Category: سیریا، شام

سوڈانی فوج نے عدن میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

October 18, 2015
18Oct15_AA عدن01al-Arabia

یمنی کے حکومتی ذرائع کے مطابق #سوڈان کی جانب سے بھیجی گئی فوج اور گاڑیاں جنوبی #یمن میں #عدن کے علاقے میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ سوڈان سے بھیجے گئے سیکڑوں فوجیوں نے عدن کے مختلف شہروں میں امن وامان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنھبال لی ہیں۔ سوڈانی فوج عدن میں یمنی حکومت کی ماتحت نیشنل فورس کے ساتھ امن وامان کے قیام میں اس کی مدد کر رہی ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق سوڈان، یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری آپریشن میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں خرطوم میں یمنی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنی فوج وہاں پر امن وامان کو یقینی بنانے میں معاونت کے لیے بھجوائی ہے۔ سوڈانی فوج کے تازہ دم دستے البریقہ شہر میں قائم الزیت بندرگاہ پر اترے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوڈان سے آنےوالی فوج یمن میں امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یمنی فوج کی مدد کرےگی۔ غالب امکان ہے کہ سوڈانی فوجی دستے تعز کوباغیوں سے چھڑانے میں بھی حکومتی فوج کی مدد کریں گے۔

قبل ازیں سوڈان نے نائب صدر جنرل بکری حسن صالح کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یمن میں جاری آپریشن کے اتحاد کا حصہ ہونے کی بناء پر چھ ہزار فوجی یمن بھیجنے کا پابند ہے۔

القاعدہ کا اہم کمانڈر ساتھیوں سمیت شام میں ہلاک

October 18, 2015
18Oct15_AA القاعدہ01al-Arabia

شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق القاعدہ کا ایک اہم کمانڈر دو ساتھی جنگجوؤں سمیت مارا گیا ہے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے سعودی شہری سنافی النصر [جن کا اصل نام عبدالمحسن عبداللہ ابراہیم تھا] امریکی قیادت میں سرگرم اتحادی فوج کا نشانہ بنا یا اسے روسی لڑاکا طیاروں سے اپنے انجام دے دوچار کیا۔انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ ‘آبزرویٹری’ کے بتایا کہ سنافی کی ہلاکت جمعرات کے روز شمالی شام کے علاقے دانا میں ہوئی جہاں وہ القاعدہ کی مقامی شاخ النصرہ فرنٹ سے تعلق رکھنے والے سعودی اور مراکشی جنگجوؤں کے ہمراہ موجود تھے۔

امریکی قیادت میں مغربی اتحاد گذشتہ ایک برس جبکہ روسی طیارے اسی سال 30 ستمبر سے النصرہ فرنٹ اور داعش کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف ہیں۔

شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ سنافی کی موت روسی بمباری سے ہوئی یا وہ امریکی اتحادیوں کا نشانہ بنا، تاہم القاعدہ سے منسلک شام کی جنگ میں مصروف تنظیم النصرہ فرنٹ کے مطابق سنافی النصر کو دانا کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی پر 2 میزائل داغے گئے۔

شامی آبزرویٹری متعدد رضاکاروں کے توسط سے شام کے اندر سے معلومات جمع کرتی ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ جمعرات کے حملوں میں القاعدہ ہی کا ایک مصری کمانڈر بال بال بچا۔ حملوں کا نشانہ بننے والے چاروں رہنماؤں کو القاعدہ کے کمانڈر ایمن الظواہری نے شام بھجوایا تھا۔

سنافی النصر ان 6 افراد میں شامل ہیں جن کے نام گزشتہ برس اقوام متحدہ نے پابندیوں کی فرست میں شامل کیے تھے۔ 30 سالہ عبد المحسن عبد اللہ ابراہیم الشارخ سعودی عرب کو مطلب 85 افراد کی فہرست میں شامل تھے. رپورٹس کے مطابق سنافی النصر کو مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کا کزن بتایا جاتا ہے، وہ القاعدہ کی جنگی حمت عملی ترتیب دینے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔

شام میں مارے جانے والے بن لادن خاندان کے سنافی النصر کے 6 بھائی تھے جن میں سے زیادہ تر القاعدہ میں شامل ہو گئے تھے، ان کے 2 بھائی عبد الہادی عبد اللہ ابراہیم الشیخ اور عبد الرزاق عبد اللہ ابراہیم الشیخ امریکا حفاظتی مرکز گوانتا نامو بے میں بھی قید رہے تھے، جن کو 2007 میں سعودی عرب کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔

عراقی فوج نے سال بعد ‘بیجی آئل ریفائنری داعش سے چُھڑالی

October 17, 2015
17Oct15_AA بیجی01
al-Arabia

عراقی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال سے دولت اسلامیہ عراق و شام “داعش” کے قبضے میں رہنے والی بیجی آئل ریفائنری اور بیجی شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرتے ہوئے گھمسان کی لڑائی کے بعد داعش کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق عراقی فوج بیجی شہر کے جنوبی حصے سے اندر داخل ہوئی اور شدت پسندوں کے زیرقبضہ تیل صاف کرنے والے کار خانے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ عراقی فوج کاکہنا ہے کہ لڑائی کئی ہفتے جاری رہی جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عراقی فوج نے نہ صرف بیجی شہر کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے بلکہ الفتحہ اور الصینیہ نامی علاقے بھی داعش سےچھڑا لیے گئے ہیں۔عراقی فوج، قبائلی جنگجوئوں اور کرد فوجیوں پر مشتمل مشترکہ فورس نے شمالی عراق میں داعش کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کرتے ہوئے ان کے اسلحہ کے ذخائر کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

ایران شام وعراق میں ‘داعش’ کو اسلحہ فراہم کرتا ہے

October 16, 2015
16Oct15_AA داعش01al-Arabia

نوٹ: یہ یاد رہے کہ العربیہ حکومت سعودیہ کا ترجمان ہے

ایران کے ایک سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کی فوجی مدد کر رہا ہے، حالانکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ شام اور عراق میں “داعش” کے خلاف لڑائی میں مصروف عمل ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے جاپان میں سابق سفیر ابو الفضل اسلامی نے لندن سے شائع ہونے والے فارسی جریدے”کیھان لندن” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراق اور شام میں داعش کے وجود سے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران بغداد اور دمشق میں داعش کے خلاف کارروائی کی آڑ میں داخل ہوا ہے۔ دونوں عرب ملکوں میں داعش کی سرکوبی ایران کا مطمع نظر نہیں بلکہ ایران داعش کو اسلحہ اور فوجی سازو سامان مہیا کر رہا ہے۔ابو الفضل اسلامی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں ٹوکیو میں ایران کے سفیر تھے، تاہم بعد ازاں وہ ایرانی سرکار سے منحرف ہوگئےتھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں سفیر تھا تو میں نے خود دیکھا ہے کہ ایرانی حکومت مختلف عقائد ونظریات رکھنے والے عسکری گروپوں کی مالی اور فوجی مدد کرتا رہا ہے۔ ایران کا دوسرے ملکوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کی مدد کا مقصد ان ملکوں میں بحران پیدا کرکے تہران کے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔

داعش ایرانی مداخلت کا ذریعہ

ایرانی سفارت کار نے کہا کہ میں تھائی لینڈ کے صدر مقام بنکاک میں چار سال تک ایران کا سفیر رہا۔ میں نے یہ بات نوٹ کی کہ سفارت خانے کی جانب سے ہفتہ وار درخواست جاری کی جاتی جس میں پاسداران انقلاب کے طیاروں کو شمالی کوریا اسلحہ اور جنگی سامان لانے کے لے جاتے ہوئے ایندھن بھرنے کی اجازت مانگی جاتی تھی۔ بعد ازاں یہ اسلحہ لبنانی حزب اللہ کو مہیا کیا جاتا تھا۔سابق ایرانی سفارت کار نے بتایا کہ تہران شام میں داعش کے وجود کو اپنےلیے نعمت خیال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبے کی بات نہیں کہ عراق اور شام میں داعش ایران کے مفادات کے تحفظ کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے شام میں اور عراق میں داعش کو تواتر کے ساتھ اسلحہ اور جنگی سامان مہیا کیا جاتا ہے۔

