Category: قطر

صنعا (یمن) پر حوثیوں کا قبضہ ہے۔ صنعاء کو واگذار کرانے کے فیصلہ کن معرکے کا جلد آغاز

27 August, 2015
27Aug2015_AA صنعا
al-Arabia

یمنی فوج کے سپہ سالار کا ایرانیوں سمیت غیرملکیوں کی گرفتاری کا دعویٰ

Video

یمن کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد علی المقدشی نے کہا ہے کہ دارالحکومت صنعاء کو حوثی باغیوں سے چھڑانے کے لیے فیصلہ کن معرکہ چند ایام کے اندر شروع ہونے والا ہے۔ وہ وقت اب قریب آ گیا ہے جب پورا ملک باغیوں کے چنگل سے آزاد ہو گا اور یمن کا چپہ چپہ آئینی حکومت کے کنٹرول میں ہو گا۔سعودی عرب کے “الریاض” اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل المقدشی کا کہنا تھا کہ آئینی حکومت کی وفادار فوج اور اتحادی ملیشیا جلد ہی صنعاء میں داخل ہونے والی ہیں۔ صنعاء کو باغیوں سے چھڑانے کا فیصلہ کن معرکہ شروع ہونے کو ہے۔ جلد ہی ہم پورے یمن کو باغیوں سے چھڑالیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں یمنی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کےہوتے ہوئے ہمیں بری فوج کو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یمن کی اپنی فوج ہی باغیوں کے لیے کافی ہے۔ اتحادی ممالک کا فضائی آپریشن ہی کافی ہے۔

جنرل احمد المقدشی نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں باغیوں کے خلاف لڑائی کے دوران ایران، شام ، عراق اور لبنان کے باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ لوگ باغیوں کی صفوں میں شامل ہوکر آئینی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی حکومت کی بحالی کے ساتھ ہی فوج کو مضبوط ادارہ بنانے، پڑوسی ملکوں کے تعاون سے فوج کی پیشہ وارانہ بنیادوں پر عسکری تربیت، تیاری اور اسلحہ فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ یمن کی مسلح افواج میں 20 ہزار تربیت یافتہ غیر فوجی جنگجو بھی باغیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں جو ہرطرح کے فوجی آپریشن میں فوج کی مدد کرتے ہیں۔

Advertisements

امیر قطر کا ایرانی صدر سے رابطہ، تعلقات کی بہتری پر اتفاق

21Jun15_AA قطرAA_Orig

امیر قطر نے رمضان کے موقع پر ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطے میں کہا ہے کہ ایران اور قطر کو خطے میں سلامتی کے لئے اپنے درمیان اختلافات کو دور اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری لائیں۔ ایران کی خبررساں ایجنسی ‘اسنا’ کے مطابق قطری امیر شیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ الثانی اور ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنی بات چیت کے دوران خطے میں جاری تشدد کی لہر کو بھی رمضان کے مقدس مہینے کے درمیان روکنے کا مطالبہ کیا۔ یران خطے میں شام کے صدر بشار الاسد اور یمن کی شیعہ ملیشیائوں اور حوثی باغیوں کا سب سے بڑا حامی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں قطر اسد کے خلاف لڑنے والے شامی باغیوں کا حامی ہے اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری سعودی آپریشن میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ شیخ تمیم نے ایران کے ساتھ تعلقات کو تاریخی اور مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا ہمارے درمیان کچھ معاملات پر اختلافات موجود ہیں مگر بطور دو دوست، برادر اور مسایہ ممالک ہم ان مشکلات کو پار کرلیں گے۔ حسن روحانی کا کہنا تھا کہ” دونوں ممالک کے درمیان اچھے معاشی اور سیاسی تعلقات کا امکان موجود ہے۔ یہ رابطہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے کہ جب یمن کے متحارب گروہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات کررہے ہیں۔ ابھی تک ان مذاکرات میں سے کسی قسم کی پیش رفت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ امیر قطر کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں امن قائم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شام، عراق اور یمن میں تشدد کی جگہ مذاکرات شروع کئے جانے چاہئیے ہیں۔

