Category: لبنان

منشیات سمگل کرنے کے الزام میں سعودی شہزادہ گرفتار

November 03, 201503Nov15_BBC شہزادہDU

لبنان میں بیروت کے ہوائی اڈے پر ایک ہفتے قبل نشہ آور گولیوں کی ایک ریکارڈ کھیپ پکڑے جانے کے بعد سعودی عرب کے ایک شہزادے اور دیگر چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سعودی شہزادے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن انھیں اور چار دیگر سعودی شہریوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دو ٹن وزنی منشیات کی گولیاں ’کپٹاگن‘ ایک نجی طیارے پر لادی جا رہی تھیں۔نو افراد کے خلاف اس مقدمے میں ملوث تین لبنانی اور دو سعودی شہری مفرور ہیں اور ان کی تلاش کی جا رہی ہے۔منشیا ت کی یہ گولیاں جن میں کیفین اور ’ایمفیٹا مائن‘ ہوتی ہے مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔شام کے تنازع میں بھی منشیات کی یہ گولیاں ایک اہم عنصر ہیں اور ان کی پیداوار سے کروڑوں ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں اور شام کی لڑائی میں شامل جنگجوؤں میں بھی ان گولیوں کا استعمال عام ہے۔یہ گولیاں سنہ1960 سے بنائی جا رہی ہیں جن سے اعصابی دباؤ یا ڈپریشن اور نیند کی بیماری کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ سنہ 1980 تک ان گولیوں کو بہت سے ملکوں میں ممنوع قرار دے دیا گیا کیونکہ ان کے نشے کی لت لگ جاتی تھی۔سنہ 2013 میں اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 64 فیصد ایمفیٹا مائن مشرق وسطی میں پکڑی گئی جو کہ زیادہ تر ان گولیوں کی شکل میں تھی۔
Advertisements

اسرائیل سے جنگ اور شام میں لڑائی برابر ہیں: نصر اللہ

October 19, 2015
19Oct15_AA نصراللہ01al-Arabia

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے معرکہ آرائی اور شام میں جنگ یکساں طور پر اہم ہیں۔ صہیونی اور تکفیری دونوں منصوبوں کا مقصد ہمارے عوام اور معاشروں کی تباہی ہے تاکہ وہ ذلت کی ایسی اتاہ گہرائیوں میں جا گریں جہاں ان میں قوت ارادی بالکل ختم ہو جائے۔گذشتہ ہفتہ شام میں داد شجاعت دیتے ہوئے مارے جانے والے حزب اللہ کے سرکردہ رہنما کے یاد میں منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نصر اللہ نے کہا کہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں ‘تکفیری’ منصوبے کی بیخ کنی کے لئے ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہماری جنگجو میدان جنگ میں اترنے کے لئے پہلے سے زیادہ تیار اور آمادہ ہیں۔اپنے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ مزاحمت کار جنگجو آج میدان جنگ میں حاضر ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ تیار ہوں کیونکہ ہمیں ایک فیصلہ کن جنگ کا مرحلہ درپیش ہے۔سوموار کے روز حزب اللہ نے بیروت کے جنوب میں اللویزہ میونسپلٹی میں اپنے سرکرہ کمانڈر حسن محمد الحاج کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی۔ حسن محمد الحاج شام میں بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں حسن محمد الحاج کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ رواں مہینے کی دس تاریخ کو حماہ گورنری میں ہونے والی لڑائی میں مارے گئے۔شام میں سرکاری فوج کے ہمراہ لڑنے والی ایرانی حمایت یافتہ لبنانی حزب اللہ غیر شامی تنظیموں میں سب سے بڑی مسلح تنظیم ہے کہ جو بشار الاسد فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ حزب اللہ کی مدد سے ہی شام کی سرکاری فوج کو مختلف علاقوں میں جنگی برتری حاصل ہے۔

