Category: مصر

بم تباہ ہونے والے روسی جہاز کے اندر ہی تھا

November 06, 201506Nov15_BBC01 جہازBBC

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ مصر میں تباہ ہونے والے روسی مسافر طیارے کی تباہی کی وجوہات کا جائزہ لینے والے برطانوی تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ بم جہاز کے اندر موجود تھا۔انٹیلیجنس اہلکاروں نے اس سلسلے میں جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں کے پیغامات پکڑے تھے جس کے بعد برطانوی حکومت نے اسے دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔
برطانیہ نے مصر کے علاقے شرم الشیخ جانے والی پروازوں کو منسوخ کر دیا ہے جبکہ وہاں موجود برطانوی شہری جمعے سے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انھیں اپنے پاس صرف دستی سامان لانے کی اجازت ہے۔میٹرو جیٹ ایئر بس اے 321 شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرزبرگ جا رہی تھی کہ فضا میں تباہ ہو گئی اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہو گئے۔ زیادہ تر مسافر روسی باشندے تھے۔بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ گو کہ برطانوی تفتیش کاروں نے حادثے کے لیے تکنیکی خرابی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے لیکن ان کا خیال ہے ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔برطانوی سکیورٹی سروس کو شبہ ہے کہ جہاز اڑنے سے کچھ دیر قبل کسی ایسے شخص نے سامان میں یا اس کے اوپر دھماکہ خیز آلہ نصب کیا جسے جہاز کے سامان رکھنے کی جگہ تک رسائی حاصل تھی۔
06Nov15_BBC 02 جہازدولتِ اسلامیہ سے منسلک صحرائے سینا کے ایک عسکریت پسند گروہ نے دعوی کیا ہے کہ جہاز اس نے تباہ کیا ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے شام میں اپنے خلاف حملوں کے باعث روس اور امریکہ دونوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔امریکی صدر براک اوباما نے بھی جمعرات کو بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ممکن ہے کہ تباہ ہونے والے جہاز پر بم موجود تھا۔‘ ان کا کہنا تھا ’یہ بات ہم انتہائی سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔‘تاہم مصر اور روس دونوں کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی نتیجہ اخذ کرنا جلد بازی ہو گا۔بدھ سے برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے شرم الشیخ کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ فرانس اور بیلجیئم نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اس علاقے میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔تاہم روسی جہاز اب بھی اس علاقے سے پرواز کر رہے ہیں۔ روسی صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’جہاز کے ساتھ کیا ہوا اس سے متعلق سرکاری تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘مصری معیشت سیاحت پر بہت انحصار کرتی ہے۔ اس نے برطانیہ کی جانب سے پروازوں کی منسوخی کو غیر منطقی قرار دیا ہے۔برطانیہ میں موجود روسی صدر عبدالفتح السیسی نے کہا ہے کہ برطانیہ کی درخواست پر دس ماہ پہلے سے مصر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔تاہم انھوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔
Advertisements

’کیا آپ نے مناسب لباس پہن رکھا تھا؟

November 02, 201502Nov15_BBC لباس01BBC

مصر میں ہزاروں لوگ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے مبینہ واقعے کا شکار ہونے والی خاتون پر نامناسب لباس پہننے کاالزام لگانے والی ٹیلی ویژن میزبان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
مذکورہ ٹی وی پروگرام کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اس کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب یہ پُرتشدد واقعہ کلوز سرکٹ ٹی وی پر ریکارڈ ہوا۔ شاپنگ مال کی ریکارڈنگ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مرد اور خاتون ایک دوسرے سے بحث کرتے ہوئے کیمرے کے فریم میں داخل ہوتے ہیں، اور قبل اس کے کہ شاپنگ مال کے سکیورٹی اہلکار یا ارد گرد موجود لوگ انھیں روکیں، مرد اچانک خاتون کو تھپڑ مار دیتا ہے۔ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کی جانب سے پولیس میں مرد کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت درج کروائی گئی تھی۔تاہم مقامی پولیس کی جانب سے انھیں گرفتار نہیں کیا گیا جس کے بعد خاتون اپنا کیس عوام کی عدالت میں لے گئیں اور ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر پوسٹ کردی۔ اس ویڈیو کو اب تک تقریباً پانچ لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
02Nov15_BBC لباس02خاتون کئی ٹیلی وژن پروگراموں میں بھی شریک ہوچکی ہیں جن میں انھوں نےالزام لگایا ہے کہ ان پر مبینہ طور پر حملہ کرنے والے شخص اس علاقے کی مشہور شخصیت ہیں اور اسی وجہ پولیس نے انھیں گرفتار نہیں کیا۔تاہم ان میں سے کوئی بھی بات مصری باشندوں کی جانب سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کا سبب نہیں تھی۔

