Category: ساری دنیا

شادی کے انتظار میں بیٹھے’بیکار نوجوان

November 02, 201502Nov15_BBC شادی01BBC

آج کل دنیا بھر میں لڑکے لڑکیاں اسی کوشش میں ہیں کہ وہ جلد از جلد اتنی رقم اکھٹی کر لیں کہ اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیں، شادی کریں، بچے پیدا کریں اور اپنا گھر بسا لیں۔ یہ لڑکے لڑکیاں اب بچّے نہیں رہے اور نہ ہی انھیں بالغ سمجھا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ ’انتظار کے برسوں‘ میں پھنس چکے ہیں۔
’جب آپ مصر یا اس خطے کے دیگر ممالک میں شادی کرتے ہیں تو آپ کا گھر مکمل دکھائی دیتا ہے اور لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ آپ کے باورچی خانے میں تمام مصالحہ جات بھی موجود ہوتے ہیں، آپ کے گھر میں گلاس بھی ہوتے ہیں، فرنیچر بھی ہوتا ہے، اگر آپ دولت مند ہوں تو آپ کو نوکر نوکرانی کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے، اور آپ کے لیے ہر چیز سجی سجائی ہوتی ہے۔‘
سنہ 1990 کی دہائی میں امریکی ماہرِ سیاسیات ڈیان سِنگرمین قاہرہ میں خاندانی سیاست کے موضوع پر تحقیق کر رہی تھی تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ جن لوگوں سے سوالات کر رہے تھیں، ان کی اکثریت کو ایک ہی مسئلے کا سامنا تھا، اور وہ یہ کہ شادی کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔
بات صرف شادی کے دن کے اخراجات کی نہیں، بلکہ شادی کے لیے ’اچھا لڑکا‘ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دولہا اور اس کے والدین کے پاس اتنے پیسے ہونے چاہئیں کہ وہ دلہن کو اچھا جہیز دیں اور اس کے لیے زیورات بھی خرید سکیں۔اس کے علاوہ انھیں ایک مکان بھی تلاش کرنا ہوتا ہے اور اسے اتنے آرائشی ساز وسامان سے بھرنا ہوتا ہے جو ایک شادی شدہ جوڑے کی تمام ضروریات کو پورا کر سکے۔
سِنگرمین کے مطابق انھوں نے جب تمام اخراجات کو جمع کیا تو معلوم ہوا کہ مصر میں اوسط شادی کے لیے آپ کو 21,194 مصری ڈالر (یا چھ ہزار برطانوی پاؤنڈ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنہ 1999 کے اعداد وشمار کے مطابق یہ رقم ایک اوسط درجے کے مصری خاندان کے سالانہ اخراجات سے تقریباً اڑہائی گنا زیادہ بنتی ہے۔
02Nov15_BBC شادی02
اور اگر آپ اسے اس تناظر میں دیکھیں کہ مصر میں نوجوانوں میں بیروزگاری کا تناسب بہت زیادہ ہے، تو مصر میں شادی کرنا تقریباً ایک ناممکن کام بن جاتا ہے۔ سنگرمین کے بقول اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ایک قدرے غریب نوجوان اور اس کے والد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سات سال تک بچت کرتے رہیں اور ان سالوں میں اپنی کمائی کا ایک دھیلہ بھی کسی دوسرے کام پر خرچ نہ کریں۔سنگرمین کے بقول ’مجھے معلوم ہوا کہ مصر میں نوجوانوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ ان کے پاس شادی کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن اس کے علاوہ انھیں کئی دیگر مسائل کا بھی سامنا تھا۔‘

’ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں پر نفسیاتی دباؤ تھا۔ چونکہ مصر میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو اب بھی بہت بُرا سمجھا جاتا ہے، نتیجتاً مستقبل کے دولہا اور دلہن کے لیے شادی سے پہلے کے دس سال تنہائی اور اکیلے پن کے سال ثابت ہوتے ہیں۔

