Category: مسلم امة

شام:قیدیوں کا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال

November 02, 201502Nov15_AA ڈھال01BBC

ہنی پنجروں میں بند لوگوں کو سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے
شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ کے علاقے دوما میں “جیش الاسلام” نامی ایک حکومت مخالف تنظیم نے یرغمال بنائے گئے سرکاری فوجیوں اور بشارالاسد کے حامیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے”سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس” کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج کا حوالہ دیا جس میں “جیش الاسلام” نامی ایک تنظیم کے ہاں یرغمال بنائے گئے شامی فوجیوں اور بشارالاسد کے حامی مرد وخواتین کو آہنی پنجروں میں بند دوما کی سڑکوں پر ٹرکوں پر گھماتے دکھایا ہے۔
02Nov15_AA ڈھال02باغیوں کے اس اقدام کا مقصد شامی فوج کی جانب سے دوما میں مزید بمباری روکنا ہے۔فوٹیج میں “جیش الاسلام” کے ایک جنگجو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آہنی پنجروں میں بند حکومت کے حامیوں کو کھلی سڑکوں پر پھرانے کا مقصد شامی فوج کی علاقے میں بمباری رکوانا ہے۔دوما کے علاقے میں ایسے دسیوں پنجرے جگہ جگہ پر موجود ہیں اور کچھ پنجروں کو ٹرکوں پر لادیا گیا ہے جو دوما کی سڑکوں پر چلتے رہتے ہیں۔ ان میں پانچ سے آٹھ افراد کو قید کیا گیا ہے۔ قیدیوں میں اسدی فوجی اور خواتین بھی شامل ہیں۔قیدیوں میں ایک شامی فوجی جو خود کو کرنل کے عہدے کا افسر بتاتا ہے کا کہنا ہے کہ ہم تین سال سے جیش الاسلام کی قید میں ہیں۔ ہم شامی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوما میں شہریوں پر بمباری نہ کرے۔
02Nov15_AA ڈھال03خیال رہے کہ جیش الاسلام نامی اس تنظیم نے شامی فوجیوں اور حکومت کے دسیوں حامیوں کو شمال مشرقی غوطہ کے دوما قصبے میں عدرا العمالیہ کےمقام سے دو سال قبل یرغمال بنایا تھا۔ قیدیوں کو ڈھال کے طور پر ایک ایسے وقت میں استعمال کیا جانے لگا ہے جب گذشتہ جمعہ کو شامی فوج نے دوما کے ایک مصروف بازار میں بمباری کرکے 70 افراد کو ہلاک اور 550 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

Advertisements

Saudi Arabia court confirms Shia cleric death sentence

October 27, 2015
27Oct15_النمر02BN_101
al-Jazeera
Supreme Court confirms capital punishment for Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests.

The Supreme Court in Saudi Arabia has confirmed the death sentence against Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests, one of his brothers said.

“After the confirmation of Sheikh Nimr’s death sentence by the Court of Appeal and then the Supreme Court, his life is in the hands of King Salman who can endorse the sentence or suspend the execution,” Mohammed al-Nimr said on Sunday.

He warned that his brother’s execution “could provoke reactions that we do not want,” as Sheikh Nimr had “supporters in the Shia areas of the Islamic world”.

Mohammed al-Nimr said he expected the king to “prove his wisdom” by halting the execution of his brother and six other Shia people.

Iran warning

Among those sentenced to death, “three, including my son Ali, were minors at the time of arrest” for involvement in anti-government protests that erupted in the Eastern Province in the wake of the Arab uprisings, he told AFP news agency.

The case of Ali al-Nimr, in particular, has led to strong reactions around the world, with many asking the Saudi authorities to grant the young Shia a stay from the execution.

Iran, the arch-foe of Saudi Arabia, on Sunday warned Riyadh not to execute the cleric.

“The execution of Sheikh Nimr would have dire consequences for Saudi Arabia,” said Deputy Foreign Minister Hossein Amir Abdollahian.

“The situation in Saudi Arabia is not good and provocative and tribal attitudes against its own citizens are not in the government’s interests,” he said in a statement.

Separation call

Sheikh Nimr had called in 2009 for separating the Eastern Province’s Shia-populated Qatif and al-Ihsaa governorates from Saudi Arabia and uniting them with Shia-majority Bahrain.

Last year, a special court in Riyadh sentenced him to death for “sedition”, “disobedience” and “bearing arms”.

Saudi Arabia’s estimated two million Shia people, who frequently complain of marginalisation, live mostly in the east, where the vast majority of the OPEC kingpin’s huge oil reserves lie.
27Oct15_النمر01

سانحہ منیٰ: 60 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق

October 05, 2015
05Oct15_DU منیٰ01DU

اسلام آباد: وزارت مذہبی امور نے سانحہ منیٰ میں 60 پاکستانی حاجیوں کے جاں بحق جبکہ 49 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اسلام آباد: وزارت مذہبی امور نے سانحہ منیٰ میں 60 پاکستانی حاجیوں کے جاں بحق جبکہ 49 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔وزارت نے اتوار کو بتایا کہ سعودی حکام نے منیٰ میں بھگدڑ مچنے سے 60 پاکستانیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جبکہ 49 زخمی زیر علاج ہیں۔ایک نجی ٹی وی چینل کا کہنا ہے کہ پچھلے 25 سالوں میں سالانہ حج کے دوران یہ سب سے بڑا سانحہ تھا۔وزارت مذہبی امور نے اپنی ویب سائٹ پر جاری فہرست میں جاں بحق حاجیوں کی مکمل تفصیلات جاری کی ہیں۔فہرست میں موجود 26 حاجیوں کے ناموں کی توثیق سعودی حکام نے کی جبکہ باقی 34 اموات عینی شاہدین یا جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ نے رپورٹ کیں۔سانحہ میں اب تک تقریباً 90پاکستانی لاپتہ ہیں۔