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

نقشہ

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
قسط نمبر ایک May 5 at 7:17am
زندگی کا ٹھہراو رکے ہوئے پانی کی طرح ہوتا ہے اسی لئے اس میں تحریک پیدا کرنے کے لئے کچھ دوست، کچھ مشاغل اور کچھ سفر درکار ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے ان ہی ضروریات کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے سفر کا ارادہ کیا اندازہ ہوا کہ ابھی وقت کے ٹھہرے ہوئے سمندر میں کچھ خزانے موجود ہیں جنہیں کھوجنا ہے نکالنا ہے اور زندگی کو ضائع نہیں کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی میری جنم بھومی کہتے ہیں جہاں نال گڑی ہو وہ زمین اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے سب سے زیادہ کشش ثقل وہیں رکھی ہوتی ہے ۔۔۔۔میں بھی بھٹکتی ہوئ روح کی طرح اکثر وہاں پائ گئ ہوں کس کی تلاش ہے یہ عقدہ نہیں کھل پایا۔۔۔۔۔۔شہر کی فضا خراب ہو امن و امان کا مسلہ ہو لوڈ شیڈنگ ہو یا پھر دیگر سماجی مسائل مگر کراچی سے دور رہنے سے دل میں اس سے زیادہ مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اسی لئے بنت بطوطہ لوٹ لوٹ کر اپنے اس گھر کا رخ کرتی ہے جس نے کئ دہائیوں پہلے اسے وداع کر دیا تھا۔۔۔۔۔اب بھی بیلے کی کلیاں اور مٹی کی سوندھی خوشبو دنیا کی تمام کلون سے بیش قیمت لگتی ہے۔۔۔اب بھی دنیا کی تمام رنگین تتلیوں سے زیادہ مجھے یہاں کی تتلیوں کے رنگ اپنی پوروں پر آج بھی محسوس ہوتے ہیں۔۔۔۔جنہیں پکڑنے کے شوق میں پورا بچپن صرف ہوگیا ۔۔۔
اب اس شہر میں جون ایلیا نہیں سلیم احمد نہیں مشفق خواجہ نہیں شبنم رومانی نہیں صہبا اختر نہیں شہر شرمندہ ہے ایسے ایسے نابغہ روزگار سے خالی ہونے پر ۔۔۔۔۔۔۔مگر ابھی بھی یہاں خواجہ رضی حیدر ہیں ۔۔۔۔شکیل عادل زادہ ہیں ۔۔۔۔انور شعور ہیں ۔۔۔سحر انصاری ہیں ۔۔۔مشتاق احمد یوسفی۔۔۔لیاقت علی عاصم۔۔۔۔۔زاہدہ حنا ہیں ۔۔۔۔۔جو آج بھی ہم جیسے نو آموز لکھنے والوں کو گوارا کرتے ہیں۔۔۔۔
میرا شہر ! اس لئے بھی میرا ہے یہاں میں نے بچپن گزارا جوانی سہی اور پھر چند عزیز دوست سنبھال کر رکھے۔۔۔۔۔۔۔کیا انیق احمد جیسا سفاک دوست ہر کسی کو میسر ہو سکتا ہے اور اگر بلفرض محال مل بھی جائے تو کیا مجھ جیسا کلیجہ کسی کا ہو گا جو اس کو مسکرا کر سہہ جائے ۔۔جس کی آنکھ میں خلوص کی چمک اور زبان پر الفاظ کے نشتر رہتے ہیں جس سے یہ ہر قسم کی خوش فہمی کا سینہ چاک کرتا رہتا ہے لوگ مجھ پر حیران ہوتے ہیں کہ یہ اتحاد بین المسلمین کی کوئ چال ہے یا میڈیا کا کوئ داو ۔۔۔۔۔بیس سال سے ہم ایک دوسرے کو برداشت کئے ہوئے ہیں دیکھیں کہ کب ضبظ کا پیمانہ چھلک جائے۔۔۔۔۔کراچی قیام میں بھی یہ مجھ پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا رہا مگر میں نے تو کبھی اپنے کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا تو انیق احمد کہاں یہ کام کر سکتے ہیں ۔۔۔

