Category: انڈونیشیا

انڈونیشیا، ملائشیا سمندری محصورین کی عارضی مدد کو تیار

20May15_AAمحصورینAA_Orig

ملائیشیا اور انڈونیشیا روہنگیا سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی کشتیوں کو گذشتہ دنوں کی طرح ساحلی علاقوں سے واپس نہیں موڑے گا۔ تینوں ملک اپنی سمندری حدود میں موجود تارکین وطن کو عارضی پناہ دینے پر رضامندی ہو گئے ہیں۔اس امر کا اعلان ملائیشین وزیرِ خارجہ انیفا امان نے اپنے تھائی اور انڈونیشیئن ہم منصب سے بدھ کے روز ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے کہا کہ’ان لوگوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انھیں جس قسم کے حالات کا سامنا ہے اس میں ہم انھیں اپنے ساحلی علاقوں میں رکھنے کو تیار ہیں۔مسٹر امان نے یہ بھی کہا کہ وہ سرگرمی کے ساتھ تارکین وطن کی تلاش نہیں کریں گے اور اگر وہ ان کے ساحل پر اترے تو انھیں اس شرط پر عارضی پناہ دیں گے کہ بین الاقوامی برادری ایک سال کے اندر ان کی آباد کاری یا واپسی میں تعاون کرے گی۔بتایا گیا ہے کہ تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد یہ اطلاع موصول ہوئی کہ انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں موجود ماہی گیروں نے مزید350 تارکین وطن کی جان بچائی ہے۔مدد حاصل کرنے والے ایک تارک وطن عبدالحق نے خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کو بتایا کہ وہ چار مہینوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشتی کا انجن خراب ہو گیا تھا اور کپتان بھاگ گیا تھا۔خیال رہے کہ تینوں ممالک میانمار میں ظلم و ستم سے بچنے کے لیے ہجرت کرنے والے روہنگیا مسلمانوں اور بہتر معاش کی تلاش میں ملک چھوڑنے والے ان سینکڑوں بنگالیوں کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں جو کھلے سمندر میں کشتیوں میں محصور ہیں۔اس سے قبل بدھ کی صبح انڈونیشیا کے صوبے آچے کی مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ گذشتہ شب ماہی گیروں نے صوبے کے مشرقی علاقے میں 102 تارکینِ وطن کو زندہ بچایا۔ جبکہ صبح سویرے 272 افراد کو بدھ کی صبح ساحل پر لایا گیا۔خیال رہے کہ میانمار [برما] پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ملک چھوڑنے والوں کو روکے تاہم میانمار اس حوالے سے مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہا اور اس نے خود پر عائد الزامات سے انکار کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میانمار کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ’جو کوئی بھی سمندر میں مصیبت میں گرفتار ہے اسے انسانی بنیادوں پر مدد دینے کے لیے تیار ہیں۔خیال رہے کہ ملائیشیا پہلے ہی 45 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دیے ہوئے ہے تاہم اب اس نے مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینے سے انکار کیا ہے۔تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کہتے ہیں کہ وہ سمندر میں محصور تارکینِ وطن کی مدد تو کریں گے تاہم وہ ان کے لیے اپنی سرحدیں نہیں کھول سکتے۔پناہ گزینوں کے مسئلے پر تھائی لینڈ میں 29 مئی کو 15 ممالک کی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے تاہم میانمار کے صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر ژو ہتائے کا کہنا ہے کہ اگر دعوت نامے میں ’روہنگیا‘ کا استعمال کیا گیا تو ان کا ملک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ ان کا ملک روہنگیا کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔
Advertisements

ملازمہ کو پھانسی دینے پر انڈونیشیا کا سعودی عرب سے احتجاج

15Apr15_BBCسیتی زینب01BBC_BU

انڈونیشیا کی حکومت نے اپنی ایک گھریلو ملازمہ کو سعودی عرب میں پھانسی دیے جانے کےخلاف جکارتہ میں سعودی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔سیتی زینب نامی گھریلو ملازمہ کو مدینہ میں منگل کو پھانسی دی گئی۔
سیتی زینب کو سنہ 1999 میں اپنے آجر کو چاقو سے زخمی کرنے کے بعد انھیں جان سے مارنے کا جرم ثابت ہونے پر یہ سزا سنائی گئی۔انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ ریتنو مارسودی کا کہنا ہے کہ نہ انڈونیشیا کے قونصل حکام اور نہ ہی سیتی زینب کے خاندان کو اس فیصلے سے قبل کوئی نوٹس دیا گیا۔خیال رہے کہ انڈونیشیا کے موجودہ صدر جوکو ودودو اور ان کے تین پیش رو صدور نے سعودی عرب سے اس مقدمے میں رحم کی اپیل کی تھی۔دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والےگروہوں نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ان گرہوں کا موقف ہے کہ سیتی زینب اپنا دفاع کر رہی تھیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہوں۔انڈونیشیا کی خبر رساں ایجنسی ’انتارا‘ نے وزیرِ خارجہ مارسودی کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب سے اس بات کی وضاحت مانگی ہے کہ سیتی زینب کو پھانسی دینے سے قبل انڈونیشیا کو کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ان کا مزید کہنا تھا ہم نے سیتی زینب کی پھانسی رکوانے کے لیے تمام کوششیں جس میں سفارتی چینلز اور قانونی طریقے شامل ہیں اختیار کیے، ہم نے مرنے والے شخص کے خاندان سے رابطہ کیا یہاں تک کہ میں نے گذشتہ ماہ سعودی نائب وزیرِ خارجہ سے اپنی ملاقات میں بھی اس مسئلے پر بات کی۔دوسری جانب انڈونیشیا میں سعودی سفیر مصطفیٰ ابراہیم المبارک کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طلبی پر ’حیران‘ ہیں تاہم وہ اس بات کی جانچ کریں گے کہ معاملہ کہاں خراب ہوا؟ادھر سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا کہ سیتی زینب کی پھانسی کو 15 سے زیادہ برس تک ملتوی کیاگیا یہاں تک کہ مرنے والے سعودی شخص کے خاندان کا سب سے چھوٹا بچہ بھی اتنا بڑا ہو گیا کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ اس کا خاندان سیتی زینب کو معاف کرے یا ان کی پھانسی کا مطالبہ کرے۔انڈونیشیا کے غیر ملکی کارکنوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم مائگرینٹ کیئر نے الزام عائد کیا کہ سیتی زیبب سعودی آجر کی جانب سے ان کے خلاف برا سلوک کرنے پر اپنا دفاع کر رہی تھیں۔اپنی گرفتاری سے پہلے سیتی زینب نے انڈونیشیا کی وزیرِ خارجہ یتنو مارسودی کو دو خطوط بھی بھیجے تھے جن میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ سعودی آجر اور ان کا بیٹا ان کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔۔