Category: سیریا، شام

ایران کو شام پر مذاکرات میں شرکت کی دعوت

October 28, 2015
28Oct15_BBC ٰ ایران01BBC

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام کے تنازع پر امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی بین الاقوامی بات چیت میں پہلی مرتبہ ایران کو بھی شامل کیا جائے گا۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربے کا کہنا تھا ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی رہنما جمعرات کو ویانا میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں شامل ہوں گے یا نہیں۔ان مذاکرات میں امریکہ، روس، یورپی اور عرب ممالک کے اعلی مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔مغرب کی حمایت یافتہ شام کی حزبِ اختلاف اور امیکہ کے خلیجی اتحادی ممالک شامی جنگ میں ایرانی کردار کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ترجمان نے صحافیوں کو بتایا جمعرات کی بات چیت میں ایران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔’اب یہ ایرانی رہنماؤں پر ہے کہ وہ شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ اہم شرکاء گفتگو میں شامل ہوں۔ ایران اس میں اہم رکن ہو سکتے ہیں لیکن فی الحال وہ نہیں ہیں۔‘ایران شامی صدر بشار الاسد کا قریب ترین اتحادی ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ایران نے گذشتہ چار سال میں اسد کی حکومت کے مضبوطی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، جنگی ماہرین اور رعایتی نرخ پر اسلحہ اور ایندھن فراہم کیا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ سے بھی تعلقات ہیں جس نے شام میں حکومتی فوجوں کی مدد کے لیے اپنے جنگجو بھیجے ہیں۔ایران کی حکومت نے شام میں کشریت الجماعتی آزادانہ انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی کی تجویز دی ہے تاہم لیکن وہ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہے۔روس جس نے ہمیشہ شام کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا تھا اس نے بھی گذشتہ ماہ شام میں فضائی حملے شروع کیے جس میں بقول اس کے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ روسی حملوں میں زیادہ تر مغرب اور امریکہ کے حمایت یافتہ شامی باغی نشانہ بنے۔

اللاذقیہ پر روسی بمباری، جیش الحر کا بھاری جانی نقصان

October 20, 2015
20Oct15_AA شام01al-Arabia

شام میں انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والی ‘آبزرویٹری’ نے بتایا ہے کہ اللاذقیہ میں اپوزیشن کے زیر نگین علاقوں پر روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے 45 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں شام کی جیش الحر کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔ادھر ‘شام لائیو’ نامی نیوز نیٹ ورک نے بتایا کہ روس کے لڑاکا طیاروں کی اپوزیشن جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے شامی علاقے اللاذقیہ کے نواح میں واقع ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے 12 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب حلب کے قریب متمرکز شامی اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ جنگجوؤں نے بتایا کہ انہیں امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی امدادی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔’شام لائیو’ نیٹ ورک نے بتایا کہ روسی فوج نے اپوزیشن کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف بارود سے لدے ہلکے طیارے جان بوجھ کر استعمال کئے۔ ادھر یو این ذرائع نے بتایا ہے کہ حلب کے علاقے میں جنگی صورتحال میں تیزی کے بعد علاقے سے 30 ہزار افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔روس کی شام پر بمباری کو بیس دن ہو چکے ہیں۔ اس بمباری کا مقصد اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ طاقت کا توازن بشار الاسد کے حق میں تبدیل کیا جا سکے۔ شامی حکومت بعض مبصرین کی رائے میں اب تک میدان جنگ میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے سے قاصر چلی آ رہی ہے۔’شام لائیو’ نیٹ ورک نے مزید بتایا کہ روسی بمباری میں جیش الحر کے 12 جنگجوؤں کی ہلاکت دراصل فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے جبل الترکمان میں ایک اجلاس کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ اس بمباری میں جیش الحر کے اس اہم یونٹ کے متعدد سرکردہ کمانڈر بھی ہلاک ہوئے۔ادلب کے نواح سے فیلڈ ذرائع نے بتایا کہ روسی فوج نے تحریک احرار الشام کے معرہ النعمان شہر میں متعدد ٹھکانوں پر بارود سے بھرے چھوٹے طیارے گرائے ہیں جس کے نتیجے میں تنظیم کے متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے ساتھ شامیرضاکاروں نے سوشل میڈیا میں ایسی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں جن میں روسی پرچم والی ایک انفنٹری کیرئر کو باغی حماہ کے نواحی گاؤں المنصرہ کے قریب نشانہ بناتے دیکھے جا سکتے ہیں۔شام میں روس اور ایران کی مداخلت کے جواب میں سامنے آنے والے ردعمل میں اپوزیشن نے بتایا کہ حلب کے قریب متمرکز ان کے جنگجوؤں کو امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی امدادی کھیپ موصول ہوئی ہے۔اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نئی کھیپ پہنچنے کے باوجود یہ امداد ناکافی ہے کیونکہ حلب کو سرکاری فوج کے ایک بڑے حملے کا سامنا ہے۔