جب ہمارے گھروں میں نام رکھے جاتے ہیں تو نجانے کیوںتذکیر و تانیث کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے گویا ایسے موقع پر ہم اہلِ مغرب کی تقلید کرنے لگتے ہیں جہاں امتیاز من و تو مٹ جاتا ہے۔کون کہتا ہے کہ شاہین مذکر ہے ہم نے تو مونث کی صورت میں پایا ہے۔۔۔۔۔۔شاہین عابدی کا نام بھی اس کی زندہ مثال ہے اقبال کا شاہین تو پلٹنے جھپٹنے اور لہوگرم کرنے کے کام آتا ہی ہوگا ہماری بہن شاہین عابدی بھی اس کی زندہ مثال ہے گو کہ خود زندہ نہیں لگتی مگر لوگوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے

دیکھو میری مثال سامنے ہے

ہنس مکھ، ملنسار بدحواس، مہمان نواز جلد باز ۔۔۔۔۔بس جی قدرت بھی اس کو بھیج کر عابدی فیملی کے مسائل کو بھول چکی ہے کہ یہ ہر بات پر کہتی ہے میں ہوں نا!!

کراچی قیام پر کیا کیا لکھوں جو ذرہ جس جگہہ ہے وہی آفتاب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر ۔۔۔۔۔۔ابوظہبی ۔۔۔۔لاہور اور اسلام آباد بھی تو مسافر کو جانا ہے اس لئے فی الحال اجازت اگلی
قسط تک

