Category: سیریا، شام

روسی حملوں کے بعد شامی فوج کی پیش قدمی جاری ہے: اسد

November 22, 2015
22Nov15_AA شامی01
al-Arabia

شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا

شامی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ روس کی فضائی مدد آنے کے بعد ان کے وفادار فوجی قریباً ہر محاذ پر پیش قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے اتوار کے روز ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے فونیکس ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ماسکو میں نئے امن مذاکرات کی حمایت کریں گے لیکن انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ” شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا”۔بشارالاسد نے کہا کہ ”شام میں 30 ستمبر کو روس کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد صورت حال ”بڑے اچھے” طریقے سے بہتر ہوئی ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فوج قریبا ہر محاذ پر مختلف سمتوں سے پیش قدمی کررہی ہے”۔روس دمشق حکومت کے ساتھ روابط کے ذریعے شام کے مختلف علاقوں میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک از خود ہی شام کے پیشگی علم میں لائے بغیر داعش یا القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔روس عالمی سفارتی محاذ پر بھی بشارالاسد کا سب سے بڑا پشتی بان ہے اور وہ ان کی اقتدار سے رخصتی کی بھی مخالفت کررہا ہے جبکہ دوسرے ممالک کا بنیادی مطالبہ ہی یہی ہے کہ شامی صدر بحران کے پُرامن حل کے لیے فوری طور پر اقتدار سے دستبردار ہوجائیں۔مگر بشارالاسد اقتدار چھوڑنا تو درکنار آیندہ صدارتی امیدوار بننے کو تیار بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس انٹرویو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”نئے انتخابات میں حصہ لینا میرا حق ہے۔البتہ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ میں ان انتخابات میں حصہ لیتا بھی ہوں یا نہیں۔یہ فیصلہ اس امر منحصر ہوگا کہ شامی عوام کے بارے میں میرے کیا احساسات ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ وہ مجھے چاہتے ہیں یا نہیں”۔

ان کا کہنا تھا کہ ”آپ ایسی کسی چیز کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں جو آیندہ چند سال میں ہونے جارہی ہے”۔انھوں نے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ماسکو میں نئے امن مذاکرات کے انعقاد کی حمایت کا اظہار کیا ہے مگر ان کا بالاصرار کہنا ہے کہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد ہی بحران کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا ہے”۔شامی صدر کا کہنا تھا کہ ملک کا نیا آئین بنانے اور اس پر ریفرینڈم کے انعقاد میں زیادہ سے زیادہ دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔واضح رہے کہ بشارالاسد اور ان کی حکومت ان تمام باغی جنگجو گروہوں کو ”دہشت گرد” قرار دیتے ہیں جنھوں نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔

انھوں نے شامی حزب اختلاف کی حمایت کرنے والے مغربی اور دوسرے ممالک پر انتہاپسندی کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مغرب نے ایک شامی مہاجر بچے ایان کردی کی تصویر سے فائدہ اٹھایا ہے۔اس کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا ہے اور انھوں نے حزب اختلاف کے پشتی بانوں پر دہشت گردی کی مدد وحمایت کے ذریعے شامیوں کو بیرون ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔صدر بشارالاسد نے کہا کہ ”یہ بچہ اور دوسرے بچے اس خطے اور دنیا بھر میں مغرب کی پالیسیوں کی وجہ سے مارے جارہے ہیں اور مصائب جھیل رہے ہیں”۔

