Category: سعودی عرب

دہشت گردی کے وحشیانہ افعال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

November 16, 201516Nov15_AA سلمان01al-Arabia

فرانس سے مل کر دہشت گردی کی جنگ لڑیں گے: شاہ سلمان
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے اور گذشتہ جمعہ کو پیرس میں مختلف مقامات پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی”واس” کے مطابق شاہ سلمان نے دہشت گردی کے واقعے میں فرانس میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت ایک ناسور ہے اور ہم سب مل کر اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔دونوں رہ نمائوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون مزید مستحکم اور مضبوط کرنے سے اتفاق کیا۔ شاہ سلمان نے فرانسیسی صدر سے کہا کہ دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
دنیا کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ دہشت گرد پوری دنیا کے امن واستحکام کے دشمن ہیں۔درایں اثناء شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ “ٹیوٹر” پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلام کا ایسے وحشیانہ افعال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید موثربنانے کی ضرورت پر زور دیا۔قبل ازیں سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے پیرس حملوں کو وحشیانہ بربریت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیرس حملوں میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔خیال رہے کہ جمعہ کو پیرس میں ہونے والی دہشت گردی میں کم سے کم 127 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہو گئے تھے۔
Advertisements

بیٹا بے گناہ ہے۔موت کی سزا نہ دیں ۔ سعودی شاہ سے اپیل

November 06, 201506Nov15_Misc نمر01

سعودی عرب میں ایک اکیس سالہ شیعہ نوجوان کو ملک میں اصلاحات کے حق میں مظاہروں میں شرکت پر موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس نوجوان کے باپ نے شاہ سلمان سے اپیل کی ہے کہ اُس کے بیٹے کی زندگی بخش دی جائے۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس نوجوان کے والد محمد النمر نے ایک انٹرویو میں امید ظاہر کی کہ شاہ سلمان اُس کے بیٹے علی کو، جو فروری 2012ء میں اپنی گرفتاری کے وقت صرف سترہ سال کا تھا، بچا لیں گے۔ یہ کیس آج کل پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
06Nov15_Misc نمر02
محمد النمر نے بدھ کے روز اپنے بیٹے کے ڈیتھ وارنٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’ہم امید کر رہے ہیں کہ وہ اُس پر دستخط نہیں کریں گے۔ سعودی عرب کی اعلیٰ ترین عدالت علی النمر کو موت کی سزا سنا چکی ہے اور اب اس نوجوان کی زندگی کا فیصلہ بادشاہ کے ہاتھوں میں ہے۔
محمد النمر نے خبردار کیا کہ اگر اُس کے بیٹے کو موت کی سزا دے دی گئی تو شیعہ اقلیت کی جانب سے پُر تشدد رد عمل سامنے آ سکتا ہے، جو کہ وہ خود بھی نہیں چاہتا:ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ خون کا ایک بھی قطرہ بہے۔
06Nov15_Misc نمر03
نمر النمر کو اُن مظاہروں کے پیچھے کارفرما اصل قوت گردانا جاتا ہے، جو چار سال پہلے اُس مشرقی صوبے میں شروع ہوئے تھے، جہاں سنی اکثریت کے حامل اس ملک کے زیادہ تر شیعہ آباد ہیں۔
علی النمر کے والد نے اعتراف کیا کہ اُس کا بیٹا، جو ایک ہائی اسکول میں پڑھتا تھا، ہزاروں دیگر افراد کے ہمراہ احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوا تھا۔ تاہم اُس نے کہا کہ اُس پر نقب زنی، پولیس پر حملہ کرنے اور آتش گیر بم پھینکنے کے جو متعدد دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ اُن کا مرتکب نہیں ہوا ہے اور بے گناہ ہے۔
بدھ کے روز فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے بھی اپیل کی ہے کہ اس نوجوان کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا جائے۔ وزارت کے ایک ترجمان نے کہا کہ اُن کا ملک کسی قسم کے بھی حالات میں سزائے موت کا مخالف ہے تاہم یہ نوجوان اُس وقت نابالغ تھا، جب یہ واقعات پیش آئے، جن کے الزام میں اُسے یہ سزا سنائی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ اس نوجوان کی سزا معاف کر دی جائے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوجوان پر تشدد کر کے اُس سے اعترافِ جرم کروایا گیا اور کسی وکیل تک رسائی کا بھی مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ مزید یہ کہ اُس کے کیس کی سماعت ایسے حالات میں ہوئی، جو بین الاقوامی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پھانسی کی سزا کا فیصلہ، آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے شیخ نمر کو سزائے موت، عالم تشیع کا رد عمل

