Category: بنگلہ دیش

بنگلہ دیش: ایک اور بلاگر کو قتل کر دیا گیا

07 August, 2015
07Aug15_DU بلاگرDaily Dawn Urdu Or

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ایک اور بلاگر کو قتل کردیا گیا، نیلوئے نیل پر ان کے گھر کے اندر خنجروں سے حملہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں رواں سال اس سے قبل بھی 3 بلاگرز قتل کیے جا چکے ہیں۔ بنگلہ دیش بلاگرزاینڈ ایکٹیوسٹس کے مطابق حملہ آوروں کا گروہ نیلوئے نیل کے گھر میں داخل ہوا اور خنجروں کے وار سے ان کو قتل کر دیا۔
بنگلہ دیش میں امریکی بلاگر قتل
تنظیم کے صدر عمران سرکار کا کہنا تھا کہ نیل انتہا پسندی کے خلاف تھے جو کہ ان کے قتل کی ایک وجہ بنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیل بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے خلاف خیالات کا اظہار کرتے رہے تھے جبکہ وہ خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کے لیے بھی آواز بلند کرتے تھے۔خیال رہے کہ نیلوئے نیل ہندو تھے جبکہ ان سے قبل قتل ہونے والے بلاگرز میں مسلمان بھی شامل تھا۔

بنگلہ دیش میں ایک اور بلاگر قتل
پولیس کا کہنا تھا کہ 6 افراد کا ایک گروہ ان کے گھر میں داخل ہوا جن کا کہنا تھا کہ وہ کرائے کا گھر تلاش کر رہے ہیں۔پولیس کے ڈپٹی کمشنر منتصر الاسلام نے بتایا کہ ان ملزمان میں سے 2 نیل کو ایک کمرے میں لے گئے اور وہ وہاں ان کو قتل کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ نیل کی اہلیہ گھر میں موجود تھیں مگر ان افراد نے ان کو دوسرے کمرے میں بند کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش میں تیسرے بلاگر کا قتل
یاد رہے کہ رواں برس فروری میں بلاگر اویجیت روئے، مارچ میں واثق الرحمن اور تین ماہ قبل آننتا بجوئے داس کو قتل کیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قتل کیے جانے والے تمام بلاگرز سیکولر تھے جبکہ مختلف متنازع موضوعات کو اپنے بلاگز میں زیر بحث لاتے تھے، البتہ ان کا کوئی ایسا بلاگ سامنے نہیں آیا جو ان کی وجہ شہرت رہا ہو۔
Advertisements

کانگریس پاکستانی زبان بول رہی ہے

(Dawn 12 June, 2015)
Indian Defence Minister - Manohar Parikar

نئی دہلی : ہندوستان کی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے جمعرات کو وزیراعظم نریندرا مودی کے سنیئر ساتھیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ میانمار میں متنازع فوجی کارروائی پر جارحانہ بیانات دے رہے ہیں جبکہ اس نے پڑوسی ممالک کو ہراساں کرنے والے وزراءکے بچگانہ بیانات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک ترجمان کے بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کانگریس پارٹی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن پاکستان کی زبان بول رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان بیانات کا یہ تبادلہ نریندر مودی کے ساتھیوں کی جانب سے شمال مشرقی ریاست منی پور کے
علیحدگی پسندوں کے خلاف ہندوستانی فوج کی کارروائی پر تبصروں کے بعد ہوا۔ Indian Defence Minister - Manohar Parikar2
ہندوستانی فوج کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا تھا کہ اس کے فوجیوں نے میانمار کی سرحد کو عبور کرکے وہاں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ میانمار حکومت کے ایک ترجمان نے اپنے ملک کے اندر ہندوستانی فوجی کارروائی کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میانمار کسی عسکریت پسند کو اجازت نہیں دے گا کہ اس کی سرزمین کو ہندوستان کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بی جے پی نے اپوزیشن جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے پاکستان کی ‘ زبان’ بول رہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے وزیر دفاع منوہر پاریکر کے تند و تیز بیان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ‘ غیر ذمہ دارانہ’ بیانات دینے کی ‘ عادت’ کا شکار ہیں۔ آنند شرما کا یہ بیان وزیر دفاع کے ایک روز پہلے کے بیان کے بعد سامنا آیا جس میں منوہر پاریکر نے میانمار آپریشن کو ” ذہن کی تبدیلی” قرار دیا تھا جو کہ بظاہر ان کی جانب سے پاکستان کے لیے اشارہ تھا۔ وزیر نے کہا کہ ” جو ہندوستان کے نئے موقف سے خوفزدہ ہیں انہوں نے پہلے ہی ردعمل ظاہر کرنا شروع کردیا ہے”۔ کانگریس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ” سنجیدگی اور باشعور سوچ کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے، جارحانہ اور پرغرور دعوے انڈین اسپیشل فورسز کے آپریشنز میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتے”۔ انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو مناسب الفاظ کے ساتھ بولنے اور کام کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انداز سنجیدہ سوالات کو اٹھاتا ہے۔ ان کے بقول ” میں وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ انہیں رہنمائی اور مشاورت فراہم کریں، وزیراعظم کو اپنے وزراءکو روکنا چاہئے تاکہ ایسا پھر دوبارہ نہ ہوسکے”۔ پی ٹی آئی کے مطابق کانگرنس کے ترجمان نے کہا ” جو لوگ قومی سلامتی کا خیال رکھ رہے ہیں وہ منی پور کے حالات پر اخبارات اور فوٹو گرافس کو اسپانسر کرنے میں مصروف ہیں۔ آنے والے دنوں کے لیے وہ کیا تجویز کرنا چاہتے ہیں”۔
ان کی جانب سے یہ الفاظ بظاہر قومی سلامتی کے مشیر پر حملہ تھے۔
کانگرنس کی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے نیشنل سیکرٹری سری کانت شرما نے کہا ” کانگریس لوک سبھا میں انتخابات میں شکست کے بعدسے مایوسی کا شکار ہے، وہ ہر چیز پر تنقید اور منفی خیالات کا اظہار کرتی ہے”۔ ان کا کہنا تھا ” انگریس کو حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی زبان بولنے سے گریز کرنا چاہئے جیسا وہ ماضی میں کرتی رہی ہے۔ اسے تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہئے اور قومی مفاد اور ملکی سلامتی پر بات کرنی چاہئے”۔ پی ٹی آئی کے مطابق سری کانت شرما نے کہا کانگریس کو یہ معاملہ سیاسی نہیں بنایا چاہئے اور اسے اپنے دس سالہ دور حکومت کی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہئے ” اب ملک میں مضبوط قیادت موجود ہے اور ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ اس آپریشن کے ذیعے یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی ہندوستان کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا موت اس کا پیچھا کرے گی”۔ ان کا مزید کہنا تھا ” میانمار کا حملہ تو بس ایک آغاز ہے، اس طرح کی مزید کارروائیاں اس وقت ہوں گی جب کوئی ہندوستان کی سیکیورٹی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا”۔