روس ایران کی مدد سے شام میں سرگرم

شام میں روس کی فوجی مداخلت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ابو الفضل اسلامی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی طرح روس کے اپنے مفادات ہیں مگر روس کو اپنے دیرینہ اتحادی ایران کی ہرممکن معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ روس اس وقت مشرق وسطیٰ میں اہم ترین کھلاڑی کے طور پر کھیل رہا ہے۔اس سے قبل ایران اور یورپ مل کر شام میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ میں نے سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں بہ طورسفیر کام کیا۔ میری موجودگی میں یورپ اور ایران کے درمیان جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے کے لیے مذاکرات ہوتے رہے۔ یورپی حکام کی طرف سے تہران کو بتایا گیا کہ روس کی عرب ایران اورعرب ملکوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ ماسکو ان ملکوں کے مالی فوائد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ روس کے مفادات اسی وقت تک ہیں جب تک تمہاری جیبیں خالی نہیں ہو جاتیں۔

ایرانی جنرل ہمدانی کی شام میں ہلاکت بارے متضاد روایات!

October 16, 2015
16Oct15_AA ھمدانی01al-Arabia

ایک ہفتہ پیشتر شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سرکردہ عہدیدار جنرل علی ہمدانی کے قتل کے بعد ہلاکت کی متضاد تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایران کے ذرائع ابلاغ نے جنرل ہمدانی کی شام کے شہر حلب میں باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کو غیرمعمولی کوریج دی ہے اور ہلاکت کے پس منظر اور کیفیت کے بارے میں بھی مختلف واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل ھمدانی کے قتل کے بارے میں ایک روایت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر ہمدانی کو شمالی حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ یک گاڑی میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔جنرل ہمدانی کے قتل سے متعلق ایک دوسری روایت جو زیادہ مقبول ہو رہی ہے وہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر جرنل حسین ھمدانی حلب کے نواحلی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کے ساتھ لڑائی میں 8 اکتوبر کی رات کو ہلاک ہوئے۔ یوں پاسدارن انقلاب کے بیان اور سپریم سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کے بیانات میں جنرل ھمدانی کی ہلاکت کی الگ الگ کیفیات بیان کی گئی ہیں۔علی شمحانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں نے حسن ہمدانی کو قتل کیا ہے وہ اچھی طرح ان سے واقف نہیں تھے، جب کہ پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق داعش کو علم تھا کہ حلب میں وہ جس کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ ایران کے ایک سینیر عہدیدار حسین علی ہمدانی ہیں۔

ٹیکسٹ پیغام تنازع کا موجب
جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے فوری بعد ایران کے ذرائع ابلاغ میں سب سے پہلے جو اطلاعات سامنے آئیں ان میں بتایا گیا کہ حسین علی ہمدانی شام میں ایک حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پاسداران انقلاب کے عہدیداروں اور پاسیج فورس کے اہلکاروں نے اپنے موبائل پیغامات میں ایک دوسرے کو یہ بتانا شروع کیا کہ حسین ھمدانی حادثےمیں نہیں بلکہ شامی اپوزیشن کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب کے بعض ارکان کی طرف سے موبائل پر یہ پیغام بھی جاری کیا گیا کہ حسین ھمدانی حلب میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی جیپ ایک ٹرک کو اور ٹیک کرتے ہوئے بے قابو ہو کر الٹ گئی تھی۔ حسین ھمدانی حادثےمیں شدید زخمی ہوئے اور اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ یوں ٹیکسٹ پیغامات میں بھی جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے۔ ٹیکسٹ پیغام میں یہاں تک بتایا گیا تھا کہ جنرل ھمدانی جنوب مشرقی حلب سے حماۃ شہر کی جانب جا رہے تھے کہ خناصر اور اثریا قصبوں کے درمیان ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔

ایران میں سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر پاسداران انقلاب کے ارکان اور باسیج فورسز کے عہدیداروں کے بیانات کے برعکس جنرل ہمدانی کی ہلاکت کی الگ ہی کیفیت بیان کی۔ سماجی کارکنوں نے لکھا کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے تو انہیں کچلنے کے لیے جنرل ہمدانی نے بھی حصہ لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں جنرل ہمدانی کو “ہیرو” نہیں سمجھا جاتا۔ سنہ 2009ء میں جنرل ہمدانی پاسداران انقلاب کے “محمد الرسول اللہ” بریگیڈ کے سربراہ تھے۔ وہ اپوزیشن کے اس حد تک خلاف تھے کہ اصلاح پسند رہ نمائوں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی سمیت سرکردہ اپوزیشن لیڈروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے پائے گئے تھے۔

انٹیلی جنس کارروائی میں ہلاکت
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی شمخانی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جنرل حسین ھمدانی کو حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ تہران میں جامع مسجد امام حسین میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علی شمخانی نے کہا کہ شام میں جنرل حسین ھمدانی کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کا قتل انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہیں اس وقت انٹیلی جنس کارروائی میں مارا گیا جب وہ ایک کار میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔اس کے برعکس پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حسین ھمدانی “داعش” ملیشیا کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ فارسی نیوز ویب پورٹل” جماران” نے “محمد رسول اللہ ” بریگیڈ کے سربراہ محسن کاظمینی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ حسین ہمدانی کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہیں شام میں ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔کاظمینی کا کہنا تھا کہ جنر حسین ھمدانی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جا رہے تھے کہ حلب کے قریب راستے میں دشمن کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگ پھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔ کاظمینی نے حسین ھمدانی کے قاتلوں کو “تکفیری” قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ آئندہ ایام میں ھمدانی کے قاتلوں سے انتقام لیا جائےگا۔

داعش کے صف اول کے پانچ مدارالمہام جنگجوئوں کا تعارف

October 13, 2015
13Oct15_AA داعش01al-Arabia

شام اورعراق کے وسیع علاقے پر قابض دولت اسلامیہ “داعش” کی سرکوبی کے لیے اس وقت کئی ممالک سرگرم ہیں مگر ابھی تک نہ صرف تنظیم کا بنیادی ڈھانچہ قائم ہے بلکہ تنظیم کی مرکزی قیادت بہ شمول داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔ اگرچہ عراقی حکومت اور امریکی فوج کی جانب سے داعش کی صف اول کی قیادت کے قافلوں کو بمباری سے نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں مگر ان حملوں میں داعش کو کتنا جانی نقصان پہنچایا گیا اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کو عراقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کی فوج نے الانبار کے کربلہ علاقے میں “داعش” کے ایک قافلے کو نشنانہ بنایا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر اس قافلے میں داعشی خلیفہ البغدادی اور ان کے نہایت قریبی حلقے کے جنگجو شامل تھے۔ عراقی انٹیلی جنس حملے میں داعش کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات کررہی ہے۔”فاکس نیوز” ٹی وی چینل کی رپورٹ میں امریکی عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الکربلہ کے مقام پر عراقی فوج کے حملے میں البغدادی سمیت داعش کا کوئی مرکزہ رہ نما زخمی نہیں ہوا ہے تاہم عراقی حکام حادثے کے مقام سے DND کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کی تحقیقات کررہے ہیں۔ عراقی حکام کے بہ جس قافلے کو بمباری سے نشانہ بنایا گیا ہے وہ داعشی خلفیہ کے قافلے کے اندز میں الکربلہ کی طرف رواں دواں تھا۔عراقی حکومت کی طرف سے اس طرح کے دعوے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ ان میں نومبر 2014ء میں البغدادی کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کی تحقیقات بھی ہنوز پردہ راز میں ہیں۔ اس سے قبل مارچ 2014ء میں بھی نینویٰ میں البلعاج کے مقام پر داعشی خلیفہ کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم اس حملے کی تحقیقات بھی سامنے نہیں آسکیں۔اس نوعیت کا جب بھی کوئی حملہ کیا گیا تو داعش کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس کی تردید میں غیرمعمولی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔ داعشی جنگجوئوں کا کہنا ہے کہ خلیفہ البغدادی کے مارے جانے کے بعد بھی “داعش” موجود رہے گی۔ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔البغدادی کے مقربین کے حوالے سے بہت کم تفصیلات ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہیں۔ تاہم حال ہی میں برطانوی اخبار “ڈیلی اسٹار” نے البغدادی کے پانچ قابل اعتماد اور نہایت قریبی ساتھیوں کا تعارف شائع کیا ہے۔

