Category: حضرت امام علی نقی (علیہ السلام)۔

سامرہ: امام عسکری (ع) کے روضہ پر ہونے والے بم دھماکہ میں ایک پاکستانی زائر شہید

WP_03SN_BU

کل عراق کے شہر سامرا میں حرم عسکرین کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں پاکستانی زائر تحسین حیدر شھید ہوگئے تھے انکی تدفین وادی السلام نجف میں کی گئی، واضع رہے کہ عراق میں داعش کے دہشتگردوں نے ملک میں خونریزی کا ایک بازار گرم کیا ہواہے، جنت کی حوروں کی لالچ میں یہ معصوم عوام پر جا پھٹتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت امام نقی (علیہ اسلام) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0001_Title2

حضرت امام علی نقی (علیہ السلام)، حضرت امام محمد تقی((علیہ السلام) کے فرزند اور سلسلہ امامت کے دسویں امام ہیں

Kazmain_01

نام ونسب
اسم مبارک علی (علیہ السّلام) , کنیت ابوالحسن (علیہ السّلام) اور لقب نقی (علیہ السّلام) ہے چونکہ آپ سے پہلے حضرت علی مرتضٰی (علیہ السّلام) اور امام رضا (علیہ السّلام) کی کنیت ابو الحسن ہو چکی تھی- اس لئے آپ کو “الحسن ثالث” کہا جاتا ہے والدہ معظمہ آپ کی سمانہ خاتون تھیں

S_01

ولادت اور نشوونما
پانچ (5)رجب 214 ہجری کو مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی- صرف چھ(6) برس تک اپنے والد بزرگوار کے زیر سایہ زندگی بسر کی-اس کے بعد اس کمسنی کے عالم میں آپ اپنے والد بزرگوار سے جدا ہو گئے
IMG_1171
امام محمد تقی (علیہ السّلام) کو عراق کا سفر درپیش ہوا اور وہیں انتیس (29)ذیعقد 220 ہجری میں حضرت امام تقی (علیہ السّلام) کی شہادت ہو گئی- جس کے بعد امامت کی ذمہ داریاں امام علی نقی (علیہ السّلام) کے کاندھے پر آ گئیں- اس صورت میں سوائے قدرت کی آغوش تربیت کے اور کون سا گہوارہ تھا جسے آپ کے علمی اور عملی کمال کی بلندیوں کا مرکز سمجھا جا سکے

S_02

انقلابات سلطنت
حضرت امام علی نقی (علیہ السّلام) کے دور امامت میں معتصم کا انتقال ہوا اور واثق باللہ کی حکومت شروع ہوئی۔
S_03
۔236 ہجری میں واثق دنیا سے رخصت ہوا اور مشہور ظالم و سفاک دشمن اہل بیت (علیہ السّلام) متوکل تخت حکومت پر بیٹھا- 250 ہجری میں متوکل ہلاک ہوگیا۔
S_04
اور منتصر باللہ خلیفہ تسلیم کیا گیا- جو صرف چھ مہینہ سلطنت کرنے کے بعد مر گیا،اور مستعین بالله کی سلطنت قائم ہوئی .353 ہجری میں مستعین کو حکوت سے دست بردار ہو کر جان سے بھی ہاتھ دھونا بیٹھا اور معتز بالله بادشاہ ہوا . یہی امام علی نقی (علیہ السّلام) کے زمانے کااخری بادشاہ ہوا
/div>
S_05