لیکن شادیوں میں تاخیر کے اثرات معاشی اور رومانی مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ سنگر مین کہتی ہیں کہ ’مصر میں جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی نوجوان اپنے والدین کے گھر میں ہی رہتے ہیں اور انھیں اس وقت تک بالغ نہیں تصور کیا جاتا جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی۔ خاص طور خواتین کے معاملے میں یہی ہوتا ہے۔‘

لیکن چونکہ یہ نوجوان بچًے نہیں ہوتے ، اسی لیے سنگرمین نے شادی سے پہلے کے انتظار کے طویل برسوں کے لیے چائیلڈ ہُُڈ، ایڈلٹ ہُڈ کے وزن پر ایک نیا لفظ متعارف کرایا، ’ویٹ ہُڈ‘ یعنی ’انتظار کی عمر‘۔
02Nov15_BBC شادی03
سنگرمین نے مصری نوجوانوں کے حوالے سے ’انتظار کے سال‘ کے الفاظ پہلی مرتبہ سنہ 2007 میں استعمال کیے۔ اگرچہ بعد کے برسوں میں اس بات کے ثبوت بھی منظر عام پر آئے ہیں کہ اب مصری نوجوان قدرے جلدی شادی کرنے لگے ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سنگرمین کے بعد اب دنیا بھر کے ماہرین میں سنگرمین کی دی ہوئی یہ نئی تعریف بہت مقبول ہو گئی ہے۔ اب یہ ماہرین دنیا کے مخلتف ممالک اور تہذیبوں میں بسنے والے نوجوانوں کو ’انتظار کے سالوں ‘ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہر ملک میں لوگوں نے ایسے نوجوانوں کو مختلف نام دے رکھے ہیں، جن میں سے اکثر نام ایسے ہیں جن میں شادی کے انتظار میں پڑے ہوئے نوجوانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔

اٹلی میں 20 اور 30 سال کی عمر کے ان نوجوانوں کو جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں ’بمبوسیانو‘ ( بڑی چوسنی والے بچے) کا لقب دیا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد واپس اپنے ماں باپ کے گھر آ جانے والے لڑکوں کو ’یو یو نسل‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جاپان میں ایسے نوجوانوں کو ’فریٹرز‘ اور امریکہ میں ان نوجوانوں کو ’سلیکرز‘ یا ’ڈھیلے‘ کہا جاتا ہے جو ’کوئی ڈھنگ کی نوکری‘ نہیں کرتے۔

اگرچہ مخلتف ممالک میں سرکاری ادارے کسی کے بالغ ہونے کا معیار اس کے 18 یا 21 برس کے ہونے کو سمجھتے ہیں لیکن مختلف تہذیبوں میں کسی کے بالغ ہونے کے معیار مختلف ہیں۔ مشسرق وسطیٰ میں آپ کی بلوغت کا معیار یہ ہے کہ آپ کی شادی ہوئی ہے یا نہیں جبکہ شمالی یورپ میں آپ کو بالغ تب سمجھا جاتا ہے جب آپ اپنے والدین کا گھر چھوڑ جاتے ہیں۔

موزمبق، جنوبی افریقہ، سینیگال اور تیونس میں نوجوانوں کے ’انتظار کے برسوں‘ پر تحقیق کرنے والی ماہرِ بشریات السینڈا ہونوانا کہتی ہیں کہ افریقہ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان برسوں میں پھنسی رہتی ہے، لیکن وہ اس سے اتفاق نہیں کرتیں کہ ان برسوں میں نوجوان بیکار پڑے رہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کرتے۔

’میں نے دیکھا ہے کہ اگرچہ یہ عرصہ نوجوانوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ ان کی زندگی کا وہ حصہ ہوتا ہے جب ان کی تخلیقی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں، کیونکہ ان برسوں میں والدین کے ساتھ زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں زمانے کے ساتھ چلنے کا ڈھنگ بھی سیکھ لیتے ہیں۔‘
02Nov15_BBC شادی04اس حوالے سے السینڈا ہونوانا ان نوجوانوں کی مثال دیتی ہیں جو شادی سے پہلے کے برسوں میں غیر رسمی (اِنفارمل) معیشت میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، بیرونِ ملک جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور ان انقلابی تحریکوں میں شامل ہونے کو تیار ہوتے ہیں جو ناکام معاشی پالیسیوں اور بد دیانت حکومتوں کے خلاف چلتی ہیں۔

