطابق پیر کے روز صرف میسیڈونیا میں 7000 شامی پناہ گزین پہنچے جبکہ 30 ہزار یونان کے جزیروں پر موجود ہیں۔پناہ گزیوں کے مسئلے پر یورپی حکومتوں کی مختلف آراء منظر عام پر آئی ہیں جہاں ہنگری نے پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے باڑ لگادی ہے جبکہ جرمنی انہیں قبول کرنے پر رضامند ہے۔
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین03
یونانی وزیراعظم نے پیر کے روز کہا تھا کہ لیسبوز کا جزیرہ تارکین وطن کے بوچھ سے ‘پھٹنے’ والا ہے جہاں سے تقریباً 20 ہزار تارکین وطن داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔زی ڈی ایف ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے گیبرئیل نے کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ کئی سالوں تک ہم پانچ لاکھ افراد کو اپنا سکتے ہیں۔
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین04

جرمنی اور فرانس مزید 55 ہزار مہاجرین کو پناہ دیں گے

September 07, 2015
07Sep15_AA پناہ گزین01
al-Arabia

Video

جرمنی اور فرانس نے اپنے ہاں مزید پچپن ہزار تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔مہاجرین کی یہ تعداد ان ایک لاکھ بیس ہزار افراد میں شامل ہے جو حالیہ دنوں میں جنگ زدہ ایشیائی اور افریقی ممالک سے زمینی اور بحری راستے سے یونان،اٹلی ،آسٹریا اور ہنگری وغیرہ پہنچے ہیں۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈ جنکر نے ان مہاجرین کو تنظیم کے رکن دوسرے ممالک میں بسانے کے لیے ایک منصوبہ تجویز کیا ہے۔اس کا وہ آیندہ بدھ کو اعلان کرنے والے ہیں۔اس کے تحت جرمنی 31443 اور فرانس 24031 مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دے گا۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے سوموار کو ایلزے پیلس پیرس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس تجویز کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک یورپی کمیشن کے منصوبے کے تحت چوبیس ہزار مہاجرین کو قبول کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ”یہ ایک بحران ہے۔اس میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔اس کو کنٹرول میں لایا جاسکتا ہے اور ایسا کیا جائے گا”۔

جرمنی چانسلر اینجیلا مرکل نے بھی کہا ہے کہ مہاجرین کی ریکارڈ تعداد میں آمد آیندہ برسوں کے دوران ان کے ملک کو تبدیل کردے گی۔واضح رہے کہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے۔اس ملک میں صرف اختتام ہفتہ پر بیس ہزار مہاجرین کی آمد ہوئی ہے۔

جرمنی نے خانہ جنگی کا شکار شام سے بے گھر ہونے والے مہاجرین کے علاوہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں اور حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے ان مہاجرین کی آباد کاری اور دیکھ بھال کے لیے آیندہ سال کے دوران چھے ارب ستر کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قدامت پسند سی ڈی یو اور سوشل ڈیمو کریٹ ایس پی ڈی جماعتوں نے اتوار کی شب ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”وفاقی حکومت اپنے 2016ء کے بجٹ کی رقم میں تین ارب یورو کا اضافہ کرے گی تاکہ مہاجرین اور پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔اس رقم کے علاوہ علاقائی ریاستی حکومتیں اور مقامی حکام بھی مزید تین ارب یورو کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے”

