Category: ترکی

داعش کے ہاتھوں ترکی میں دو صحافیوں کا قتل

October 31, 201531Oct15_AA داعش01

al-Arabia

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام ‘داعش’ کے دہشت گردوں نے مبینہ طور پر شام کے دو سماجی کارکنوں کو ترکی میں قتل کردیا ہے۔”الرقہ میں خاموش قتل عام” نامی ایک مہم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مہم سے وابستہ سماجی کارکنوں ابراہیم عبدالقادر اور اس کے ساتھی فارس حمادی کو ترکی کے اورفا شہر میں ایک فلیٹ میں قتل کیاگیا۔ گذشتہ روز دونوں کو فلیٹ میں مردہ پایا گیا اور دونوں کے سرتن سے جدا کیے گئے تھے۔”الرقہ میں خاموش قتل” مہم کے بانی ابو محمد نے بتایا کہ ابراہیم عبدالقادر ان کے ساتھ ترکی میں کام کررہے تھے۔ انہیں داعش ہی نے قتل کیا ہے۔ابو محمد نے بتایا کہ مقتولین کا ایک تیسرا ساتھی حمادی کے گھرپرآیا اور اس نے بار بار دروازے پر دستک دی مگر اندر سے کوئی نہ آیا۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو دونوں خون میں لت پت پڑے تھے اور ان کے سرتن سے جدا کردیے گئے تھے۔ الرقہ میں داعش کے قبضے کے بعد ابراہیم عبدالقادر ترکی چلے گئے تھے جہاں وہ اپنے دوست فارس حمادی کے گھر میں رہ رہے تھے۔شام میں موجودگی کے دوران داعش نے عبدالقادر کو متعدد مرتبہ گرفتار کرنے اور اسے قاتلانہ حملے میں مارنے کی کوشش کی تھی مگر دہشت گرد شام میں اسے مارنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

خیال رہے کہ “الرقہ میں خاموش قتل عام” نامی مہم اپریل 2014ء سے جاری ہے جو خفیہ مقام سے شام بالخصوص الرقہ شہر میں ڈھائے جانے والے داعش کے مظالم کو بے نقاب کرتی رہتی ہے۔ اس مہم سے وابستہ کئی صحافیوں اور کارکنوں کو داعشی جنگجو پہلے بھی قتل اور اغوا کرچکے ہیں۔درایں اثناء ترک خبر رساں اداروں نے خبردی ہے کہ ترکی میں دو شامی صحافیوں کو پراسرار طورپر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے قتل کے شبے میں سات شامی باشندوں کو گرفتار کیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

Advertisements

پاکستان کیلئے 34 ترک لڑاکا طیاروں کا تحفہ

October 28, 2015
28Oct15_DU تحفہ01DU

اسلام آباد/انقرہ: پاکستان اور ترکی نے بدھ کو ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت ترکی پاکستان کو 34 ’ٹی-37 لڑاکا و تربیتی طیارے اور سپیئر پارٹس‘ مفت فراہم کرے گا۔
معاہدے پر دستخط انقرہ میں ’پاکستان-ترکی ہائی لیول ملٹری ڈائیلاگ گروپ‘ کے 11ویں اجلاس کے اختتام پر ہوئے۔پاکستانی وزارت دفاع کے ترجمان نریتا فرحان نے میڈیا کو بتایا کہ ٹی-37 جیٹ ٹرینر اور کامبیٹ طیارہ ہے اور ترکی نے پاکستان کی خواہش پر ایسے 34 طیارے اور سپئیر پارٹس فری دینے کا معاہدہ کیا ہے۔

سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد عالم خٹک نے دورے کے دوران پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور موجودہ عالمی صورتحال میں اس کی مطابقت کو نمایاں کیا۔

خٹک نے دونوں ملکوں کی دفاعی صنعت کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

انہوں نے اجلاس کو نہایت کامیاب قرار دیتے ہوئے مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے متفقہ خیالات سامنے آنے پر اطمینان بھی ظاہر کیا۔

بم دھماکوں میں داعش، ‘پی کے کے’ اور پیپلز فریڈم ملوث ہیں: اوگلو

October 11, 2015
11Oct15_AA ترکی07
al-Arabia

ترکی کے وزیراعظم احمد دائود اوگلو نے گذشتہ روز انقرہ میں ایک جلوس کے دوران ہونے والے دوہرے بم دھماکوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ داعش کرد علاحدگی پسند تنظیم کردستان ورکرز پارٹی اور دائیں بازو کی پیپلز فریڈم انقلابی پارٹی پرعاید کرتے ہوئے 86 افراد کی ہلاکت اور 186 کے زخمی ہونے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
Video