شام:قیدیوں کا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال

November 02, 201502Nov15_AA ڈھال01BBC

ہنی پنجروں میں بند لوگوں کو سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے
شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ کے علاقے دوما میں “جیش الاسلام” نامی ایک حکومت مخالف تنظیم نے یرغمال بنائے گئے سرکاری فوجیوں اور بشارالاسد کے حامیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے”سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس” کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج کا حوالہ دیا جس میں “جیش الاسلام” نامی ایک تنظیم کے ہاں یرغمال بنائے گئے شامی فوجیوں اور بشارالاسد کے حامی مرد وخواتین کو آہنی پنجروں میں بند دوما کی سڑکوں پر ٹرکوں پر گھماتے دکھایا ہے۔
02Nov15_AA ڈھال02باغیوں کے اس اقدام کا مقصد شامی فوج کی جانب سے دوما میں مزید بمباری روکنا ہے۔فوٹیج میں “جیش الاسلام” کے ایک جنگجو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آہنی پنجروں میں بند حکومت کے حامیوں کو کھلی سڑکوں پر پھرانے کا مقصد شامی فوج کی علاقے میں بمباری رکوانا ہے۔دوما کے علاقے میں ایسے دسیوں پنجرے جگہ جگہ پر موجود ہیں اور کچھ پنجروں کو ٹرکوں پر لادیا گیا ہے جو دوما کی سڑکوں پر چلتے رہتے ہیں۔ ان میں پانچ سے آٹھ افراد کو قید کیا گیا ہے۔ قیدیوں میں اسدی فوجی اور خواتین بھی شامل ہیں۔قیدیوں میں ایک شامی فوجی جو خود کو کرنل کے عہدے کا افسر بتاتا ہے کا کہنا ہے کہ ہم تین سال سے جیش الاسلام کی قید میں ہیں۔ ہم شامی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوما میں شہریوں پر بمباری نہ کرے۔
02Nov15_AA ڈھال03خیال رہے کہ جیش الاسلام نامی اس تنظیم نے شامی فوجیوں اور حکومت کے دسیوں حامیوں کو شمال مشرقی غوطہ کے دوما قصبے میں عدرا العمالیہ کےمقام سے دو سال قبل یرغمال بنایا تھا۔ قیدیوں کو ڈھال کے طور پر ایک ایسے وقت میں استعمال کیا جانے لگا ہے جب گذشتہ جمعہ کو شامی فوج نے دوما کے ایک مصروف بازار میں بمباری کرکے 70 افراد کو ہلاک اور 550 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

صوبہ حمص میں دولت اسلامیہ کی پیش قدمی جاری

November 02, 201502Nov15_BBC حمص01BBC

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام کے صوبے حمص کے شہر مہین میں حکومتی فوج کو پیچھے دھکیل کر قبضہ کر لیا ہے۔
شام میں انسانی حقوق کا مشاہدہ کرنے والے برطانیہ میں قائم ادارے کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام انھوں نے دو خودکش کار بم دھماکوں سے حملے کا آغاز کیا تھا۔
شامی باغی قیدیوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔ روس کا امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ’پراکسی وار‘ کا انتباہ
دوسری جانب عیسائی اکثریتی آبادی والے شہر صدد میں بھی لڑائی جاری تھی۔تازہ واقعات اس وقت پیش آئے ہیں جب روس اور امریکی اتحاد کی جانب سے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔حالیہ مہینوں میں دولت اسلامیہ کی جانب سے شمالی اور مشرقی علاقوں سے جہاں کہ ان کی گرفت مضبوط ہے، حمص اور مرکزی شام کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔ خیال رہے کہ قدیم پلمائرا کھنڈرات کے شہر تدمر پر یہ گروہ مئی میں قابض ہوچکا ہے جبکہ اگست میں انھوں نے القریتین کے شہر پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ 02Nov15_BBC حمص02دولت اسلامیہ کی جانب سے مہین اور صدد پر تازہ حملے حمص اور دیگر شمالی شہروں سے شام کے دارالحکومت دمشق جانے والی مرکزی شاہراہ سے 20 کلومیٹر دور کیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کا مشاہدہ کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران کم از کم 50 حکومتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے مہین میں حملوں کا آغاز ان کے پسندیدہ طریقہ کار یعنی ایک ساتھ دو خودکش کار بم دھماکوں سے کیا گیا تھا۔ادارے کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح تک پورا شہر دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ دوسری جانب دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ شہر پر ان کا قبضہ ہے۔مہین میں بڑا فوجی اڈہ اور اسلحہ ڈپو موجود ہیں۔اسی دوران صدد کے نواحی علاقوں میں حکومتی فوج اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس شہر میں شام کی آرامی عیسائی اقلیت آباد ہے اور آج بھی وہاں قدیم آرامی زبان بولی جاتی ہے۔02Nov15_BBC حمص03تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت میں روس کی جانب سے فضائی حملے جاری ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف دولت اسلامیہ اور دیگر ’شدت پسند گروہ‘ ہیں۔تاہم زیر حملہ علاقوں میں موجود امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مغربی علاقوں میں اعتدال پسند باغیوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں دولت اسلامیہ کے جنگجو یا تو بالکل نہیں ہیں اور اگر ہیں تو بہت معمولی تعداد میں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز شامی فوج کے حملوں اور روسی فضائی حملوں سے شمالی صوبے حلب میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ’50 سے بھی کم امریکی فوجی‘ دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار حزبِ اختلاف کی فورسز کو ’تربیت، مشورے اور تعاون دینے کے لیے‘ شام روانہ کیے جائیں گے۔