سنہ 2011 میں عرب دنیا میں تبدیلی کی جو تحریک ’عرب سپرنگ‘ چلی، اس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت ایسے افراد کی تھی جو جوان تھے، پڑھے لکھے تھے مگر معاشرے سے کٹے ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں کے پاس فارغ وقت کی کمی نہیں تھی۔گزشتہ ایک دہائی میں ایسے مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے جن میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، چاہے یہ مظاہرے موزمبیق میں ہو رہے ہوں یا یونان اور برطانیہ میں۔

سنِگرمین کے خیال میں مشرقِ وسطی میں نوجوانوں کے بیرونِ ممالک جا کر ملازمت کرنے کا ایک بڑا مقصد بھی اپنی شادی کے لیے رقم اکھٹی کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عروج کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نوجوانوں کو شادی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے جن نوجوانوں کو بھرتی کرنا چاہتی ہے، انھیں بیویوں کا لالچ بھی دیا جاتا ہے۔ اسی لیے شام اور عراق کے ان علاقوں میں جہاں مختلف گروہ لڑ رہے ہیں، وہاں سے خواتین اور نوجوانوں لڑکیوں کے ریپ کیے جانے کی اطلاعات مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔

ان منفی نتائج کے علاوہ، سنگرمین کے خیال میں ’ انتظار کی عمر‘ کے کچھ فوائد بھی ہیں۔’اب لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں، کالجوں میں جا رہی ہے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔یوں یہ لڑکیاں نہ صرف مالی طور پر زیادہ آزاد ہو رہی ہیں بلکہ اب شادی پر بھی ان کا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔‘

Saudi Arabia court confirms Shia cleric death sentence

October 27, 2015
27Oct15_النمر02BN_101
al-Jazeera
Supreme Court confirms capital punishment for Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests.

The Supreme Court in Saudi Arabia has confirmed the death sentence against Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests, one of his brothers said.

“After the confirmation of Sheikh Nimr’s death sentence by the Court of Appeal and then the Supreme Court, his life is in the hands of King Salman who can endorse the sentence or suspend the execution,” Mohammed al-Nimr said on Sunday.

He warned that his brother’s execution “could provoke reactions that we do not want,” as Sheikh Nimr had “supporters in the Shia areas of the Islamic world”.

Mohammed al-Nimr said he expected the king to “prove his wisdom” by halting the execution of his brother and six other Shia people.

Iran warning

Among those sentenced to death, “three, including my son Ali, were minors at the time of arrest” for involvement in anti-government protests that erupted in the Eastern Province in the wake of the Arab uprisings, he told AFP news agency.

The case of Ali al-Nimr, in particular, has led to strong reactions around the world, with many asking the Saudi authorities to grant the young Shia a stay from the execution.

Iran, the arch-foe of Saudi Arabia, on Sunday warned Riyadh not to execute the cleric.

“The execution of Sheikh Nimr would have dire consequences for Saudi Arabia,” said Deputy Foreign Minister Hossein Amir Abdollahian.

“The situation in Saudi Arabia is not good and provocative and tribal attitudes against its own citizens are not in the government’s interests,” he said in a statement.

Separation call

Sheikh Nimr had called in 2009 for separating the Eastern Province’s Shia-populated Qatif and al-Ihsaa governorates from Saudi Arabia and uniting them with Shia-majority Bahrain.

Last year, a special court in Riyadh sentenced him to death for “sedition”, “disobedience” and “bearing arms”.