بلکہ جو واقعہ انٹرنیٹ پر وائرل ہوا وہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ خاتون نے (خاتون کا نام یہاں آن لائن برے برتاؤ کے باعث نہیں بتایا جا رہا) اشتعال دلانے والی ٹی وی میزبان ریحام سعید کو انٹرویو دیا۔ دوران گفتگو سعید کی جانب سے خاتون پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ خاتون کا لباس ان پر حملے کی وجہ بنا تھا۔

ریحام سعید نے اپنی مہمان سے پوچھا کہ ’کیا آپ کے خیال میں کیا آپ نے مناسب لباس پہن رکھا تھا؟‘ (شاپنگ مال کی سی سی ٹی وی ویڈیو ریکارڈنگ میں خاتون نے جینز اور بغیر آستین کے قمیض پہن رکھی ہے)۔ میزبان خاتون وہیں نہیں رکیں بلکہ انھوں نے اس کے بعد ان خاتون کی پرانی تصاویر بھی دکھائیں اور ان پر ’عریاں لباس‘ پہننے کا الزام لگایا۔ مثال کے طور پر ایک تصویر میں خاتون کو بِکینی میں دکھایا گیا تھا۔
02Nov15_BBC لباس03جمعے کے روز ٹی وی نیٹ ورک کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ریحام سعید کا پروگرام عارضی طور پر بند رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق پروگرام کو اشتہارات کے بائیکاٹ کا سامنا ہے۔تصاویر کسی بھی طرح حاصل کی گئی ہوں لیکن آن لائن کئی مصری شہری خواہ وہ اعتدال پسند ہوں یا قدامت پسند، ریحام سعید کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ تشدد اور ہراساں کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی تھیں۔اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 99 فیصد سے بھی زائد یعنی تقریباً تمام مصری خواتین کو کسی نہ کسی قسم کے جنسی ہراسانی کے تجربے کا سامنا ہوتا ہے۔ جون سنہ 2013 میں حکومت کی جانب سے جنسی تشدد کے تدارک کے لیے نئی سزاؤں پر مشتمل قانون متعارف کروایا گیا ہے۔