اسپین:داعش سے تعلق کے الزام میں لڑکی گرفتار

September 06, 2015
06Sep15_DU  جہادی لڑکیان02
DU

والنسیا: اسپین کی پولیس نے شام جا کر داعش کے ساتھ مبینہ طور پر منسلک ہونے کے الزام میں 18 سالہ ماروکن لڑکی کو گرفتار کرلیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسپین میں گزشتہ سال سیکیورٹی خدشات سامنے آنے کے بعد سے اب تک داعش سے ہمدردی کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔پولیس نے والنسیا کے قریب گاندیا ٹاؤن سے لڑکی کو اس کے گھر سے گرفتار کیا اور اس موقع پر لڑکی کا پورا جسم کالے رنگ کے نقاب میں چھپا ہوا تھا جبکہ صرف اس کے ہتھکڑی لگے ہاتھ ہی دیکھے جاسکتے تھے۔پولیس نے لڑکی کے گھر سے شواہد سے بھرے ہوئے ڈبے بھی ہمراہ لے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دیگر خواتین کو داعش میں شامل ہونے کے لیے بھرتی کررہی تھی۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ جس وقت اسے گرفتار کیا گیا وہ شام جانے کے لیے سفر کی تیاری میں مصروف تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ لڑکی کا تعلق ماروکو سے ہے تاہم وہ اسپین میں طویل عرصے سے مقیم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ انٹرنیٹ پر جہادی نظریات کو پھیلانے کے لیے دہشت گرد حملوں کا جوز پیش کرتے ہوئے لوگوں کو ہلاک کرنے والی ویڈیوز کو پھیلارہی تھی۔
06Sep15_DU  جہادی لڑکیان01
خیال رہے کہ اسپین سے گرفتار ہونے والی یہ پہلی لڑکی نہیں ہے جس پر الزام ہے کہ وہ خواتین کو مسلح گروپ میں شمولیت کے لئے بھرتی کررہی تھی، اس سے قبل بھی ایک خاتون کو اسی جرم میں جولائی میں لانزاروٹے کے جزیرے سے گرفتار کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اسپین سے 100 سے زائد افراد عراق اور شام میں شدت پسندوں سے جا ملے ہیں جن کے بارے میں حکام نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اسپین واپس آکر حملے کریں گے۔

یاد رہے کہ مارچ 2004ء میں القاعدہ سے متاثر ایک بمبار نے میڈرڈ میں مسافر سے بھری چار ٹرینوں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، جس کے نتیجے میں 191 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اسپین پولیس نے واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 20 ماروکن افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

مصری ارب پتی کا شامی مہاجرین کے لیے جزیرہ خریدنے کا اعلان

September 04, 2015
06Sep15_AA پناہ گزیں چیف
al-Arabia

شامی خاندان کو سمندر میں ڈبونے میں ملوث چار افراد گرفتار
تُرکی کے ساحل سے ملنے والی شامی بچے کی نعش نے اپنے پرائے سب کو دکھی کردیا ہے۔ بچے کے سمندر میں منہ کے بل گری نعش کو دیکھ کر مصرکے ایک ارب پتی کاروباری شخصیت نجیب ساویرس کا دل بھی پسیج گیا جس کے بعد انہوں نے شامی پناہ گزینوں کی عارضی آبادکاری کے لیے ایک جزیرہ خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نجیب ساویرس نے اٹلی اور یونان کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہاں آنے والے شامی پناہ گزینوں کو عارضی قیام کی سہولت مہیا کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے دونوں ملکوں کی حکومتوں سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کی آباد کاری کے لیے ایک جزیرہ مختص کرنے پر اتفاق کریں گے تاکہ شام سے نقل مکانی کرنے والوں کو وہاں پر رہائش مہیا کی جاسکے۔

نجیب ساویرس نے گذشتہ روز اپنے “ٹویٹر” اکاؤنٹ پر لکھا کہ “میں شامی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے ایک جزیرہ خریدنے کا خواہش مند ہوں۔ مجھے توقع ہے کی اٹلی اور یونان کی حکومتیں میری اس خواہش کی تکمیل میں میری مدد کریں گی اور دونوں میں سے کوئی ایک ضرور مجھے ایک جزیrہ فروخت کر دے گی۔”

خیال رہے کہ نجیب ساویرس کا شمار نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کی دولت مند شخصیات میں ہوتا ہے۔ ساویرس ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی “اورسکام” کے مالک ہیں۔ اس کےعلاوہ مصر میں ان کا “ON Tv” کے نام سے ایک ٹیلی ویژن چینل بھی ہے۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ “ترکی کے ساحل سے ملنے والے ایک پناہ گزین شامی خاندان کے معصوم بچے کی نعش نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے ہیں۔ شامی پناہ گزین موت اور مصیبتوں سے گذر رہے ہیں۔ کوئی باضمیر انسان بچے کی تصویر دیکھنے کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ ویسے تو ہم روزانہ ہی شامی پناہ گزینوں کی سمندرمیں اموات کی خبریں پڑھتے ہیں مگراب ان خبروں پر خاموش رہنے کا وقت نہیں رہا ہے۔ اوندھے منہ سمندر کے کنارے پڑے دو سالہ شامی بچے کی لاش دنیا کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔”

رپورٹ کے مطابق دو ارب نوے کروڑ ڈالرز کے مالک مصری صاحب ثروت نے “سی بی سی” ٹی وی کے پروگرام “ممکن” میں ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ وہ یورپی ملکوں میں شامی پناہ گزینوں کےلیے ایک جزیرہ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک صحراء کو شہر بنا سکتے ہیں۔اس میں زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں مہیا کر سکتے ہیں تو ہمیں شامی پناہ گزینوں کے لیے کسی جزیرے کوآباد کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔

ترکی میں مشتبہ انسانی اسمگلر گرفتار
ترکی سے شامی پناہ گزینوں کو یورپی ملکوں کی طرف اسمگل کرنے کے الزام میں پولیس نے چار مشتبہ اسمگلروں کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے شامی باشندوں میں سمندر میں ڈوب کرجاں بحق ہونے والے شامی کرد بچے ایلان کردی اور اس کے خاندان کو اسمگل کرنے میں ملوث عناصر بھی شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی پولیس نے “موگلا” ریاست کے “بودروم” شہر میں چار مشتبہ انسانی اسمگلروں کو حراست میں لیا ہے۔ مبینہ طور پر ان کا تعلق ایلان کردی اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آئے حادثے سے بھی ہے۔العربیہ کے نامہ نگار زیدان زنکلو نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے چاروں شامی غیر قانونی طور پر شہریوں کو سمندر کے راستے یونان اور دوسرے یورپی ملکوں تک پہنچانے کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔انہی چاروں میں سے کسی نے ایلان کردی اور اس کے خاندان کو بھی یورپ لے جانے کا جھانسا دے کر کشتی میں سوار کیا اور کھلے سمندر میں لے جا کرانہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا۔ پولیس زیرحراست افراد سے تفتیش کررہی ہے۔تاہم اس کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون کا ہزاروں شامی پناہ گزینوں کو برطانیہ میں پناہ دینے کا اعلان

September 05, 2015
05Sep15_AN پناہ02
اس خبر کا ماخذ مختلف اخبارات ہیں۔

بلینوں ڈالر کے اثانے رکھنے والے کسی مسلمان حکمران کو یہ توفیق نہیں ہوئی مگر ایک یہودی نے ان در بدر لوگوں پر رحم کھایا۔
لندن: سمندر میں ڈوب کر جان بحق ہونے والے تین (3) سالہ شامی بچے کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ میں ہزاروں شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ شامی تنازع اور تارکین وطن کے بحران پر ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اس بحران کی شدت اور لوگوں کی تکالیف کو دیکھتے ہوئے اپنے تفصیلی منصوبے کے تحت تارکین وطن کیلئےپہلے سے موجود اسکیموں میں ہزاروں شامی باشندوں کو پناہ دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ داعش کی سرگرمیوں سے متاثرہ لوگوں کی مدد کی جائے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اس ضمن میں ایک تفصیلی منصوبے پر کام ہو رہا ہے۔ اور انہیں متاثرہ افراد کی جگہ کی منتقلی کے پروگرام کے تحت برطانیہ میں بسایا جائیگا۔ اس اسکیم میں پہلے ہی 216 افراد شام سے برطانیہ آچکے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے مزید تارکیں وطن کو پناہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں سمندر کے ذریعے یورپ آنے والے شامی عراقی اور لیبیائیباشندوں کی افسوس ناک خبروں اور تصاویر نے رائے عامہ ہموار کرنے میں مدد دی۔ اور خصوصاً ترکی کے ساحل پر تین (3) سالہ ایلان کردی کی لاش کی تصاویر نے پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ دوسری جانب آئس لینڈ تقریباً اا ہزار تارکین وطن خاندان کو اپنے ملک میں رکھنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے۔ جب کہ اس بحران کا ایک پہلو بنگری کی سرحد پر نمایان ہیں۔ جہاں تارکین وطن موجود ہین اور ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن بیان دے چکے ہیں کہ ان کا ملک مزید مسلمانون کو قبول نہیں کرگا۔ انہون نے خبردار کیا لاکھوں تارکین وطن سے خود یورپی آبادی اقلیت کا شکار ہو جائیگی۔

