Category: فلسطین

سترہ (17)۔ روز میں 37 فلسطینی قتل

October 17, 2015
17Oct15_DU فلسطینی01DU

غزہ: فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقے غزہ میں اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کرکے مزید دو فلسطینیوں کو قتل اور 98 کو زخمی کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان اشرف نے بتایا کہ غزہ کے شمالی حصے بیت الحنون کراسنگ کے قریب اسرائیلی فوج نے 22 سالہ فلسطینی نوجوان یحیٰ عبدالقادر فرحت کے سر میں گولی مار دی، جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔دوسرے فلسطینی نوجوان 22 سالہ محمد حمادیہ کو سرحدی علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔وزارت صحت کے مطابق آنسو گیس اور فائرنگ کے باعث 98 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 37 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔جبکہ اسرائیلی فورسز سے جڑپوں میں سینکڑوں فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اب تک 7 اسرائیلی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ 1993-1987 اور 2005-2000 کے دوران ہونے والے انتفاضہ میں ہزاروں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی سے دو بچے شہید، 15 زخمی

October 11, 2015
11Oct15_AA غزہ01al-Arabia

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے خان_یونس کے مقام پر کم سے کم دو فلسطینی بچے شہید اور پندرہ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق غزہ وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے بچوں کی شناخت مروان ھشام بربخ اور خلیل عمر عثمان کے ناموں سے کی گئی ہے جن کی عمریں 13 اور 15 سال ہیں۔وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں دو بچوں کی شہادت کے بعد جمعہ اور ہفتہ کے ایام میں غزہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے جب کہ اکتوبر کے اوائل سے اب تک 20 شہری اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ شہداء میں 11 کا تعلق مغربی کنارے سے ہے۔

اسرائیلیوں نے چھ (4) فلسطینی شہید کردئیے۔ فلسطین میں بے چینی

October 10, 2015
10Oct15_NH فلسطینNewsHub
Clashe­s come as Hamas’s chief in Gaza called violen­ce that has hit the occupi­ed West Bank an intifa­da
GAZA CITY: A week of violence between Israelis and Palestinians spread to the Gaza Strip on Friday, with Israeli troops killing six in clashes on the border and Hamas calling for more unrest.
A fresh wave of stabbings also hit Israel and the West Bank, including a revenge attack by a Jewish suspect that wounded two Palestinians and two Arab Israelis.
The Gaza Strip had been mainly calm as unrest has shaken annexed east Jerusalem and the occupied West Bank in recent days.
But clashes broke out Friday east of Gaza City and Khan Yunis along the border with the Jewish state, with Israeli forces opening fire and killing six Palestinians, including a 15-year-old, and wounding 80, according to medics.
Hundreds of Palestinians, some with their faces covered by keffiyeh scarves, defied the soldiers by making victory signs and throwing stones.
It was the deadliest clash in Gaza since the summer 2014 war with Israel.
“Forces on the site responded with fire toward the main instigators to prevent their progress and disperse the riot,” an army spokesperson said.
Palestine Liberation Organisation secretary general Saeb Erekat accused Netanyahu and his government of “committing a new massacre of Palestinians” in Gaza.
The clashes came as Hamas’s chief in Gaza called the spreading violence an intifada, or uprising, and urged further unrest.
Israeli ‘stabs four Arabs in revenge attack’
In a sermon for weekly Muslim prayers at a mosque in Gaza City, Ismail Haniyeh said “we are calling for the strengthening and increasing of the intifada.”
“It is the only path that will lead to liberation,” he said. “Gaza will fulfil its role in the Jerusalem intifada and it is more than ready for confrontation.”
Stabbing attacks in the West Bank, Jerusalem and Israel itself along with rioting have raised fears of a third Palestinian intifada, following a first that began in 1987 and a second in 2000.
Those two conflicts cost the lives of some 5,000 Palestinians and around 1,100 Israelis.
Hamas rules Gaza, squeezed between Egypt and Israel and separated from the West Bank. It remains deeply divided from Palestinian president Mahmud Abbas’s Fatah party.
The enclave has been hit by three wars with Israel since 2008. A 50-day conflict between Palestinian militants in Gaza and Israel in the summer of 2014 left more than 2,200 people dead and 100,000 homeless.