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک وزیراعظم کے بیان کے ساتھ ساتھ دوسری جانب کردوں کی حامی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انقرہ میں بم دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 97 تک جا پہنچی ہے۔انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیراعظم نے کہا کہ جلوس پرمیں دو خود کش بمباروں نے دھماکے کرکے ملک کے امن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعے کے بعد ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور کہا کہ داعش، کرد لیبر پارٹی اور پیپلز فریڈم انقلابی پارٹی ان دھماکوں میں ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ریلوے اسٹیشن کے قریب بم دھماکوں کے بعد پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر ہوائی فائرنگ کی تھی۔ مظاہرین نے پولیس پر شہریوں کے قتل عام کا الزام عاید کیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔یاد رہے کہ انقرہ میں ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب بم دھماکے اس وقت ہوئے جب اپوزیشن کی جانب سے امن کے حق میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس دوران جلسے میں دو سلسلہ وار دھماکے ہوئے جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

ترکی میں دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 86 ہو گئی

October 11, 2015
11Oct15_DU ترکی06BBC

انقرہ: ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ریلوے اسٹیشن کے قریب دو بم دھماکوں میں کم از کم 86 افراد ہلاک جبکہ 186 زخمی ہوگئے۔
چھ منٹوں کے وقفے سے ہونے والے دونوں دھماکے اُس وقت ہوئے جب لوگ ورکرز ٹریڈ یونین کی امن ریلی کے لیے جمع تھے۔ریلی کا مقصد کرد باغیوں اور ترک سیکیورٹی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔وزیر صحت نے میڈیا کو بتایا کہ 62 افراد جائے موقع پر ہلاک ہوئے جبکہ باقی 24 زخمی ہسپتالوں میں جانبر نہ ہو سکے۔اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق حکام دھماکوں کے خودکش ہونے سے متعلق تحقیقات کررہے ہیں۔ یہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے جب یکم نومبر کو ملک میں الیکشن ہونا ہیں۔ابھی تک کسی گروپ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ سرکاری حکام کہتے ہیں کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ترک وزیر اعظم نے حملے پر غور کیلئے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا۔ ادھر، پاکستان نے انقرہ میں دھماکوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔رواں برس جولائی میں بھی ترکی کی شام سے منسلک سرحد کے قریب داعش کے حملے میں 33 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ترکی کے اخبار زماں کی خبریں اور تراشے

October 11, 2015
11Oct15_DU ترکی01
Turkey Zaman
Twin explosions that hit a rally of pro-Kurdish and leftist activists outside Ankara’s main train station on Saturday killed 95 people and wounded nearly 250, the Prime Ministry said, making the attack the deadliest single act of terrorism to occur on Turkish soil.

Speaking at a press conference along with the interior and justice ministers, Health Minister Mehmet Müezzinoğlu had earlier said the death toll was 86 and that 186 people were also injured in the attack, 28 of whom are in critical condition. A total of 62 people died at the scene of the attack while 24 died at hospitals, according to the health minister.
11Oct15_DU ترکی02
Interior Minister Selami Altınok dismissed suggestions that the authorities failed to take sufficient security measures to prevent the attack, when responding to a question if he was planning to resign over alleged negligence on the part of the state.

The attack targeting the peace rally in downtown Ankara came weeks before a parliamentary election slated for Nov. 1 and is set to significantly heighten political tensions in the country. Selahattin Demirtaş, co-chairman of the pro-Kurdish Peoples’ Democratic Party (HDP), lambasted the government after the attack, saying it was an “attack by the state on the people,” and saying that world leaders should not send messages of condolences to the president or the prime minister for the deaths.

“We are faced with a very large massacre, a vicious, barbarous attack,” he told reporters.
11Oct15_DU ترکی03
The attack also came amid expectations of a cease-fire by the Kurdistan Workers’ Party (PKK) terrorist organization until the election, three months after the organization ended a two-year-old cease-fire. The government had already dismissed the anticipated move as an election gambit to bolster the HDP.

