Category: اسرائیل

سترہ (17)۔ روز میں 37 فلسطینی قتل

October 17, 2015
17Oct15_DU فلسطینی01DU

غزہ: فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقے غزہ میں اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کرکے مزید دو فلسطینیوں کو قتل اور 98 کو زخمی کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان اشرف نے بتایا کہ غزہ کے شمالی حصے بیت الحنون کراسنگ کے قریب اسرائیلی فوج نے 22 سالہ فلسطینی نوجوان یحیٰ عبدالقادر فرحت کے سر میں گولی مار دی، جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔دوسرے فلسطینی نوجوان 22 سالہ محمد حمادیہ کو سرحدی علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔وزارت صحت کے مطابق آنسو گیس اور فائرنگ کے باعث 98 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 37 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔جبکہ اسرائیلی فورسز سے جڑپوں میں سینکڑوں فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اب تک 7 اسرائیلی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ 1993-1987 اور 2005-2000 کے دوران ہونے والے انتفاضہ میں ہزاروں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی سے دو بچے شہید، 15 زخمی

October 11, 2015
11Oct15_AA غزہ01al-Arabia

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے خان_یونس کے مقام پر کم سے کم دو فلسطینی بچے شہید اور پندرہ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق غزہ وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے بچوں کی شناخت مروان ھشام بربخ اور خلیل عمر عثمان کے ناموں سے کی گئی ہے جن کی عمریں 13 اور 15 سال ہیں۔وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں دو بچوں کی شہادت کے بعد جمعہ اور ہفتہ کے ایام میں غزہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے جب کہ اکتوبر کے اوائل سے اب تک 20 شہری اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ شہداء میں 11 کا تعلق مغربی کنارے سے ہے۔

حماس کا اسرائیلی جاسوس ڈولفن پکڑنے کا دعویٰ

20 August, 2015
20Aug15_BBC جاسوسی

BBC
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے غزہ کے ساحل کے قریب ایک ڈولفن پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے جو تنظیم کے بقول اسرائیلی جاسوس ہے۔
مقامی اخبار القدس کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ ڈولفن پر جاسوس کے آلات نصب ہیں جن میں کیمرے بھی شامل ہیں۔بظاہر یہ ڈولفن حماس کے بحری یونٹ نے پکڑی ہے جس کے بعد اسے ساحل پر لایا گیا ہے۔ البتہ حماس کی جانب سے اس ڈولفن کی کوئی تصویر جاری نہیں کی گئی ہے۔القدس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس ڈولفن کو اس کی مرضی کے خلاف ایک ’قاتل‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔اخبار کے مطابق اس سے حماس کے بحری جنگی یونٹ کی تشکیل پر اسرائیل کا ’غصہ اور بےچینی‘ بھی ظاہر ہوتی ہے۔اسرائیلی حکام نے جاسوس ڈولفن پکڑنے جانے کی اطلاعات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔اسرائیل غزہ کی زمینی، بحری اور فضائی سرحدوں کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل پر جانوروں یا پرندوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگا ہو۔سنہ 2010 میں اسرائیل نے مصر کے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا کہ بحیرۂ احمر میں شارک مچھلیوں کے حملوں کے پیچھے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔اس واقعے کے چند ہفتے بعد سعودی عرب میں جی پی ایس ٹرانسمیٹر سے لیس ایک گدھ پکڑا گیا تھا اور اسے بھی موساد کی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔

ایران معاہدہ نہ ہوتا تو اسرائیل کو خطرہ تھا

05 August, 2015
05Aug15_DU ایرانDU

واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس ایرانی جوہری معاہدے میں مداخلت کرتی اور امریکا ایران پر حملہ کردیتا تو اس کے جواب میں اسرائیل میں راکٹ برسائے جاتے۔
دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق نیشنل جوئش ڈیموکریٹک کونسل کے چیئرمین برگ روزین باگ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے منگل کو ہونے والی دو گھنٹے کی طویل ملاقات میں یہودی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ یہ ممکن تھا کہ قانون ساز اس معاہدے کی مخالفت کرتے اور معاہدے کے فوائد سے زیادہ ذاتی حیثیت پر بات چیت کی جارہی تھی۔ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے یہودیوں کی مکمل حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکی صدر اوباما اور نائب صدر جیو بیڈن نے تمام سیاسی اور مذہبی طبقوں سے تعلق رکھنے والے 20 یہودی رہنماؤں کو وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں مدعو کیا تھا۔