Saudi Arabia’s estimated two million Shia people, who frequently complain of marginalisation, live mostly in the east, where the vast majority of the OPEC kingpin’s huge oil reserves lie.
27Oct15_النمر01

زائرحضرت امام حسينؑ کے بارے ميں حضرت امام صادقؑ سے منقول حديث

October 27, 2015
27Oct15_Utba زائرالعتبة

حضرت اما م صادق (عليہ السلام) سے زائر امام حسين (عليہ السلام) کے بارے ميں دعا کي صورت ميں روايت ہے کہ

“اے اللہ!يہ لوگ (مراد زائر امام حسين عليہ السلام) جب قصد زيارت کرتے ہيں تو لوگ ان پر (زيارت کا قصد کرنيکی وجہ سےہمارے مخالفین) عيب جوئی کرتے ہيں۔(مثلا اگر غريب ہے تو اسکے خاندان کي کفالت پر اعتراض کرتے ہيں) مگر ان مخالفين کي يہ عيب جوئی ان کو اس فعل (زيارت امام حسين عليہ السلام) سے باز نہيں رکھتی۔اس ارادہ مستقلی پر امام صادق (عليہ السلام) نے دعا فرمائي کہ “اے اللہ!

۔1۔ان چہروں پر رحمت فرما جو کہ حضرت ابا عبداللہ الحسين (عليہ السلام) کی زيارت کے شوق کے لئے آتے ہوئے سورج کی تپش ميں رنگ بدل گئے ۔ (مراد سفر کي تھکان جو سفر کے بعد تقاضائے بشريت کی وجہ سے ان کے چہروں پر رونما ہے)۔

۔2۔ان رخساروں پر رحمت فرما جو کہ حضرت اباعبداللہ الحسين (عليہ السلام) کي در پر سجدہ ريز ہوئيں ۔

۔3۔ان آنکھوں پر رحمت فرما جن سے ہمارے لئے (ہمارے اوپر ڈھائے گئے مظالم اور مصيبتوں پر) آنسو جاري ہوتے ہيں

۔4۔ ان قلوب پر رحمت فرما جو ہماری محبت ميں تڑپتے ہيں

۔5۔ اوران آہ و بکاء پر رحمت فرما جو ہمارے لئے (ہماری محبت ميں)بلند کرتے ہيں۔ (حديث ميں وارد لفظ “صرخۃ” ہے اور عربی ميں بلند آواز سے بکاء کرنے کو “صيحۃ” کہتے ہيں اور جب “صيحۃ” اپنی حدود سے بلند ہو تو”صرخۃ” کہتے ہيں جسکی عام مثال اگر کسی کا جوان بيٹا فوت ہو جائے تو بکاء کرنيوالے دوسرے رشتہ داروں اور ماں کي آہ و بکاء ميں بہت فرق ہے بالکل اسي طرح جسطرح ماں اپنی بلند آواز سے جوان بيٹے پر روتی ہے اسے “صرخۃ” سے تشبيہ دی جاسکتی ہے)

آخر ميں امام (عليہ السلام) اللہ سے دعا فرماتے ہيں: اے اللہ ! ميں ان جسموں اور نفسوں (مراد ان تمام حامل صفات مذکورہ بالا ہے)کو آپکے پاس امانت وديعت کرتا ہوں تاکہ آپ سے يوم قيامت ان (محبين) کو پياس کے روز(مراد پياس يوم قيامت)حوض کوثر سے سيراب کرسکوں ۔

ذيل ميں موجود امام صادق عليہ السلام سے مروی حديث بالا کا متن درج ہے:

اللهم ان اعدائنا عابوا عليهم خروجهم فلم ينههم ذلك عن النهوض و الشخوص الينا خلافا عليهم فارحم تلك الوجوه التى غيرتها الشمس وارحم تلك الخدود التى تقلبت على قبر ابى عبدالله عليه السلام و ارحم تلك الاعين التى جرت دموعها رحمه لنا و ارحم تلك القلوب التى جزعت و احترقت لنا و ارحم تلك الصرخه التى كانت لنا اللهم انى استودعك تلك الانفس و تلك الابدان حتى ترويهم من الحوض يوم العطش