داعش کے ہاتھوں ترکی میں دو صحافیوں کا قتل

October 31, 201531Oct15_AA داعش01

al-Arabia

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام ‘داعش’ کے دہشت گردوں نے مبینہ طور پر شام کے دو سماجی کارکنوں کو ترکی میں قتل کردیا ہے۔”الرقہ میں خاموش قتل عام” نامی ایک مہم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مہم سے وابستہ سماجی کارکنوں ابراہیم عبدالقادر اور اس کے ساتھی فارس حمادی کو ترکی کے اورفا شہر میں ایک فلیٹ میں قتل کیاگیا۔ گذشتہ روز دونوں کو فلیٹ میں مردہ پایا گیا اور دونوں کے سرتن سے جدا کیے گئے تھے۔”الرقہ میں خاموش قتل” مہم کے بانی ابو محمد نے بتایا کہ ابراہیم عبدالقادر ان کے ساتھ ترکی میں کام کررہے تھے۔ انہیں داعش ہی نے قتل کیا ہے۔ابو محمد نے بتایا کہ مقتولین کا ایک تیسرا ساتھی حمادی کے گھرپرآیا اور اس نے بار بار دروازے پر دستک دی مگر اندر سے کوئی نہ آیا۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو دونوں خون میں لت پت پڑے تھے اور ان کے سرتن سے جدا کردیے گئے تھے۔ الرقہ میں داعش کے قبضے کے بعد ابراہیم عبدالقادر ترکی چلے گئے تھے جہاں وہ اپنے دوست فارس حمادی کے گھر میں رہ رہے تھے۔شام میں موجودگی کے دوران داعش نے عبدالقادر کو متعدد مرتبہ گرفتار کرنے اور اسے قاتلانہ حملے میں مارنے کی کوشش کی تھی مگر دہشت گرد شام میں اسے مارنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

خیال رہے کہ “الرقہ میں خاموش قتل عام” نامی مہم اپریل 2014ء سے جاری ہے جو خفیہ مقام سے شام بالخصوص الرقہ شہر میں ڈھائے جانے والے داعش کے مظالم کو بے نقاب کرتی رہتی ہے۔ اس مہم سے وابستہ کئی صحافیوں اور کارکنوں کو داعشی جنگجو پہلے بھی قتل اور اغوا کرچکے ہیں۔درایں اثناء ترک خبر رساں اداروں نے خبردی ہے کہ ترکی میں دو شامی صحافیوں کو پراسرار طورپر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے قتل کے شبے میں سات شامی باشندوں کو گرفتار کیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کا فوجی حل ناممکن

October 28, 201528Oct15_AA حل01al-Arabia

امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ جان برینان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض حصوں میں جاری تنازعات کا فوجی حل ناممکن ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بعض ممالک کی موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں مؤثر مرکزی حکومتوں کے قیام کی تصویر دھندلی نظر آرہی ہے۔جان برینان واشنگٹن میں سراغرسانی سے موضوع پر منعقدہ ایک کانفرنس میں تقریر کررہے تھے۔اس کانفرنس میں دوسرے سکیورٹی عہدے داروں اور صنعتی ماہرین نے بھی گفتگو کی ہے۔

