Category: ایران

آیت اللہ نمر کو سنائے گئے سزائے موت کے حکم پر آل سعود کو مراجع عظام کا انتباہ

November 06, 201527Oct15_النمر01ABNA Iran

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی درباری عدالت کی جانب سے اس ملک کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کے حکم سنائے جانے کے بعد مراجع عظام، علما اور حوزہ علمیہ کی اہم شخصیات نے الگ الگ بیان جاری کر کے اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدام کی مذمت کی ہے جبکہ اس اقدام کے انتہائی برے اثرات سامنے آنے سے خبردار کیا ہے انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اس حکم کے خلاف جلد از جلد قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ النمر کے سلسلے میں سنائے گئے سزائے موت کے حکم کو کالعدم قرار دلانے کی کوشش کریں۔
ایران کے تمام مراجع منجملہ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی، آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی، آیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ سبحانی، آیت اللہ علوی گرگانی نیز جامعہ مدرسین، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی، حزب اللہ لبنان، حزب اللہ عراق، بحرین کی جمعیت الوفاق نے بھی الگ الگ بیانات جاری کر کے اس مظلومانہ حکم کی مذمت کی ہے جبکہ مراجع عظام نے ایران کے وزیر خارجہ ڈٓاکٹر محمد ظریف کو اس بارے میں جلد از جلد موثر قدم اٹھانے کی تاکید ہے۔تفصیلات کے مطابق حضرات آیات عظام صافی گلپائگانی، ناصر مکارم شیرازی ، سید محمد علی علوی گرگانی اور سید هاشم حسینی بوشھری نے الگ الگ بیان میں سعودی حکومت کی جانب سے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو دی جانے والی پھانسی کی سزا پر شدید رد عمل کا اظھار کیا ہے۔
حضرت آیت الله صافی گلپائگانی نے گذشتہ روز ایرانی صدر جمھوریہ ڈاکٹر حسن روحانی کے دفتر کے ذمہ دار ڈاکٹر نھاوندیان سے ہونے والی ملاقات میں سعودی حکومت کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلہ میں جلد از جلد موثر اور سنجیدہ اقدام کریں ۔
انہوں نے کہا: اس مظلوم اور انقلابی عالم دین کو پھانسی کی سزا، دنیا کے تمام شیعوں اور مسلمانوں کے کبیدہ خاطر ہونے اور ان کی کرب و بے چینی کا سبب ہے، آپ کو بغیر کسی جرم و گناہ کے سخت ترین سزا سنائی گئی ہے ۔
حضرت آیت الله صافی گلپائگانی نے مزید کہا : ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف اس سلسلہ میں جلد از جلد موثر اور سنجیدہ اقدام کریں، سعودی حکمرانوں کو دنیا کے مسلمانوں کے احساسات سے آگاہ کریں اور اس ظالمانہ فیصلہ کے نتائج سے انہیں با خبر کریں ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آج اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں مسجد آعظم قم میں منعقد ہوا ، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا کو ظالمانہ بتاتے ہوئے کہا: شیخ نمر کو پھانسی کی صورت میں سعودی حکومت ناقابل تصور حالات سے روبرو ہوگی ۔
