Category: افغانستان

جنوبی افغانستان میں ھزارہ افراد بشمول خواتین کا اغواہ اور قتل

November 21, 201521Nov15_VOA ہزارہ01VOA

تقریباً چھ ماہ قبل غزنی سے اغوا کیے گئے سات شیعہ ہزارہ افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کی لاشیں رواں ماہ زابل سے برآمد ہوئی تھیں اور اس کے خلاف بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔افغانستان کے جنوبی صوبہ زابل میں نامعلوم مسلح افراد نے شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو اغوا کر لیا ہے اور یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب رواں ماہ ہی زابل سے سات مغوی ہزارہ افراد کی لاشیں برآمد ہونے پر اس کے خلاف ملکی تاریخ کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آچکے ہیں۔حکام کے مطابق ہفتہ کو علی الصبح مسلح افراد نے کابل اور قندھار کے درمیان مرکزی شاہراہ مسافر بسوں کو روکا اور شناخت کے بعد ان میں سے ہزارہ برادری کے لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔مغویوں کی اصل تعداد کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں لیکن حکام کے بقول ان کی تعداد 14 سے 20 تک ہے۔
21Nov15_VOA ہزارہ02
تاحال اغوا کاروں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن جنوبی افغانستان میں طالبان اور داعش سے وابستہ شدت پسند شیعہ لوگوں کے اغوا میں ملوث رہے ہیں۔فارسی زبان بولنے والے اس شیعہ ہزارہ برادری کو طویل عرصے سے افغانستان میں ناروا سلوک اور ایذا رسانیوں کا سامنا رہا ہے جب کہ طالبان کے دور اقتدار میں اس برادری کے ہزاروں افراد کا قتل عام بھی ہو چکا ہے۔تقریباً چھ ماہ قبل غزنی سے اغوا کیے گئے سات شیعہ ہزارہ افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کی لاشیں رواں ماہ زابل سے برآمد ہوئی تھیں۔ہزاروں افراد نے اغوا اور قتل کے اس واقعے کے خلاف کابل سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے کیے اور حکومت سے ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا
Advertisements

افغانستان: آشنا کے ساتھ فرار ہونے والی دوشیزہ سنگسار

November 03, 201504Nov15_AA سنگسار01BBC

افغانستان میں اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہونے والی ایک نوجوان عورت کو انتہا پسندوں نے سرعام سنگسار کردیا ہے۔
اس لڑکی کا نام رخسانہ بتایا گیا ہے اور اس کی عمرانیس اور اکیس کے درمیان تھی۔اس کے خاندان نے اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر کسی اور مرد کے ساتھ کردی تھی۔منگل کو سامنے آنے والی ایک گرافک ویڈیو میں اس کو سنگسار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔جب مجمع اس کو پتھر مار رہا تھا تو وہ بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھ رہی تھی،افغان میڈیا سے نشر ہونے والی تیس سیکنڈز کی ویڈیو میں اس کی آواز بتدریج بلند ہوتی چلی جاتی ہے۔افغان حکام نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دوشیزہ کو سنگسار کرنے کا یہ واقعہ صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ سے چالیس کلومیٹر دور واقع علاقے غلمین میں ایک ہفتہ قبل پیش آیا تھا۔

غور کی گورنر سیما جوئندہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ رخسانہ کو طالبان ،مقامی مذہبی علماء اور غیر ذمے دار جنگجو سرداروں نے پتھر مار مار کر موت سے ہم کنار کیا تھا۔

جوئندہ نے مقامی حکام کے حوالے سے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ رخسانہ کے خاندان نے اس کی شادی اس کی مرضی کے بغیر کی تھی اور وہ اپنے خاوند کو چھوڑ کر ایک ہم عمر لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔گورنر نے اس سنگساری کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کابل حکومت پر اپنے زیر نگیں علاقے کو پاک کرنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ”ان کے علاقے میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے اور یقیناً یہ آخری نہیں ہوگا۔افغانستان بھر میں بالعموم اور غور میں بالخصوص خواتین گوناگوں مسائل کا شکار ہیں۔اب جس مرد کے ساتھ یہ لڑکی بھاگی تھی،اس کو تو سنگسار نہیں کیا گیا ہے”۔