شادی کے انتظار میں بیٹھے’بیکار نوجوان

November 02, 201502Nov15_BBC شادی01BBC

آج کل دنیا بھر میں لڑکے لڑکیاں اسی کوشش میں ہیں کہ وہ جلد از جلد اتنی رقم اکھٹی کر لیں کہ اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیں، شادی کریں، بچے پیدا کریں اور اپنا گھر بسا لیں۔ یہ لڑکے لڑکیاں اب بچّے نہیں رہے اور نہ ہی انھیں بالغ سمجھا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ ’انتظار کے برسوں‘ میں پھنس چکے ہیں۔
’جب آپ مصر یا اس خطے کے دیگر ممالک میں شادی کرتے ہیں تو آپ کا گھر مکمل دکھائی دیتا ہے اور لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ آپ کے باورچی خانے میں تمام مصالحہ جات بھی موجود ہوتے ہیں، آپ کے گھر میں گلاس بھی ہوتے ہیں، فرنیچر بھی ہوتا ہے، اگر آپ دولت مند ہوں تو آپ کو نوکر نوکرانی کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے، اور آپ کے لیے ہر چیز سجی سجائی ہوتی ہے۔‘
سنہ 1990 کی دہائی میں امریکی ماہرِ سیاسیات ڈیان سِنگرمین قاہرہ میں خاندانی سیاست کے موضوع پر تحقیق کر رہی تھی تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ جن لوگوں سے سوالات کر رہے تھیں، ان کی اکثریت کو ایک ہی مسئلے کا سامنا تھا، اور وہ یہ کہ شادی کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔
بات صرف شادی کے دن کے اخراجات کی نہیں، بلکہ شادی کے لیے ’اچھا لڑکا‘ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دولہا اور اس کے والدین کے پاس اتنے پیسے ہونے چاہئیں کہ وہ دلہن کو اچھا جہیز دیں اور اس کے لیے زیورات بھی خرید سکیں۔اس کے علاوہ انھیں ایک مکان بھی تلاش کرنا ہوتا ہے اور اسے اتنے آرائشی ساز وسامان سے بھرنا ہوتا ہے جو ایک شادی شدہ جوڑے کی تمام ضروریات کو پورا کر سکے۔
سِنگرمین کے مطابق انھوں نے جب تمام اخراجات کو جمع کیا تو معلوم ہوا کہ مصر میں اوسط شادی کے لیے آپ کو 21,194 مصری ڈالر (یا چھ ہزار برطانوی پاؤنڈ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنہ 1999 کے اعداد وشمار کے مطابق یہ رقم ایک اوسط درجے کے مصری خاندان کے سالانہ اخراجات سے تقریباً اڑہائی گنا زیادہ بنتی ہے۔
02Nov15_BBC شادی02
اور اگر آپ اسے اس تناظر میں دیکھیں کہ مصر میں نوجوانوں میں بیروزگاری کا تناسب بہت زیادہ ہے، تو مصر میں شادی کرنا تقریباً ایک ناممکن کام بن جاتا ہے۔ سنگرمین کے بقول اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ایک قدرے غریب نوجوان اور اس کے والد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سات سال تک بچت کرتے رہیں اور ان سالوں میں اپنی کمائی کا ایک دھیلہ بھی کسی دوسرے کام پر خرچ نہ کریں۔سنگرمین کے بقول ’مجھے معلوم ہوا کہ مصر میں نوجوانوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ ان کے پاس شادی کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن اس کے علاوہ انھیں کئی دیگر مسائل کا بھی سامنا تھا۔‘

’ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں پر نفسیاتی دباؤ تھا۔ چونکہ مصر میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو اب بھی بہت بُرا سمجھا جاتا ہے، نتیجتاً مستقبل کے دولہا اور دلہن کے لیے شادی سے پہلے کے دس سال تنہائی اور اکیلے پن کے سال ثابت ہوتے ہیں۔

لیکن شادیوں میں تاخیر کے اثرات معاشی اور رومانی مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ سنگر مین کہتی ہیں کہ ’مصر میں جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی نوجوان اپنے والدین کے گھر میں ہی رہتے ہیں اور انھیں اس وقت تک بالغ نہیں تصور کیا جاتا جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی۔ خاص طور خواتین کے معاملے میں یہی ہوتا ہے۔‘