شامی مہاجرین یورپی عیسائیت کیلئے خطرہ

September 04, 2015
04Sep15_DU پناہ گزین01DU

شام سے مہاجرین کی یورپ منتقلی پر ہنگری نے اسے عیسائیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
04Sep15_DU پناہ گزین02
برطانوی اخبار گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق مہاجرین کے حوالے سے ہنگری کے وزیر اعظم ویکٹر اوبان کا کہنا ہے کہ یہاں (ہنگری) آنے والے مہاجرین ایک بلکل مختلف مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی ثقافت بھی الگ ہے اور ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ یورپ کی شناخت بنیادی طور پر عیسائیت پر ہے۔خیال رہے کہ شام گزشتہ کئی سالوں سے جنگ سے متاثر ہے،لیکن گزشتہ برس شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے خودساختہ خلافت کے قیام کے اعلان کے بعد صورت حال بہت زیادہ خرب ہو گئی اور مہاجرین ہنگری کے راستے یورپ کے دیگر ممالک میں داخلے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شامی بچے کی دل لرزا دینے والی تصویر
اس حوالے سے ہنگری کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یورپین عیسائیت بمشکل ہی یورپ کو عیسائی بنائے رکھے ہوئے ہے جو کہ ایک پریشان کن صورتحال ہے، اس لیے کہ اس کا متبادل نہیں ایسے میں سرحدوں کے دفاع کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔
04Sep15_DU پناہ گزین03خیال رہے کہ شام کے مہاجرین کی یورپ ہجرت کے حوالے سے لکسمبرگ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں یورپ آنے والے مہاجرین کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ہنگری کے وزیر اعظم ویکٹر اوبان نے جرمنی کے اخبار فرینکفرٹ الگیمائین سیتنگ میں لکھا ہے کہ جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے یہ یورپ کے لیے خطرناک نتائج کا باعث ہے۔یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں ویکٹر اوبان نے کہا کہ مہاجرین کی آمد یورپ کا مسئلہ نہیں ہے یہ جرمنی کا مسئلہ ہے کیونکہ کوئی بھی ہنگری، سلواکیہ، پولینڈ میں رکنا نہیں چاہتا یہاں سے سب جرمنی جانا چاہیں گے ہمارا کام صرف ان کی رجسٹریشن ہے جس کا تقاضا ہم سے کیا گیا ہے۔

شامی پناہ گزینوں کو یورپ نقل مکانی میں مشکلات
دوسری جانب ہنگری کے وزیر اعظم کے اس دعویٰ کے جواب میں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ مہاجرین کا مسئلہ صرف جرمنی کامسئلہ نہیں ہے۔
04Sep15_DU پناہ گزین04جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق سوئزلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جرمنی وہ کررہا ہے جو اخلاقی اور قانونی طور پر کیا جا سکتا ہے۔جینیوا کنونشن کے مہاجرین کے حوالے سے کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے انجیلا مرکل نے کہا کہ اس معاہدے پر صرف جرمنی نے دستخط نہیں کیے بلکہ تمام یورپی ممالک نے اس پر دستخط کیے ہیں۔واضح رہے کہ جرمنی اور فرانس نے سفارشات بھی تیار کی ہیں کہ کس طرح مہاجرین کو منصفانہ طور پر یورپ میں تقسیم کیا جائے۔
فرانس کے صدر فرانسو اولاند کے دفتر سے جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرد ، خواتین اور ان کے خاندان جنگ سے متاثر ہیں ان کو بین الاقوامی حفاظت کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین ہنگری کے شہر بڈپست میں موجود ہیں۔
04Sep15_DU پناہ گزین05جرمنی کی جانب سے مہاجرین کے لیے کیمپ بنائے گئے ہیں اور جرمنی نے مہاجرین کی بڑی تعداد کو قبول کرنے کی حامی بھری ہے لیکن یورپ کے دیگر ممالک کی جانب سے اس کی حمایت نہیں کی جا رہی، جبکہ جرمنی چاہتا ہے کہ مہاجرین کے حوالے سے کوٹہ مختص کر دیا جائے کہ کس ملک کی ذمہ داری کتنے مہاجرین کی ہوگی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں رواں برس جولائی تک مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ 7 ہزار ہو چکی تھی ۔جرمن حکام کے اندازوں کے مطابق رواں سال 8 لاکھ مہاجرین کی آمد متوقع ہے جو گزشتہ سال سے 400 فیصد زیادہ ہو گی۔واضح رہے کہ عراق اور شام میں داعش اور اتحادی فورسز کے درمیان جنگ سے ہزاروں افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے، جس کے باعث اس خطے سے شہری یورپ، کینیڈا اور دیگر ممالک ہجرت کر رہے ہیںاس ہجرت کے باعث کئی دفعہ ان کی کشتیاں بھی سمندر برد ہوئیں اور پناہ گزین ہلاک ہوئے۔