صوبہ غور کے پولیس سربراہ مصطفیٰ محسنی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ واقعہ افغان طالبان کے کنٹرول والے علاقے میں ہوا ہے اور اس سال کسی عورت کو سنگسار کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے”۔

داعش کا گروپ پاکستان میں بعض عناصر کو استعمال کر سکتا ہے

November 01, 201501Nov15_VOA داعشVOA

یہ بات تجزیہ کاروں نے اردو سروس کے پروگرام جہاں رنگ میں بات کرتے ہوئے کہی۔ اُنھوں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ سرکاری ایجنسیاں داعش کے عنصر کو یونہی نظرانداز نہیں کرسکتیں
بعض ممتاز تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گرچہ پاکستان میں سرکاری ایجنسیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ملک میں داعش کا وجود نہیں ہے۔ تاہم، بعض ایسے عناصر موجود ہیں جن سے داعش کا گروپ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اردو سروس کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ کار، ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود اور لندن میں مقیم جنگی مطالعے کے ایک ماہر، سنگین شاہ نے میزبان اسد حسن کو بتایا کہ داعش کا گروپ عام طور پر لوگوں کے درمیان فرقہ وارانہ نسلی اور دوسرے اختلافات یا تعصبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، اور بقول اُن کے، ’پاکستانی معاشرے میں ایسی غلط سوچ کا وجود پایا جاتا ہے‘۔
دونوں تجزیہ کاروں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ سرکاری ایجنسیاں داعش کے عنصر کو یونہی نظرانداز نہیں کرسکتیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں داعش کی موجودگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

افغانستان سےگولہ باری،7 پاکستانی اہلکار ہلاک

October 27, 2015
27Oct15_DU گولہ01DU

پشاور، اسلام آباد: پاک-افغان سرحد پر شدت پسندوں کے حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 7 اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ڈان نیوز نے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں پاک-افغان سرحد کے قریب انگور اڈہ کے مقام پر واقع ایک ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 7 اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی.
27Oct15_DU گولہ02
تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ چیک پوسٹ پر کتنے اہلکار تعینات تھے.واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے بارڈر پر سیکیورٹی سخت کر دی جبکہ سرحد پر ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔یاد رہے کہ 3 ماہ قبل جولائی میں بھی سرحد پار سے پاکستانی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے 2 اہلکار زخمی ہوئے تھے ، جبکہ پاکستانی کی جانب سے جوابی فائرنگ سے ایک افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا تھا جس کے بعد کابل میں پاکستانی سفارتکار کو طلب کرکے افغان حکام نے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا.
27Oct15_DU گولہ03
خیال رہے کہ جنوبی وزیر ستان میں پاک فوج کی جانب سے 2009 میں آپریشن راہ نجات کے ذریعے عسکریت پسندی کا خاتمہ کیا گیا تھا، اسی آپریشن کے بعد فوج کے مرکز جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر حملہ کیا گیا تھا، تاہم جوابی کارروائی میں تمام دہشت گرد مارے گئے تھے۔بعد ازاں جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا جبکہ اکتوبر میں خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر-ون اور مارچ 2015 میں آپریشن خیبر-ٹو کا آغاز کیا گیا، فوج کی ان کارروائیوں سے شدت پسند سرحد کی دوسری جانب افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے.اس سے قبل بھی افغانستان سے پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے کارروائیوں کی کوششیں کی جاتی رہیں،تاہم پاکستانی فورسز نے انھیں ناکام بنا دیا.واضح رہے کہ ان خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ مذکورہ علاقوں میں میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہے، اس لیے ذرائع ابلاغ کو سرکاری اطلاعات پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے.
27Oct15_DU گولہ04