الام ومصائب
معتصم نے خواہ اپنی ملکی پریشانیوں کی وجہ سے جواسے رومیوں کی جنگ اور بغداد کے دارالسلطنت میں عباسیوں کے فساد وغیرہ کی وجہ سے درپیش تھیں اور خواہ امام علی نقی (علیہ السّلام) کی کمسنی
کاخیال کرتے ہوئے حضرت نقی (علیہ السّلام) سے کوئی تعرض نہیں کیا
IMG_1168
اور آپ سکون واطمینان کے ساتھ مدینہ منورہ میں اپنے فرائض پورے کر نے میں مصروف رہے . معتصم کے بعد واثق نے بھی آپ کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا . مگر متوکل کاتخت سلطنت پر بیٹھنا تھا کہ امام علی نقی (علیہ السّلام) پر تکالیف کا سیلاب امڈ ایا۔
IMG_1175
یہ واثق کابھائی او معتصم کابیٹا تھا، اور الِ رسول کی دشمنی میں اپنے تمام اباواجداد سے بڑھا ہوا تھا . اس سولہ برس میں جب سے امام علی نقی (علیہ السّلام) منصب امامت پر فائز ہوئے تھے آپ کی شہرت تمام مملکت میں پھیل چکی تھی اور تعلیمات اہل بیت علیہ السّلام کے پروانے اس شمع ہدایت پر برابر ٹوٹ رہے تھے۔
IMG_1177
ابھی متوکل کی سلطنت کو چار برس ہوئے تھے کہ مدینے کے حکام عبدالله بن حاکم نے امام علیہ السّلام سے مخالفت کا اغاز کیا . پہلے تو خود حضرت کو مختلف طرح کی تکلیفیں پہنچائیں پھر متوکل کو آپ کے متعلق اسی طرح کی باتیں لکھیں جیسی سابق سلاطین کے پاس آپ کے بزرگوں کی نسبت ان کے دشمنوں کی طرف سے پہنچائی جاتی تھیں . مثلاً یہ کہ حضرت نقی (علیہ السّلام) اپنے گردو پیش اسباب سلطنت جمع کررہے ہیں،
IMG_1178
آپؑ کے ماننے والے اتنی تعداد میں بڑھ گئے ہیں کہ آپ جب چاہیں حکومت کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوسکتے ہیں- حضرت کو اس تحریرکی بروقت اطلاع ہوگئی اور آپ نے اتمام حجت کے طور پراسی کے ساتھ متوکل کے پاس اپنی جانب سے ایک خط تحریر فرما دیا جس میں حال مدینہ کی اپنے ساتھ ذاتی مخالفت کا تذکرہ اور اس کی غلط بیانیوں کا اظہار فرمایا تھا- متوکل نے ازاراہ سیاست امام علی نقی (علیہ السّلام) کے خط کو وقعت دیتے ہوئے مدینہ کے اس حاکم کو معزول کر دیا.
IMG_1179
مگر ایک فوجی رسالے کو یحیٰی بن ہرثمہ کی قیادت میں بھیج کر حضرت (علیہ السّلام) سے بظاہر دوستانہ انداز میں باصراریہ خواہش کی کہ آپ مدینہ سے درالسلطنت سامرا تشریف لا کر کچھ دن قیام فرمائیں اور پھر واپس مدینہ تشریف لے جائیں- امام (علیہ السّلام) اس التجا کی حقیقت سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے یہ نیاز مندانہ دعوت تشریف
آوری حقیقت میں جلا وطنی کا حکم ہے مگر انکار کا کوئی حاصل نہ تھا-
IMG_1180