لیکن چونکہ یہ نوجوان بچًے نہیں ہوتے ، اسی لیے سنگرمین نے شادی سے پہلے کے انتظار کے طویل برسوں کے لیے چائیلڈ ہُُڈ، ایڈلٹ ہُڈ کے وزن پر ایک نیا لفظ متعارف کرایا، ’ویٹ ہُڈ‘ یعنی ’انتظار کی عمر‘۔
02Nov15_BBC شادی03
سنگرمین نے مصری نوجوانوں کے حوالے سے ’انتظار کے سال‘ کے الفاظ پہلی مرتبہ سنہ 2007 میں استعمال کیے۔ اگرچہ بعد کے برسوں میں اس بات کے ثبوت بھی منظر عام پر آئے ہیں کہ اب مصری نوجوان قدرے جلدی شادی کرنے لگے ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سنگرمین کے بعد اب دنیا بھر کے ماہرین میں سنگرمین کی دی ہوئی یہ نئی تعریف بہت مقبول ہو گئی ہے۔ اب یہ ماہرین دنیا کے مخلتف ممالک اور تہذیبوں میں بسنے والے نوجوانوں کو ’انتظار کے سالوں ‘ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہر ملک میں لوگوں نے ایسے نوجوانوں کو مختلف نام دے رکھے ہیں، جن میں سے اکثر نام ایسے ہیں جن میں شادی کے انتظار میں پڑے ہوئے نوجوانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔

اٹلی میں 20 اور 30 سال کی عمر کے ان نوجوانوں کو جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں ’بمبوسیانو‘ ( بڑی چوسنی والے بچے) کا لقب دیا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد واپس اپنے ماں باپ کے گھر آ جانے والے لڑکوں کو ’یو یو نسل‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جاپان میں ایسے نوجوانوں کو ’فریٹرز‘ اور امریکہ میں ان نوجوانوں کو ’سلیکرز‘ یا ’ڈھیلے‘ کہا جاتا ہے جو ’کوئی ڈھنگ کی نوکری‘ نہیں کرتے۔

اگرچہ مخلتف ممالک میں سرکاری ادارے کسی کے بالغ ہونے کا معیار اس کے 18 یا 21 برس کے ہونے کو سمجھتے ہیں لیکن مختلف تہذیبوں میں کسی کے بالغ ہونے کے معیار مختلف ہیں۔ مشسرق وسطیٰ میں آپ کی بلوغت کا معیار یہ ہے کہ آپ کی شادی ہوئی ہے یا نہیں جبکہ شمالی یورپ میں آپ کو بالغ تب سمجھا جاتا ہے جب آپ اپنے والدین کا گھر چھوڑ جاتے ہیں۔

موزمبق، جنوبی افریقہ، سینیگال اور تیونس میں نوجوانوں کے ’انتظار کے برسوں‘ پر تحقیق کرنے والی ماہرِ بشریات السینڈا ہونوانا کہتی ہیں کہ افریقہ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان برسوں میں پھنسی رہتی ہے، لیکن وہ اس سے اتفاق نہیں کرتیں کہ ان برسوں میں نوجوان بیکار پڑے رہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کرتے۔

’میں نے دیکھا ہے کہ اگرچہ یہ عرصہ نوجوانوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ ان کی زندگی کا وہ حصہ ہوتا ہے جب ان کی تخلیقی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں، کیونکہ ان برسوں میں والدین کے ساتھ زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں زمانے کے ساتھ چلنے کا ڈھنگ بھی سیکھ لیتے ہیں۔‘
02Nov15_BBC شادی04اس حوالے سے السینڈا ہونوانا ان نوجوانوں کی مثال دیتی ہیں جو شادی سے پہلے کے برسوں میں غیر رسمی (اِنفارمل) معیشت میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، بیرونِ ملک جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور ان انقلابی تحریکوں میں شامل ہونے کو تیار ہوتے ہیں جو ناکام معاشی پالیسیوں اور بد دیانت حکومتوں کے خلاف چلتی ہیں۔

سنہ 2011 میں عرب دنیا میں تبدیلی کی جو تحریک ’عرب سپرنگ‘ چلی، اس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت ایسے افراد کی تھی جو جوان تھے، پڑھے لکھے تھے مگر معاشرے سے کٹے ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں کے پاس فارغ وقت کی کمی نہیں تھی۔گزشتہ ایک دہائی میں ایسے مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے جن میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، چاہے یہ مظاہرے موزمبیق میں ہو رہے ہوں یا یونان اور برطانیہ میں۔