چینی، برطانوی اور افغان خواتین کی ناقابل یقین کہانیاں

October 19, 2015
19Oct15_AA حیرت01al-Arabia

ہر گذرتے لمحے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی لاکھوں خبریں سامنے آتی اور پرانی نئی خبروں کے بوجھ تلے دبتی چلی جاتی ہیں۔ مگر بعض ایسے محیر العقول واقعات خبروں کی شکل میں ایسے بھی سامنے آتے ہیں کہ انہیں کسی طور پر فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایسے ہی تین واقعات کو رپورٹ کی شکل میں مرتب کیا جن کے مبنی بر حقیقت ہونے میں کوئی کلام نہیں مگر انسانی عقل اس پر یقین کرنے میں تامل سے کام لیتی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تین ناقابل یقین خبروں میں پہلی خبر ایک 62 سالہ چینی خاتون کی ہے جو ایک ایسی انوکھی بیماری میں مبتلا ہے جس کے باعث وہ بولنے اور لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ مگر اس نے اپنی اس جسمانی معذوری کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اگر وہ بول نہیں سکتی یا ہاتھ سے لکھ نہیں سکتی مگر اس نے آنکھوں کے اشاروں کو ہاتھ اور قلم بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔

اس کے برعکس ایک دوسری حقیقی کہانی ایک برطانوی خاتون کی ہے جو ترکی سے عراق کے صوبہ کردستان جانے والی پرواز چھوٹنے پر اتنی دلبرداشتہ ہوئی کہ اس نے خودکشی کر لی۔ تیسری خبر بھی پہلی اسٹوری کی طرح سراپا ہمت افغانی لڑی کی ہے جو جرات اور حوصلے کی ایک زندہ مثال ہے۔ افغان لڑکی نابینا ہونے کے باوجود کابل سے نشریات پیش کرنے والے ایک ٹی وی ٹاک شو کی میزبان ہے۔

آنکھوں کے اشاروں سے کتاب کی تالیف
برطانوی اخبار “دی ٹائمز” نے بھی یہ تینوں واقعات اپنی ایک رپورٹ میں شائع کیے ہیں۔ رپورٹ میں چینی خاتون گونگ ژین ھو” کا تذکرہ بھی ہے جس نے آنکھوں کے اشاروں سے کتاب تالیف کی۔ گونگ ایمی او ٹراپک لیٹرل سیروسزنامی ایک اعصابی مرض کی شکار ہیں، جو بول سکتی ہے اور نہ اس کے ہاتھ کام کرتے ہیں تاہم اس کا دماغ سلامت ہے۔ بالکل جسمانی طور پر مفلوج اور مشلول معروف طبیعات دان ‘اسٹیفن ہوکینگ’ کی طرح جو ایک وہیل چیئر پر نصب جدید ترین کمپیوٹرائز مواصلاتی نظام اور وہیل چیئر کو اپنے ہاتھوں سے نہیں بلکہ دماغ سے کنٹرول کرتا ہے۔ اسٹیفن ہوکینگ کا جسم بھی مفلوج ہے۔ حتیٰ کہ وہ بات بھی نہیں کر سکتا، مگر اس کے سائنسی تجربات اور سائنس کی دنیا میں پیشن گوئیوں کو دنیا مانتی ہے۔
19Oct15_AA حیرت02
آنکھ کے اشاروں سے کتاب تالیف کرنے والے چینی شہری بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں اور کئی سال تک انہوں نے طب کی دنیا میں بطور سرجن خدمات انجام دیں۔ اس وقت ان کی عمر 62 سال ہے مگر 13 سال سے وہ اس پراسرار بیماری کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔ وہ صرف آنکھ کے اشاروں کنایوں سے مافی الضمیر کے اظہار کا کام لیتی ہیں۔ چین کے سی سی ٹی وی نیوز نے بھی اس کی ایک فوٹیج نشر کی جس میں اسے آنکھ کے اشاروں سے کمپیوٹر پر حروف لکھنے،حروف کو الفاظ میں متشکل اور ان کے جملے بناتے دکھایا گیا۔ وہ روزانہ صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک ایک کرسی پر بیٹھے آنکھ کے اشاروں سے کتاب تالیف کرتی رہیں اور 13 ماہ میں روزانہ 3000 حروف کے تناسب 318 صفحات پر محیط کتاب لکھی۔ مجموعی طور پر اس عرصے میں اس نے آنکھ کے اشاروں سے ڈیڑھ لاکھ الفاظ لکھے۔آنکھ کے اشاروں سے حروف کو جوڑ کر کتاب کی تالیف کوئی معمولی کام نہیں مگر چین کی معمر خاتون نے اسے بھی ممکن کر دکھایا۔ اپنی کتاب کے لیے اس نے “مفلوج خوبصورت شخص” کا عنوان چنا۔ کتاب کے دیباچے میں وہ رقمطراز ہیں کہ آنکھ کے اشاروں سے کتاب لکھ کر میں نے ان لوگوں کو حوصلہ دیا ہے جو باصلاحیت ہونے کے باوجود کسی نہ کسی جسمانی عارضے یا معذوری کا شکار ہیں۔