انہوں نے سعودی حکومت کو متنبہ کیا : سعودی حکومت آگاہ رہے کہ اگر انہوں ںے شیخ نمر کو پھانسی دی تو یقینا دنیا کے تمام شیعہ اور جمھوریت پسند اہل سنت کی نفرت و غم و غصہ سے روبرو ہوں گے ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شیخ نمر نے کوئی بلوا نہیں کیا تھا اور کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا جو اس سزا کے مستحق ہوں، کہا: اپ کی جرات مندانہ تقریریں ، آپ کی شجاعت اور جھموریت پسند افکار کی نشانی ہے ۔
انہوں نے کہا : افسوس سعودیہ کے شیعہ سخت حالات سے روبرو ہیں اور بدترین دباو کا شکار ہیں، انہیں اپنے پروگرام کے انعقاد کی آزادی نہیں ہے، ان کے حقوق پائمال کئے جا رہے ہیں اور بہت سارے شیعہ ملازمت سے بھی محروم ہیں ۔
آیت ‌الله علوی گرگانی نے اپنے ارسال کردہ بیان میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شیخ نمر کو پھانسی کی سزا، سعودی عوام کے غم و غصہ کا سبب اور اس ملک میں عوامی قیام کا باعث بنے گی کہا: ہم مطمئن ہیں کہ اس طرح کے اقدامات علاقہ اور خود عربستان میں آل سعود کی بنیادوں کو سست ہونے کا سبب ہوں گے ، سعودی عوام اس طرح کی سزاوں سے اپنی تحریک سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے ۔
انہوں نے آیت «و ما نقموا منهم الا أن یؤمنوا بالله العزیز الحمید » کی آئینہ میں سعودیوں کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذ٘مت کرتے ہوئے کہا : آپ کو پھانسی کی سزا سے ہمارے دل کو شدید چوٹ پہونچی ہے ، ظالم و آمریت سے مقابلہ تمام علماء کرام اور شیعوں کے لئے باعث فخر ہے مگر اس مقام پر ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ سعودی حکومت حق و انصاف اور اپنی عوام سے حسن سلوک کے بجائے انسان سوز مظالم ڈھانے پر تلی ہے ۔
آیت الله سید هاشم حسینی بوشهری نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبہ میں جو حرم مطھر حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا میں سیکڑوں مومنین شرکت میں منعقد ہوا، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور مراکز کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں سعودی کورٹ پر ایک نگاہ ڈالنے کی تاکید کی اور کہا: علمائے اسلام شیخ نمر کی پھانسی کی سزا پر سخت رد عمل کا اظھار کریں ۔
انہوں نے سعودی کورٹ کی جانب سے شیخ نمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کو محکوم کرتے ہوئے کہا: ہمارے لحاظ سے عوام ، علمائے اسلام ، بزرگان اور مراجع تقلید اس سزا پر سخت رد عمل کا اظہار کریں گے ۔
قم کے امام جمعہ نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم آئے دن ایران پر انسانی حقوق کی رعایت نہ کرنے کا الزام لگانے والے انسانی حقوق کے عالمی مراکز اور اداروں سے کہتے ہیں کہ ذرا سعودی عدالتوں پر بھی نگاہ ڈالیں اور ان کے اعمال پر غور و خوض کریں ۔

