Category: روس

روسی حملوں کے بعد شامی فوج کی پیش قدمی جاری ہے: اسد

November 22, 2015
22Nov15_AA شامی01
al-Arabia

شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا

شامی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ روس کی فضائی مدد آنے کے بعد ان کے وفادار فوجی قریباً ہر محاذ پر پیش قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے اتوار کے روز ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے فونیکس ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ماسکو میں نئے امن مذاکرات کی حمایت کریں گے لیکن انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ” شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا”۔بشارالاسد نے کہا کہ ”شام میں 30 ستمبر کو روس کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد صورت حال ”بڑے اچھے” طریقے سے بہتر ہوئی ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فوج قریبا ہر محاذ پر مختلف سمتوں سے پیش قدمی کررہی ہے”۔روس دمشق حکومت کے ساتھ روابط کے ذریعے شام کے مختلف علاقوں میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک از خود ہی شام کے پیشگی علم میں لائے بغیر داعش یا القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔روس عالمی سفارتی محاذ پر بھی بشارالاسد کا سب سے بڑا پشتی بان ہے اور وہ ان کی اقتدار سے رخصتی کی بھی مخالفت کررہا ہے جبکہ دوسرے ممالک کا بنیادی مطالبہ ہی یہی ہے کہ شامی صدر بحران کے پُرامن حل کے لیے فوری طور پر اقتدار سے دستبردار ہوجائیں۔مگر بشارالاسد اقتدار چھوڑنا تو درکنار آیندہ صدارتی امیدوار بننے کو تیار بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس انٹرویو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”نئے انتخابات میں حصہ لینا میرا حق ہے۔البتہ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ میں ان انتخابات میں حصہ لیتا بھی ہوں یا نہیں۔یہ فیصلہ اس امر منحصر ہوگا کہ شامی عوام کے بارے میں میرے کیا احساسات ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ وہ مجھے چاہتے ہیں یا نہیں”۔

ان کا کہنا تھا کہ ”آپ ایسی کسی چیز کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں جو آیندہ چند سال میں ہونے جارہی ہے”۔انھوں نے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ماسکو میں نئے امن مذاکرات کے انعقاد کی حمایت کا اظہار کیا ہے مگر ان کا بالاصرار کہنا ہے کہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد ہی بحران کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا ہے”۔شامی صدر کا کہنا تھا کہ ملک کا نیا آئین بنانے اور اس پر ریفرینڈم کے انعقاد میں زیادہ سے زیادہ دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔واضح رہے کہ بشارالاسد اور ان کی حکومت ان تمام باغی جنگجو گروہوں کو ”دہشت گرد” قرار دیتے ہیں جنھوں نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔

انھوں نے شامی حزب اختلاف کی حمایت کرنے والے مغربی اور دوسرے ممالک پر انتہاپسندی کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مغرب نے ایک شامی مہاجر بچے ایان کردی کی تصویر سے فائدہ اٹھایا ہے۔اس کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا ہے اور انھوں نے حزب اختلاف کے پشتی بانوں پر دہشت گردی کی مدد وحمایت کے ذریعے شامیوں کو بیرون ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔صدر بشارالاسد نے کہا کہ ”یہ بچہ اور دوسرے بچے اس خطے اور دنیا بھر میں مغرب کی پالیسیوں کی وجہ سے مارے جارہے ہیں اور مصائب جھیل رہے ہیں”۔