اسرائیل سے جنگ اور شام میں لڑائی برابر ہیں: نصر اللہ

October 19, 2015
19Oct15_AA نصراللہ01al-Arabia

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے معرکہ آرائی اور شام میں جنگ یکساں طور پر اہم ہیں۔ صہیونی اور تکفیری دونوں منصوبوں کا مقصد ہمارے عوام اور معاشروں کی تباہی ہے تاکہ وہ ذلت کی ایسی اتاہ گہرائیوں میں جا گریں جہاں ان میں قوت ارادی بالکل ختم ہو جائے۔گذشتہ ہفتہ شام میں داد شجاعت دیتے ہوئے مارے جانے والے حزب اللہ کے سرکردہ رہنما کے یاد میں منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نصر اللہ نے کہا کہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں ‘تکفیری’ منصوبے کی بیخ کنی کے لئے ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہماری جنگجو میدان جنگ میں اترنے کے لئے پہلے سے زیادہ تیار اور آمادہ ہیں۔اپنے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ مزاحمت کار جنگجو آج میدان جنگ میں حاضر ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ تیار ہوں کیونکہ ہمیں ایک فیصلہ کن جنگ کا مرحلہ درپیش ہے۔سوموار کے روز حزب اللہ نے بیروت کے جنوب میں اللویزہ میونسپلٹی میں اپنے سرکرہ کمانڈر حسن محمد الحاج کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی۔ حسن محمد الحاج شام میں بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں حسن محمد الحاج کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ رواں مہینے کی دس تاریخ کو حماہ گورنری میں ہونے والی لڑائی میں مارے گئے۔شام میں سرکاری فوج کے ہمراہ لڑنے والی ایرانی حمایت یافتہ لبنانی حزب اللہ غیر شامی تنظیموں میں سب سے بڑی مسلح تنظیم ہے کہ جو بشار الاسد فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ حزب اللہ کی مدد سے ہی شام کی سرکاری فوج کو مختلف علاقوں میں جنگی برتری حاصل ہے۔

سوڈانی فوج نے عدن میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

October 18, 2015
18Oct15_AA عدن01al-Arabia

یمنی کے حکومتی ذرائع کے مطابق #سوڈان کی جانب سے بھیجی گئی فوج اور گاڑیاں جنوبی #یمن میں #عدن کے علاقے میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ سوڈان سے بھیجے گئے سیکڑوں فوجیوں نے عدن کے مختلف شہروں میں امن وامان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنھبال لی ہیں۔ سوڈانی فوج عدن میں یمنی حکومت کی ماتحت نیشنل فورس کے ساتھ امن وامان کے قیام میں اس کی مدد کر رہی ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق سوڈان، یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری آپریشن میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں خرطوم میں یمنی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنی فوج وہاں پر امن وامان کو یقینی بنانے میں معاونت کے لیے بھجوائی ہے۔ سوڈانی فوج کے تازہ دم دستے البریقہ شہر میں قائم الزیت بندرگاہ پر اترے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوڈان سے آنےوالی فوج یمن میں امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یمنی فوج کی مدد کرےگی۔ غالب امکان ہے کہ سوڈانی فوجی دستے تعز کوباغیوں سے چھڑانے میں بھی حکومتی فوج کی مدد کریں گے۔