Advertisements

آیت اللہ نمر کی سزائے موت کے حوالے سے مراجع عظام کا سعودی حکام کو انتباہ

October 29, 201529Oct15_ABNA نمرABNA Iran - Copy

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قم کے مراجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت کے حکم کی تائید کئے جانے پر سعودی حکام کو خبردار کیا اور کہا کہ اس طرح کے تعصب آمیز اقدامات سے اپنے ملک کو بحران کا شکار نہ بنائیں۔
انہوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ سعودی حکومت نے صرف تعصب کی بنا پر آیت اللہ نمر اور کئی دیگر مظلوم شیعوں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔
مراجع عظام نے سعودی حکام کو نصحیت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کو اس طرح کے غیر انسانی اور غیر شرعی اقدامات کے ذریعے بحران کا شکار نہ بنائیں اور یاد رکھیں کہ سعودی عرب کے آزادی طلب اور بزرگ علماء کے ساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک بھاری نقصان کا حامل ہو گا۔
انہوں نے سعودی حکام کے کردار کو تنقید کا نشابہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام صرف بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں امریکہ اور اسرائیل کی نوکری کر رہے ہیں۔

امریکی اتحادیوں کی داعش مخالف فضائی مہم ٹھنڈی پڑ گئی

October 28, 2015
28Oct15_AA مہم جوئی01
al-Arabia

روس نے شام میں اسد مخالف باغی گروپوں کے خلاف حملے تیز کردیے
امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک نے شام میں داعش اور دوسرے سخت گیر گروپوں پر فضائی حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں اور گذشتہ تین روز کے دوران میں ان کے لڑاکا طیاروں نے کوئی حملہ نہیں کیا ہے جبکہ دوسری جانب روس کے لڑاکا طیاروں نے صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ڈیٹا کے مطابق اتحادی طیاروں نے شام میں آخری فضائی حملہ 22 اکتوبر کو کیا تھا اور اس میں داعش کی ایک گاڑی اور ایک مارٹر ٹیوب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی اتحادیوں کے برعکس روسی فضائیہ نے شام میں فضائی بمباری تیز کردی ہے اور روس کی وزارت دفاع کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان کے مطابق اس کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران چورانوے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ ”روس کی وجہ سے شام میں فضائی حملے نہیں روکے گئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم انٹیلی جنس اطلاعات کو ملاحظہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہاں اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور کہاں شہریوں کے جانی نقصان کے بغیر اہداف پر بمباری کی جاسکتی ہے”۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں ساٹھ سے زیادہ ممالک شامل ہیں اور وہ جون 2014ء سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔امریکی اتحادیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں اس سخت گیر گروپ کے خلاف فضائی بمباری کا آغاز کیا تھا۔گذشتہ اتوار تک اتحادی طیاروں نے شام میں کل 2679 فضائی حملے کیے تھے۔

پینٹاگان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اتحادی طیاروں نے جولائی میں کل 359 فضائی حملے کیے تھے،اگست میں 206 اور ستمبر میں 115 حملے کیے تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران فضائی حملوں میں بتدریج کمی کی گئی ہے اور اس ماہ اب تک صرف 91 حملے کیے گئے ہیں۔

پینٹاگان کی ایک اور خاتون ترجمان کمانڈر ایلیسا اسمتھ کا کہنا ہے کہ ”ہم درست اہداف کی تلاش میں ہوتے ہیں،اس لیے انھیں نشانہ بنانے میں وقت لگتا ہے۔ہم ایسے ہی ہرکسی ہدف پر بمباری نہیں کردیتے ہیں بلکہ ایک منظم انداز میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہیں”۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس نے گذشتہ ہفتے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور انھوں نے ایسا میکانزم وضع کرنے سے اتفاق کیا تھا جس کے تحت شام میں دونوں ممالک کے ہواباز الگ الگ بمباری کریں گے اور ایک ملک کے ہواباز دوسرے ملک کے ہوابازوں کو فضائی مہم کی تکمیل کے لیے محفوظ راستہ دیں گے۔

روس نے 30 ستمبر کو شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا مگر اس کو فضائی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ترکی اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے داعش یا القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کے بجائے شامی فوج سے جنگ آزما دوسرے باغی گروپوں پر حملے کررہے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

ایران کو شام پر مذاکرات میں شرکت کی دعوت

October 28, 2015
28Oct15_BBC ٰ ایران01BBC

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام کے تنازع پر امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی بین الاقوامی بات چیت میں پہلی مرتبہ ایران کو بھی شامل کیا جائے گا۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربے کا کہنا تھا ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی رہنما جمعرات کو ویانا میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں شامل ہوں گے یا نہیں۔ان مذاکرات میں امریکہ، روس، یورپی اور عرب ممالک کے اعلی مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔مغرب کی حمایت یافتہ شام کی حزبِ اختلاف اور امیکہ کے خلیجی اتحادی ممالک شامی جنگ میں ایرانی کردار کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ترجمان نے صحافیوں کو بتایا جمعرات کی بات چیت میں ایران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔’اب یہ ایرانی رہنماؤں پر ہے کہ وہ شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ اہم شرکاء گفتگو میں شامل ہوں۔ ایران اس میں اہم رکن ہو سکتے ہیں لیکن فی الحال وہ نہیں ہیں۔‘ایران شامی صدر بشار الاسد کا قریب ترین اتحادی ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ایران نے گذشتہ چار سال میں اسد کی حکومت کے مضبوطی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، جنگی ماہرین اور رعایتی نرخ پر اسلحہ اور ایندھن فراہم کیا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ سے بھی تعلقات ہیں جس نے شام میں حکومتی فوجوں کی مدد کے لیے اپنے جنگجو بھیجے ہیں۔ایران کی حکومت نے شام میں کشریت الجماعتی آزادانہ انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی کی تجویز دی ہے تاہم لیکن وہ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہے۔روس جس نے ہمیشہ شام کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا تھا اس نے بھی گذشتہ ماہ شام میں فضائی حملے شروع کیے جس میں بقول اس کے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ روسی حملوں میں زیادہ تر مغرب اور امریکہ کے حمایت یافتہ شامی باغی نشانہ بنے۔