Advertisements

بم تباہ ہونے والے روسی جہاز کے اندر ہی تھا

November 06, 201506Nov15_BBC01 جہازBBC

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ مصر میں تباہ ہونے والے روسی مسافر طیارے کی تباہی کی وجوہات کا جائزہ لینے والے برطانوی تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ بم جہاز کے اندر موجود تھا۔انٹیلیجنس اہلکاروں نے اس سلسلے میں جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں کے پیغامات پکڑے تھے جس کے بعد برطانوی حکومت نے اسے دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔
برطانیہ نے مصر کے علاقے شرم الشیخ جانے والی پروازوں کو منسوخ کر دیا ہے جبکہ وہاں موجود برطانوی شہری جمعے سے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انھیں اپنے پاس صرف دستی سامان لانے کی اجازت ہے۔میٹرو جیٹ ایئر بس اے 321 شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرزبرگ جا رہی تھی کہ فضا میں تباہ ہو گئی اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہو گئے۔ زیادہ تر مسافر روسی باشندے تھے۔بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ گو کہ برطانوی تفتیش کاروں نے حادثے کے لیے تکنیکی خرابی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے لیکن ان کا خیال ہے ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔برطانوی سکیورٹی سروس کو شبہ ہے کہ جہاز اڑنے سے کچھ دیر قبل کسی ایسے شخص نے سامان میں یا اس کے اوپر دھماکہ خیز آلہ نصب کیا جسے جہاز کے سامان رکھنے کی جگہ تک رسائی حاصل تھی۔
06Nov15_BBC 02 جہازدولتِ اسلامیہ سے منسلک صحرائے سینا کے ایک عسکریت پسند گروہ نے دعوی کیا ہے کہ جہاز اس نے تباہ کیا ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے شام میں اپنے خلاف حملوں کے باعث روس اور امریکہ دونوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔امریکی صدر براک اوباما نے بھی جمعرات کو بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ممکن ہے کہ تباہ ہونے والے جہاز پر بم موجود تھا۔‘ ان کا کہنا تھا ’یہ بات ہم انتہائی سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔‘تاہم مصر اور روس دونوں کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی نتیجہ اخذ کرنا جلد بازی ہو گا۔بدھ سے برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے شرم الشیخ کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ فرانس اور بیلجیئم نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اس علاقے میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔تاہم روسی جہاز اب بھی اس علاقے سے پرواز کر رہے ہیں۔ روسی صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’جہاز کے ساتھ کیا ہوا اس سے متعلق سرکاری تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘مصری معیشت سیاحت پر بہت انحصار کرتی ہے۔ اس نے برطانیہ کی جانب سے پروازوں کی منسوخی کو غیر منطقی قرار دیا ہے۔برطانیہ میں موجود روسی صدر عبدالفتح السیسی نے کہا ہے کہ برطانیہ کی درخواست پر دس ماہ پہلے سے مصر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔تاہم انھوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔

شام:قیدیوں کا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال

November 02, 201502Nov15_AA ڈھال01BBC

ہنی پنجروں میں بند لوگوں کو سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے
شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ کے علاقے دوما میں “جیش الاسلام” نامی ایک حکومت مخالف تنظیم نے یرغمال بنائے گئے سرکاری فوجیوں اور بشارالاسد کے حامیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے”سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس” کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج کا حوالہ دیا جس میں “جیش الاسلام” نامی ایک تنظیم کے ہاں یرغمال بنائے گئے شامی فوجیوں اور بشارالاسد کے حامی مرد وخواتین کو آہنی پنجروں میں بند دوما کی سڑکوں پر ٹرکوں پر گھماتے دکھایا ہے۔
02Nov15_AA ڈھال02باغیوں کے اس اقدام کا مقصد شامی فوج کی جانب سے دوما میں مزید بمباری روکنا ہے۔فوٹیج میں “جیش الاسلام” کے ایک جنگجو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آہنی پنجروں میں بند حکومت کے حامیوں کو کھلی سڑکوں پر پھرانے کا مقصد شامی فوج کی علاقے میں بمباری رکوانا ہے۔دوما کے علاقے میں ایسے دسیوں پنجرے جگہ جگہ پر موجود ہیں اور کچھ پنجروں کو ٹرکوں پر لادیا گیا ہے جو دوما کی سڑکوں پر چلتے رہتے ہیں۔ ان میں پانچ سے آٹھ افراد کو قید کیا گیا ہے۔ قیدیوں میں اسدی فوجی اور خواتین بھی شامل ہیں۔قیدیوں میں ایک شامی فوجی جو خود کو کرنل کے عہدے کا افسر بتاتا ہے کا کہنا ہے کہ ہم تین سال سے جیش الاسلام کی قید میں ہیں۔ ہم شامی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوما میں شہریوں پر بمباری نہ کرے۔
02Nov15_AA ڈھال03خیال رہے کہ جیش الاسلام نامی اس تنظیم نے شامی فوجیوں اور حکومت کے دسیوں حامیوں کو شمال مشرقی غوطہ کے دوما قصبے میں عدرا العمالیہ کےمقام سے دو سال قبل یرغمال بنایا تھا۔ قیدیوں کو ڈھال کے طور پر ایک ایسے وقت میں استعمال کیا جانے لگا ہے جب گذشتہ جمعہ کو شامی فوج نے دوما کے ایک مصروف بازار میں بمباری کرکے 70 افراد کو ہلاک اور 550 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