قبل ازیں سوڈان نے نائب صدر جنرل بکری حسن صالح کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یمن میں جاری آپریشن کے اتحاد کا حصہ ہونے کی بناء پر چھ ہزار فوجی یمن بھیجنے کا پابند ہے۔

القاعدہ کا اہم کمانڈر ساتھیوں سمیت شام میں ہلاک

October 18, 2015
18Oct15_AA القاعدہ01al-Arabia

شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق القاعدہ کا ایک اہم کمانڈر دو ساتھی جنگجوؤں سمیت مارا گیا ہے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے سعودی شہری سنافی النصر [جن کا اصل نام عبدالمحسن عبداللہ ابراہیم تھا] امریکی قیادت میں سرگرم اتحادی فوج کا نشانہ بنا یا اسے روسی لڑاکا طیاروں سے اپنے انجام دے دوچار کیا۔انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ ‘آبزرویٹری’ کے بتایا کہ سنافی کی ہلاکت جمعرات کے روز شمالی شام کے علاقے دانا میں ہوئی جہاں وہ القاعدہ کی مقامی شاخ النصرہ فرنٹ سے تعلق رکھنے والے سعودی اور مراکشی جنگجوؤں کے ہمراہ موجود تھے۔

امریکی قیادت میں مغربی اتحاد گذشتہ ایک برس جبکہ روسی طیارے اسی سال 30 ستمبر سے النصرہ فرنٹ اور داعش کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف ہیں۔

شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ سنافی کی موت روسی بمباری سے ہوئی یا وہ امریکی اتحادیوں کا نشانہ بنا، تاہم القاعدہ سے منسلک شام کی جنگ میں مصروف تنظیم النصرہ فرنٹ کے مطابق سنافی النصر کو دانا کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی پر 2 میزائل داغے گئے۔

شامی آبزرویٹری متعدد رضاکاروں کے توسط سے شام کے اندر سے معلومات جمع کرتی ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ جمعرات کے حملوں میں القاعدہ ہی کا ایک مصری کمانڈر بال بال بچا۔ حملوں کا نشانہ بننے والے چاروں رہنماؤں کو القاعدہ کے کمانڈر ایمن الظواہری نے شام بھجوایا تھا۔

سنافی النصر ان 6 افراد میں شامل ہیں جن کے نام گزشتہ برس اقوام متحدہ نے پابندیوں کی فرست میں شامل کیے تھے۔ 30 سالہ عبد المحسن عبد اللہ ابراہیم الشارخ سعودی عرب کو مطلب 85 افراد کی فہرست میں شامل تھے. رپورٹس کے مطابق سنافی النصر کو مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کا کزن بتایا جاتا ہے، وہ القاعدہ کی جنگی حمت عملی ترتیب دینے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔

شام میں مارے جانے والے بن لادن خاندان کے سنافی النصر کے 6 بھائی تھے جن میں سے زیادہ تر القاعدہ میں شامل ہو گئے تھے، ان کے 2 بھائی عبد الہادی عبد اللہ ابراہیم الشیخ اور عبد الرزاق عبد اللہ ابراہیم الشیخ امریکا حفاظتی مرکز گوانتا نامو بے میں بھی قید رہے تھے، جن کو 2007 میں سعودی عرب کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔

عراقی فوج نے سال بعد ‘بیجی آئل ریفائنری داعش سے چُھڑالی

October 17, 2015
17Oct15_AA بیجی01
al-Arabia

عراقی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال سے دولت اسلامیہ عراق و شام “داعش” کے قبضے میں رہنے والی بیجی آئل ریفائنری اور بیجی شہر کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرتے ہوئے گھمسان کی لڑائی کے بعد داعش کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق عراقی فوج بیجی شہر کے جنوبی حصے سے اندر داخل ہوئی اور شدت پسندوں کے زیرقبضہ تیل صاف کرنے والے کار خانے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ عراقی فوج کاکہنا ہے کہ لڑائی کئی ہفتے جاری رہی جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عراقی فوج نے نہ صرف بیجی شہر کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے بلکہ الفتحہ اور الصینیہ نامی علاقے بھی داعش سےچھڑا لیے گئے ہیں۔عراقی فوج، قبائلی جنگجوئوں اور کرد فوجیوں پر مشتمل مشترکہ فورس نے شمالی عراق میں داعش کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کرتے ہوئے ان کے اسلحہ کے ذخائر کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

