Category: متحدہ عرب امارات

عرب شہزادوں کا شکار: خارجہ پالیسی کا اہم ستون

October 18, 2015
18Oct15_DU تعلقات01DU

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے تلور کے شکار پر لگائی جانے والی پابندی کو اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں موجود افراتفری کے باعث مذکورہ پابندی سے ہمارے تعلقات عرب ریاستوں سے مزید کمزور ہوتے جارہے ہیں۔
رواں سال 19 اگست کو تلور کے شکار پر لگائی جانے والی پابندی کے فیصلے کا اثر نو جائزہ لینے کے لئے وزارت خارجہ کی جانب سے دائر کی جانے والی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ’یہ پٹیشن خیلجی ریاستوں کے ساتھ ہمارے خارجہ تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہونے والے فیصلوں کے حوالے سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ‘تلور’ کے شکار پر پابندی عائد
خیال رہے کہ اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین روکنی بینچ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تلور کے شکار کے لائسنس جاری نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔لیکن وفاق نے زور دیا ہے کہ مذکورہ معاملہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق ہے اور اس قسم کے معاملات میں اعلیٰ عدلیہ مدخل کرنے سے گریز کرتی ہے۔

18Oct15_DU تعلقات02

مزید پڑھیں : ‘ سعودی شہزادے بلوچستان میں تلور کا شکار کرنے نہیں آئے’
تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے پر اثر نو جائزے کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ شکاری پرندے باز سے شکار کرنا مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے خارجہ تعلقات میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔واضح رہے کہ باز سے شکار کرنا عربوں کے لئے صرف ایک کھیل نہیں ہے بلکہ یہ ان کی ثقافت کا حصہ ہے اور اسے یونیسکو نے ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی شہزادہ اور 2100 تلور کا شکار
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 4 دہائیوں میں پاکستان کی وزارت خارجہ عرب ریاستوں سے مضبوط برادرانہ اور سفارتی تعلقات قائم رکھنے کے نقطہ نظر سے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو بازوں کے ذریعے تلور کے شکار کے دعوت نامے جاری کرتی رہی ہے۔پاکستان میں عربوں کو شکار کی دعوت دینا خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اور ماضی کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان میں 2015-2014 کے شکار کے سیزن کے لئے غیر ملکی شخصیات کو دعوت دے دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں : تلور کی دہائی
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خوا کے جنگلات کی زندگی پر صوبائی قوانین کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے پاس قانونی اختیارات ہیں کہ وہ جانوروں کی حفاظت سے متعلق شیڈول میں سے کسی جنگلی حیات کو فہرست سے نکال دے۔بلوچستان وائیلڈ لائف قوانین (تحفظ اور انتظام) ایکٹ 2014 کے تحت تلور کھیل کا پرندہ‘ہے اور اس کا شکار کچھ شرائط کے ساتھ قانونی طور پر جائز ہے۔
مزید پڑھیں : سعودی شہزادے کے لیے چاغی میں نایاب پرندے کے شکار کی اجازت
پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شکار پر آنے والی بین الاقومی شخصیات اپنے ساتھ بہت سا سرمایہ لے کر آتی ہیں جو کہ مقامی افراد کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یونس پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ بلے باز