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
قسط نمبر دو May 8 at 7:17am
۔۔۔۔۔کراچی پہنچتے ہی جو عام طور پر پہلی بیٹھک ہوتی ہے وہ سب رنگ کی دعوتِ شیراز ہوتی ہے ۔۔۔۔۔شکیل بھائ کی سر پرستی میں یہ بیٹھک عجیب لطف دیتی ہے کئ منزلہ ایک پرانی سی عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں ہم عہدِ گزشتہ کی اس مہک کو محسوس کرتے ہیں جو اب ناپید ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔وہاں کے کچھ منچلے نوجوان جو اپنی حرکات و سکنات کی وجہ سے ماحول کو ہمیشہ جوان رکھتے ہیں (اس وقت نام یاد نہیں آرہے)۔۔پھر کھانے کے دوران یہ معلوم ہوتا کہ جیسے یہ ازلی بسیار خور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے چکر میں اپنی اپنی مدارات میں ہمہ وقت مصروف ہیں ۔۔۔۔اس تمام کارروائ کے دوران شکیل بھائ صرف زیرِ لب مسکراتے۔۔۔۔۔۔۔بعض لوگ پوری تقریر کرکے بھی بات نہیں سمجھا پاتے اور کچھ کا تبسمِ زیرِ لب کیسا مفصل ہوتا ہے!!!!یہیں بردبار سے وسعت اللہ خان سے ملاقات ہوئ جن کی کشادہ پیشانی پر ملک کے حالات سمٹے نظر آئے۔۔۔جو محفل میں ہوتے ہوئے بھی شاید ہوتے نہیں ۔۔۔۔۔یہیں عقیل عباس جعفری سے ملاقات ہوئ جو تحقیق کا بھاری تیشہ اٹھائے کسی جوئے شیر کے منتظر ہیں۔۔۔۔یہیں خالد سے ملاقات ہوئ جو دنیا اور ما فیہا سے بے خبر صرف کھانے کی خبر رکھتا اور کوئ جملہ اچانک پھینک دیتا کہ اس کے ہونے کا اعلان ہو سکےاور اس محفل میں اکثر اندازہ ہوا کہ دین سے وابستہ رہنے والے دسترخوان کا دامن کیسے پکڑے رہتے ہیں جیسے یہ ساری نعمتیں بس خدا نے ان ہی کے شکم بے سیر کو الہام کی ہیں(میری مراد انیق احمد سے ہے جو ایک ہاتھ میں دین اور دوسرے میں غزائ صحیفے اٹھائے حئ علی خیر الطعام کہتے نظر آتے ہیں) سب رنگ تو بند ہوگیا مگر اس کے رنگ اب بھی محفوظ ہیں دعا ہے کہ شکیل بھائ اسی طرح رنگ بکھراتے رہیں۔۔۔۔۔۔
بھئ کیا بتائیں کہ شہر کراچی کے کتنے محلے ہمیں کس کس طرح عزیز رہے ہیں کہیں ہم پیدا ہوئے کہیں جوان ہوئے کہیں بیاہ کے گئے اور کہیں کوئ ہم سے بچھڑا ۔۔۔۔۔لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو محبت اور اداسی کا عارضہ لاحق ہے اسی لئے لوگون کے بہانے زمینوں سے بھی محبت کرنے لگتی ہیں اور اداسی؟ وہ تو شاید بچپن کی سہیلی ہے جو اب آنکھ مچولی نہیں کھیلتی بلکہ انگلی پکؔؔڑا کر ہمیں زندگی کی سڑک پار کراتی ہے ۔۔۔۔۔اگر یہ نہ ہو تو پھر کرنے کو کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساری زندگی کی کمائ ہے اسی لئے اسے سینت سینت کر رکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔رضویہ سوسائٹی مین گھر ہے جہان سولہ برس کی ایک لڑکی بیاہ کر گئ روایت شکن تھی مگر ۔۔۔۔کہا گیا تھا کہ ۔۔۔ع۔۔۔۔۔عمر گزار دیجئے عمر گزار دی گئ۔۔۔۔تینتس سالوں میں وہ گھر ہمارا منتظر ہوتا یا نہیں مگر ہم ضرور اس کے متمنی رہتے اس کی دیواروں نے ایک بہت کومل سی لڑکی کو بھی دیکھا جو شیشے کی بنی ہوئ تھی اور جس کی آنکھوں میں عجیب خواب تھے جو کبھی تو سونے نہیں دیتے اور کبھی جاگنے نہیں دیتے۔۔۔۔اس کی چھتوں پر آج بھی ہمارے دیدہ حیران کا عکس ہے ان کمروں میں کنوار پن کے گلابی پن سے لے بیوگی کی بے رنگی کی کتنی ہی کہانیاں پوشیدہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے پہلی مرتبہ یہ گستاخی کی کہ اپنے اس پر داستان گھر میں قیام نہیں کیا ۔۔۔۔۔معلوم ہے کیوں؟ شہر کی فضا بھی دل کی فضا کی طرح ہوچکی ہے اب اس گھر مین اختر عابدی نہین اور نہ ہی ممتا سے لبریز میری ساس سیدہ بیگم ۔۔۔۔لوگ مر جاتے ہیں اور رشتے مار دیتے ہیں مجھے بھی جیتے جی ان سب نے مار دیا اور کیوں نہ مارتے محبت کی علامتوں مین سے ایک بھرپور علامت یہ بھی تو ہے۔۔۔۔۔
جی جناب مگر ہم رفتگاں کے اب بھی ساتھ ہیں اسی لئے وادی حسین جاتے ہیں اور مٹی کو غور سے دیکھتے ہیں بڑی بھید بھری یہ مٹی ہوتی ہے سب کچھ بتاکر بھی بہت کچھ چھپا جاتی ہے کلام کرتی ہے کلام سنتی ہے ذرہ حیران سے تکتی ہے اور چمکتے ذروں سے کچھنقش دکھاتی ہے ۔۔۔اڑکر استقبال کرتی ہے اور پھر ہوا کے دوش پر مچل جاتی ہے ہماری حسرتوں کی طرح ۔۔۔۔وادی حسین بھی تو مزارِ حسرت کا مرکز ہے ہائے ہائے شہر کا یہ قبرستان سرخ جھنڈوں سے بھرتا جا رہا ہے یہ نامعلوم افراد کے ہاتھوں سرخرو ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔واہ واہ نامعلوم مہربانو!!
ارے بھئ کراچی کیوں گئ تھی یہ تو بتانا ہی بھول گئ یہاں میری ایک بہت پرانی برگد جتنی پرانی دوست زینب مسعود کے بیٹے کی شادی تھی ۔۔۔۔دھان پان سی زینب واہ واہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندہ رہیں وہ لوگ جو مرنے نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک زمانہ تھا کہ لوگ ابوظہبی کے ایک تکون کا ذکر کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔تسنیم عابدی ۔۔۔تنویر طیب۔۔۔۔۔زینب مسعود ۔۔۔۔۔لوگوں کا

خیال تھا کہ یہ برمودا ٹوٹے گا تو بہت راز باہر آئیں گے مگر جناب برمودااب تک قابلِ تسخیر نہیں ۔۔۔۔عجیب امتزاج تھا ایک ذاکرہ ایک