November 06, 201506Nov15_SA نمر02Islam

اسلام ٹائمز: سعودی عرب میں شیخ نمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کیخلاف رہبر انقلاب اسلامی، سید علی خامنہٰ ی کے مشیر علی اکبر ولایتی نے آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ نمر نے سعودی عوام کے مطالبات کی حمایت کرنے اور زور زبردستی کے مقابل قیام کرنے کےعلاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔ حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کے خلاف سعودی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ شیخ نمر کے خلاف اپنا فیصلہ منسوخ کر کے عوام کی آواز سنے جو اپنے کم از کم حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
متعصب سعودی حکام کی جانب سے دباو اور سازش کے نتیجے میں مجاہد عالم دین، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا کے اعلان کے بعد پوری دنیا سے اس غیر منطقی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی حکومت آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا دینے کی گستاخانہ جسارت کرے گی، تو سعودی عرب میں سکیورٹی کے شدید مسائل سامنے آ جائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت چھوٹی سے مخالف کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیتوں کے ساتھ تشدد کا حربہ استعمال کرنا، جو عالم اسلام میں کافی معروف ہیں، یقینا سعودی عرب کو داخلی اور عالمی سطح پر شدید مسائل سے دوچار کر دے گا۔ علاءالدین بروجردی نے کہا کہ شیخ نمر سعودی عرب میں بزرگ عالم دین اور اعلٰی مدارج پر فائز، نیز مجاہد شخصیت ہیں اور ان کے خلاف حکومتی اقدامات سے سعودی عرب اور علاقے کے شیعہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونگے۔دریں اثنا عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی، سید علی خامنہ ای کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے بھی شیخ نمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ نمر نے سعودی عوام کے مطالبات کی حمایت کرنے اور زور زبردستی کے مقابل قیام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔ اسی طرح حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کے خلاف سعودی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں آل سعود کی حکومت سے کہا ہے کہ شیخ نمر کے خلاف اپنا فیصلہ منسوخ کر کے عوام کی آواز سنے جو اپنے کم از کم حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دریں اثنا ایک معروف سیاسی مبصر اور تجزیہ نگار نصیر العمری نے کہا ہے کہ آل سعود نے شیخ نمر کے خلاف پھانسی کا سزا کا فیصلہ سنا کر دانشمندی سے عاری ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کا یہ فیصلہ آگ سے کھیلنے کے برابر ہے۔

خطیب جمعہ تہران آیت اللہ خاتمی نے بھی سعودی عدالت کی جانب سے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو بحرین کے انقلابیوں، ولایت فقیہ اور سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کی حمایت اور جدوجہد کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ایران میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دئے جانے پر ہائے واویلا کر رہی ہیں، لیکن سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ آیت اللہ شیخ باقرالنمر کے خلاف پھانسی کی سزا کا فیصلہ ظالمانہ ہے۔ انہوں نے آل سعود کو خبردار کیا کہ وہ اس فیصلے پر عمل درامد کے نہایت سنگين نتائج بھگتے گی۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں ہزاروں افراد نے سعودی عرب کے سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر کے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کی حمایت کی۔ مظاہرین نے سعودی عدالت کی جانب سے شیخ باقر النمر کو سنائے جانے والی پھانسی کی ‎سزا کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی پر زور دیا۔ مظاہرین نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور سعودی عرب کو مغربی حکومتوں کی سازشوں پر عمل درآمد کرنے والا ایجنٹ قرار دیا۔ ادھر شیخ عبدالمالک حوثی کے بھائی ابراہیم بدرالدین حوثی نے سعودی عرب کو بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو یمن کے انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ادھر حزب اللہ عراق کے سیکرٹری عباس المحمداوی نے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کے تعلق س سے سعودی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر آل سعود نے شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی کی سزا دی تو علاقے میں آل سعود کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ھمام حمودی نے آل سعود سے کہا ہے کہ بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کا فیصلہ منسوخ کر دیا جائے۔ سومریہ نیوز کے مطابق ھمام حمودی نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کو مخالفین کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ سعودی حکومت شیخ باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کو منسوخ کر دے۔ عراق کے مختلف حلقوں نے سعودی حکومت کی جانب سے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی کی سزا کے سنائےجانے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں بزرگ عالم دین آيت اللہ نمر کو آل سعود کی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے آل سعود کی عدالت کی جانب سے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت مسلمین، آئی ایس او پاکستان، عوامی تحریک نے آل سعود کو شیخ باقرالنمر کو سزائے موت دیئے جانے کی مذمت کی ہے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ آل سعود کے مظالم کے خلاف سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں عوام کے احتجاجی مظاہرے ان کا حق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تشدد آمیز اقدامات سے مشرقی علاقے کے عوام کی تحریک کو کچلنا چاہتا ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے حکومت آل سعود سے کہا ہے کہ وہ بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سنائی گئی سزا کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ آل سعود کو اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے باز رکھیں۔