داعش کا خلیفہ ابو بکر بغدادی کی کلینکل موت

WP_12SH_BU

داعش دہشتگرد گروہ کا خلیفہ ابو بکر البغدادی کو صیہونی حکومت کے ایک اسپتال میں ظاہری طور پر مردہ قرار دیا گیا۔عراقی انٹیلیجنس نے داعش کے نام نہاد خلیفہ ابو بکر بغدادی کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ عراقی انٹیلیجنس کے ایک موثق ذریعے نے بتایا کہ البغدادی کو مقبوضہ جولان کے ایک اسرائیلی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے تاہم اسے موت کے منہ سے بچانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں- بتایا جاتا ہے کہ ابو بکر البغدادی کو اس کی سیکورٹی کی بنا پر ترکی یا کسی دوسرے عرب ملک کی بجائے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے کے ایک ہسپتال لے جایا گیا ہے- مغربی میڈیا اور خصوصا امریکی حکام نے داعش کے سرغنہ کی موت کی ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے- ابوبکر البغدادی کے جانشین کے تعین کی خبروں کے سامنے آنے پر امریکی زرایع نے ابوبکر البغدادی کے زخمی ہونے کی خبر کی تصدیق کی تھی-دوسری جانب تکفیری دہشتگردوں نے شام کے عوام کے خلاف اپنے تازہ ترین جرائم میں دسیوں بے گناہ شہریوں کو قتل کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دہشتگرد گروہ النصرہ کے دہشتگردوں نے اتوار کو صوبہ ادلب کے “جسرالشغور” علاقے میں حملہ کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں نے اس علاقے میں داخل ہونے کے بعد شام کے تیس عام شہریوں کو ایک ساتھ قتل کردیا۔ عرب ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں نے دو شامی خاندانوں کے تمام افراد کو قتل کردیا ہے۔

بیت المقدس کی یہودی کالونی میں عرب شہریوں کو بقاء کا چیلنج


AA_BU

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قائم یہودی کالونیوں نے فلسطینی عوام کی زندگی تواجیرن بنا رکھی ہے مگربیت المقدس کی ایک یہودی کالونی میں پہلے سے موجود عرب شہریوں کو بھی اپنی بقاء کا سنگین چیلنج درپیش ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بیت المقدس کی یہودی کالونی کے بارے میں اپنی ریک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ1967ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے دوران بیت المقدس پرغاصبانہ قبضے کے بعد شہرمیں ایک بڑی یہودی بستی قائم کی گئی۔ یہ بستی شمال مشرقی بیت المقدس کے ’’بیت اکسا‘‘ کے مقام پر قائم کی گئی، جہاں کئی عرب خاندان پہلے سے آباد تھے۔ انہی میں ابو حسن محمود لقیانہ نامی عرب شہری کا مکان بھی شامل ہے جو پچھلے 70 سال سے اس مقام پر موجود ہے۔اگرچہ اسرائیلی انتظامیہ نے یہاں پریہودی کالونی سنہ 1973ء میں قائم کی۔ کالونی کےقیام کے بعد وہاں پر پہلے سے آباد فلسطینی شہریوں پرصہیونی انتظامیہ کی طرف سے دبائو ڈالا گیا کہ وہ یا تو رضاکارانہ طورپر اپنے مکانات اور املاک اسرائیلی حکام کے حوالے کردیں یا کم سے کم کرائے پر دے کرخود وہاں سے نکل جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے علم میں لائے بغیر اسرائیلی بلدیہ نے فلسطینیوں کی اراضی کے کاغذات میں جعل سازی کرتےہوئے خفیہ طورپر اراضی پرقبضہ کیا جانے لگا۔ابو حسن اور اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ وہاں پر اس وقت سے رہ رہے ہیں جب آس پاس زمین ہموار بھی نہیں تھی بلکہ ٹیلے تھے۔ ابھی شہر میں بجلی کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہم اس وقت مکان بناتے اور ان میں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ ابو حسن کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ میں پیدل چل کر کئی سو میٹردور سے ایک کنوئیں سے پانی بھرکر لاتی۔ میرے بچے اور پوتے ، پوتیاں اور نواسے نواسیاں سب یہیں پر پیدا ہوئے۔ اب ہم سے کہا جا رہا ہے کہ یہ اراضی اور مکان ہمارے نہیں، ہم یہاں سے نکل جائیں۔ یہودی ہمارے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ ہم نے کبھی انہیں تکلیف نہیں پہنچائی۔ آج ہمیں ہمارے ہی گھروں سے نکالنے کی سازشیں تیاری کی جا رہی ہیں۔ ہم کہاں جائیں؟۔اس کا کہنا ہے کہ ہمارے آبائو اجداد کی سرزمین پر اس وقت 50 ہزار یہودیوں کو آباد کیا جا چکا ہے۔ یہودیوں کےقبضے میں جتنی زمین ہے وہ ہماری ذاتی ہے جسے جعلی ناملوں کے ساتھ یہودیوں کو الاٹ کیا گیا۔اسی بستی میں مقیم ایک فلسطینی ڈاکٹر لوئی کسوانی کا کہنا ہے کہ بہت پہلے ہم نے اس جگہ زمین کا ایک قطعہ خرید کیا۔ اس وقت یہاں ’’راموت‘‘ کالونی کا دور دور تک کوئی وجود نہیں تھا۔ جب سے یہاں یہودی کالونی بسائی گئی اس کے بعد ہمیں لالچ، دھونس اور دبائو کے ذریعے مکان اور زمین سب کچھ چھوڑ کر نکل جانے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سنہ 1990ء میں اسرائیلی عدالتوں میں ہمارے خلاف زمینیں خالی کرانے کے لیے مقدمات شروع کرائے گئے۔ ہم نے اپنی بساط کے مطابق دو وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔ وکلاء اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں اپنی اراضی 49 سالہ لیز پراسرائیلی انتظامیہ کے حوالے کردینی چاہیے۔

اسرائیلی فوج کوفلسطینیوں کے قتل کے لیے نشانہ بازی کی تربیت

06Apr15_AA اسرائیلی نشانہ بازی01AA_Orig

مفرور فوجی نے صہیونی فوج کی شدت پسندی کا بھانڈہ پھوڑ دیا
فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث صہیونی فوجیوں کی سفاکیت کی ان گنت مثالیں موجود ہیں مگر پہلی باراسرائیل کے ایک منحرف فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے فوجی اہلکاروں کو فلسطینیوں کے قتل کے لیے نشانہ بازی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔اسرائیل کےعبرانی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے سابق فوجی اہلکار یارون کابلان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس نے دو سال تک فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد ’ضمیرکے ملامت‘ کرنے پر فوجی سروس چھوڑ دی تھی۔کابلان کا کہنا ہے کہ “جب میں ٹریننگ سینٹر پہنچا تومیں نے دیکھا کہ وہاں [فلسطینیوں کے خلاف] انتہائی تشدد آمیز طریقے استعمال کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے گہرا صدمہ پہنچا۔ ہمیں جب بھی عسکری تربیت دی جاتی تواس میں فلسطینیوں کو بندوق سے نشانہ بنا کر مارنے کا طریقہ ضرورسکھایا جاتا۔ بعض اوقات ہمیں تربیت کے دوران بھی بے گناہ فلسطینی قتل کرائے جاتے۔ ہم خود کواپنے ہی ہاتھوں قتل ہونے والوں کے درمیان پاتے۔ کبھی ہم محمد کو نشانہ بناتے اور کبھی ہم اپنا نشانہ پکا کرنے کے لیے احمد جان کو سے مارڈالتےالعربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یارون کابلان نے ملٹری کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دو سال تک فوج کی ایک جنگی یونٹ میں خدمات انجام دیں، لیکن یہ سلسلہ صرف دو سال تک جاری رہ سکا۔ اس کے بعد اس نے فوجی سروس ترک کردی تھی۔اس کا مزید کہنا ہے کہ ’’میں نے فوجی سسٹم کے اندرونی ڈھانچے میں تبدیلی کی کوشش کی اور سوچا کہ میں فوجی افسران کا کورس کرلوں لیکن مجھے اندازہ ہوا کہ میں سسٹم میں ’’مثالی تبدیلی‘‘ نہیں لا سکتا‘‘۔عبرانی اخبار کے مطابق یارون کابلان حالیہ اسرائیلی انتخابات میں رخصت پرتھا، اس کےبعد اس نے فوجی سروس آگے بڑھانے سے انکار کردیا۔ اس نے آج سوموار کے روز تل ابیب میں مفرور فوجیوں یحیئیل نحمانی اور ایوی ڈارچنر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالے گئے ایک احتجاجی جلوس میں بھی شرکت کی جنہیں فوج سے فرار کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔اخباری رپورٹ کے مطابق یارون کابلان عیدالفصح کی تقریبات کےبعد فوجی مرکزمیں اپنی گرفتاری پیش کرنے کے لیے جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’میں نے جو قدم اٹھایا ہےاس کے نتائج کے بارے میں مجھے بہ خوبی علم ہے۔ میں نے جو بھی کیا اپنی دانست میں بالکل صحیح کیا ہے۔ میرے لیے میرے ضمیر کا اطمینان ہی کافی ہے۔ میں نے فوج میں جو وقت گذارا وہ مجھ پر ایک بوجھ تھا۔ اگر میں فوج میں مزید رہتا تو خود کو عذاب میں رکھتا‘‘۔