پرواز چھوٹنے پر خودکشی

چینی خاتون غونگ [گونگ] کی ہمت افزاء داستان کے ساتھ ایک ایسی خبر بھی سامنے آئی جس میں ایک خاتون نے محض اس لیے خود کشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا کہ وہ جس پرواز پر سفر کرنا چاہتی تھی وہ اس کے ہوائی اڈے پر تاخیر سے پہنچنے کے باعث روانہ ہو چکی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ خبر”بی بی سی” سے منسلک ایک سابق صحافیہ جیکی سٹن کی ہے جو ان دنوں عراق میں انسٹیٹیوٹ آف وار اینڈ پیس کی ڈائریکٹر تھیں۔ کاش نے اس نے چینی غونگ کی ہمت اور حوصلے پر مبی کاوش کا احوال پڑھا ہوتا تو شاید یہ انتہائی خطرناک قدم نہ اٹھاتی۔

اخبار “دی ٹائمز” کے مطابق جیکی نے چند روز قبل ترکی کے “اتا ترک” بین الاقوامی ہوائی اڈے سے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے کی ایک پرواز کے ذریعے عراق کے صوبہ کردستان کے صدر مقام اربیل جانا تھا۔ مگر بہ وجوہ وہ اس ہوائی جہاز کی روانگی سے قبل ہوائی اڈے نہ پہنچ سکی۔
19Oct15_AA حیرت03

رپورٹ میں بتایا گہا ہے کہ جیکی سوٹون جب اتا ترک ہوائی اڈے پہنچی تو اس کی پرواز روانہ چکی تھی۔ اس نے عراق میں اپنے ادارے سے رابطہ کر کے انتظامیہ کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ اسے دوسری پرواز کے لیے نئی ٹکٹ خرید کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس نے جیپ میں دیکھا تو نئی ٹکٹ کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ وہ وہیں سے ہوائی اڈے کے ایک ٹوائلٹ میں گئی اور اپنے جوتوں کے تسمے نکال کر ان کا پھندا بنایا اور دروازے کے ساتھ لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ برطانوی خاتون کے اس اقدام کو ترک اور مغربی اخبارات نے غیر معمولی کوریج دی ہے اور اس پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جیکی ماضی میں بی بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ساتھ کام کرنے ساتھ ساتھ عراق میں “آئریکس” نامی تنظیم کی پروگرام ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔ گذشتہ مئی میں عراق میں عمار الشابندر اور اس کے ساتھیوں کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد اسے انسٹیٹوٹ آف وار اینڈ پیس کا ڈائریکٹر لگایا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جیکی سوٹون کی عمر 50 سال تھی اور وہ ایک غیر شادی شدہ خاتون تھیں۔ ترک حکام نے اس کی میت پوسٹ مارٹم کے لیے قبضے میں لے لی ہے مگر اس کے سابقہ ساتھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے کبھی سوٹون کو کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا نہیں دیکھا۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ نفسیاتی دبائو کی وجہ سےاس نے خودکشی کا انتہائی قدم اٹھایا ہو۔