پاکستان زلزلہ 2015

October 26, 2015

پاکستان میں شدید زلزلہ، کم از کم 200 ہلاک
Sura ZalzilaDUاسلام آباد: پاکستان کے مختلف علاقوں میں 7.5 شدت کے زلزلہ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 200 ہوگئی ہے جبکہ 1000 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
26Oct15_Multi زلزلہ01
امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 7.5 تھی جس سے ملک کے کئی شہر لرز اٹھے، جبکہ اس کا مرکز افغانستان میں 212.5 کلو میٹر زیر زمین تھا.
26Oct15_Multi زلزلہ02
دوسری جانب محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1 تھی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں 193 کلو میٹر زیر زمین تھا۔
26Oct15_Multi زلزلہ03
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ 2 بجکر 9 منٹ پر آیا، جبکہ اس کا دورانیہ ایک منٹ سے زائد تھا۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران متاثرہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا خدشہ ظاہر کیا ہے.ڈان نیوز کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، گجرانوالہ اور پشاور سمیت ملک کے کئی شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
26Oct15_Multi زلزلہ04
زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، کوہاٹ، بھکر اور گرد و نواح میں بھی محسوس کیے گئے۔زلزلے کے باعث پشاور اور لاہور میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے موبائل فون سروسز رک گئیں جبکہ لوگ خوفزدہ ہوکر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے.
26Oct15_Multi زلزلہ06
al-Arabia
پاکستان میں شدید زلزلہ، 200 افراد جاں بحق، سیکڑوں زخمی
7.5 کی شدت کے زلزلے کے جھٹکے افغانستان اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے
26Oct15_Multi زلزلہ11
پاکستان کے قریبا تمام بڑے شہروں میں سوموار کی دوپہر دو بج کر نو منٹ پر 7.5 کی شدت کا زلزلہ آیا ہے جس کے نتیجے میں مکانوں کی چھتیں گرنے اور عمارتیں منہدم ہونے سے دو سو سے زیادہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔شدید زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل اور بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں میں میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔رات گئے پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں فاٹا میں قدرتی آفت کے نتیجے میں ایک سو اکانوے اموات کی تصدیق ہوچکی تھی۔زلزلے سے صوبہ پنجاب میں پانچ ،آزاد جموں وکشمیر میں ایک اور گلگت ،بلتستان میں تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔مالا کنڈ ڈویژن کے کمشنر عثمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سوات ،اپر اور لوئر دیر ،چترال ، شانگلہ اور بونیر کے علاقوں میں ایک سو سینتیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔حکام نے زلزلے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ ابھی بہت سے دشوار گذار پہاڑی علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہوسکی ہے اور مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہوچکے ہیں۔پاک فوج کی امدادی ٹیمیں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور فوجی ہیلی کاپٹر بھی زخمیوں کو نکالنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔وادیِ سوات میں زلزلے سے عمارتیں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور کم سے کم دو سو زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں کو سیدو شریف کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مکانات گرنے سے چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ضلع چکوال کے علاقے کلر کہار میں ایک آٹھ سالہ بچہ اور ضلع قصور میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ہے۔آزاد جموں وکشمیر میں ضلع میرپور کے علاقے اسلام گڑھ میں اسکول کی عمارت منہدم ہونے سے ایک چودہ سالہ طالب علم جاں بحق ہوگیا۔سرگودھا میں زلزلے سے ایک عمارت منہدم ہوگئی جس سے ایک خاتون جاں بحق اور دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔راول پنڈی کے مصروف کاروباری مرکز راجا بازار میں مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا ہے۔