پناہ گزینوں کے روپ میں “داعش” کی یورپ تک رسائی

September 04, 2015
04Sep15_AA داعش یورپ میں
al-Arabia

شرپسند عناصر شام کے جعلی پاسپورٹس کا استعمال کرنے لگے
یورپی ممالک سے شام اور عراق میں سرگرم سخت گیرجنگجو گروپ دولت اسلامی “داعش” میں جنگجوئوں کی شمولیت کے ہنگامے کے بعد اب تصویر کا دوسرا رخ سامنے آیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ شام سے “داعشی” عناصر پناہ گزینوں کے روپ میں یورپی ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں بلغاریہ کے “نووا” ٹیلی ویژن چینل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مقدونیا کی سرحد سے متصل Gyueshevo نامی علاقے سے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے افراد شامی پناہ گزینوں کے روپ میں یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس نے ان کے سامان اور موبائل فون کی تلاشی لی۔ تفتیش کے دوران ان کے قبضے سے داعش کے ہاں مخالفین کے سرقلم کرنے اور انہیں ذبح کرنے ویڈیو فوٹیجز، “داعشی ریاست” کے حق میں لٹریچر اور دیگر متنازع اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے پانچ مشتبہ داعشی عناصر کی عمریں 20 سے 24 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کوان پر شبہ اس وقت ہوا جب انہوں نے ایک ٹریفک پولیس کو ڈالر کا ایک بنڈل رشوت میں دینے کی پیشکش کی۔ اس پر پولیس نے ان کے سامان کی تلاشی لی تو پتا چلا کہ ان کا تعلق دولت اسلامی “داعش” کے ساتھ ہے اور وہ مقدونیا کے راستے یورپی یونین کے ممبر ملکوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ مشتبہ جنگجوئوں نے بتایا کہ مقدونیا میں ان کا ایک ساتھی ان کے انتظار میں ہے جو قانونی طریقے سے ان سے پہلے وہاں پہنچا تھا۔ اس نے اپنی گاڑی کے ذریعے ہمیں یورپی ملکوں تک پہنچانا ہے۔

ترکی میں جعلی شامی پاسپورٹس کا کاروبار
بلغارین ذرائع ابلاغ کی روپرٹس میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کے راستے یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کے علاوہ جنگجو گروپوں سے تعلق رکھنے والے عناصر کے پاس شام کے اصلی پاسپورٹس نہیں ہوتے بلکہ انہیں جعلی پاسپورٹس ترکی سے با آسانی مل جاتے ہیں۔ یہ پاسپورٹس شامی پناہ گزینوں کو یورپی ملکوں میں پناہ کے حصول میں مدد گار بھی ثابت ہوتے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی صفوں میں ایسے لوگ بھی یورپ درآتے ہیں جن کا تعلق “داعش” یا دوسرے سخت گیر جنگجوئوں کے ساتھ رہا ہوتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعشی عناصر کا یورپ میں آنے کامقصد بھی یہاں پر امن وامان کو خراب کرنا اور یورپی ملکوں میں بم دھماکے کرنا ہے۔فرانسیس کے ایک عہدیدار فابریس لوجیری نے بھی “یورپ ون” ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترکی سے شامی پناہ گزینوں کو شام کے پاسپورٹس با آسانی مل جاتے ہیں جنہیں وہ لوگ یورپ میں پناہ کے حصول میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں کو بھی شام سے آنے والے مہاجرین کے خطرات کا اندازہ ہے مگر وہ انسانی بنیادوں پر ان کی مدد کررہے ہیں۔

رواں سال فروری میں ترک پولیس کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شام اور عراق سے 3000 مشتبہ جنگجو ترکی کی سرزمین میں داخل ہوچکے ہیں۔ ممکنہ طورپر یہ جنگجو کسی دوسرے ملک کا رخ کرنے والے ہیں۔ ان میں سے ایک مشتبہ شخص کی بلغاریہ روانگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ادھرلیبیا نے بھی متعدد مرتبہ خبردار کیا ہے کہ یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کی صفوں میں “جہادی” عناصر بھی ہوسکتے ہیں۔

ڈوبنے والے شامی بچے کے باپ کا دکھ

03Sep15_BBC شامی04
BBC

ترکی کے ساحل پر لال قمیض پہنے اوندھے منہ پڑے شامی بچے کی تصویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور اس سے شام کے بحران میں انسانی جانوں کے زیاں پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ترکی کی نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی یہ تصویر پوری دنیا میں دیکھی گئی ہے اور ٹوئٹر پر اس کا ہیش ٹیگ ’انسانیت ساحل پر بہہ کر آ گئی‘ ہے۔یہ بچہ ان دو کشتیوں میں سے ایک پر تھا ترکی سے یونان جانے کی کوشش میں ڈوب گئی تھیں۔ان میں کل 23 افراد سوار تھے جن میں سے کم از کم 12 ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈوبنے والوں میں پانچ چھوٹے بچے تھے۔ انھیں میں سے ایک ایلان کردی تھا جس کی لاش ساحل پر سے ملی تھی۔ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی کے سمندر میں جانے کے کچھ منٹ بعد اونچی لہریں اس سے ٹکرانے لگیں اور اسی دوران کپتان چھلانگ لگا کر کشتی سے اتر گیا۔
Video