واضح رہے سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں عوام نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنے بزرگ عالم دین اور دینی پیشوا آيت اللہ شیخ باقرالنمر کے خلاف پھانسی کے حکم کی شدید مذمت کی تھی۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کے منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے سعودی عرب میں اہل تشیع نہایت نامناسب حالات میں زندگی گذار رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہر طرح کا تعصب روا رکھا جاتا ہے، شیخ نمر نے اسی صورتحال کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور ملک میں سب کو برابر حقوق دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ شیخ باقر النمر متعدد مرتبہ سعودی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔ سعودی حکومت کے اس غیر عادلانہ فیصلے کیخلاف مظاہرے بحرین میں بھی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایک فوجی عدالت نے بدھ کے دن اس ملک کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آیت اللہ نمر کے لئے سزائے موت کے حکم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے، اعلان کیا ہے کہ سزائے موت کا یہ حکم بین لاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔ سعودی عرب، بحرین، عراق، لبنان، ایران سمیت پاکستان، ہندوستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے جید علما کرام نے بھی اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکومت کے اس مجرمانہ اقدام کو ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے۔ مجلس علماء ہند کے سیکرٹری مولانا کلب جواد نے لکھنو کی نماز جمعہ میں شیخ نمر باقر النمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی حکومت نہیں ہے اور آل سعود کی حکومت کسی کو بھی اپنے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