ساحرہ اور ایک شاعرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی کے ادبی حلقے بھی شہر کی بے رونقی کا شکار ہوچکے ہیں مگر کہیں کہین کچھ لوگ اب بھی ادب سے وابستگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔انجمن ترقی اردو کی معتمد اعزازی فاطمہ حسن بھی اپنے ہونے کا ثبوت دیتی رہتی ہیں۔۔۔۔عنریں حسیب عنبر ایک بہت فعال شخصیت تربیت یافتہ شاعرہ ۔۔۔۔۔اور بھائ یاور مہدی ہمیشہ کی طرح مہربان ۔۔۔۔۔کیا کیا اچھے لوگوں سے ملاقات ہوئ شعر سنے شعر سنائے اور پھر ۔۔۔۔کامران نفیس سے ملی ۔۔۔۔اپنے مداح منہاج اور حسن رضا سے جو میرے اشعار کو ایسا ڈیزائن کرتے ہیں کہ شعر پر تاثیر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
بھئ اب اگلی قسط میں ابو ظہبی یاترا کا ذکر کروں گی ۔۔۔۔۔۔وہ شہر جہاں میں طلوع ہوئ اور پھر گہنا کر لوٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجازت دوستو!!
——————————————————–
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
(قسط نمبر تین (ابوظہبی یاترا) May 9, 2015 at 8:50pm
لیجیئے جناب یہ میرے سپنوں کا محل ہے ۔۔۔۔۔ہے تو ایک صحرا مگر ہم وحشت پسند لوگوں کے لئے اس سے کم پر بات ہو بھی نہیں سکتی تھی جی !!اس ظالم وقت کے جبر کا اندازہ لگائیں کہ یہاں پہلی مرتبہ بیس مارچ انیس سو اٹھہتر میں ایک لڑکی اودی رنگ کی ساڑی میں سہمی سہمی پہنچی تھی جہاز سے دشت کی ریت دیکھ کر اپنے نومولود ارمان کے ریزے دیکھے دل ہول گیا تھا مگر ائیرپورٹ پر قیس تو نہیں البتہ اختر عابدی کھڑے تھے کم آمیز اور پر تبسم میری وحشتوں کو سنبھالنے ۔۔۔۔۔۔وقت بدل چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔فروری دو ہزار پندرہ ۔۔۔۔ایک مشاعرے کا بلاوہ ہے دبئ ائیرپورٹ پر عادل فہیم ،یعقوب تصور اور ہم نوآموز لکھنے والوں کے مربی ظہور اسلام جاویدنظریں موجود ہیں ۔۔۔۔نہیں ملا رہے کہ کہیں آنکھوں کے پیمانے چھلک نہ جائیں
آج پھر آنکھ مری بھر آئ
ہائے پیمانہ شکیبائ
جناب انسان خود اپنے پیمانہ کو آزماتا رہتا ہے خود اپنے آپ کو دریافت کرنے میں سرگرداں رہتا ہے اور خود ہی اپنے آپ سے دھوکا کھا کر شرمندہ ہوتا ہے اور اس خود فریی کے عالم میں کہیں منہ چھپانے کی جگہہ بھی نہیں ملتی کہ اپنے سے بچ کر انسان کہاں جا سکتا ہے سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا میں اس کو چھوڑ کر عالم وحشت میں گئ تھی کچھ بھی نہیں بدلا تھا ڈیڑھ سال میں کیا بدلتامگر دل کی دنیا کے لئے تو ایک لمحہ بھی بہت ہوتا ہے زندگی بدلنے کے لئے صرف ایک موڑ ہی کافی ہوتا ہے میں وہ زندگی کے اس موڑ سے میں گزر چکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اب نہ تو خالدیہ کی جنانہ بلڈنگ کا کشادہ فلیٹ میرا منتظر تھا اور نہ ہی نجدہ پر واقع میرا خوبصورت اپارٹمنٹ مجھے خوش آمدید کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ہم دونوں بہت سفر مزاج واقع ہوئے تھے یا شاید سفر نصیب تھے مگر جب گھر لوٹتے تو کہتے کہ

شایدجنت میں بھی اتنا سکون نہیں ہوگا واہ رہے عارضی جنت مجھے دھوکا دے گئ ہاں دنیا نادانون کو ایسے ہی دھوکا دیتی ہے اپنی نادانی کو سلیوٹ کیا