کراچی میں جیو نیوز کی وین پر فائرنگ سے انجینیئر ہلاک

September 09, 2015
09Sep15_BBCصحافی01
BBC

کراچی:ٹی وی چینل کی وین پر فائرنگ، تین ہلاک
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نجی ٹی وی چینل جیو
نیوز کی ڈی ایس این جی وین پر حملے میں ایک انجینیئر ہلاک اور ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا ہے۔یہ واقعہ منگل کی شب فیروز آباد تھانے کی حدود شہید ملت روڈ پر پیش آیا ہے۔
ڈی ایس این جی آپریٹر انجینیئر ارشد علی جعفری شدید زخمی ہونے کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکے۔انھوں نے بتایا کہ ایک موٹر سائیکل پر تین افراد سوار تھے جن میں سے دو نے اتر کر فائرنگ کی جبکہ ایک موٹر سائیکل پر ہی موجود رہا۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔

ایس پی عابد قائم خانی کے مطابق احمد جعفری کو سات گولیاں لگی ہیں۔ زخمی انیس چوہان کو کندھے پر گولی لگی اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ان کے مطابق اس ڈی ایس این جی وین میں چار افراد موجود ہوتے ہیں لیکن حملے کے وقت دو اتر کر دور کھڑے تھے اس لیے محفوظ رہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں بھی نائن ایم ایم پستول استعمال کیا گیا ہے، جائے وقوعہ سے گولیوں کے سات خول برآمد کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے جیو ٹی وی کی ڈی ایس این جی وین پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری طور پر واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ایک سال میں کراچی میں جیو کے ملازمین پر یہ دوسرا حملہ ہے، اس سے پہلے نامور صحافی اور جیو کے میزبان حامد میر ایئرپورٹ کے قریب فائرنگ میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت-ایم کیو ایم مذکرات دوبارہ شروع

September 03, 2015
03Sep15_DU متحدہ02DU

اسلام آباد: کراچی آپریشن پر متحدہ قومی موومنٹ کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی بنانے کے معاملہ پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ-ن اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات بحال ہو گئے۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ دونوں پارٹیوں نے بدھ کو اپنے قانونی مشیروں کی موجودگی میں متفقہ Grievances Redressal Committee بنانے کیلئے تجاویز اور شرائط کے مسودے کا تبادلہ کیا۔اس موقع پر دونوں پارٹیوں کے ارکان نے اب تک مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ مذاکرات خوش گوار ماحول میں ہو رہے ہیں اور جمعرات کو اجلاس کے بعد کمیٹی کی تشکیل متوقع ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ دونوں پارٹیوں میں کوئی اختلافات نہیں اور حتمی مسودے میں کچھ معمولی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ایم کیو ایم اور ن-لیگ کے درمیان مذاکرات کا آخری راؤنڈ 25 اگست کو ہوا تھا، جس کے بعد ایم کیو ایم کا وفد پارٹی مشاورت کیلئے کراچی چلا گیا۔

ذرائع کے مطابق، حکومت نے ایم کیو ایم کو نگران کمیٹی کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کا مسودہ دے دیا ہے ، جس پر ایم کیو ایم نے مسودہ کا قانونی جائزہ لینے کے بعد رابطہ کرنے کا وعدہ کیا۔ایم کیو ایم ٹیم کے سربراہ فاروق ستار جبکہ ارکان میں کنور نوید جمیل، وسیم اختر اور بیرسٹر محمد علی سیف شامل ہیں۔اسی طرح ، بدھ کو پنجاب ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں ن-لیگی ٹیم کی قیادت وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کی اور پرویز رشید اور بیرسٹر ظفر اللہ خان ان کے معاون تھے۔ذرائع کے مطابق، ایم کیو ایم نے نگران کمیٹی کیلئے سابق ججوں، سابق فوجی افسران،سابق بیوروکریٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے نام تجویز کیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں پارٹیاں کمیٹی کیلئے ایک نام جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد پر متفق ہیں۔