سنِگرمین کے خیال میں مشرقِ وسطی میں نوجوانوں کے بیرونِ ممالک جا کر ملازمت کرنے کا ایک بڑا مقصد بھی اپنی شادی کے لیے رقم اکھٹی کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عروج کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نوجوانوں کو شادی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے جن نوجوانوں کو بھرتی کرنا چاہتی ہے، انھیں بیویوں کا لالچ بھی دیا جاتا ہے۔ اسی لیے شام اور عراق کے ان علاقوں میں جہاں مختلف گروہ لڑ رہے ہیں، وہاں سے خواتین اور نوجوانوں لڑکیوں کے ریپ کیے جانے کی اطلاعات مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔

ان منفی نتائج کے علاوہ، سنگرمین کے خیال میں ’ انتظار کی عمر‘ کے کچھ فوائد بھی ہیں۔’اب لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں، کالجوں میں جا رہی ہے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔یوں یہ لڑکیاں نہ صرف مالی طور پر زیادہ آزاد ہو رہی ہیں بلکہ اب شادی پر بھی ان کا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔‘

روسی طیارے کے پائلٹ نے مدد کا پیغام نہیں بھیجا تھا

November 01, 201501Nov15_BBC حادثہ01BBC

مصر میں شہری ہوابازی کے وزیر کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما سینا میں گرنے والے روسی مسافر طیارے کے پائلٹ نے ہنگامی صورتحال میں مدد مانگنے کا کوئی پیغام نہیں بھیجا تھا۔
ادھر روس کے بعد مصر کے حکام نے بھی شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ روسی مسافر طیارے کو اس کے جنگجوؤں نے نشانہ بنایا تھا۔نیچر کو کوگلیماویا نامی کمپنی کا ایئر بس اے 321 طیارہ حسانا نامی صحرائی علاقے میں گر کر تباہ ہوا ہے اور اس پر سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مصر کے وزیرِ اعظم شریف اسماعیل نے سنیچر کو رات گئے کہا ہے کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا۔تاہم ان ہی کی حکومت کے وزیر حسام کمال نے کہا ہے کہ طیارے میں کسی خرابی کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔سنیچر کی شام پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’تباہی تک ہمیں طیارے میں کسی خرابی کا علم نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں مدد کی ہنگامی کال ملی تھی۔‘ حکام نے طیارے کے دونوں بلیک باکس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر بھی تلاش کر لیا ہے اور اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
01Nov15_BBC حادثہ02روسی صدر ولا دی میر پوتن کی جانب سے اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دیے جانے کے بعد روس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر کی قیادت میں تحقیقاتی کمیشن بھی اتوار کو مصر پہنچ رہا ہے۔مصر سے ملنے والی ابتدائی اطلاعات میں حکام نے کہا تھا کہ پائلٹ نے ٹیک آف کے بعد تکنیکی مسائل کے بارے میں بتایا تھا اور ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی تھی۔اس حادثے کے بعد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے یہ کہتے ہوئے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی کہ یہ شام میں روسی حملوں کا بدلہ ہے تاہم روسی حکام نے اس دعوے کو رد کر دیا تھا۔روس کے وزیرِ ٹرانسپورٹ میکسم سوکولوو نے اس دعوے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ ’ایسی اطلاعات کو درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کے طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔عالمی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے پاس ایسے میزائل ہیں جو اتنی بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو نشانہ بنا سکیں۔
01Nov15_BBC حادثہ03تاہم اس کے باوجود دو بڑی یورپی فضائی کمپنیوں لفتھانسا اور ایئر فرانس – کے ایل ایم کے علاوہ الامارات نے بھی جزیرہ نما سینا کے اوپر سے پروازوں کا راستہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جب تک اس طیارے کی تباہی کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ جاتی ان کے طیارے اس علاقے پر پرواز نہیں کریں گے۔روسی ایوی ایشن اتھارٹی روساویاتسیا کے مطابق طیارہ پرواز کے 23 منٹ بعد قبرص کے ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ مقررہ وقت پر رابطہ نہیں کر سکا اور 31 ہزار فٹ کی بلندی پر ریڈار سے غائب ہوگیا۔روسی حکام کے مطابق طیارے پر عملے کے سات ارکان کے علاوہ 217 مسافر سوار تھے جن میں سے تین کا تعلق یوکرین اور باقی کا روس سے تھا۔