برینان نے کہا کہ ”جب میں لیبیا ، شام ،عراق اور یمن کی جانب دیکھتاہوں تو میرے لیے ان ممالک میں ایک ایسی مرکزی حکومت کا تصور کرنا بھی مشکل ہے جو دوسری عالمی جنگ کے بعد ماضی میں کھینچی گئی سرحدوں کے مطابق ان ملکوں میں اپنا کنٹرول اور اتھارٹی قائم کرسکے”۔

انھوں نے کہا کہ ”ان ممالک میں جاری تنازعات کا فوجی حل ناممکن ہے۔تنازعات کے حل کے لیے آپ کو درجہ حرارت کم کرنے ،تنازعے کی شدت کو نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ پھر آپ وہاں موجود ان تمام فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کریں جو تنازعات کے پُرامن حل میں سنجیدہ ہیں”۔

فرانس کی خارجہ انٹیلی جنس ایجنسی ڈی جی ایس ای کے سربراہ برنارڈ باجولٹ نے کانفرنس میں کہا کہ ”اس خطے کا موجودہ تنازعات کے پیش نظر اپنی پرانی ڈگر پر واپس آنا ممکن نظر نہیں آتا ہے”۔

ان کا کہنا تھا کہ ”جس مشرقِ وسطیٰ کو ہم جانتے ہیں،وہ ختم ہوچکا اور مجھے شک ہے کہ وہ دوبارہ واپس آئے گا کیونکہ شام پہلے ہی برسر زمین تقسیم ہوچکا ہے،اسد رجیم کا ملک کے بہت تھوڑے علاقے پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد معرض وجود میں آنے والے ملک کے ایک تہائی حصے پر ہی اسد حکومت کی عمل داری ہے جبکہ ملک کے شمال میں کردوں نے اپنی خود مختاری قائم کرلی ہے”۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”عراق میں بھی ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں۔مجھے اس میں شُبہ ہے کہ ان ممالک میں واقعی گذشتہ صورت حال دوبارہ لوٹ سکتی ہے”۔تاہم اس کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ ”مجھے اعتماد ہے کہ ایک روز یہ پورا خطہ ایک مرتبہ پھر مستحکم ہوجائے گا”۔

امریکی اتحادیوں کی داعش مخالف فضائی مہم ٹھنڈی پڑ گئی

October 28, 2015
28Oct15_AA مہم جوئی01
al-Arabia

روس نے شام میں اسد مخالف باغی گروپوں کے خلاف حملے تیز کردیے
امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک نے شام میں داعش اور دوسرے سخت گیر گروپوں پر فضائی حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں اور گذشتہ تین روز کے دوران میں ان کے لڑاکا طیاروں نے کوئی حملہ نہیں کیا ہے جبکہ دوسری جانب روس کے لڑاکا طیاروں نے صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ڈیٹا کے مطابق اتحادی طیاروں نے شام میں آخری فضائی حملہ 22 اکتوبر کو کیا تھا اور اس میں داعش کی ایک گاڑی اور ایک مارٹر ٹیوب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی اتحادیوں کے برعکس روسی فضائیہ نے شام میں فضائی بمباری تیز کردی ہے اور روس کی وزارت دفاع کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان کے مطابق اس کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران چورانوے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ ”روس کی وجہ سے شام میں فضائی حملے نہیں روکے گئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم انٹیلی جنس اطلاعات کو ملاحظہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہاں اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور کہاں شہریوں کے جانی نقصان کے بغیر اہداف پر بمباری کی جاسکتی ہے”۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں ساٹھ سے زیادہ ممالک شامل ہیں اور وہ جون 2014ء سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔امریکی اتحادیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں اس سخت گیر گروپ کے خلاف فضائی بمباری کا آغاز کیا تھا۔گذشتہ اتوار تک اتحادی طیاروں نے شام میں کل 2679 فضائی حملے کیے تھے۔