العفری
13Oct15_AA داعش02
پچھلے سال مارچ میں عراقی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نینویٰ کے مقام پر داعشی خلیفہ البغدادی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس میں ممکنہ طور پر البغدادی بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ عراقی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ البغدادی کے زخمی ہونے کے بعد داعش نے علاء العفری نامی دوسرے داعشی کمانڈر کو خلیفہ کا نام مقرر کیا ہے۔علاء العفری کا اصل نام عبدالرحمان مصطفیی القادولی ہے۔ العفری عراق کی موصل گورنری میں فزکس کا استاد رہ چکا ہے اور اس کا شمار چوٹی کے دہشت گردوں میں ہوتا ہے۔ اس نے سنہ 1998ء میں افغانستان کے سفر کے دوران عسکری تربیت حاصل کی اور اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ میں سرگرم رہا۔ سنہ 2004ء میں وہ افغانستان سے عراق لوٹا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ العفری القاعدہ میں اسٹریٹجک نوعیت کے معرکوں کا ماسٹر مائینڈ تھا۔ پچھلے سال مئی میں عراقی فوج کی جانب سے ایک فضائی حملے میں اس کے مارے جانے کا بھی دویٰ کیا گیا تھا تاہم امریکا نے العفری کی ہلاکت کی تردید کی تھی۔

الانباری
13Oct15_AA داعش03
داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کے مقربین میں دوسرا نام ابو علی الانباری کا ملتا ہے۔ الانباری شام میں البغدادی کا نائب ہے اور اس کے براہ راست البغدادی سے رابطے ہیں۔ داعش میں اہم ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تنظیم کی مرکزی شوریٰ کا رکن، البغدادی کا خصوصی ایلچی اور “الخلافہ” کی انتظامی کونسلوں کا انچارج ہے۔داعش سے منحرف ہونے والے جنگجوئوں کا بتانا ہے کہ الانباری نامی جنگجو کمانڈر تنظیم میں انٹیلی جنس کونسل، سیکیورٹی اور شام میں ہونے والی تمام آپریشنل کارروائیوں کا بھی انچارج ہے۔الانباری کا رہائشی تعلق موصل سے ہے تاہم اس نے اپنے نام کے ساتھ موصل کے بجائے الانبار کا لاحقہ شامل کیا ہے۔ وہ امریکا کے عراق پر صدام حسین کے خلاف کیے گئے آپریشن کے دوران عراقی فوج میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ عراق پرامریکی قبضے کے بعد الانباری نے “انصارالاسلام” نامی گروپ میں شامل ہوگیا۔ بعد ازاں یہی تنظیم ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں “دولت الاسلامی العراق والشام” کے نام میں تبدیل ہوگئی تھی۔

الشیشانی
13Oct15_AA داعش04
داعشی خلیفہ کے مقربین خاص کے حلقے میں شمالی شام کے ابو عمر الشیشانی نامی کمانڈر بھی سر فہرست ہیں۔ ابو عمر الشیشانی تنظیم کی مجلس شوریٰ کے رکن، اسٹریٹیجک کارروائیوں کے ماہر اور عراق میں تنظیم کا نیٹ ورک پھیلانے کے ماسٹر مائینڈ سمجھے جاتے ہیں۔الشیشیانی امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل ہے اور اسے دنیا کے خطرناک ترین دہشت گردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر امریکا نے الشیشانی کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔ابو عمر الشیشیانی کا اصل نام “طارخان طایومورازفیٹچ ہے اور اس کا والد عیسیٰ جب کہ والدہ مسلمان تھی جس کا تعلق جارجیا سے تھا۔الشیشانی کو کچھ عرصہ قبل جارجیا میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل میں اس نے انتہا پسندانہ خیالات اپنائے اور رہائی کے بعد شام میں سرگرم داعش میں شامل ہوگیا۔

العدنانی
13Oct15_AA داعش05
ابومحمد العدنانی کا حقیقی نام طہ صبحی فلاحہ بتایا جاتا ہے۔ العدنانی داعش کا ترجمان اور نہایت بااثر شخص سمجھا جاتا ہے۔ داعش کے قیام کا اعلان سب سے پہلے اسی نے پڑھ کر سنایا اور البغدادی کو تنظیم کا خلیفہ بنانے کا بھی اعلان کیا۔العدنانی کا آبائی شہرادلب ہے۔ کئی دوسرے سرکردہ جنگجئوں کی طرح العدلانی بھی عراق اور افغانستان میں القاعدہ میں شامل رہا ہے۔ عراق میں سرگرم رہتے ہوئے وہ پانچ سال تک قید بھی رہ چکا ہے۔ رہائی کے بعد اس نے دوبارہ شدت پسندوں میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔العدنانی کے کمالات میں عسکری پسندوں کو متحد کرنا بھی شمل ہے۔ سنہ 2013ء میں العدنانی نے مغربی ممالک کے شہریوں کو داعش میں شمولیت کی دعوت دی جس کے بعد اسے عالمی شہرت حاصل ہوگئی تھی۔