صوبہ حمص میں دولت اسلامیہ کی پیش قدمی جاری

November 02, 201502Nov15_BBC حمص01BBC

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام کے صوبے حمص کے شہر مہین میں حکومتی فوج کو پیچھے دھکیل کر قبضہ کر لیا ہے۔
شام میں انسانی حقوق کا مشاہدہ کرنے والے برطانیہ میں قائم ادارے کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام انھوں نے دو خودکش کار بم دھماکوں سے حملے کا آغاز کیا تھا۔
شامی باغی قیدیوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔ روس کا امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ’پراکسی وار‘ کا انتباہ
دوسری جانب عیسائی اکثریتی آبادی والے شہر صدد میں بھی لڑائی جاری تھی۔تازہ واقعات اس وقت پیش آئے ہیں جب روس اور امریکی اتحاد کی جانب سے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔حالیہ مہینوں میں دولت اسلامیہ کی جانب سے شمالی اور مشرقی علاقوں سے جہاں کہ ان کی گرفت مضبوط ہے، حمص اور مرکزی شام کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔ خیال رہے کہ قدیم پلمائرا کھنڈرات کے شہر تدمر پر یہ گروہ مئی میں قابض ہوچکا ہے جبکہ اگست میں انھوں نے القریتین کے شہر پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ 02Nov15_BBC حمص02دولت اسلامیہ کی جانب سے مہین اور صدد پر تازہ حملے حمص اور دیگر شمالی شہروں سے شام کے دارالحکومت دمشق جانے والی مرکزی شاہراہ سے 20 کلومیٹر دور کیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کا مشاہدہ کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران کم از کم 50 حکومتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے مہین میں حملوں کا آغاز ان کے پسندیدہ طریقہ کار یعنی ایک ساتھ دو خودکش کار بم دھماکوں سے کیا گیا تھا۔ادارے کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح تک پورا شہر دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ دوسری جانب دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ شہر پر ان کا قبضہ ہے۔مہین میں بڑا فوجی اڈہ اور اسلحہ ڈپو موجود ہیں۔اسی دوران صدد کے نواحی علاقوں میں حکومتی فوج اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس شہر میں شام کی آرامی عیسائی اقلیت آباد ہے اور آج بھی وہاں قدیم آرامی زبان بولی جاتی ہے۔02Nov15_BBC حمص03تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت میں روس کی جانب سے فضائی حملے جاری ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف دولت اسلامیہ اور دیگر ’شدت پسند گروہ‘ ہیں۔تاہم زیر حملہ علاقوں میں موجود امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مغربی علاقوں میں اعتدال پسند باغیوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں دولت اسلامیہ کے جنگجو یا تو بالکل نہیں ہیں اور اگر ہیں تو بہت معمولی تعداد میں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز شامی فوج کے حملوں اور روسی فضائی حملوں سے شمالی صوبے حلب میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ’50 سے بھی کم امریکی فوجی‘ دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار حزبِ اختلاف کی فورسز کو ’تربیت، مشورے اور تعاون دینے کے لیے‘ شام روانہ کیے جائیں گے۔

روسی طیارے کے پائلٹ نے مدد کا پیغام نہیں بھیجا تھا

November 01, 201501Nov15_BBC حادثہ01BBC

مصر میں شہری ہوابازی کے وزیر کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما سینا میں گرنے والے روسی مسافر طیارے کے پائلٹ نے ہنگامی صورتحال میں مدد مانگنے کا کوئی پیغام نہیں بھیجا تھا۔
ادھر روس کے بعد مصر کے حکام نے بھی شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ روسی مسافر طیارے کو اس کے جنگجوؤں نے نشانہ بنایا تھا۔نیچر کو کوگلیماویا نامی کمپنی کا ایئر بس اے 321 طیارہ حسانا نامی صحرائی علاقے میں گر کر تباہ ہوا ہے اور اس پر سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مصر کے وزیرِ اعظم شریف اسماعیل نے سنیچر کو رات گئے کہا ہے کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا۔تاہم ان ہی کی حکومت کے وزیر حسام کمال نے کہا ہے کہ طیارے میں کسی خرابی کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔سنیچر کی شام پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’تباہی تک ہمیں طیارے میں کسی خرابی کا علم نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں مدد کی ہنگامی کال ملی تھی۔‘ حکام نے طیارے کے دونوں بلیک باکس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر بھی تلاش کر لیا ہے اور اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
01Nov15_BBC حادثہ02روسی صدر ولا دی میر پوتن کی جانب سے اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دیے جانے کے بعد روس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر کی قیادت میں تحقیقاتی کمیشن بھی اتوار کو مصر پہنچ رہا ہے۔مصر سے ملنے والی ابتدائی اطلاعات میں حکام نے کہا تھا کہ پائلٹ نے ٹیک آف کے بعد تکنیکی مسائل کے بارے میں بتایا تھا اور ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی تھی۔اس حادثے کے بعد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے یہ کہتے ہوئے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی کہ یہ شام میں روسی حملوں کا بدلہ ہے تاہم روسی حکام نے اس دعوے کو رد کر دیا تھا۔روس کے وزیرِ ٹرانسپورٹ میکسم سوکولوو نے اس دعوے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ ’ایسی اطلاعات کو درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کے طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔عالمی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے پاس ایسے میزائل ہیں جو اتنی بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو نشانہ بنا سکیں۔
01Nov15_BBC حادثہ03تاہم اس کے باوجود دو بڑی یورپی فضائی کمپنیوں لفتھانسا اور ایئر فرانس – کے ایل ایم کے علاوہ الامارات نے بھی جزیرہ نما سینا کے اوپر سے پروازوں کا راستہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جب تک اس طیارے کی تباہی کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ جاتی ان کے طیارے اس علاقے پر پرواز نہیں کریں گے۔روسی ایوی ایشن اتھارٹی روساویاتسیا کے مطابق طیارہ پرواز کے 23 منٹ بعد قبرص کے ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ مقررہ وقت پر رابطہ نہیں کر سکا اور 31 ہزار فٹ کی بلندی پر ریڈار سے غائب ہوگیا۔روسی حکام کے مطابق طیارے پر عملے کے سات ارکان کے علاوہ 217 مسافر سوار تھے جن میں سے تین کا تعلق یوکرین اور باقی کا روس سے تھا۔