شامی مہاجرین یورپی عیسائیت کیلئے خطرہ

September 04, 2015
04Sep15_DU پناہ گزین01DU

شام سے مہاجرین کی یورپ منتقلی پر ہنگری نے اسے عیسائیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
04Sep15_DU پناہ گزین02
برطانوی اخبار گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق مہاجرین کے حوالے سے ہنگری کے وزیر اعظم ویکٹر اوبان کا کہنا ہے کہ یہاں (ہنگری) آنے والے مہاجرین ایک بلکل مختلف مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی ثقافت بھی الگ ہے اور ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ یورپ کی شناخت بنیادی طور پر عیسائیت پر ہے۔خیال رہے کہ شام گزشتہ کئی سالوں سے جنگ سے متاثر ہے،لیکن گزشتہ برس شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے خودساختہ خلافت کے قیام کے اعلان کے بعد صورت حال بہت زیادہ خرب ہو گئی اور مہاجرین ہنگری کے راستے یورپ کے دیگر ممالک میں داخلے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شامی بچے کی دل لرزا دینے والی تصویر
اس حوالے سے ہنگری کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یورپین عیسائیت بمشکل ہی یورپ کو عیسائی بنائے رکھے ہوئے ہے جو کہ ایک پریشان کن صورتحال ہے، اس لیے کہ اس کا متبادل نہیں ایسے میں سرحدوں کے دفاع کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔
04Sep15_DU پناہ گزین03خیال رہے کہ شام کے مہاجرین کی یورپ ہجرت کے حوالے سے لکسمبرگ میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں یورپ آنے والے مہاجرین کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ہنگری کے وزیر اعظم ویکٹر اوبان نے جرمنی کے اخبار فرینکفرٹ الگیمائین سیتنگ میں لکھا ہے کہ جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے یہ یورپ کے لیے خطرناک نتائج کا باعث ہے۔یورو نیوز کی رپورٹ کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں ویکٹر اوبان نے کہا کہ مہاجرین کی آمد یورپ کا مسئلہ نہیں ہے یہ جرمنی کا مسئلہ ہے کیونکہ کوئی بھی ہنگری، سلواکیہ، پولینڈ میں رکنا نہیں چاہتا یہاں سے سب جرمنی جانا چاہیں گے ہمارا کام صرف ان کی رجسٹریشن ہے جس کا تقاضا ہم سے کیا گیا ہے۔

شامی پناہ گزینوں کو یورپ نقل مکانی میں مشکلات
دوسری جانب ہنگری کے وزیر اعظم کے اس دعویٰ کے جواب میں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ مہاجرین کا مسئلہ صرف جرمنی کامسئلہ نہیں ہے۔
04Sep15_DU پناہ گزین04جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق سوئزلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جرمنی وہ کررہا ہے جو اخلاقی اور قانونی طور پر کیا جا سکتا ہے۔جینیوا کنونشن کے مہاجرین کے حوالے سے کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے انجیلا مرکل نے کہا کہ اس معاہدے پر صرف جرمنی نے دستخط نہیں کیے بلکہ تمام یورپی ممالک نے اس پر دستخط کیے ہیں۔واضح رہے کہ جرمنی اور فرانس نے سفارشات بھی تیار کی ہیں کہ کس طرح مہاجرین کو منصفانہ طور پر یورپ میں تقسیم کیا جائے۔
فرانس کے صدر فرانسو اولاند کے دفتر سے جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مرد ، خواتین اور ان کے خاندان جنگ سے متاثر ہیں ان کو بین الاقوامی حفاظت کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین ہنگری کے شہر بڈپست میں موجود ہیں۔
04Sep15_DU پناہ گزین05جرمنی کی جانب سے مہاجرین کے لیے کیمپ بنائے گئے ہیں اور جرمنی نے مہاجرین کی بڑی تعداد کو قبول کرنے کی حامی بھری ہے لیکن یورپ کے دیگر ممالک کی جانب سے اس کی حمایت نہیں کی جا رہی، جبکہ جرمنی چاہتا ہے کہ مہاجرین کے حوالے سے کوٹہ مختص کر دیا جائے کہ کس ملک کی ذمہ داری کتنے مہاجرین کی ہوگی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں رواں برس جولائی تک مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ 7 ہزار ہو چکی تھی ۔جرمن حکام کے اندازوں کے مطابق رواں سال 8 لاکھ مہاجرین کی آمد متوقع ہے جو گزشتہ سال سے 400 فیصد زیادہ ہو گی۔واضح رہے کہ عراق اور شام میں داعش اور اتحادی فورسز کے درمیان جنگ سے ہزاروں افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے، جس کے باعث اس خطے سے شہری یورپ، کینیڈا اور دیگر ممالک ہجرت کر رہے ہیںاس ہجرت کے باعث کئی دفعہ ان کی کشتیاں بھی سمندر برد ہوئیں اور پناہ گزین ہلاک ہوئے۔