ٹاک شو کی نابینا میزبان

چینی معذور خاتون کی حوصلہ افزا داستان ہی کی طرح افغانستان کی ایک دوشیزہ بنفشی احمدی کی زندگی بھی ہڈ حراموں کے لیےاپنے اندربہت سا سبق لیے ہوئے ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بنفشی احمدی ایک نابینا صحافی ہے مگربصارت سے محرومی نے اس کی بصیرت پرکوئی اثر نہیں پڑنے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان دنوں کابل سے نشریات پیش کرنے والے صبا ٹی وی کے ایک ٹاک شو کی میزبان ہے۔ وہ اپنے شو میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو پہچان سکتی ہے اور نہ ہی اسے اسٹوڈیو میں لگے کیمروں کا پتا چلتا ہے مگر اس کے باوجود وہ ایک کامیاب اور مقبول ٹی وی شو کر رہی ہے۔
بنفشی الفاظ کی شناخت کے لیے اپنے سامنے ایک تختی رکھتی ہے جس پر بریل سسٹم کے ذریعے بنائے گئے الفاظ فٹ کیے ہوتے ہیں۔ بنفشی صاحب اولاد خاتون ہیں اور اس نے خود کو بینائی والوں سے زیادہ متاثر کن شخصیت بنانے میں کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ نابینا لوگ بھی ٹی وی میزبان بن سکتے ہیں۔
19Oct15_AA حیر04

موسمیاتی تبدیلی ’عالمی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث‘: کیری

October 18, 2015
18Oct15_VOA عالمی01VOA

واشنگٹن—
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دنیا کی بقا کا دارومدار موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں اربوں افراد کی غذائی ضروریات پر پڑنے والے اثرات سے منسلک ہے۔’مِلان ایکسپو‘ سے خطاب کرتے ہوئے، کیری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے زراعتی پیداوار میں اضافے میں ناکامی کا معاملہ بین الاقوامی خطرے کا باعث ہے۔ اٹلی مین ہونے والے ’مِلان ایکسپو‘ میں دھیان غذائی اجناس کی دستیابی پر مرتکز ہے اور کیری نے شرکا پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کیا جائے۔

کیری نے کہا کہ، ’غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے نتائج بھوک کے علاوہ دوررس نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ محض عالمی غذائی سلامتی کا نہیں، دراصل یہ معاملہ دنیا کی سلامتی کا ہے‘۔

کیری نے کہا کہ’ یہ اتفاقیہ امر نہیں کہ شام میں خانہ جنگی سے فوری قبل، ملک تاریخ کی بدترین خشک سالی کا شکار رہا‘، جس کے نتیجے میں 15 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا، جو آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھا‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’میں یہ نہیں کہتا کہ شام کا بحران موسیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔ ظاہر ہے، ایسا نہیں ہے۔ اس کا سبب ایک مطلق العنان آمر ہے جو اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہا ہے، اُنھیں بھوک، اذیت دے رہا ہے، اور اپنے ہی لوگوں کو زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کر رہا ہے۔ تاہم، خشک سالی کی تباہ کُن صورت حال نے واضح طور پر ایک خراب صورت حال پیدا کی، جو انتہائی بدترین حالت تھی‘۔
اُنھوں نے موسمیاتی تبدیلی کو کئی پیچیدگیوں کا موجب قرار دیا۔

بقول اُن کے، ’اگر اس کے باعث تنازع جنم نہ بھی لے، یہ اس سے مزید مسائل کی چنگاریاں اٹھتی ہیں اور سیاسی قائدین کے لیے اس کے پیچیدہ نتائج نکلنے ہیں، جس صورت حال کو حل کرنا مشکل تر معاملہ ہوتا ہے‘۔
کیری نے کہا ’یہ کسی حد تک موسیاتی تبدیلی کا ہی شاخسانہ ہے کہ بڑے پیمانے پر تارکین وطن نے یورپ کا رُخ کیا، جو ایک بحرانی کیفیت ہے‘۔