October 13, 2015
13Oct15_DU یونس خان01DU

ابو ظہبی: قومی ٹیم کے اسٹار تجربہ کار بلے باز یونس خان عظیم بلے باز جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑ کر ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے ہیں۔
جب محمد حفیظ کے آؤٹ ہونے کے بعد یونس خان ابو ظہبی ٹیسٹ میں میدان میں اترے تو انہیں میانداد کا آٹھ ہزار 832 رنز کا ریکارڈ توڑنے کیلئے صرف 19 رنز درکار تھے۔انہوں نے شاندار انداز میں معین علی کو چھکا لگا کر میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بلے باز کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔
13Oct15_DU یونس خان02
یونس خان نے یہ اعزاز 102ویں ٹیسٹ میچ میں حاصل کیا جبکہ میانداد نے 124 ٹیسٹ میچوں میں 8 ہزار 832 رنز بنائے تھے اور انضمام الحق کو 119 ٹیسٹ میچوں میں آٹھ ہزار 829 رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز عظیم ہندوستانی بلے باز سچن ٹنڈولکر کو حاصل ہے جنہوں نے 200 ٹیسٹ میچوں میں 15 ہزار 921 رنز اسکور کیے۔
13Oct15_DU یونس خان03
انہوں نے میچ سے قبل کہا تھا کہ ریکارڈز سے قطع نظر میں اپنے ملک کیلئے کھیلنا چاہتا ہوں اور میرے لیے سب سے بڑی شناخت میرے ریکارڈز نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک ایسے بلے باز کے طور پر جانا جاؤں جو ہمیشہ اپنے ملک کیلئے کھیلتا تھا۔میانداد کی طرح یونس نے بھی 2000 کے راولپنڈی ٹیسٹ میں سری لنکا کے خلاف ڈیبیو میچ میں سنچری اسکور کی تھی۔انہوں نے گزشتہ روز ایک انٹویو میں ایک بار پھر ملک کی قیادت کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عمران خان کی طرح ایک اچھی ٹیم بنا کر جانا چاہتے ہیں۔
13Oct15_DU یونس خان04
انہوں نے کہا کہ جب میں پہلے کپتان بنا تھا تو نوجوان تھا اور بہت زیادہ جارحانہ انداز کا حامل تھا لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ میں نوجوان کرکٹرز کی زیادہ بہتر انداز میں رہنمائی کرتے ہوئے انہیں اعتماد دے کر جا سکتا ہوں۔ میں عمران خان کی طرح ایک اچھی ٹیم بنا کر جانا چاہتا ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں جب ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں کی فہرست دیکھتا ہوں تو اس میں ہندوستان اور سری لنکا کے کرکٹرز بھی شامل ہیں تو میری بھی یہ خواہش ہے کہ جس طرح 30 سنچریاں بنانے والے بیٹسمینوں میں میرا نام شامل ہو چکا ہے اسی طرح دس ہزار رنز بنانے والا میں پہلا پاکستانی بلے باز بن جاؤں۔

فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اماراتی طیاروں کی یمن پر بمباری

September 06, 2015
06Sep15_BBC بمباری01
BBC

حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے اپنے 45 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں نے یمن میں کئی مقامات پر شدید بمباری کی ہے۔
ہ فوجی جمعے کو یمن کے دارالحکومت صنعا سے 250 کلومیٹر دور مشرق میں ماریب کے علاقے میں گولہ بارود کے ایک ذخیرے پر باغیوں کے راکٹ حملے کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔یہ متحدہ عرب امارات کی عسکری تاریخ کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔سنیچر کو سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس حملے میں اس کے بھی دس فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ خیال ہے کہ پانچ بحرینی فوجی بھی اس دھماکے کا نشانہ بنے۔حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ حملہ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ’جرائم‘ کا بدلہ ہے۔
05Sep15_BBC امارتی اموات01
متحدہ عرب امارات کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سنیچر کو ہونے والی بمباری میں حوثی باغیوں کے متعدد ٹھکانے نشانہ بنے ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق دارالحکومت صنعا پر ہونے والی بمباری میں 20 سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں۔.اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں مارچ سے سعودی کمان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں ساڑھے چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے دو ہزار سے زیادہ عام شہری ہیں۔یمن میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد صدر منصور ہادی فرار ہو کر ساحلی شہر عدن منتقل ہو گئے تھے تاہم بعد میں حوثی باغیوں نے جب عدن کی جانب پیش قدمی شروع کی تو صدر وہاں سے فرار ہو سعودی عرب پہنچ گئے تھے۔حوثی باغیوں کی پیش قدمی پر سعودی عرب نے متعدد بار خبردار کیا تھا تاہم بعد میں اس نے یمن میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دیا اور کئی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ واپس لے لیا ہے۔

یمن میں بم دھماکے میں 45 اماراتی فوجی جاں بحق

September 05, 2015
06Sep15_AA سوگ
al-Arabia

یمن میں حادثاتی طور پر ایک بم پھٹنے سے متحدہ عرب امارات کے 45 فوجی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اماراتی فوجی حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘وام’ نے اطلاع دی ہے کہ یہ بم دھماکا ایک اسلحہ خانے میں ہوا ہے۔ فوری طور پر اس واقعے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں مارچ سے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔اس عرب اتحاد کے لڑاکا طیارے حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں اور حال ہی میں بعض ممالک نے اپنے زمینی دستے بھی یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج کی حمایت میں اُتارے ہیں۔قبل ازیں بھی پانچ اور اماراتی فوجی یمن میں مختلف واقعات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