ابراہیمی ہوٹل میں میرے ساتھ عنبریں حسیب عنبر ہے جو واقعی اپنی عنبریں مہک کے ساتھ مجھے معطر کرتی رہی شعر سنے شعر سنائے کبھی کبھی میری کیفیت پرمجھے سہارا دیتی محبت کرنا اور محبت کروانا جانتی ہے۔۔۔۔۔ہوٹل کے شب و روز کا کیا ذکر کہ چھلکائ ہوئ آنکھوں سے دوستوں کی بزم طرب کو پر ملول کرنے کا اہتمام شاید میرے حوالے تھا۔۔۔۔۔۔۔کیا اچھا مشاعرہ تھا ابوظہبی کے سامعین کے لئے تو فراز، جون ایلیا، پیر زادہ قاسم ،خمار صاحب بہت کچھ کہہ چکے ہیں اس شہر نے مجھے بھی ادبی حوالے سے بہت کچھ دیا اسی شہر میں کبیر خان جیسا مزاح نگار موجود ہے جو ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کے بغیر لکھ رہا ہے۔۔۔۔ اس شہر کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں ڈاکٹر واسطی جیسا باغ و بہار شاعر موجود ہےاسی شہر میں یعقوب تصور جیسا قادر الکمال شاعر پایا جاتا ہے یہیں نوجواں آصف رشید اسجد ہے ۔۔یہیں پر خلوص ۔۔م،کاف حسرت،ہے۔۔۔یہیں اظہار حیدر جیسے سماجی کارکن موجودرہے جن کی زندگی کمیونٹی کے لئے وقف ہو گئ ۔۔۔۔یہیں شفیق سلیمی جیسے استاد کی صحبتیں نصیب ہوئیں اور اسی شہر میں ظہور اسلام جاوید جیسے منتظم کی بدولت پہلا مشاعرہ پڑھا ۔۔۔۔۔کچھ بھی تو نہیں بھولی ۔۔۔۔۔اب فورسسز کلب کے مشاعرے کے ہال میں تسنیم عابدی پچھلی صف سے اگلی صف کا سفر ظے کر چکی
۔ہے معلوم ہے کیوں ؟؟؟؟کیوںکہ اب وہ میزبان نہیں مہمان ہے !!! ہے نا حیرت کی بات یہ جملہ نہیں یہ زندگی کے دردناک موڑ کا اعلان ہےالفاظ کو سمجھنے اور برتنے کا حوصلہ بہت مشکل ہے اس کا احساس اب رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔مجھے چند اچھے میزبان نظر آئے جس مین ایک بہت ہی محبت کرنے والا عادل ملا جو اپنے ہم عمر رحمان فارس اور قمر کے ساتھ شوخیوں میں مبتلا ہوتا مگر مجھے دیکھ کر مودب ہو جاتا شعر و ادب سے دوستی رکھنے والوں کی اسی طرح خود

بخود تربیت ہو جاتی ہے وہ اپنی تہزیب کی دلیل بن جاتے ہیں کاش نئ نسل شعر و ادب کی افادیت کو سمجھے اور شاعر و ادیب ادب کو الفاظ تک محدود نہ کریں