پینٹاگان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اتحادی طیاروں نے جولائی میں کل 359 فضائی حملے کیے تھے،اگست میں 206 اور ستمبر میں 115 حملے کیے تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران فضائی حملوں میں بتدریج کمی کی گئی ہے اور اس ماہ اب تک صرف 91 حملے کیے گئے ہیں۔

پینٹاگان کی ایک اور خاتون ترجمان کمانڈر ایلیسا اسمتھ کا کہنا ہے کہ ”ہم درست اہداف کی تلاش میں ہوتے ہیں،اس لیے انھیں نشانہ بنانے میں وقت لگتا ہے۔ہم ایسے ہی ہرکسی ہدف پر بمباری نہیں کردیتے ہیں بلکہ ایک منظم انداز میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہیں”۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس نے گذشتہ ہفتے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور انھوں نے ایسا میکانزم وضع کرنے سے اتفاق کیا تھا جس کے تحت شام میں دونوں ممالک کے ہواباز الگ الگ بمباری کریں گے اور ایک ملک کے ہواباز دوسرے ملک کے ہوابازوں کو فضائی مہم کی تکمیل کے لیے محفوظ راستہ دیں گے۔

روس نے 30 ستمبر کو شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا مگر اس کو فضائی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ترکی اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے داعش یا القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کے بجائے شامی فوج سے جنگ آزما دوسرے باغی گروپوں پر حملے کررہے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

دولتِ اسلامیہ نے مغویوں کو ستون سے باندھ کر بم سے اُڑا دیا

October 28, 2015
28Oct15_BBC ٰ داعش01BBC

شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شام کے قدیمی شہر پیلمائرا میں تین مغویوں کو تاریخی ستونوں سے باندھ کر بم سے اڑا دیا ہے۔
اتوار کو ہلاک کیے جانے والے ان مغویوں کی ابھی شناخت نہیں ہو سکی ہے لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ مئی میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد مغویوں کو قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اس سے قبل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے 2000 سال پرانے تاریخی عبادت گاہ اور کچھ دیگر تاریخی آثار تباہ کیے ہیں۔اقوام متحدہ کے ثقافت کا ادارہ یونیسکو اسے قدیم دنیا کے اہم ثقافتی مراکز میں شمار کرتا ہے۔شام کے بحران پر نظر رکھنے والی لندن میں قائم سیئرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ پیلمائرا کے مقامی ذرائع کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اتوار کو تین مغویوں کو رومن ادوار کے بنے ستوتوں کے ساتھ باندھا اور ان ستونوں کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔پیلمائرا سے ایک سرگرم کارکن خالد آلحومسی نے بتایا کہ ’دولتِ اسلامیہ‘ نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کے بارے میں مقامی افراد کو آگاہ نہیں کیا ہے۔انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’ان افراد کی ہلاکت کو کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ ستون تباہ ہو گئے تھے اور دولتِ اسلامیہ نے کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ایک اور سرگرم شخص محمد آلایاد کا کہنا ہے کہ ’دولتِ اسلامیہ میڈیا کی توجہ لینے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔‘
28Oct15_BBC ٰ داعش02
دولتِ اسلامیہ کے جنگجوں نے تدمر پر قبضے کے بعد تاریخی تھیٹر میں شامی افواج کے 25 سپاہیوں کو گولی مار دی تھی۔دولتِ اسلامیہ نے پیلمائرا کے قدیمی اثارت کی دیکھ بھال کرنے والے ماہر آثار قدیمہ خالد آلاسد کا سر قلم کیا تھا۔رواں ہفتے کے آغاز میں دولت اسلامیہ نے انٹرنیٹ پر تصاویر جاری کی تھیں جس میں ایک جنگجو ٹینک چلاتے ہوئے مبینہ طور پر ایک سپاہی کے اوپر گزار رہا تھا۔خیال رہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے مئی میں شام کی حکومت سے یہ شہر چھین لیا تھا اور اس کے بعد سے وہاں کے معبدوں اور فنی نمونوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