آیت اللہ نمر کو سنائے گئے سزائے موت کے حکم پر آل سعود کو مراجع عظام کا انتباہ

November 06, 201527Oct15_النمر01ABNA Iran

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی درباری عدالت کی جانب سے اس ملک کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کے حکم سنائے جانے کے بعد مراجع عظام، علما اور حوزہ علمیہ کی اہم شخصیات نے الگ الگ بیان جاری کر کے اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدام کی مذمت کی ہے جبکہ اس اقدام کے انتہائی برے اثرات سامنے آنے سے خبردار کیا ہے انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اس حکم کے خلاف جلد از جلد قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ النمر کے سلسلے میں سنائے گئے سزائے موت کے حکم کو کالعدم قرار دلانے کی کوشش کریں۔
ایران کے تمام مراجع منجملہ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی، آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی، آیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ سبحانی، آیت اللہ علوی گرگانی نیز جامعہ مدرسین، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی، حزب اللہ لبنان، حزب اللہ عراق، بحرین کی جمعیت الوفاق نے بھی الگ الگ بیانات جاری کر کے اس مظلومانہ حکم کی مذمت کی ہے جبکہ مراجع عظام نے ایران کے وزیر خارجہ ڈٓاکٹر محمد ظریف کو اس بارے میں جلد از جلد موثر قدم اٹھانے کی تاکید ہے۔تفصیلات کے مطابق حضرات آیات عظام صافی گلپائگانی، ناصر مکارم شیرازی ، سید محمد علی علوی گرگانی اور سید هاشم حسینی بوشھری نے الگ الگ بیان میں سعودی حکومت کی جانب سے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو دی جانے والی پھانسی کی سزا پر شدید رد عمل کا اظھار کیا ہے۔
حضرت آیت الله صافی گلپائگانی نے گذشتہ روز ایرانی صدر جمھوریہ ڈاکٹر حسن روحانی کے دفتر کے ذمہ دار ڈاکٹر نھاوندیان سے ہونے والی ملاقات میں سعودی حکومت کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلہ میں جلد از جلد موثر اور سنجیدہ اقدام کریں ۔
انہوں نے کہا: اس مظلوم اور انقلابی عالم دین کو پھانسی کی سزا، دنیا کے تمام شیعوں اور مسلمانوں کے کبیدہ خاطر ہونے اور ان کی کرب و بے چینی کا سبب ہے، آپ کو بغیر کسی جرم و گناہ کے سخت ترین سزا سنائی گئی ہے ۔
حضرت آیت الله صافی گلپائگانی نے مزید کہا : ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف اس سلسلہ میں جلد از جلد موثر اور سنجیدہ اقدام کریں، سعودی حکمرانوں کو دنیا کے مسلمانوں کے احساسات سے آگاہ کریں اور اس ظالمانہ فیصلہ کے نتائج سے انہیں با خبر کریں ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آج اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں مسجد آعظم قم میں منعقد ہوا ، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا کو ظالمانہ بتاتے ہوئے کہا: شیخ نمر کو پھانسی کی صورت میں سعودی حکومت ناقابل تصور حالات سے روبرو ہوگی ۔
انہوں نے سعودی حکومت کو متنبہ کیا : سعودی حکومت آگاہ رہے کہ اگر انہوں ںے شیخ نمر کو پھانسی دی تو یقینا دنیا کے تمام شیعہ اور جمھوریت پسند اہل سنت کی نفرت و غم و غصہ سے روبرو ہوں گے ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شیخ نمر نے کوئی بلوا نہیں کیا تھا اور کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا جو اس سزا کے مستحق ہوں، کہا: اپ کی جرات مندانہ تقریریں ، آپ کی شجاعت اور جھموریت پسند افکار کی نشانی ہے ۔
انہوں نے کہا : افسوس سعودیہ کے شیعہ سخت حالات سے روبرو ہیں اور بدترین دباو کا شکار ہیں، انہیں اپنے پروگرام کے انعقاد کی آزادی نہیں ہے، ان کے حقوق پائمال کئے جا رہے ہیں اور بہت سارے شیعہ ملازمت سے بھی محروم ہیں ۔
آیت ‌الله علوی گرگانی نے اپنے ارسال کردہ بیان میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شیخ نمر کو پھانسی کی سزا، سعودی عوام کے غم و غصہ کا سبب اور اس ملک میں عوامی قیام کا باعث بنے گی کہا: ہم مطمئن ہیں کہ اس طرح کے اقدامات علاقہ اور خود عربستان میں آل سعود کی بنیادوں کو سست ہونے کا سبب ہوں گے ، سعودی عوام اس طرح کی سزاوں سے اپنی تحریک سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے ۔
انہوں نے آیت «و ما نقموا منهم الا أن یؤمنوا بالله العزیز الحمید » کی آئینہ میں سعودیوں کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذ٘مت کرتے ہوئے کہا : آپ کو پھانسی کی سزا سے ہمارے دل کو شدید چوٹ پہونچی ہے ، ظالم و آمریت سے مقابلہ تمام علماء کرام اور شیعوں کے لئے باعث فخر ہے مگر اس مقام پر ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ سعودی حکومت حق و انصاف اور اپنی عوام سے حسن سلوک کے بجائے انسان سوز مظالم ڈھانے پر تلی ہے ۔
آیت الله سید هاشم حسینی بوشهری نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبہ میں جو حرم مطھر حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا میں سیکڑوں مومنین شرکت میں منعقد ہوا، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور مراکز کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں سعودی کورٹ پر ایک نگاہ ڈالنے کی تاکید کی اور کہا: علمائے اسلام شیخ نمر کی پھانسی کی سزا پر سخت رد عمل کا اظھار کریں ۔
انہوں نے سعودی کورٹ کی جانب سے شیخ نمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کو محکوم کرتے ہوئے کہا: ہمارے لحاظ سے عوام ، علمائے اسلام ، بزرگان اور مراجع تقلید اس سزا پر سخت رد عمل کا اظہار کریں گے ۔
قم کے امام جمعہ نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم آئے دن ایران پر انسانی حقوق کی رعایت نہ کرنے کا الزام لگانے والے انسانی حقوق کے عالمی مراکز اور اداروں سے کہتے ہیں کہ ذرا سعودی عدالتوں پر بھی نگاہ ڈالیں اور ان کے اعمال پر غور و خوض کریں ۔