امریکی اتحادیوں کی داعش مخالف فضائی مہم ٹھنڈی پڑ گئی

October 28, 2015
28Oct15_AA مہم جوئی01
al-Arabia

روس نے شام میں اسد مخالف باغی گروپوں کے خلاف حملے تیز کردیے
امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک نے شام میں داعش اور دوسرے سخت گیر گروپوں پر فضائی حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں اور گذشتہ تین روز کے دوران میں ان کے لڑاکا طیاروں نے کوئی حملہ نہیں کیا ہے جبکہ دوسری جانب روس کے لڑاکا طیاروں نے صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ڈیٹا کے مطابق اتحادی طیاروں نے شام میں آخری فضائی حملہ 22 اکتوبر کو کیا تھا اور اس میں داعش کی ایک گاڑی اور ایک مارٹر ٹیوب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی اتحادیوں کے برعکس روسی فضائیہ نے شام میں فضائی بمباری تیز کردی ہے اور روس کی وزارت دفاع کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان کے مطابق اس کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران چورانوے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ ”روس کی وجہ سے شام میں فضائی حملے نہیں روکے گئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم انٹیلی جنس اطلاعات کو ملاحظہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہاں اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور کہاں شہریوں کے جانی نقصان کے بغیر اہداف پر بمباری کی جاسکتی ہے”۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں ساٹھ سے زیادہ ممالک شامل ہیں اور وہ جون 2014ء سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔امریکی اتحادیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں اس سخت گیر گروپ کے خلاف فضائی بمباری کا آغاز کیا تھا۔گذشتہ اتوار تک اتحادی طیاروں نے شام میں کل 2679 فضائی حملے کیے تھے۔

پینٹاگان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اتحادی طیاروں نے جولائی میں کل 359 فضائی حملے کیے تھے،اگست میں 206 اور ستمبر میں 115 حملے کیے تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران فضائی حملوں میں بتدریج کمی کی گئی ہے اور اس ماہ اب تک صرف 91 حملے کیے گئے ہیں۔

پینٹاگان کی ایک اور خاتون ترجمان کمانڈر ایلیسا اسمتھ کا کہنا ہے کہ ”ہم درست اہداف کی تلاش میں ہوتے ہیں،اس لیے انھیں نشانہ بنانے میں وقت لگتا ہے۔ہم ایسے ہی ہرکسی ہدف پر بمباری نہیں کردیتے ہیں بلکہ ایک منظم انداز میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہیں”۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس نے گذشتہ ہفتے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور انھوں نے ایسا میکانزم وضع کرنے سے اتفاق کیا تھا جس کے تحت شام میں دونوں ممالک کے ہواباز الگ الگ بمباری کریں گے اور ایک ملک کے ہواباز دوسرے ملک کے ہوابازوں کو فضائی مہم کی تکمیل کے لیے محفوظ راستہ دیں گے۔

روس نے 30 ستمبر کو شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا مگر اس کو فضائی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ترکی اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے داعش یا القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کے بجائے شامی فوج سے جنگ آزما دوسرے باغی گروپوں پر حملے کررہے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