Saudi Arabia court confirms Shia cleric death sentence

October 27, 2015
27Oct15_النمر02BN_101
al-Jazeera
Supreme Court confirms capital punishment for Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests.

The Supreme Court in Saudi Arabia has confirmed the death sentence against Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests, one of his brothers said.

“After the confirmation of Sheikh Nimr’s death sentence by the Court of Appeal and then the Supreme Court, his life is in the hands of King Salman who can endorse the sentence or suspend the execution,” Mohammed al-Nimr said on Sunday.

He warned that his brother’s execution “could provoke reactions that we do not want,” as Sheikh Nimr had “supporters in the Shia areas of the Islamic world”.

Mohammed al-Nimr said he expected the king to “prove his wisdom” by halting the execution of his brother and six other Shia people.

Iran warning

Among those sentenced to death, “three, including my son Ali, were minors at the time of arrest” for involvement in anti-government protests that erupted in the Eastern Province in the wake of the Arab uprisings, he told AFP news agency.

The case of Ali al-Nimr, in particular, has led to strong reactions around the world, with many asking the Saudi authorities to grant the young Shia a stay from the execution.

Iran, the arch-foe of Saudi Arabia, on Sunday warned Riyadh not to execute the cleric.

“The execution of Sheikh Nimr would have dire consequences for Saudi Arabia,” said Deputy Foreign Minister Hossein Amir Abdollahian.

“The situation in Saudi Arabia is not good and provocative and tribal attitudes against its own citizens are not in the government’s interests,” he said in a statement.

Separation call

Sheikh Nimr had called in 2009 for separating the Eastern Province’s Shia-populated Qatif and al-Ihsaa governorates from Saudi Arabia and uniting them with Shia-majority Bahrain.

Last year, a special court in Riyadh sentenced him to death for “sedition”, “disobedience” and “bearing arms”.

Saudi Arabia’s estimated two million Shia people, who frequently complain of marginalisation, live mostly in the east, where the vast majority of the OPEC kingpin’s huge oil reserves lie.
27Oct15_النمر01

شیخ نمر کے بارے میں سعودی شاہ سے عراقی مفتی کی اپیل

October 27, 2015
27Oct15_النمرعراق01

عراق کے مفتی نے سعودی عرب کے شاہ سے معروف شیعہ مذہبی رہنما شیخ باقر النمر کے کیس میں مداخلت کرکے ان کی سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد روکے جانے کی اپیل کی ہے۔
عراق کے مفتی شیخ مہدی الصمیدعی نے پیر کے روز العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے شاہ سلمان سے اپیل کی ہے کہ وہ، شیخ باقر النمر کے خلاف سنائے جانے والے ناحق فیصلے پر عملدرآمد رکوائیں۔ عراق کے مفتی نے کہا کہ شیخ باقر النمر کے خلاف عائد کیا جانے والا کوئی بھی الزام، ایسا نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر انھیں سزائے موت دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ شیخ باقر النمر کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ اس معروف شیعہ عالم دین اور سعودی عرب کے اس مذہبی رہنما پر سراسر ظلم ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی عدالت عالیہ نے شیخ باقر النمر کے خلاف سزائے موت کے حکم کی توثیق کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کے لئے اسے سعودی شاہ کے دفتر بھیج دیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ شیخ باقر النمر کے خلاف سزائے موت کے فیصلے پر سعودی عرب اور بیرونی حلقوں میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایران شام وعراق میں ‘داعش’ کو اسلحہ فراہم کرتا ہے