جب کہ انکار کے بعد اسی طلبی کے انداز کا دوسری شکل اختیار کر لینا یقینی تھا- اور اس کے بعد روانگی ناگزیر تھی- بے شک مدینہ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہونا آپ کے قلب کے لئے ویسا ہی تکلیف دہ ایک صدمہ تھا جسے اس کے پہلے حضرت امام حسین (علیہ السّلام)، امام موسٰی کاظم (علیہ السّلام)، امام رضا (علیہ السّلام) اور امام محمد تقی (علیہ السّلام) آپ کے مقدس اور بلند مرتبہ اجداد برداشت کر چکے تھے- وہ اب آپ کے لئے ایک میراث بن چکا تھا- پھر بھی دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ مدینہ سے روانگی کے وقت آپ کے تاثرات اتنے شدید تھے جس سے احباب و اصحاب میں ایک کہرام برپا تھا- متوکل کا عریضہ بارگاہ امام (علیہ السّلام) میں بڑے اخلاص اور اشتیاق قدم بوسی کا مظہر تھا- فوجی دستہ جو بھیجا گیا تھا وہ بظاہر سواری کے تزک و احتشام اور امام (علیہ السّلام) کی حفاظت کا ایک سامان تھا مگر جب حضرت (علیہ السّلام) سامرہ میں پہنچ گئے اور متوکل کو اس کی اطلاع دی گئی تو پہلا ہی اس کا افسوسناک رویہ یہ تھا کہ بجائے امام (علیہ السّلام) کے استقبال یا کم از کم اپنے یہاں بلا کر ملاقات کرنے کے اس نے حکم دیا کہ حضرت کو »خاف الصعالیک« میں اتارا جائے,اس لفظ کے معنی ہی ہیں »بھیک مانگنے والے گداگروں کی سرائے« اس سے جگہ کی نوعیت کا پورے طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ شہر سے دور ویرانے میں ایک کھنڈر تھا- جہاں امام علیہ السّلام کو فروکش ہونے پر مجبور کیا گیا- اگرچہ یہ مقدس حضرات خود فقرائ کے ساتھ ہم نشینی کو اپنے لئے ننگ و عار نہیں سمجھتے تھے اور تکلیفات ظاہری سے کنارہ کش رہتے تھے مگر متوکل کی نیت تو اس طرز عمل سے بہرحال تحقیر کے سوااور کوئی نہیں تھی- تین دن تک حضرت کا قیام یہاں رہا- اس کے بعد متوکل نے آپ کو اپنے حاجب رزاقی کی حراست میں نظر بند کر دیا اور عوام کے لئے آپ سے ملنے جلنے کو ممنوع قرار دیا- وہی بے گناہی اور حقانیت کی کشش جو امام موسٰی کاظم علیہ السّلام کی قید کے زمانہ میں سخت سے سخت محافظین کو کچھ دن کے بعد آپ کی رعایت پر مجبور کر دیتی تھی اسی کا اثر تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد رزاقی کے دل پر امام علی نقی (علیہ السّلام) کی عظمت کا سکہ قائم ہو گیا اور وہ آپ کو تکلیف دینے کے بجائے آرام و راحت کے سامان بہم پہنچانے لگا مگر یہ بات زیادہ عرصہ تک متوکل سے چھپ نہیں سکتی تھی- اسے علم ہو گیا اور اس نے رزاقی کی قید سے نکل کر حضرت (علیہ السّلام) کو ایک دوسرے شخص سعید کی حراست میں دے دیا- یہ شخص بے رحم اور امام (علیہ السّلام) کے ساتھ سختی برتنے والا تھا- اسی لئے اس کے تبادلے کی ضرورت نہیں پڑی اور حضرت پورے بارہ برس اس کی نگرانی میں مقید رہے- ان تکالیف کے ساتھ جو اس قید میں تھے حضرت (علیہ السّلام) شب و روز عبادت الٰہی میں بسر کرتے تھے- دن بھر روزہ رکھنا اور رات بھر نمازیں پڑھنا معمول تھا- آپکا جسم کتنے ہی قید و بند میں رکھا گیا ہو مگر آپ کا ذکر چار دیواری میں محصور نہیں کیا جا سکتا تھا- نتیجہ یہ تھا کہ آپ تو تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مقید تھے مگر آپ کا چرچہ سامرے بلکہ شاید عراق کے ہر گھر