03Sep15_AA شامی01
میں نے اپنے بچوں اور بیوی کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک جان دیتے گئے۔’میں نے کشتی چلانے کی کوشش کی لیکن ایک اور اونچی لہر نے اسے الٹا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ سب کچھ ہوا۔ترکی کے کوسٹ گارڈز کے مطابق تارکینِ وطن بدھ کو علی الصبح ترکی کے بودرم جزیرہ نما سے یونان کے جزیرے کوس جانا چاہتے تھے لیکن کچھ دیر بعد کشتیاں ڈوب گئیں۔تین سالہ ایلان اپنے پانچ سالہ بھائی گیلپ اور ماں ریحان کے ساتھ ڈوب گئے۔ ان کے والد عبداللہ اس حادثے میں بچ گئے۔اطلاعات کے مطابق عبداللہ نے سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
03Sep15_BBC شامی05
عبداللہ کی بہن تیما کردی نے جو کینیڈا کے شہر وینکور میں رہتی ہیں کینیڈا کے اخبار نیشنل پوسٹ کو بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے میں ان کی مدد کر رہی تھیں۔میں انھیں سپانسر کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہم انھیں وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے وہ کشتی میں گئے۔اطلاعات کے مطابق عبداللہ کو داعش یا کسی اور جہادی گروہ نے کوبانی کے محاصرے کے دوران اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔کردی خاندان کے پاس اس لیے بھی کوئی اور راستے نہیں بچا تھا کیونکہ ترکی سے نکلنے کے لیے شامی کرد پناہ گزینوں کو پاسپورٹ درکار ہوتا ہے جو شاید بہت کم لوگوں کے پاس ہی ہے۔

آسٹریا : 10 افراد کو شام میں جنگجوؤں سے روابط پر سزائیں

16Jun15_AA اسٹریلیا
AA_Orig

آسٹریا کی ایک عدالت نے دس مشتبہ افراد کو شام میں اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ روابط استوار کرنے کے الزام میں تین سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ عدالت کی خاتون ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ چیچین باشندوں کے ایک گروپ کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کے الزام میں گرفتار ایک ترک کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔عدالت نے دوسرے آٹھ مشتبہ افراد کو چونتیس ماہ تک قید کا حکم دیا ہے۔ ایک نوعمر لڑکے کو گذشتہ سال اگست میں گرفتاری کے وقت نابالغ ہونے کی بنا پر صرف ایک سال معطل قید کا حکم دیا گیا ہے۔ آسٹروی پراسیکیوٹرز نے عدالت سے ان میں ایک شخص کو ایک دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کے الزام میں دس سال قید سنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ سزائیں حتمی نہیں ہیں اور تمام مدعاعلیہان کو ان کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔اپیل عدالت ان سزاؤں کو ختم کرسکتی ہے اور برقرار بھی رکھ سکتی ہے۔ان میں سے بعض مدعاعلیہان نے مقدمے کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا ہے کہ وہ صرف چھٹی گزارنے کے لیے شام گئے تھے یا وہ ایک اسلامی ملک میں رہنا چاہتے تھے۔ آسٹریا کی ایک عدالت نے گذشتہ ماہ ایک چودہ سالہ لڑکے کو دہشت گردی کے الزام میں قصور وار ہونے پر دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔اس لڑکے نے اپنے پلے اسٹیشن گیمز پر بم کی تیاری کا منصوبہ ڈاؤن لوڈ کیا تھا اور اس نے عدالت میں دہشت گردی سے متعلق الزامات کا اقرار کیا تھا۔ آسٹروی وزارت داخلہ کے مطابق ملک سے دو سو سے زیادہ افراد لڑائی میں حصہ لینے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں گئے ہیں۔ان میں قریباً تیس لڑتے ہوئے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ستر واپس آچکے ہیں۔آسٹروی حکومت نے مشتبہ جنگجوؤں اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے ملک میں سخت قوانین متعارف کرائے ہیں اور ان مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے قید وبند کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