امریکا: ری پبلکنز کا ایران معاہدے پر ووٹنگ کے لیے دباؤ

06Apr15_AA امریکی معاھدہ01AA_Orig

امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی کانگریس کو ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر ووٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے سے قبل عبوری معاہدے کی تکمیل تک انتظار کر لیں گے۔سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین باب کروکر کا کہنا تھا “دیکھیے صدر اوباما کو یہ معاہدہ امریکی عوام کو بیچنا ہے اور کانگریس کو اس عمل میں شامل ہونا پڑے گا۔”
کروکر نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے فریم ورک معاہدے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا مگر انہوں نے ایران کی تنصیبات کے معائنے اور معاہدے کی شقوں سے متعلق واشنگٹن اور تہران کے متضاد بیانات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
امریکی ریاست ٹینیسی سے منتخب سینیٹر کا کہنا تھا کہ ان کی کمیٹی 14 اپریل کو ایران کے ساتھ ہونے والے کسی حتمی معاہدے کی منظوری سے قبل سینٹ میں نظر ثانی اور اس کی منظوری کے لیے ووٹںگ کروائے گی۔ فریم ورک معاہدے کے تحت حتمی معاہدہ جون کے اواخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔اس بل کو ری پبلکنز اور بہت سے ڈیموکریٹ سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس بل کے نتیجے میں اوباما کانگریس کی جانب سے معاہدے پر نظرثانی کے 60 دن کے عرصے کے دوران ایران سے پابندیاں نہیں اٹھا سکیں گے۔ اس عرصے کے دوران کانگریس معاہدے کو منظور یا نامنظور کرسکتی ہے اور اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں کوئی قدم اٹھائے بغیر بھی یہ عرصہ گزار سکتی ہے۔

کروکر نے یہ اعتراف کیا کہ اس قانون کی حمایت کرنے والے اراکین کو سینٹ میں کسی بھی بل کی منظوری اور صد اوباما کے ویٹو کی نفی کرنے کے لیے ضروری 67 ووٹ حاصل ہوں گے یا نہیں۔امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا “میرے خیال میں سینیٹر کروکر ایسے فرد ہیں جو اس معاملے کے حوالے سے سنجیدگی سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ ایک اچھے اور مخلص آدمی ہیں اور میری امید ہے کہ ہم کوئی ایسا حل تلاش کرسکیں جن سے کانگریس کی رائے کا اظہار ہوجائے اور امریکی صدر کے روایتی اختیارات کی راہ میں رکاوٹ بھی نہ آئے اور اس حل سے یہ یقینی بن جائے کہ ہمیں اچھی شرائط پر معاہدہ مل گیا ہے جس پر ہم فوری طور پر عمل درآمد کرسکیں۔