میں تھا اور اس بلند سیرت و کردار کے انسان کو قید رکھنے پر خلق خدا میں متوکل کے مظالم سے نفرت برابر پھیلتی جا رہی تھی- اب وہ وقت ایا کہ فتح بن خاقان باوجود الِ رسول سے محبت رکھنے کے صرف اپنی قابلیت اپنے تدبر اور اپنی دماغی وعملی صلاحیوتوں کی بنا پر متوکل کاوزیر ہوگیا، تو اس کے کہنے سننے سے متوکل نے امام علی نقی (علیہ السّلام) کی قیدکو نظر بندی سے تبدیل کردیا اور آپ کو ایک مکان دے کر مکان تعمیر کرنے اور اپنے ذاتی مکان میں سکونت کی اجازت دے دی مگر اس شرط سے کہ آپ سامرے سے باہر نہ جائیں اور سعید آپ کی نقل وحرکت اور مراسلات وتعلقات کی نگرانی کرتا رہے گا . اس دور میں بھی امام علیہ السّلام کااستغنائے نفس دیکھنے کے قابل تھا، باوجود دارلسلطنت میں مستقل طور پر قیام کے نہ کبھی متوکل کے سامنے کوئی درخواست پیش کی نہ کبھی کسی قسم کے ترحم یا تکریم کی خواہش کی وہی عبادت وریاضت کی زندگی جو قید کے عالم میں تھی۔ ا س نظر بندی کے دور میں بھی رہی۔ جو کچھ تبدیلی ہوئی تھی وہ ظالم کے رویّہ میں تھی . مظلوم کی شان جیسے پہلے تھی ویسی ہی اب بھی قائم رہی۔ اس زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ امام کو بالکل ارام وسکون کی زندگی بسر کرنے دی جاتی . مختلف طرح کی تکالیف سے آپ کے مکان کی تلاشی لی گئی کہ وہاں اسلحہ ہیں یا ایسے خطوط ہیں جن سے حکومت کی مخالفت کاثبوت ملتا ہے حالانکہ ایسی کوئی چیز ملی نہیں مگر یہ تلاشی ہی ایک بلند اور بے گناہ انسان کے لیے کتنی باعث تکلیف چیز ہے اس سے بڑھ کر یہ واقعہ کہ دربار شاہی میں عین اس وقت آپ کی طلبی ہوتی ہے جب کہ شراب کے دور چل رہے ہیں . متوکل اور تمام حاضرین دربار طرب ونشاط میں غرق ہیں . اس پر طرہ یہ کہ سرکش, بے غیرت اور جاہل بادشاہ حضرت علیہ السّلام کے سامنے جامِ شراب بڑھا کر پینے کی درخواست کرتا ہے . شریعت اسلام کے محافظ معصوم (علیہ السّلام) کو اس سے جو تکلیف پہنچ سکتی ہے وہ تیر وخنجر سے یقیناً زیادہ ہے مگر حضرت نقی(علیہ السّلام) نے نہایت متانت اور صبروسکون کے ساتھ فرمایا کہ “مجھے ا س سے معاف کیجئے , میرا میرے اباواجداد کاخون اور گوشت اس سے کبھی مخلوط نہیں ہوا ہے.” اگر متوکل کے احساسات میں کچھ بھی زندگی باقی ہوتی تو وہ اس معصومانہ مگر صر شکوہ جواب کا اثر کرتا مگر اس نے کہا کہ اچھا یہ نہیں تو کچھ گانا ہی سنائیے۔حضرت نقی (علیہ السّلام) نے فرمایا میں اس فن سے بھی واقف نہیں ہوں .,, اخر اس نے کہا کہ آپ کو کچھ اشعار جس طریقے سے بھی آپ چاہیں بہرحال پڑھنا ضرور پڑھیں گے . کوئی جذبات کی رو میں بہنے والا انسان ہوتا تو اس خفیف الحرکات بادشاہ کے اس حقارت انگیز یاتمسخر امیز برتاؤ سے متاثر ہو کر شاید اپنے توازن دماغی کو کھو دیتا مگر وہ کوہ “حلم ووقار” امام (علیہ السّلام( کی ہستی تھی جو اپنے کردار کو فرائض کی مطابقت سے تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ دارتھی ,منہیات کے دائرہ سے نکل کر جب فرمائش اشعار سنانے تک پہنچی تو امام (علیہ السّلام) نے موعظہ وتبلیغ کے لیے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اپنے دل سے نکلی ہوئی پرُ صداقت اواز سے یہ اشعار پڑھنا شروع کردئے جنھوںنے محفل طرب میں مجلس وعظ کی شکل پیدا کردی . یا