سات مضامین اور ساتوں میں صفر

September 05, 2015
06Sep15_BBC مریم01
BBC

مصر کی ایک لڑکی کی حمایت میں ہزاروں لوگ آئے ہیں کیونکہ اچھے نمبروں سے پاس ہونے والی اس لڑکی کو نہ صرف فیل کردیا گیا ہے بلکہ اسے ممکنہ طور پر سب سے کم نمبر دیے گئے ہیں۔
مریم ملک کو اپنے امتحان کے نتائج سے اچھی امیدیں وابستہ تھیں اور انھیں اس سے قبل تقریباً بہترین نمبر ملے تھے اور اسی سبب وہ مصر کی بہترین طالبہ میں شامل تھیں۔لیکن جب فائنل امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوا تو مریم نے سب سے پہلے اپنا نام سرفہرست طلبہ میں تلاش کیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس کا نام وہاں نہیں تھا اس کے بعد بھی وہ پراعتماد تھی لیکن جب اس نے اپنا ریزلٹ دیکھا تو وہ بے ہوش ہو گئی۔مریم ملک نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا، میں کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ مجھے صفر کیسے مل سکتا ہے؟مریم کو نہ صرف ایک مضمون میں 100 نمبر میں سے صفر نمبر ملے بلکہ تمام سات پرچوں میں یہی نتیجہ تھا۔ یہ نتیجہ اس قدر بے تکا تھا کہ ان کے گھر والوں کو فوراً ہی کسی بے ایمانی کا شبہہ ہوا۔پہلے تو یہ شبہہ کیا گیا کہ انھیں اس لیے فیل کر دیا گيا ہے کہ وہ مصر کی اقلیتی قبطی مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن اسے فوراً ہی مسترد کر دیا گیا اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بدعنوانی کا شکار ہوئی ہیں۔
06Sep15_BBC مریم02
مریم کے بھائی نے کہا کہ ’یا تو سکول نے یا پھر امتحان بورڈ نے اس کے پرچے کو ایسے طلبہ کے پرچے سے بدل دیا جو اچھا نہیں تھا۔خیال رہے کہ مصر کے نظام تعلیم میں رشوت اور بدعنوانی کی کہانیاں نئی نہیں ہیں۔ لیکن مریم کا مسئلہ عجیب تھا جس نے انٹرنیٹ پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ہزاروں مصری نے ’میں مریم پر یقین کرتا ہوں‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ان کی حمایت کی جبکہ فیس بک پر ان کی حمایت میں جو صفحہ تیار کیا گیا اس پر 30 ہزار سے زیادہ لائیکس آ چکی ہیں۔ایک مصری خاتون نے لکھا: ’انھوں نے نہ صرف اس کے نمبر چرائے بلکہ اس کا مستقل اور خواب بھی چرا لیے۔ تصور کریں تمام سات مضامین میں صفر۔۔۔ یہ تو حد ہو گئی۔

مصری ارب پتی کا شامی مہاجرین کے لیے جزیرہ خریدنے کا اعلان

September 04, 2015
06Sep15_AA پناہ گزیں چیف
al-Arabia

شامی خاندان کو سمندر میں ڈبونے میں ملوث چار افراد گرفتار
تُرکی کے ساحل سے ملنے والی شامی بچے کی نعش نے اپنے پرائے سب کو دکھی کردیا ہے۔ بچے کے سمندر میں منہ کے بل گری نعش کو دیکھ کر مصرکے ایک ارب پتی کاروباری شخصیت نجیب ساویرس کا دل بھی پسیج گیا جس کے بعد انہوں نے شامی پناہ گزینوں کی عارضی آبادکاری کے لیے ایک جزیرہ خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نجیب ساویرس نے اٹلی اور یونان کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہاں آنے والے شامی پناہ گزینوں کو عارضی قیام کی سہولت مہیا کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے دونوں ملکوں کی حکومتوں سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کی آباد کاری کے لیے ایک جزیرہ مختص کرنے پر اتفاق کریں گے تاکہ شام سے نقل مکانی کرنے والوں کو وہاں پر رہائش مہیا کی جاسکے۔