ڈیموکریٹ اراکین کی اہمیت
ری پبلکنز اس معاملے پر متحد ہیں اور اس معاملے میں سب سے اہم کردار صدر اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین سینٹ کا ہوگا۔ان اراکین میں سے بہت سے ایران پر بھروسا نہیں کرتے ہیں اور ان کو خطرہ ہے کہ عالمی قوتوں کی جانب سے تصدیقی اقدامات پوری طرح سے کارگر نہیں ہیں۔ انہیں اسرائیل کی طاقتور لابنگ کا سامنا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اس معاہدے کو اپنے ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ جانتے ہیں۔بہت سے ڈیموکریٹ اس معاہدے میں ایران کے کردار پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں مگر وہ امریکی صدر کو اس قسم کی بڑی خارجہ پالیسی کے میدان میں شکست سے آشنا نہیں ہونے دیں گے۔

سعودی عرب یمن کے خلاف صیہونی ساخت کے ہتیھار استعمال کررہا ہے. یمن فوجی کمانڈر

02Apr15_SHاسرائیلی
SH_BU

یمن کے ایک فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ سعودی عرب یمنی عوام کے خلاف صیہونی ساخت کے ہتیھار استعمال کررہا ہے-
یمنی فوج کے ایک کمانڈر طاہر رسول ضدامی نے فارس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے خلاف جارحیت میں آل سعود کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا- انہوں نے سعودی جارحین کے مقابلے میں یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ اور دیگر عوامی انقلابی دھڑوں کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ جو بھی آج یمنی عوام کے خلاف اور جارحین کے ساتھ ہے، وہ جنگی مجرم ہے اور اس پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے- طاہر رسول ضدامی نے کہا کہ آل سعود، یمن میں القاعدہ تکفیری دہشتگردوں کی حمایت کررہی ہے لھذا یمنی عوام کو متحد رہ کر ان اقدامات کا مقابلہ کرنا چاہیے- واضح رہے کہ آل سعود اور اسکے پٹھو ملکوں نے سات دنوں سے یمن پر وحشیانہ حملے شروع کررکھے ہیں- آل سعود اور اسکے سامراجی اتحاد کےحملوں میں اب تک سو سے زائد یمنی شہید ہوچکے ہیں جن میں ساٹھ بچے بھی شامل ہیں-

حوثیوں کی ایرانی امداد پرعالمی طاقتوں نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا

Naitan Yahoo, Israel
AA_BU

ایران کو ڈھیل دیے جانے پرنیتن یاھو برس پڑے
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے عالمی طاقتوں کو یمن کے حوثیوں سے بروقت نمٹنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کومعلوم تھا کہ ایران یمنی شدت پسند حوثیوں کی مدد کررہا ہے لیکن اس کے باوجود اس اہم معاملے پر ’’چشم پوشی‘‘ اختیار کی جاتی رہی۔غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں نیتن یاھو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سوئٹرزلینڈ کے شہر لوزان میں ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات اور ممکنہ جوہری سمجوتہ ایران کے مفاد میں ہوگا۔ لوزان میں طے پایا کوئی بھی سمجھوتا ایران کو یمن میں مداخلت کی سزا سے بھی بچا لے گا۔
نیتن یاھو نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوزان سمجھوتے سے یہ تاثرپیدا ہوتا ہے کہ جارحیت کے مرتکب کو قیمت چکانے کے بجائے الٹا اسے ہرجانا دیا جاتا ہے۔ عالمی طاقتوں نے جس طرح ایران کے جوہری پروگرام پر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح تہران کی جانب سے یمنی حوثٰیوں کی ہر ممکن امداد سے بھی پہلو تہی اختیار کیے رکھی۔
انہوں نے کہا کہ مغرب اور ایران کے درمیان جوہری سمجھوتے کا سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہوگا۔ نیتن یاھو کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر عالمی برادری یمن میں حوثیوں کی بڑھتی سرگرمیوں پر خاموش کیوں رہی ہے۔ اب جب ایران نواز حوثی خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بننے لگے ہیں تو ان کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