منشیات سمگل کرنے کے الزام میں سعودی شہزادہ گرفتار

November 03, 201503Nov15_BBC شہزادہDU

لبنان میں بیروت کے ہوائی اڈے پر ایک ہفتے قبل نشہ آور گولیوں کی ایک ریکارڈ کھیپ پکڑے جانے کے بعد سعودی عرب کے ایک شہزادے اور دیگر چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سعودی شہزادے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن انھیں اور چار دیگر سعودی شہریوں کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دو ٹن وزنی منشیات کی گولیاں ’کپٹاگن‘ ایک نجی طیارے پر لادی جا رہی تھیں۔نو افراد کے خلاف اس مقدمے میں ملوث تین لبنانی اور دو سعودی شہری مفرور ہیں اور ان کی تلاش کی جا رہی ہے۔منشیا ت کی یہ گولیاں جن میں کیفین اور ’ایمفیٹا مائن‘ ہوتی ہے مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔شام کے تنازع میں بھی منشیات کی یہ گولیاں ایک اہم عنصر ہیں اور ان کی پیداوار سے کروڑوں ڈالر حاصل کیے جاتے ہیں اور شام کی لڑائی میں شامل جنگجوؤں میں بھی ان گولیوں کا استعمال عام ہے۔یہ گولیاں سنہ1960 سے بنائی جا رہی ہیں جن سے اعصابی دباؤ یا ڈپریشن اور نیند کی بیماری کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔ سنہ 1980 تک ان گولیوں کو بہت سے ملکوں میں ممنوع قرار دے دیا گیا کیونکہ ان کے نشے کی لت لگ جاتی تھی۔سنہ 2013 میں اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 64 فیصد ایمفیٹا مائن مشرق وسطی میں پکڑی گئی جو کہ زیادہ تر ان گولیوں کی شکل میں تھی۔

شام:قیدیوں کا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال

November 02, 201502Nov15_AA ڈھال01BBC

ہنی پنجروں میں بند لوگوں کو سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے
شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ کے علاقے دوما میں “جیش الاسلام” نامی ایک حکومت مخالف تنظیم نے یرغمال بنائے گئے سرکاری فوجیوں اور بشارالاسد کے حامیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے”سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس” کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج کا حوالہ دیا جس میں “جیش الاسلام” نامی ایک تنظیم کے ہاں یرغمال بنائے گئے شامی فوجیوں اور بشارالاسد کے حامی مرد وخواتین کو آہنی پنجروں میں بند دوما کی سڑکوں پر ٹرکوں پر گھماتے دکھایا ہے۔
02Nov15_AA ڈھال02باغیوں کے اس اقدام کا مقصد شامی فوج کی جانب سے دوما میں مزید بمباری روکنا ہے۔فوٹیج میں “جیش الاسلام” کے ایک جنگجو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آہنی پنجروں میں بند حکومت کے حامیوں کو کھلی سڑکوں پر پھرانے کا مقصد شامی فوج کی علاقے میں بمباری رکوانا ہے۔دوما کے علاقے میں ایسے دسیوں پنجرے جگہ جگہ پر موجود ہیں اور کچھ پنجروں کو ٹرکوں پر لادیا گیا ہے جو دوما کی سڑکوں پر چلتے رہتے ہیں۔ ان میں پانچ سے آٹھ افراد کو قید کیا گیا ہے۔ قیدیوں میں اسدی فوجی اور خواتین بھی شامل ہیں۔قیدیوں میں ایک شامی فوجی جو خود کو کرنل کے عہدے کا افسر بتاتا ہے کا کہنا ہے کہ ہم تین سال سے جیش الاسلام کی قید میں ہیں۔ ہم شامی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوما میں شہریوں پر بمباری نہ کرے۔
02Nov15_AA ڈھال03خیال رہے کہ جیش الاسلام نامی اس تنظیم نے شامی فوجیوں اور حکومت کے دسیوں حامیوں کو شمال مشرقی غوطہ کے دوما قصبے میں عدرا العمالیہ کےمقام سے دو سال قبل یرغمال بنایا تھا۔ قیدیوں کو ڈھال کے طور پر ایک ایسے وقت میں استعمال کیا جانے لگا ہے جب گذشتہ جمعہ کو شامی فوج نے دوما کے ایک مصروف بازار میں بمباری کرکے 70 افراد کو ہلاک اور 550 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

آیت اللہ نمر کی سزائے موت کے حوالے سے مراجع عظام کا سعودی حکام کو انتباہ

October 29, 201529Oct15_ABNA نمرABNA Iran - Copy

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قم کے مراجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت کے حکم کی تائید کئے جانے پر سعودی حکام کو خبردار کیا اور کہا کہ اس طرح کے تعصب آمیز اقدامات سے اپنے ملک کو بحران کا شکار نہ بنائیں۔
انہوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ سعودی حکومت نے صرف تعصب کی بنا پر آیت اللہ نمر اور کئی دیگر مظلوم شیعوں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔
مراجع عظام نے سعودی حکام کو نصحیت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کو اس طرح کے غیر انسانی اور غیر شرعی اقدامات کے ذریعے بحران کا شکار نہ بنائیں اور یاد رکھیں کہ سعودی عرب کے آزادی طلب اور بزرگ علماء کے ساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک بھاری نقصان کا حامل ہو گا۔
انہوں نے سعودی حکام کے کردار کو تنقید کا نشابہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام صرف بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں امریکہ اور اسرائیل کی نوکری کر رہے ہیں۔