ایران شام وعراق میں ‘داعش’ کو اسلحہ فراہم کرتا ہے

October 16, 2015
16Oct15_AA داعش01al-Arabia

نوٹ: یہ یاد رہے کہ العربیہ حکومت سعودیہ کا ترجمان ہے

ایران کے ایک سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کی فوجی مدد کر رہا ہے، حالانکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ شام اور عراق میں “داعش” کے خلاف لڑائی میں مصروف عمل ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے جاپان میں سابق سفیر ابو الفضل اسلامی نے لندن سے شائع ہونے والے فارسی جریدے”کیھان لندن” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراق اور شام میں داعش کے وجود سے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران بغداد اور دمشق میں داعش کے خلاف کارروائی کی آڑ میں داخل ہوا ہے۔ دونوں عرب ملکوں میں داعش کی سرکوبی ایران کا مطمع نظر نہیں بلکہ ایران داعش کو اسلحہ اور فوجی سازو سامان مہیا کر رہا ہے۔ابو الفضل اسلامی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں ٹوکیو میں ایران کے سفیر تھے، تاہم بعد ازاں وہ ایرانی سرکار سے منحرف ہوگئےتھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں سفیر تھا تو میں نے خود دیکھا ہے کہ ایرانی حکومت مختلف عقائد ونظریات رکھنے والے عسکری گروپوں کی مالی اور فوجی مدد کرتا رہا ہے۔ ایران کا دوسرے ملکوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کی مدد کا مقصد ان ملکوں میں بحران پیدا کرکے تہران کے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔

داعش ایرانی مداخلت کا ذریعہ

ایرانی سفارت کار نے کہا کہ میں تھائی لینڈ کے صدر مقام بنکاک میں چار سال تک ایران کا سفیر رہا۔ میں نے یہ بات نوٹ کی کہ سفارت خانے کی جانب سے ہفتہ وار درخواست جاری کی جاتی جس میں پاسداران انقلاب کے طیاروں کو شمالی کوریا اسلحہ اور جنگی سامان لانے کے لے جاتے ہوئے ایندھن بھرنے کی اجازت مانگی جاتی تھی۔ بعد ازاں یہ اسلحہ لبنانی حزب اللہ کو مہیا کیا جاتا تھا۔سابق ایرانی سفارت کار نے بتایا کہ تہران شام میں داعش کے وجود کو اپنےلیے نعمت خیال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبے کی بات نہیں کہ عراق اور شام میں داعش ایران کے مفادات کے تحفظ کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے شام میں اور عراق میں داعش کو تواتر کے ساتھ اسلحہ اور جنگی سامان مہیا کیا جاتا ہے۔

روس ایران کی مدد سے شام میں سرگرم

شام میں روس کی فوجی مداخلت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ابو الفضل اسلامی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی طرح روس کے اپنے مفادات ہیں مگر روس کو اپنے دیرینہ اتحادی ایران کی ہرممکن معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ روس اس وقت مشرق وسطیٰ میں اہم ترین کھلاڑی کے طور پر کھیل رہا ہے۔اس سے قبل ایران اور یورپ مل کر شام میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ میں نے سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں بہ طورسفیر کام کیا۔ میری موجودگی میں یورپ اور ایران کے درمیان جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے کے لیے مذاکرات ہوتے رہے۔ یورپی حکام کی طرف سے تہران کو بتایا گیا کہ روس کی عرب ایران اورعرب ملکوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ ماسکو ان ملکوں کے مالی فوائد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ روس کے مفادات اسی وقت تک ہیں جب تک تمہاری جیبیں خالی نہیں ہو جاتیں۔