زلزلے کا مرکز ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں افغانستان کے شہر فیض آباد سے بیاسی کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔اس کی گہرائی 196 کلومیٹر تھی۔امریکا کے جیالوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز پاکستان کے شمال مغربی شہر چترال سے 67 کلومیٹر دور تھا۔جیالوجیکل سروے نے پہلے ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 بتائی تھی مگر پھر اس پر نظرثانی کرتے ہوئے شدت 7.5 بتائی ہے۔پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بھی پہلے ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 8.1 بتائی تھی۔

چترال میں زلزلے سے تیرہ افراد اور گلگت ،بلتستان میں تین افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔اس علاقے میں تودے اور بھاری پتھر گرنے سے شاہراہیں بند ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے تمام وفاقی ،سول ،فوجی اور صوبائی اداروں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کی ہدایت کی ہے۔صدر ممنون حسین نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں میں انسانی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (انٹر سروسز پبلک ریلشنز) کے سربراہ لیفٹنینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی اہلکاروں کو کسی حکم کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کی ہدایت کی ہے اور پاک فوج کی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے شمال مغربی علاقے زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہیں اور ان علاقوں میں وقفے وقفے سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ستمبر 2013ء میں صوبہ بلوچستان میں 7.7 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اکتوبر 2005ء میں ملکی تاریخ کا سب سے تباہ کن زلزلہ آیا تھا۔ریختر اسکیل پر اس کی شدت 7.6 تھی۔اس کے نتیجے میں تہتر ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں اور پینتیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔
26Oct15_Multi زلزلہ12
BBC

ایک سو ستر 170 سے زیادہ ہلاک، ہزار سے زائد زخمی
26Oct15_Multi زلزلہ21
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو آنے والے زلزلے سے مجموعی طور ملک بھر میں 170 سے زائد افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہوا ہے۔
زلزلے سے خوف زدہ شہری کھلے آسمان تلے

انھوں نے کہا کہ زلزلے سے شاہراہ قراقرام پانچ مقامات پر بلاک ہو گئی ہے۔ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور اس کا مرکز ہندو کش کا پہاڑی علاقہ ہے جو کہ ڈسٹرکٹ جرم کے جنوب مغرب میں 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق 2:09 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات منہدوم ہو گئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے نقصان کے متعلق معلومات اکھٹی کر ر ہے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔پاکستان کے صوبے پنجاب کے ریسکیو ذرائع کے مطابق صوبے میں زلزلے کے نتیجے میں تین ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے قبائلی علاقوں میں 31 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔بی بی سی سے گفتگو میں ادارے کے ترجمان عادل ظہور نے بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اور نقصانات باجوڑ ایجنسی میں ہوئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ باجوڑ میں 26 افراد ہلاک جبکہ مہمند ایجنسی میں چار فراد ہلاک ہوئے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا ہے اور زلزلے میں ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ نواز شریف سے ٹیلفونک بات چیت میں انھوں نے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارت نے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
26Oct15_Multi زلزلہ22
پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں ایک شخص کی لاش لائی گئی ہے اور کم سے کم 96 افراد زخمی ہیں۔اگرچہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی خیبر پختونخوا کے علاقے میں ہوئی ہے لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے نقصان اور منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

پاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔ابھی تک ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کا جائزہ لینے کے لیے فوج کی ہیلی کاپٹر منگوائے جا رہے ہیں۔پاکستان فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بعد فوج، اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آگئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ ہسپتال اور ماہر امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
26Oct15_Multi زلزلہ23

افغانستان، پاکستان، انڈیا میں شدید زلزلہ، درجنوں ہلاک

October 26, 2015
26Oct15_BBC زلزلہ01BBC

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے مختلف علاقوں میں ریکٹر سکیل پر 7.5 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندو کش کا پہاڑی علاقہ ہے جو کہ ڈسٹرکٹ جرم جنوب مغرب میں 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔پاکستانی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک مختلف علاقوں سے کم از کم تیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع آئی ہے۔پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق 2:09 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات منہدوم ہو گئے ہیں۔زلزلے سے خوف زدہ شہری کھلے آسمان تلے

صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اس وقت تک کی اطلاعات کے مطابق صوبے کے محتلف علاقوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 30 پوگئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے نقصان سے متعلق معلومات اکھٹی کرر ہے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھی ایک فرد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں ایک شخص کی لاش لائی گئی ہے اور کم سے کم 96 افراد زخمی ہیں۔اگرچہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی خیبر پختوانخوا کے علاقے میں ہوئی ہے لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار نے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد ٹیلیفون لائنز بند ہو گئیں۔دہلی میں میٹرو ٹرین بھی تھوڑی دیر کے لیے رک گئی تھی۔انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے فوری حکم دیا ہے۔
26Oct15_BBC زلزلہ02انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان، بھارت اور افغانستان میں سب کی خیریت کی دعا کرتے ہیں اور ہم، پاکستان اور افغانستان سمیت ہر جگہ مدد کے لیے تیار ہیں۔بھارت میں ریلویز کے وزیر سوریش پربھو نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے زلزلے کے بعد ریلویز کے تمام ملازمین کو، تمام حفاظتی اقدام لینے اور ہوشیار رہنے کے لیے کہا ہے۔بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے نقصان اور منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ڈبگری میں امان ہسپتال میں زلزلے کے بعد شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔پاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔ابھی تک ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کا جائزہ لینے کے لیے فوج کی ہیلی کاپٹر منگوائے جا رہے ہیں۔پاکستان فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بعد فوج، اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آگئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ ہسپتال اور ماہر امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو بریگیڈیئر ڈاکٹر اشرف کے مطابق صوبے میں 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک لاہور میں کسی بھی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ ریسکیو سروسز ہائی الرٹ پر ہیں۔افغانستان کے شمال مشرقی صوبے علاقے تخار میں حکام کے مطابق زلزلے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ گورنر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سبھی متاثرین ایک ہائی سکول کی لڑکیاں تھیں۔ زخمیوں میں سے بھی سات کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

شیعہ افغانوں کی شامی جنگ کے لئے ایرانی بھرتی

October 18, 2015
18Oct15_AA بھرتیal-Arabia

ایرانی پاسداران انقلاب شیعہ مسلک افغانوں کو پانچ سو ڈالر ماہانہ مشاہرے اور ایران میں سکونت کے عوض شام میں لڑائی کے لئے بھرتی کر رہے ہیں۔افغانستان میں ہزارہ شیعہ آبادیوں میں ایران کے فرنٹ مین کے طور پر شام کی لڑائی میں نوجوانوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے۔ ماضی میں بھی ایران، افغان ہزارہ شیعہ آبادی کی قابل رحم حالت کا فائدہ اٹھا کر ایسے کام کرنا رہا ہے۔برطانوی جریدے ‘ٹائمز’ نے اپنی جون 2015ء کی اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں پانچ ہزاروں افغانوں کی شامی فوج کے شانہ بشانہ شامی لڑائی میں شرکت کا انکشاف کیا تھا۔ اخبار نے دعوی کیا تھا کہ ایران اپنے شہروں میں پناہ گزین افغان ہزارہ اقلیت کے نوجوانوں کو شام میں براہ راست بھرتی کر رہا ہے۔

اس سال کے اوائل میں جنوبی شام کے علاقوں دمشق، درعا اور القنیطرہ [جنہیں ‘موت کی مثلت’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے] میں ہونے والی لڑائی میں شامی فوجیوں کے ساتھ افغانوں کو بھی ‘داد شجاعت’ دیتے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر بشار الاسد کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بڑے پیمانے پر دیکھی جا سکتی ہیں۔فارسی زبان کے اخباری ذرائع کے حوالے سے جمع کردہ معلومات کے مطابق جنوری دو ہزار تیرہ سے شام میں 113 ایران، 121 افغان اور 20 پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں۔