یمن میں فوجیوں کی ہلاکت پر یو اے ای کا تین روزہ سوگ

September 06, 2015
06Sep15_AA امارتی قتل
al-Arabia

متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے صدارتی امور نے یمن میں کم از کم 45 اماراتی فوجیوں کی ہلاکت پر تین دن کے سوگ کا اعلان کردیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘وکالت عربیہ الامارات’ کے مطابق اس تین روزہ سوگ کے دوران تمام قومی عمارات پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔وزارت کے بیان کے مطابق “متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے مظلوموں کی مدد کے لئے جانے والے عرب اتحادی فوج میں شامل بہادر اماراتی فوجیوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق وسطی یمن کے علاقے مآرب میں موجود فوجی ایک فوجی اڈے کے ہتھیاروں کے ڈیپو میں حادثاتی طور پر آگ لگ جانے کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔سعودی عرب اور اس کی اتحادی عرب ریاستیں ماہ مارچ سے یمن میں جبری طور پر معزول کی جانیوالی حکومت کی بحالی اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیائوں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے فوجی آپریشن کررہے ہیں۔

یمن: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ، متحدہ عرب امارات کے 45 فوجی ہلاک

September 05, 2015
05Sep15_BBC امارتی اموات01
DU

یمن کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے متحدہ عرب امارات کے 45 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب بحرین نے کہا ہے کہ یمن سے متصل سعودی سرحدوں کا تحفظ کرنے والے اس کے پانچ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں تاہم اس ضمن میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔جمعے کو یمن میں فوج کے ذرائع کے مطابق دارالحکومت صنعا سے 250 کلومیٹر دور مشرق میں ماریب کے علاقے میں متحدہ عرب امارات کے فوجی گولہ بارود کے ایک ذخیرے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہوئی ہیں تاہم باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے راکٹ حملے کے نتیجے میں یہ دھماکے ہوئے۔متحدہ عرب امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے وام نے مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن میں ان کے فوجی فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں مارچ سے سعودی کمان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں45 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 2110 عام شہری ہیں۔یمن میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد صدر منصور ہادی فرار ہو کر ساحلی شہر عدن منتقل ہو گئے تھے تاہم بعد میں حوثی باغیوں نے جب عدن کی جانب پیش قدمی شروع کی تو صدر وہاں سے فرار ہو سعودی عرب پہنچ گئے تھے۔حوثی باغیوں کی پیش قدمی پر سعودی عرب نے متعدد بار خبردار کیا تھا تاہم بعد میں اس نے یمن میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دیا اور کئی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ واپس لے لیا ہے۔

حوثیوں سے جنگ کا مقصد خطے میں ایرانی نفوذ روکنا ہے

30 August, 2015
30Aug15_AA حوثی
al-Arabia

یمن کے جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی کا مقصد خطے میں ایران کی توسیع کو روکنا ہے۔ اپنے دورہ سوڈان کے موقع پر منصور ھادی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا ایران کے ‘ناکام تجربہ’ کو یمن منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
یمن کے جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی کا مقصد خطے میں ایران کی توسیع کو روکنا ہے۔ اپنے دورہ سوڈان کے موقع پر منصور ھادی کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا ایران کے ‘ناکام تجربہ’ کو یمن منتقل کرنا چاہتے ہیں۔یمنی صدر ہفتے کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر سوڈان کے دارلحکومت خرطوم پہنچے۔ سوڈانی صدر عمر البشیر اور ان کی کابینہ کے متعدد وزراء ان کے استقبال کے لئے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔سوڈانی وزیر خارجہ ابراھیم غندوز نے صدر ھادی کی آمد کے بعد ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دورہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے ہاں اہم سمجھے جانے والے امور پر تبادلہ خیال کے فریم ورک میں ہو رہا ہے۔ اس فریم ورک کی روشنی میں یمن کا استحکام اور وہاں آئینی حکومت کا بحال ہونا حالیہ مرحلے کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے سوڈان، سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فوج کو مکمل حمایت فراہم کر رہا ہے تاکہ یمن کی آئینی حکومت بحال ہو سکے۔

گذشتہ جمعہ کے روز سوڈان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ یمنی صدر کا دورہ سوڈان دراصل خرطوم کی جانب سے یمن کی آئینی حکومت کے احترام کا عملی مظہر ہے۔ اس کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان کوارڈی نیشن، تعلقات کی حمایت اور ان امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے جن کا اس وقت یمن کو سابقہ ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ سوڈان کے دورے میں یمن کے لئے انسانی امداد کے مواقع اور سوڈانی ہستپالوں میں یمنی زخمیوں کے علاج جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