کرم ایجنسی سے 10 مزدور اغوا

10 August, 2015
10Aug15_DU کرم01DU

کرم ایجنسی: وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی کرم ایجنسی کے علاقے سرکئی میں نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے 10 مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے۔
سیکیورٹی اور پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح دہشت گردوں نے سرکئی کے علاقے میں ایک پرائمری اسکول پر حملہ کیا اور یومیہ مزدوری پر کام کرنے والے 10 مزدوروں کو اغوا کرلیا۔ذرائع کے مطابق اغواء کیے جانے والے مزدور ایک زیر تعمیر سٹرک کی تکمیل کے لیے کام کررہے تھے اور رات میں اسکول میں قیام کیا کرتے تھے۔پولیٹکل انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے اسکول کو تباہ کردیا ہے۔خیال رہے کہ وفاق کے زیر انتظام علاقے فاٹا میں موجود کرم ایجنسی سمیت دیگر ایجنسیوں میں دہشت گردوں کی جانب سے گذشتہ کئی سالوں سے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔افغانستان سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ علاقے دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہیں تاہم گذشتہ سال جون سے ملک بھر میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘، خیبر ون اور دیگر کے باعث یہاں دہشت گردی میں کافی حد تک کمی کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔حکام کے مطابق ان آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے اہم ٹھکانے ختم کردیئے گئے ہیں جبکہ سینکٹروں دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا جاچکا ہے۔

قصور: بچوں کے ساتھ میرے سامنے زیادتی کی گئی

10 August, 2015
10Aug15_DU زیادتیDU

قصور: پنجاب کے علاقے قصور کے گاؤں حسین خان والا میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور اس کی فلم بندی کے واقعے کے مرکزی ملزم کا کہنا ہے کہ یہ جرائم اکیڈمی کے کلاس روم میں اس کی موجودگی میں ہوئے ہیں۔

میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق ملزمان نے اقرارِ جرم کرلیا ہے تاہم ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) رائے بابر نے ڈان کو بتایا ہے کہ کسی بھی مجرم نے اپنا جرم قبول نہیں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس تحقیقات کررہی ہیں اور جلد رپورٹ عدالت میں پیش کردی جائے گی۔

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ ایک اور نامزد ملزم عثمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم حسیم عامر سمیت 6 ملزمان کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈی پی او کے مطابق درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں 15 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، پولیس کی جانب سے دیگر دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ دیگر ملزمان ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔

تسلسل:بچوں سے زیادتی اور فلم بندی زمین کا تنازع
ملزمان کو سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر قصور پولیس اسٹیشن بی ڈویژن میں رکھا گیا ہے۔ملزمان میں 6 کی عمریں 20 سال سے کم ہیں تاہم ایک ملزم کی عمر 14 سال ہے۔ ان تمام ملزمان کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔واقعے میں مرکزی ملزم قرار دیئے جانے والے 25 سالہ حسیم کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہے جیسا کہ پولیس کو حاصل ہونے والی فلموں میں کسی بھی زیادتی کے واقعے میں وہ شامل نہیں ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس نے فلم بندی کی ہے؟ ملزم حسیم کا کہنا تھا کہ جس وقت اس کے کلاس کے ساتھی جرم کررہے تھے وہ کلاس میں موجود تھا۔حسیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اور دیگر لوگوں کو ایک خود ساختہ کیس میں ملوث کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ کچھ لوگ ان کے خاندان کی جانب سے خریدی جانے والی ساڑھے 16 ایکٹر اراضی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے گاؤں کے دورے کے موقع پر واقعے کو انتہائی بدترین جرم قرار دیتے ہوئے اس کی جوڈیشل انکوئری کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

تسلسل: قصور: بچوں سے ریپ کی رپورٹس بے بنیاد

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما محمود الرشید نے بھی گاؤں کا دورہ کیا اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔انھوں نے الزام لگایا کہ پولیس ملزمان کو مدد فراہم کررہی ہے۔پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما جہاں آراء نے بھی متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے مسئلے کو ہر پلیٹ فارم پر اٹھانے کی یقین دہانی کروائی۔ ادھر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے واقعے کی جوڈیشل انکوئری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قصور کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے اور ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔گذشتہ دنوں پنجاب کابینہ میں شامل وزیررانا ثناء اللہ نے تمام معاملے کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا جبکہ ڈی پی او رائے بابر نے اس کو دو گروپوں کے دومیان زمین کا تنازع قرار دیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں میڈیا میں آنے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ قصور سے 5 کلو میٹر دور قائم حسین خان والا گاؤں کے 280 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اس دوران ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی، ان بچوں کی عمریں 14 سال سے کم بتائی گئی ہیں.رپورٹس کے مطابق ان بچوں کے خاندان کو بلیک میل بھی کیا جاتا رہا ہے۔