Category: لیبیا

مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کا فوجی حل ناممکن

October 28, 201528Oct15_AA حل01al-Arabia

امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ جان برینان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض حصوں میں جاری تنازعات کا فوجی حل ناممکن ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض ممالک کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں مؤثر مرکزی حکومتوں کے قیام کی تصویر دھندلی نظر آرہی ہے۔جان برینان واشنگٹن میں سراغرسانی سے موضوع پر منعقدہ ایک کانفرنس میں تقریر کررہے تھے۔اس کانفرنس میں دوسرے سکیورٹی عہدے داروں اور صنعتی ماہرین نے بھی گفتگو کی ہے۔

برینان نے کہا کہ ”جب میں لیبیا ، شام ،عراق اور یمن کی جانب دیکھتاہوں تو میرے لیے ان ممالک میں ایک ایسی مرکزی حکومت کا تصور کرنا بھی مشکل ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد ماضی میں کھینچی گئی سرحدوں کے مطابق ان ملکوں میں اپنا کنٹرول اور اتھارٹی قائم کرسکے”۔

انھوں نے کہا کہ ”ان ممالک میں جاری تنازعات کا فوجی حل ناممکن ہے۔تنازعات کے حل کے لیے آپ کو درجہ حرارت کم کرنے ،تنازعے کی شدت کو نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ پھر آپ وہاں موجود ان تمام فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کریں جو تنازعات کے پُرامن حل میں سنجیدہ ہیں”۔

فرانس کی خارجہ انٹیلی جنس ایجنسی ڈی جی ایس ای کے سربراہ برنارڈ باجولٹ نے کانفرنس میں کہا کہ ”اس خطے کا موجودہ تنازعات کے پیش نظر اپنی پرانی ڈگر پر واپس آنا ممکن نظر نہیں آتا ہے”۔

ان کا کہنا تھا کہ ”جس مشرقِ وسطیٰ کو ہم جانتے ہیں،وہ ختم ہوچکا اور مجھے شک ہے کہ وہ دوبارہ واپس آئے گا کیونکہ شام پہلے ہی برسر زمین تقسیم ہوچکا ہے،اسد رجیم کا ملک کے بہت تھوڑے علاقے پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد معرض وجود میں آنے والے ملک کے ایک تہائی حصے پر ہی اسد حکومت کی عمل داری ہے جبکہ ملک کے شمال میں کردوں نے اپنی خود مختاری قائم کرلی ہے”۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”عراق میں بھی ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔مجھے اس میں شُبہ ہے کہ ان ممالک میں واقعی گذشتہ صورت حال دوبارہ لوٹ سکتی ہے”۔تاہم اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ ”مجھے اعتماد ہے کہ ایک روز یہ پورا خطہ ایک مرتبہ پھر مستحکم ہوجائے گا”۔

Advertisements

داعش لیبیا کے کس علاقے کو نشانہ بنائے گی؟

October 04, 2015
04Oct15_AA داعش01al-Arabia

تیل کی دولت سے مالا مال علاقہ داعش کا نیا ہدف
لیبیا کے فوجی ذرائع نے ‘العربیہ’ کو بتایا کہ انتہا پسند تنظیم دولت اسلامیہ ‘داعش’ رواں ماہ کے دوران تیل سے مالا مال علاقے پیٹرولیم کریسنٹ میں بڑی کارروائی کے لئے تیاریوں میں مصروف ہے۔
تیل کی تنصیبات کے نگرانی پر مامور عملہ لیبی فوج کے ساتھ کوارڈی نیشن سے پس وپیش کر رہا ہے جس کے بعد وسطی ریجن اور پٹرولیم بندرگاہوں پر داعش کے کںٹرول حاصل کرنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔لیبی فوج کے گشت پر مامور ‘الصاعقہ’ نامی اسپیشل دستے مسلح تنظیموں کی فائرنگ کی زد میں اس وقت آئے جب وہ بوعطنی محور کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔ اس کارروائی میں گشتی ٹیم کا ایک اہلکار جاں بحق اور تین دوسرے زخمی ہوئے۔