یہ تو نشست و برخاست کے قرینے سے لے کر ہجر و وصال کی راہوں تک کی جمالیات کی راہ ہموار کرتا ہے
ابوظہبی میں میں ایک شاعرہ ہی نہیں بلکہ پاکستانی کالج کی ایک معلمہ بھی رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔شیخ خلیفہ اسکول ابوظہبی سے تئیس سال یہاں سے وابستگی کا ایک ایک لمحہ آنکھوں کے سامنے ہے طلبہ کو جب لیکچر دیتی تو بس ان پینتالیس منت ایک ٹیچر اور باہر نکلتی تو لگتا کہ ایک طالبہ !!علم کی یہ طلب میرے روز و شب کھا گئ کالج کی لائبریری کا ایک مخصوس گوشہ میرا عادی ہو چکا تھا اسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ جب میں نہیں ہوتی تو جب بھی ہوتی تھی یہیں سبط حسن کو پرھتے ہوئے دیکھ کر ظہیر بدر صاحب کو خیال ہوتا کہ اب یہ شاید ہاتھوں سے نکل جائے گی اور پھر وہ مجھے واصف علی واصف کو پڑھاتے یہیں حسن اللہ حما مجھ کو عروض کی پیچیدگیاں سکھانے کی کوشش کرتے اور پھر ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے ہار مان جاتے یہیں بیٹھ کر میں اخبار کے لئے کالم لکھاکرتی۔۔۔۔یہیں میرے عزیز طالب علم مجھ سے ادب کی افادیت پر بحث کرتے بظاہر میں انہیں قائل کر دیتی مگر ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ جیت گئے اور ادب غیر مفید ہوگیا۔۔۔۔۔ہم سب خسارے کے سودے میں مبتلا ہیں
یہیں مجھے ایک عزیز ترین دوست عظمی خان ملی جس سے دوستی پر زمانہ انگشت بدنداں ہو جاتا ایک فقرہ اب بھی کانوں میں گونجتا ہے۔۔۔۔کیا زیب انسا اورمیگ اور حور اور سٹار ڈسٹ کا بھی کوئ جوڑ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں کیا بتاتی کہ کسی کے باطن کی تم کو کیا خبر سارے رنگ تو اندر ہوتے ہیں ذرا سا موسم بدلے اور ماحول کو رنگین بنا دیتے ہیں دیکھو نا میں بے رنگی ہو کر بھی رنگ بکھرانے کا ہنر جاتی ہوں !!! اسی لئے تو فزکس کے الیاس صاحب آج بھی میرے اکلوتے اچھے ساتھی ہیں جو اول دن سے اب تک مجھ وحشت زدہ کی دوستی نبھارہے ہیں ۔۔۔۔کبھی میں ان سے وقت کے راز پوچھتی کبھی بلیک ہول کی جستجو بیان کرتی کبھی نظریہ اضافیت کو ادبی انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتی نہ وہ مجھے ادب کی زبان میں سمجھا سکے اور نہ ہی میں اسے فزکس کی زبان میں سمجھ سکی اسی لئے مین وقت کے سر بستہ راز کی تلاش میں ساری عمر بھٹکتی رہی ہوں اور باقی بھی اسی تلاش میں رائگاں جائے گیسفارت خانے کے اسکول بھی اصل میں سیاست کا گڑ ہوتے ہیں اور میں اپنی نا اہلی کا اعلان کرتی ہےکاش کہ ادب سے زیادہ سیاست پر توجہ دیتی کہ کچھ تو مالی آسودگی تو حاصل ہوتی۔۔۔۔۔
ابوظہبی شہر کا کارنش دنیا کے بہتریں ساحلوں میں شمار ہوتا ہے میں نے اس کو اس وقت دیکھا تھا جب ساحل کے کنارے یو بی ایل بنک ہوتا تھا سڑک کے اس طرف اکثر پانی کی لہریں ٹہلتی ہوئ آجاتی تھیں شہر میں چند عمارتیں ہوتیں باقی کچے مکان جو اندر سے بہترین فرنیچر سے مزین ہوتے سبب کچھ اچھا تھا مگر ہجرت کا دکھ برا تھا کسے خبر تھی کہ یہ ہجرت اپنے دامن میں ایک سلسلہ رکھتی ہے جو کبھی رکنے والا نہیں ۔۔۔۔۔میں بھی صرف ہجرت ہوگئ۔۔۔۔۔۔
باقی آئیندہ
————————————————————-
نقشہ

امیر قطر کی خادم الحرمین الشریفین سے ملاقات

09Apr15_AAقطر01


AA_Orig

خلیجی ریاست قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی اعلیٰ اختیارتی حکومتی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امیر قطر خصوصی طیارےسے ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے جہاں ولی عہد دوم، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف، وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان، جنرل انٹیلی جنس چیف خالد بن علی الحمیدان، سعودی عرب میں قطر کے سفیرالشیخ عبداللہ بن ثامر آل ثانی اور ریاض کے فوجی اڈے کے سربراہ میجر جنرل خالد بن فہد الروضان نے ان کا استقبال کیا۔
بعد ازاں امیر قطر ریاض میں العوجا شاہی محل پہنچے جہاں ان کی ملاقات شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ہوئی۔ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورت حال بالخصوص یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا
09Apr15_AAقطر02