October 16, 2015
16Oct15_AA داعش01al-Arabia

نوٹ: یہ یاد رہے کہ العربیہ حکومت سعودیہ کا ترجمان ہے

ایران کے ایک سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کی فوجی مدد کر رہا ہے، حالانکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ شام اور عراق میں “داعش” کے خلاف لڑائی میں مصروف عمل ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے جاپان میں سابق سفیر ابو الفضل اسلامی نے لندن سے شائع ہونے والے فارسی جریدے”کیھان لندن” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراق اور شام میں داعش کے وجود سے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران بغداد اور دمشق میں داعش کے خلاف کارروائی کی آڑ میں داخل ہوا ہے۔ دونوں عرب ملکوں میں داعش کی سرکوبی ایران کا مطمع نظر نہیں بلکہ ایران داعش کو اسلحہ اور فوجی سازو سامان مہیا کر رہا ہے۔ابو الفضل اسلامی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں ٹوکیو میں ایران کے سفیر تھے، تاہم بعد ازاں وہ ایرانی سرکار سے منحرف ہوگئےتھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں سفیر تھا تو میں نے خود دیکھا ہے کہ ایرانی حکومت مختلف عقائد ونظریات رکھنے والے عسکری گروپوں کی مالی اور فوجی مدد کرتا رہا ہے۔ ایران کا دوسرے ملکوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کی مدد کا مقصد ان ملکوں میں بحران پیدا کرکے تہران کے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔

داعش ایرانی مداخلت کا ذریعہ

ایرانی سفارت کار نے کہا کہ میں تھائی لینڈ کے صدر مقام بنکاک میں چار سال تک ایران کا سفیر رہا۔ میں نے یہ بات نوٹ کی کہ سفارت خانے کی جانب سے ہفتہ وار درخواست جاری کی جاتی جس میں پاسداران انقلاب کے طیاروں کو شمالی کوریا اسلحہ اور جنگی سامان لانے کے لے جاتے ہوئے ایندھن بھرنے کی اجازت مانگی جاتی تھی۔ بعد ازاں یہ اسلحہ لبنانی حزب اللہ کو مہیا کیا جاتا تھا۔سابق ایرانی سفارت کار نے بتایا کہ تہران شام میں داعش کے وجود کو اپنےلیے نعمت خیال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبے کی بات نہیں کہ عراق اور شام میں داعش ایران کے مفادات کے تحفظ کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے شام میں اور عراق میں داعش کو تواتر کے ساتھ اسلحہ اور جنگی سامان مہیا کیا جاتا ہے۔

روس ایران کی مدد سے شام میں سرگرم

شام میں روس کی فوجی مداخلت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ابو الفضل اسلامی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی طرح روس کے اپنے مفادات ہیں مگر روس کو اپنے دیرینہ اتحادی ایران کی ہرممکن معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ روس اس وقت مشرق وسطیٰ میں اہم ترین کھلاڑی کے طور پر کھیل رہا ہے۔اس سے قبل ایران اور یورپ مل کر شام میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ میں نے سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں بہ طورسفیر کام کیا۔ میری موجودگی میں یورپ اور ایران کے درمیان جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے کے لیے مذاکرات ہوتے رہے۔ یورپی حکام کی طرف سے تہران کو بتایا گیا کہ روس کی عرب ایران اورعرب ملکوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ ماسکو ان ملکوں کے مالی فوائد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ روس کے مفادات اسی وقت تک ہیں جب تک تمہاری جیبیں خالی نہیں ہو جاتیں۔