الناصر
13Oct15_AA داعش06
داعشی کمانڈر ابو سلیمانی الناصر داعش کی عسکری کونسل کا سربراہ اور تنظیم کا کلیدی مہمات کا ذمہ دار ہے۔ اس کے بارے میں بہت کم لوگوں کوعلم ہے۔ داعش کے ماہرین کا کہنا ہے کہ الناصر کا اصل نام نعمان سلیمان منصور الزیدی ہے جو سنہ 2014ء میں داعش کی صف اول میں نمودار ہوا۔الناصر کی شہریت کے بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکی ہیں تاہم ممکنہ طورپر اسے شامی شہری ہی بتایا جتا ہے مگر اس کا خاندان مغربی پس منظر بھی رکھتا ہے۔الناصر نے عراق میں عسکری گروپوں کے ایک مرکز میں جنگی تربیت حاصل کی۔ سنہ 2003ء میں عراق میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں بھی وہ معمولی زخمی ہوچکا ہے۔ دولت اسلامیہ عراق نے اسے سنہ 2010ء میں “وزیر دفاع” کا عہدہ سونپا۔کہا جاتا ہے کہ عراق میں امریکا کے زیرانتظام “بوکا” نامی ایک جیل میں بھی الناصر کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ اسی جیل میں تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی بھی قید رہا۔

سعودی نائب ولی عہد کی روس میں صدر پوتین سے ملاقات

October 13, 2015
13Oct15_AA روس سعودیal-Arabia

دوطرفہ تعلقات ،شامی بحران کے حل کے لیے امن عمل شروع کرنے پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے روس کے سرمائی مقام سوچی میں گراں پری ریس کے موقع پر صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی ہے۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شہزادہ محمد نے صدر پوتین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور شام میں جاری بحران کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔روسی وزیرخارجہ کے مطابق انھوں نے خانہ جنگی شکار ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے امن عمل شروع کرنے سے متعلق بات چیت کی ہے۔درایں اثناء روس نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں دل جمعی سے شریک نہیں ہے اور نہ اس کے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ الریاض کو شام میں روس کی فوجی کارروائیوں پر تشویش لاحق ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب شام کے اتحاد کے تحفظ کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔سرگئی لاروف نے اس موقع پر کہا کہ ”روس سعودی عرب کی تشویش کو سمجھتا ہے اور دونوں ملک شام میں دہشت گردوں کی خلافت کو قائم ہونے سے روکنا چاہتے ہیں”۔

داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی موت کے منہ سے ایک بار پھر بچ گئے

October 12, 2015
12Oct15_AA بغدادی01al-Arabia

عراق کے مغربی صوبے الانبار میں ایک اجتماع پر عراقی فضائیہ کی بمباری میں داعش کے متعدد کمانڈر ہلاک ہوگئے۔
عراق کے مغربی صوبے الانبار میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک اجتماع پر عراقی طیاروں کی بمباری سے اس گروپ کے متعدد کمانڈر ہلاک ہوگئے ہیں لیکن داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔عراقی فوج نے اس سے پہلے الانبار کے قصبے الکرابلہ میں داعش کے لیڈروں کے ایک اجتماع اور ابوبکر البغدادی کے قافلے پر دو الگ الگ فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے اسپتال ذرائع اور مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مہلوکین میں ابوبکر بغدادی شامل نہیں ہیں۔عراقی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ لڑاکا طیاروں نے شام کی سرحد کے نزدیک صوبہ الانبار کے ایک علاقے میں داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کے قافلے کو اپنے فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ داعش کے لیڈر کے بارے میں فی الوقت کچھ معلوم نہیں کہ آیا وہ بمباری میں بچ گئے ہیں یا زخمی ہوگئے ہیں۔بیان کے مطابق ”عراقی فضائیہ نے دہشت گرد ابو بکرالبغدادی کے قافلے پر اس وقت بمباری کی ہے جب وہ داعش کے کمانڈروں کے اجلاس میں شرکت کے لیے الکرابلہ کے علاقے کی جانب جارہے تھے”۔