اُنھوں نے متنبہ کیا کہ اگر عالمی تپش کی وجہ سے دنیا کا زیادہ تر رقبہ رہنے کے قابل نہ رہا، تو یہ بحرانی صورت حال بدترین مسئلہ بن جائے گی۔

کیری نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ موسماتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کریں، کیونکہ اقدام کیے بغیر، بقول اُن کے،’تارکین وطن کی پریشان کُن صورت حال جو ہمیں آج درپیش ہے وہ اُس بڑے پیمانے کی ترک وطن کی حالت سے بہتر ہے جو سنگین خشک سالی، سمندروں کی سطح بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلی کی دیگر صورتوں میں نمودار ہو سکتی ہے، جن کا حل مشکل ہوگا‘۔

کیری کا یہ بیان نومبر میں اقوام متحدہ کے اُس اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے متعلق معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کا مقصد عالمی تپش کو صنعتی دور سے قبل کی دو ڈگری سیلشئیس کی سطح پر رکھنے کی تگ و دو کرنا شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس نے موسمیاتی تبدیلی کے حل کو اولیت کا درجہ دے رکھا ہے، حالانکہ اِسے ریپبلیکن اکثریت والی امریکی کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

علم حضرت عباسؑ

Title_000

علم عباسؑ۔ حسینیت کی فتح کا نشان۔ دین کی بقا کا نشان۔ کربلا سے لیکر دنیا کے کونے کونے میں لہرارہا ہے۔ وَقُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَـٰطِلُ‌ۚ إِنَّ ٱلۡبَـٰطِلَ كَانَ زَهُوقً۬ا ۔۔ (۸1) ۔۔ سُوۡرَةُ بنیٓ اسرآئیل الإسرَاء۔۔ ظلم و استبداد کی حکومت نہیں رہتی ۔ حق سر بلند تھا۔ حق سر بلند رہے گا۔حسینیت زندہ ہے۔ حسینیت تا حشر زندہ رہیگی۔ محرم آگیا۔ کربلا آگئی۔ یاد حسینؑ آگئی اور علم آگئے۔IMG_0844
AHA_005
AHA_006
AHA_009
AHA_015
AHA_016
AHA_019
AHA_020
AHA_021
AHA_022
AHA_001
AHA_002
AHA_003
AHA_004
AHA_007
AHA_008
AHA_010
AHA_011
AHA_012
AHA_014
AHA_017
AHA_018
AHA_023
AHA_024
AHA_025
IMG_0428
IMG_0429
IMG_0434 Imamzade Ibrahim o Ahmed
IMG_0454 Alam JaloosIMG_0459
IMG_0461
IMG_0465

IMG_0506

برطانوی اخبار گارجین کا دعویٰ ہے کہ 236 پاکستانی منیٰ میں شہید ہوئے

September 28, 2015

Saudi Arabia accused of neglect over deadly disaster at hajj(Chicago Tribune)28Sep15_CT اموات

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق منیٰ میں (۲۳۶) پاکستانی شہید ہوئے ہیں جبکہ سعودی عرب میں متعین پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ اس لئے کہ دیگر ذرائع نے 28Sep15_JNG 02امواتبھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔سعودی عرب کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران(۱۳۶)۔مراکش(۸۷)۔ کیمرون(۲۰) ۔نائیجیریا(۱۹)۔بھارت(۱۴)۔مصر (۱۴)۔ شہادتین ہوئی ہیں۔ جبکہ لاپتہ (۳۴۴)بتائے جارہے ہیں۔اب تک پاکستان کی وزرات مذہبی امور نے(۲۳) پاکستانیوں کی تصدیق کی ہے اور (۳۰۰) سےزائد لاپتہ ہیں۔