تو اعلٰی قلل الاجبال تحرسھم آرہے پہاڑ کی چوٹی پہ پہرے بٹھلا کر واستنز لوا بعد عز من معاقلھم بلند قلعوں کی عزت جو پست ہو کے رہی نادا ہم صارخ من بعد ماد فنوا صدا یہ ان کو دی ہاتف نے بعد دفن لحد این الوجوہ التی کانت مجعبة کہاں وہ چہرے ہیں جو تھے ہمیشہ زیر نقاب فافصح القبر عنھم حین سائلھم زبان حال سے بولے جواب میں مدفن قد طال ما اکلوا فیھا و ہم شربوا غذائیں کھائیں شرابیں جو پی تھیں حدے سوا غلب الرجال فما اغنتھم القلل بہادروں کی حراست میں بچ سکے نہ مگر الٰی مقابر ہم یا بکسما نزلوا تو کنج قبر میں منزل بھی کیا بری پائی این الاسیرة والتیجان والحلل کہاں ہیں تخت, وہ تاج اور وہ لباس جسد من دونھا تضرب الاستار و الکلل غبار جن پہ کبھی آنے دیتے تھے نہ حجاب تللک الوجوہ علیھا ادود تنتقل وہ رخ زمین کے کیڑوں کا بن گئے مسکن فاصبحوا بعد طول الاکل قد اکلوا نتیجہ اس کا ہے خود آج بن گئے وہ غذا اشعار کچھ ایسے حقیقی تاثرات کے ساتھ امام علیہ السّلام کی زبان سے ادا ہوئے تھے کہ متوکل کے عیش ونشاط کی بساط الٹ گئی۔ شراب کے پیالے ہاتھوں سے چھوٹ گئے اور تمام مجمع زارو قطار رونے لگا۔ یہاں تک کہ خود متوکل ڈاڑھیں مار مار کر بے اختیار رو رہا تھا۔ جوں ہی ڈارا ناموقوف ہوا اس نے امام (علیہ السّلام) کو رخصت کر دیا اور آپ اپنے مکان پر تشریف لے گئے . ایک اورنہایت شدید روحانی تکلیف جو امام علیہ السّلام کو اس دور میں پہنچی وہ متوکل کے تشدّد احکام تھے جو نجف اور کربلا کے زائرین کے خلاف ا س نے جاری کیے۔ اس نے یہ حکم دان تمام قلم رو حکومت میں جاری کردیا کہ کوئی شخص جناب امیر (علیہ السّلام) اور امام حسین (علیہ السّلام) کے روضوں کی زیارت کو نہ جائے جو بھی اس حکم کی مخالفت کرے گا اس کا خون حلال سمجھا جائے گا- اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے حکم دیا کہ نجف اور کربلا کی عمارتیں بالکل گرا کر زمین کے برابر کردی جائیں۔ تمام مقبرے کھود ڈالے جائیں اور قبر امام حسین (علیہ السّلام) کے گرد وپیش کی تمام زمین پر کھیت بودیئے جائیں . یہ ناممکن تھا کہ زیارت کے امتناعی احکام پر اہل بیت رسول کے جان نثار اسانی کے ساتھ عمل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے . نتیجہ یہ ہوا کہ اس سلسلہ میں ہزاروں بے گناہوں کی لاشیں خاک وخون میں تڑپتی ہوئی نظر آئیں۔ کیا اس میں شک ہے کہ ان میں سے ہر ایک مقتول کا صدمہ امام (علیہ السّلام) کے دل پر اتنا ہی ہوا تھا جتنا کسی اپنے ایک عزیز کے بے گناہ قتل کیے جانے کاحضرت نقی(علیہ السّلام) کو ہوسکتا تھا۔ پھر آپ تشدّد کے ایک ایسے ماحول میں گھیر رکھے گئے تھے کہ آپ وقت کی مناسبت کے لحاظ سے ان لوگوں تک کچھ مخصوص ہدایات بھی نہیں پہنچاسکتے تھے۔ جو ان کے لیے صحیح فرائض شرعیہ کے ذیل میں اس وقت ضروری ہوں یہ اندوہناک صورتِ حال ایک دوبرس نہیں بلکہ متوکل کی زندگی کے اخری وقت تک برابر قائم رہی۔ اور سنیئے کہ متوکل کے دربار میں حضرت امیر المومنین علی (علیہ السّلام) بن ابی طالب (علیہ السّلام) کی نقلیں کی جاتی تھی اور ان پر خود متوکل اور تمام اہل دربار ٹھٹے لگاتے تھے . یہ ایسا اہانت امیز منظر تھا کہ ایک مرتبہ خود متوکل کے بیٹے سے رہا نہ گیا . اس نے متوکل سے کہا کہ خیر آپ اپنی زبان سے حضرت علی (علیہ السّلام) کے بارے میں کچھ الفاظ استعمال کریں مگر جب آپ کو ان کا عزیز قرار دیتے ہیں تو ان کم بختوں کی زبان سے حضرت علی (علیہ السّلام) کے خلاف ایسی باتوں کو کیونکر گوارا کرتے ہیں اس پر بجائے کچھ اثر لینے کے متوکل نے اپنے بیٹے کافحش امیز تمسخر کیا اور دو شعر نظم کرکے گانے والوں کو دئیے جس میں خود اس کے فرزند کے لیے ماں کی گالی موجود تھی . گویّے ان شعروں کو گاتے تھے اور متوکل قہقے لگاتا تھا اسی دور کا ایک واقعہ بھی کچھ کم قابل افسو س نہیں ہے ابن السکیت بغدادی علم نحوولغت کے امام مانے جاتے تھے اور متوکل نے اپنے دو بیٹوں کی تعلیم کے لیے انھیں مقرر کیا تھا . ایک دن متوکل نے ان سے پوچھا کہ تمھیں میرے ان دونوں بیٹوں سے زیادہ محبت ہے یا حسن علیہ السّلام وحسین علیہ السّلام سے ابن السکیت محبت اہل بیت (علیہ السّلام) رکھتے تھے اس سوال کو سن کر بیتاب ہوگئے اور انھوں نے متوکل کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بے دھڑک کہ دیا کہہ حسن (علیہ السّلام) وحسین (علیہ السّلام) کا کیا ذکر،مجھے تو علی (علیہ السّلام) کے غلام قمبررض کے ساتھ ان دونوں سے کہیں زیادہ محبت ہے۔اس جواب کا سننا تھا کہ متوکل غصّے سے بیخود ہوگیا , حکم دیا کہ ابن السکیت کی زبان گدی سے کھینچ لی جائے۔ یہی ہو اور اس طرح یہ ال ُ رسول کے فدائی درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ان واقعات کابراہ راست جسمانی طور پر حضرت امام علی نقی (علیہ السلام) سے تونہ تھا مگر بخدا ان کی ہر ہر بات ایک تلوار کی دھار تھی جو گلے پر نہیں دل پر چلا کرتی تھی، متوکل کاظالمانہ رویّہ ایسا تھا جس سے کوئی بھی دور یا نزدیک کا شخص ا س سے خوش یامطمئن نہیں تھا۔ حدیہ ہے کہ اس کی اولاد تک اس کی جانی دشمن ہوگئی تھی۔ چنانچہ اسی کے بیٹے منتصر نے ا س کے بڑے مخصوص غلام باغر رومی کو ملا کر خود متوکل ہی کی تلوار سے عین اس کی خواب گاہ میں اس کو قتل کرادیا۔ جس کے بعد خلائق کو اس ظالم انسان سے نجات ملی اور منتصرکی خلافت کا علان ہوگیا۔ منتصر# نے تخت حکومت پر بیٹھتے ہی اپنے باپ کے متشد انہ احکاکم کو یکلخت منسوخ کردیا. نجف اور کربلا زیارت کے لیے عام اجازت دے دی اور ان مقدس روضوں کی کسی حد تک تعمیر کرادی۔ امام علی نقی (علیہ السّلام) کے ساتھ بھی اس نے کسی خاص تشدد کا مظاہرہ نہیں کی مگر منتصر کی عمر طولانی نہیں ہوئی . وہ چھ مہینہ کے بعد دنیا سے اٹھ گیا منتصر کے بعد مستعین کی طرف سے امام (علیہ السّلام) کے خلاف کسی خاص بدسلوکی کا برتاوؤ نظر نہیںاتا۔

شہادت حضرت امام نقی (علیہ السلام)۔
امام نقی(علیہ السّلام) نے چونکہ سامرہ میں مکان بنا کر مستقل قیام اختیار فرمالیا تھا۔ اس لئے یا تو خود آپ ہی نے مناسب نہ سمجھا یا پھر ان بادشاہوں کی طرف سے آپ کے مدینہ واپس جانے کو پسند نہیں کیا گیا ہو . بہر حال جو بھی وجہ ہو قیام آپ کا سامرہ ہی میں رہا۔ اتنے عرصے تک حکومت کی طرف سے مزاحمت نہ ہونے کی وجہ سے علوم اہلبیت (علیہ السّلام) کے طلب گارذرا اطمینان کے ساتھ کثیر تعداد میںاپ سے استفادہ کے لیے جمع ہونے لگے جس کی وجہ سے مستعین کے بعد معتز کو پھر آپ سے صر خاش پیدا ہوئی اور حاکم وقت کے زہر نے آپ کی زندگی ہی کاخاتمہ کردیا