واضح رہے کہ 2015ء کے اوائل میں عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے عرب روزنامے الحیاۃ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ابوبکرالبغدادی کے شمال مغربی قصبے قائم میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی اور ان کے زندہ بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دیا تھا۔گذشتہ سال نومبر میں قبائلی ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا تھا کہ داعش کے خلیفہ بغدادی قائم میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔

داعش پر حملے
درایں اثناء امریکا کی قیادت میں مشترکہ ٹاسک فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر چوبیس فضائی حملے کیے تھے۔ان میں سے سترہ حملے عراق میں دس شہروں کے نزدیک داعش کے یونٹوں،ان کے زیر استعمال عمارتوں اور جنگی پوزیشنوں پر کیے گئے ہیں اور سات حملے شام میں اسی طرح کے مقامات پر کیے گئے تھے۔ایک حملہ خام تیل اکٹھا کرنے کی ایک جگہ پر کیا گیا ہے۔

داعش نے چار افراد کو بلندو بالا عمارتوں سے گراکر قتل کر ڈالا

October 09, 2015
09Oct15_AA داعش 01al-Arabia

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام داعش کے جنگجوئوں نے الگ الگ واقعات میں چار افراد کو ہم جنس پرستی کے الزام میں بلند عمارتوں کی چھتوں سے گرا کرموت کے گھاٹ اتار دیا۔
09Oct15_AA داعش 02
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پچھلے اتوار کو عراق کے موصل شہر میں “باب الطوب” کے مقام پر ایک شخص کوچھت سے گرانے سے قبل مقامی آبادی کو وہاں جمع کیا گیا۔ بعد ازاں ایک شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے کثیرالمنزلہ عمارت کی چھت پر لایا گیا جہاں سے اسے نیچے پھینک دیا گیا۔
09Oct15_AA داعش 03
عراق کے نینویٰ شہر میں بھی دو افراد کو بلند وبالا عمارتوں کی چھتوں سے گرا کر قتل کیا گیا۔سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر ایک داعشی جنگجو کی تصویر پوسٹ کی گئی ہے جس میں اسے ہم جنس پرستی کے الزام میں پکڑے گئے افراد دی گئی سزائوں پر عمل درآمد کرتے دکھایا گیا ہے۔
09Oct15_AA داعش 04

داعش کا تباہ کن حملہ،یمنی حکومت عدن ہی میں رہے گی

October 07, 2015
07Oct15_AA عدن01al-Arabia

یمنی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اپنے ہیڈکوارٹرز پر تباہ کن حملے کے باوجود عارضی دارالحکومت عدن ہی میں رہے گی۔یمنی حکومت نے ان تباہ کن حملوں کے ایک روز بعد بدھ کو اپنے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”وہ عارضی دارالحکومت عدن سے اس غیر معمولی مرحلے میں اپنا تاریخی اور قومی کردار جاری رکھے گی تاوقتیکہ تمام ملک کو آزاد نہیں کرالیا جاتا ہے”۔گذشتہ روز دوخودکش بمباروں نے عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں یمنی حکومت کے عارضی ہیڈکوارٹرز کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس سے متعدد وزراء معمولی زخمی ہوئے ہیں۔البتہ وزیراعظم اور نائب صدر خالد بحاح اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔بم دھماکے میں دو سرکاری محافظوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عدن ہی میں دو اور خودکش بم حملوں میں عرب فوجی اتحاد کی قائم کردہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔عرب اتحاد نے خودکش بم حملے میں ایک سعودی اور تین اماراتی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔یمنی حکومت کے ذرائع نے دونوں حملوں میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

داعش نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور آن لائن جاری کردہ بیان کے ساتھ چار خودکش بمباروں کی تصاویر اور نام بھی شائع کیے ہیں۔داعش کا یمنی حکومت اور اس کی اتحادی عرب فورسز کے خلاف یہ پہلا تباہ کن حملہ ہے۔اس سے پہلے داعش کے خودکش بمبار دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں یا اہل تشیع کی مساجد کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔داعش کے بیان کے مطابق دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا تھا۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