نجیب ساویرس نے گذشتہ روز اپنے “ٹویٹر” اکاؤنٹ پر لکھا کہ “میں شامی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے ایک جزیرہ خریدنے کا خواہش مند ہوں۔ مجھے توقع ہے کی اٹلی اور یونان کی حکومتیں میری اس خواہش کی تکمیل میں میری مدد کریں گی اور دونوں میں سے کوئی ایک ضرور مجھے ایک جزیrہ فروخت کر دے گی۔”

خیال رہے کہ نجیب ساویرس کا شمار نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کی دولت مند شخصیات میں ہوتا ہے۔ ساویرس ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی “اورسکام” کے مالک ہیں۔ اس کےعلاوہ مصر میں ان کا “ON Tv” کے نام سے ایک ٹیلی ویژن چینل بھی ہے۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ “ترکی کے ساحل سے ملنے والے ایک پناہ گزین شامی خاندان کے معصوم بچے کی نعش نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے ہیں۔ شامی پناہ گزین موت اور مصیبتوں سے گذر رہے ہیں۔ کوئی باضمیر انسان بچے کی تصویر دیکھنے کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ ویسے تو ہم روزانہ ہی شامی پناہ گزینوں کی سمندرمیں اموات کی خبریں پڑھتے ہیں مگراب ان خبروں پر خاموش رہنے کا وقت نہیں رہا ہے۔ اوندھے منہ سمندر کے کنارے پڑے دو سالہ شامی بچے کی لاش دنیا کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔”

رپورٹ کے مطابق دو ارب نوے کروڑ ڈالرز کے مالک مصری صاحب ثروت نے “سی بی سی” ٹی وی کے پروگرام “ممکن” میں ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ وہ یورپی ملکوں میں شامی پناہ گزینوں کےلیے ایک جزیرہ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک صحراء کو شہر بنا سکتے ہیں۔اس میں زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں مہیا کر سکتے ہیں تو ہمیں شامی پناہ گزینوں کے لیے کسی جزیرے کوآباد کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔

ترکی میں مشتبہ انسانی اسمگلر گرفتار
ترکی سے شامی پناہ گزینوں کو یورپی ملکوں کی طرف اسمگل کرنے کے الزام میں پولیس نے چار مشتبہ اسمگلروں کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے شامی باشندوں میں سمندر میں ڈوب کرجاں بحق ہونے والے شامی کرد بچے ایلان کردی اور اس کے خاندان کو اسمگل کرنے میں ملوث عناصر بھی شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی پولیس نے “موگلا” ریاست کے “بودروم” شہر میں چار مشتبہ انسانی اسمگلروں کو حراست میں لیا ہے۔ مبینہ طور پر ان کا تعلق ایلان کردی اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آئے حادثے سے بھی ہے۔العربیہ کے نامہ نگار زیدان زنکلو نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے چاروں شامی غیر قانونی طور پر شہریوں کو سمندر کے راستے یونان اور دوسرے یورپی ملکوں تک پہنچانے کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔انہی چاروں میں سے کسی نے ایلان کردی اور اس کے خاندان کو بھی یورپ لے جانے کا جھانسا دے کر کشتی میں سوار کیا اور کھلے سمندر میں لے جا کرانہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا۔ پولیس زیرحراست افراد سے تفتیش کررہی ہے۔تاہم اس کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