Hours after the attack, a website close to the terrorist group said the PKK is halting its attacks in Turkey unless it comes under attack by Turkish security forces, in order to allow the election to proceed safely.

The HDP’s surprisingly strong showing at a parliamentary election on June 7 was a major factor that stripped the ruling Justice and Development Party (AK Party) of a parliamentary majority for the first time since 2002. Critics say the resumption of violence between the security forces and the PKK in the weeks after the June 7 election was part of political maneuvering aimed at undermining support for the HDP in the upcoming vote, a charge AK Party officials deny.
11Oct15_DU ترکی05
There was no claim of responsibility for the attack, however reports suggest the bombings might be the work of two suicide bombers. The second bomb went off three seconds after the first explosion, Minister Altınok said at the press conference.

He declined to comment, however, on whether suicide bombers were involved, saying an investigation into the explosion is still under way.
11Oct15_DU ترکی04
——————————————————————-

Video
http://video.zaman.com.tr/patlama-ani-ankaramp4_PBbd4qut.html

ترکی کی عراق میں کرد جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی

September 09, 2015
09Sep15_BBC ترک عراق میں
BBC

ترکی کی زمینی افواج کرد جنگجوؤں کا پیچھا کرتی ہوئے ایک بار پھر شمالی عراق میں گھس گئی ہیں۔ترکی کی حکومت نے کہا ہے کہ ترک فوجی کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی غرض سے ایک مختصر مدت کے لیے عراق میں داخل ہوئے ہیں۔ترکی کی زمینی افواج دو سال پہلے ہونے والے فائر بندی کے اعلان کے بعد پہلی بار عراق میں داخل ہوئی ہیں۔ترکی کی زمینی افواج کے عراق میں داخل ہونے سے پہلے ترکی کے جنگی طیاروں نے کردستان ورکرز پاٹی کے شمالی عراق میں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

گذشتہ دو دنوں میں کرد جنگجوؤں کے مبینہ حملوں میں 28 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔منگل کے روز ترک پولیس کے چودہ اہلکار اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان کی بس کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترک پولیس پر حملہ کرد جنگجوؤں کی کارروائی ہے۔اس سے قبل ترکی کے علاقے حکاری میں ترکی کے16 فوجی بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا ہے کہ پی کے کے کو ترکی کے اندر اور باہر سخت نقصان پہنچا ہے اور اب وہ گبھراہٹ کے عالم میں ہے۔

منگل کے روز جب ترک طیاروں نے شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر بمباری کی تو کرد جنگجوؤں نے ترکی کے شمالی سرحدی علاقے میں ایک پولیس بس کو بم دھماکے سے تباہ کر دیا جس میں کم از کم چود ہ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ترکی کی دوگان خبر رساں ادارے کے مطابق سپیشل فورسز کے دو یونٹوں نے، جنہیں جنگی جہازوں کی بھی مدد حاصل تھی، کرد جنگجوؤں کے دو گرہوں کو نشانہ بنایا جن میں کم از کم 35 باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔ترکی رواں برس نومبر میں ایک بار پھر انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات میں حکمران اے کے پارٹی حکومت سازی کے لیے اراکان اسمبلی کی مطلوبہ تعداد حاصل میں ناکام رہی تھی اور کوئی دوسری جماعت ان کی ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر راضی نہ ہوئی۔

ترکی: بم دھماکے میں 12 پولیس اہلکار ہلاک

September 08, 2015
08Sep15_AA ترکی بم
al-Arabia

ترکی کے مشرقی صوبے اجدیر میں ایک منی بس پر بم حملے میں بارہ پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ترکی کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق منی بس میں سوار پولیس اہلکار اجدیر میں آذر بائیجان کی سرحد کے ساتھ واقع گذرگاہ دلوچو میں تعینات تھے اور وہ اپنے کام پر جارہے تھے۔ترک فورسز پراس ہفتے کے دوران یہ دوسرا تباہ کن بم حملہ ہے۔گذشتہ ہفتے کے روز کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقے میں ایک بم دھماکے میں سولہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔اس حملے کے ردعمل میں ترکی کے لڑاکا طیاروں نے منگل کو علی الصباح علاحدگی پسند کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی ہے جس میں کم سے کم چالیس باغی ہلاک ہوگئے تھے۔سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد ترک حکومت نے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق رکھنے والے باغیوں کے قلمع قمع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