ڈوبنے والے شامی بچے کے باپ کا دکھ

03Sep15_BBC شامی04
BBC

ترکی کے ساحل پر لال قمیض پہنے اوندھے منہ پڑے شامی بچے کی تصویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور اس سے شام کے بحران میں انسانی جانوں کے زیاں پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ترکی کی نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی یہ تصویر پوری دنیا میں دیکھی گئی ہے اور ٹوئٹر پر اس کا ہیش ٹیگ ’انسانیت ساحل پر بہہ کر آ گئی‘ ہے۔یہ بچہ ان دو کشتیوں میں سے ایک پر تھا ترکی سے یونان جانے کی کوشش میں ڈوب گئی تھیں۔ان میں کل 23 افراد سوار تھے جن میں سے کم از کم 12 ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈوبنے والوں میں پانچ چھوٹے بچے تھے۔ انھیں میں سے ایک ایلان کردی تھا جس کی لاش ساحل پر سے ملی تھی۔ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی کے سمندر میں جانے کے کچھ منٹ بعد اونچی لہریں اس سے ٹکرانے لگیں اور اسی دوران کپتان چھلانگ لگا کر کشتی سے اتر گیا۔
Video

03Sep15_AA شامی01
میں نے اپنے بچوں اور بیوی کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک جان دیتے گئے۔’میں نے کشتی چلانے کی کوشش کی لیکن ایک اور اونچی لہر نے اسے الٹا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ سب کچھ ہوا۔ترکی کے کوسٹ گارڈز کے مطابق تارکینِ وطن بدھ کو علی الصبح ترکی کے بودرم جزیرہ نما سے یونان کے جزیرے کوس جانا چاہتے تھے لیکن کچھ دیر بعد کشتیاں ڈوب گئیں۔تین سالہ ایلان اپنے پانچ سالہ بھائی گیلپ اور ماں ریحان کے ساتھ ڈوب گئے۔ ان کے والد عبداللہ اس حادثے میں بچ گئے۔اطلاعات کے مطابق عبداللہ نے سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
03Sep15_BBC شامی05
عبداللہ کی بہن تیما کردی نے جو کینیڈا کے شہر وینکور میں رہتی ہیں کینیڈا کے اخبار نیشنل پوسٹ کو بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے میں ان کی مدد کر رہی تھیں۔میں انھیں سپانسر کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہم انھیں وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے وہ کشتی میں گئے۔اطلاعات کے مطابق عبداللہ کو داعش یا کسی اور جہادی گروہ نے کوبانی کے محاصرے کے دوران اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔کردی خاندان کے پاس اس لیے بھی کوئی اور راستے نہیں بچا تھا کیونکہ ترکی سے نکلنے کے لیے شامی کرد پناہ گزینوں کو پاسپورٹ درکار ہوتا ہے جو شاید بہت کم لوگوں کے پاس ہی ہے۔

حماس کا اسرائیلی جاسوس ڈولفن پکڑنے کا دعویٰ

20 August, 2015
20Aug15_BBC جاسوسی

BBC
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے غزہ کے ساحل کے قریب ایک ڈولفن پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے جو تنظیم کے بقول اسرائیلی جاسوس ہے۔
مقامی اخبار القدس کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ ڈولفن پر جاسوس کے آلات نصب ہیں جن میں کیمرے بھی شامل ہیں۔بظاہر یہ ڈولفن حماس کے بحری یونٹ نے پکڑی ہے جس کے بعد اسے ساحل پر لایا گیا ہے۔ البتہ حماس کی جانب سے اس ڈولفن کی کوئی تصویر جاری نہیں کی گئی ہے۔القدس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس ڈولفن کو اس کی مرضی کے خلاف ایک ’قاتل‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔اخبار کے مطابق اس سے حماس کے بحری جنگی یونٹ کی تشکیل پر اسرائیل کا ’غصہ اور بےچینی‘ بھی ظاہر ہوتی ہے۔اسرائیلی حکام نے جاسوس ڈولفن پکڑنے جانے کی اطلاعات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔اسرائیل غزہ کی زمینی، بحری اور فضائی سرحدوں کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل پر جانوروں یا پرندوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگا ہو۔سنہ 2010 میں اسرائیل نے مصر کے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ بحیرۂ احمر میں شارک مچھلیوں کے حملوں کے پیچھے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔اس واقعے کے چند ہفتے بعد سعودی عرب میں جی پی ایس ٹرانسمیٹر سے لیس ایک گدھ پکڑا گیا تھا اور اسے بھی موساد کی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔

لبنان کا دفاع حزب اللہ کی ذمہ داری نہیں: سعد حریری

Saad Hariri, ex-PM LebonanAA_Orig

لبنان کے سابق وزیر اعظم اور ‘المسقبل’ پارٹی کے سربراہ سعد الحریری کا کہنا ہے کہ لبنان کی حاکمیت اعلی، وقار اور دفاع کی ذمہ داری کسی بھی طرح حزب اللہ کی ذمہ داری نہیں۔ ‘حزب اللہ لمبے عرصے تک بشار الاسد کی کامیابی پر تکیہ کرتی رہی ہے لیکن اب وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ڈوب رہا ہے۔ اسدی فوج شہروں سے انخلاء کر کے علاقے داعش کے حوالے کر رہی ہے جس سے شام کو دہشت گردی کے عفریت کے حوالے کرنے کی کھلی سازش کا پتہ چلتا ہے۔ سعد الحریری کے مطابق حزب اللہ بشار الاسد کو لبنان کے پھیپھڑے کے ذریعے زندہ رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔ حزب اللہ اپنے نوجوانوں کی زندگیاں داو پر لگا کر اسد حکومت قائم رکھنا چاہتی ہے۔ لبنان کے شیعہ نوجوان اس پالیسی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ انہیں ایسی جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے جس کی نہ دینی، اخلاقی اور وطنی شناخت ہے۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ داعش کا انجام بھی بشار الاسد سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ دونوں کا دار ومدار تباہی اور آلات قتل کے بے دریغ استعمال پر ہے، ان کا انجام ایک ہی ہے۔ سعد الحریری، حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کے ایک بیان پر تبصرہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گمراہ طاقتوں، دہشت گردی اور داعش کے حوالے سے المستقبل پارٹی کے نقطہ نظر پر ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حسن نصر اللہ، لبنان کو بشار الاسد حکومت کے لئے بطور ڈھال استعمال کر رہے۔ حزب اللہ لبنانی ساحل پر ایرانی منصوبے کے دفاع میں جتی ہوئی ہے اور اس کی تکمیل پر ملک [لبنان] ایک نہ ختم ہونے والے بحران میں مبتلا ہو جائے گا۔

حسن نصراللہ کے متنازعہ بیان پر حزب اللہ کے حامیوں میں تنازعہ

Nasrullah, HizbullahAA_Orig

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے نام منسوب ایک متنازعہ بیان ان دنوں تنظیم کے حامی سمجھے جانے والے ابلاغی اداروں میں ایک نئے تنازع کا باعث بنا ہے۔ چند روز قبل حزب اللہ کے مقرب جریدے “الاخبار” نے حسن نصراللہ کے نام منسوب ایک بیان شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ “جنگ صفین کی تکمیل ہمارا فرض ہے، جس نے جنگ صفین میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا وہ فتح مند ہوگا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حسن نصراللہ کا یہ متنازعہ بیان حال ہی میں “یوم الجریح” کے موقع پر سامنے آیا۔ جریدے کے مطابق حسن نصراللہ نے یہ بات بند کمرہ اجلاس میں کہی تھی۔ تاہم حزب اللہ کے ترجمان سمجھے جانے والے عربی ٹی وی “المنار” نے “الاخبار” میں شائع بیان کی اصلاح کی کوشش کی ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الشیخ حسن نصراللہ کا معرکہ صفین سے متعلق جو بیان شائع ہوا اسے سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔ حزب اللہ سربراہ کی جانب سے معرکہ صفین کی تکمیل کے لیے “کال اپ” نہیں دی گئی۔ ٹی وی رپورٹ میں حسن نصراللہ کے بند کمرہ اجلاس کے کچھ دوسرے بیانات بھی شامل کیے ہیں۔ اسی بیان میں وہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات کے خاتمے پر پریشانی کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “سب ہمارے خلاف متحد ہوگئے۔” نیز اب حالات بڑی قربانی کا تقاضا کررہے ہیں۔ اگر ہمت اور جذبہ بیدار ہوتو ہم ان کی ہڈیاں توڑ دیں گے۔ جو بھی ہمارے ان عرب دشمنوں کے بارے میں بات نہیں کرتا وہ خائن اور بزدل ہے۔ امریکی سفارت خانوں میں کام کرنے والے شیعہ حضرات بدیانت اور بزدل ہی نہیں بلکہ دشمن کے ایجنٹ بھی ہیں۔اخباری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حسن نصراللہ نے کہا کہ “معرکہ صفین کی تکمیل کے لیے میں اعلان عام کرنے والا ہوں” لیکن ٹی وی رپورٹ میں ان کی اس بات کو سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کیے جانے کا تاثر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لیڈر کے اس متنازعہ بیان کے باعث تنظیم کے حامیوں کو بھی ایک نئے بحران سے دوچارکردیا ہے۔