سنجار میں یزیدیوں کی لوٹ مار، مسجد اور مکانات نذرآتش

November 16, 201516Nov15_AA سنجر01al-Arabia

یزیدیوں نے سنی عربوں کے متعدد مکانوں کو لوٹنے کے بعد آگ لگادی
عراق کے شمالی قصبے سنجار میں یزیدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے بلوائیوں نے مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کرنا شروع کردیا ہے اور انھوں نے ایک مسجد کو بھی شہید کردیا ہے۔عراق کے خود مختار علاقے کردستان سے تعلق رکھنے والی سکیورٹی فورسز البیشمرکہ اور یزیدی مسلح ملیشیا نے امریکی اتحادیوں کی فضائی مدد سے جمعہ کے روز سنجار پر دوبارہ قبضہ کیا تھا اور وہاں سے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجو شکست کے بعد راہِ فرار اختیار کرگئے تھے۔داعش نے گذشتہ سال اگست میں اس قصبے پر قبضہ کیا تھا اور وہاں یزیدی فرقے کی خواتین اور مردوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔انھوں نے مردوں اور عورتوں کو بڑی تعداد کو قتل کردیا تھا اور عورتوں کو باندیاں بنا لیا تھا۔یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ قصبے کے بعض مکینوں نے داعش کے جنگجوؤں کو یزیدی فرقے کی نشان دہی میں مدد دی تھی۔

داعش کے اس قصبے پر قبضے کے بعد بعض مکینوں نے اپنے مکانوں کے بیرونی دروازوں پر لفظ ”سُنی” لکھ دیا تھا تا کہ وہ کسی قسم کی کارروائی سے بچے رہیں۔اب ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے انہی مکانوں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کیا گیا ہے جن کے باہر لفظ سُنی لکھا ہوا تھا۔اس عینی شاہد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ یزیدیوں نے قصبے میں ایک مسجد کو بھی جلا دیا ہے اور اس نے خود یہ جلی ہوئی مسجد دیکھی ہے۔ایک اور عینی شاہد نے بھی اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ یزیدی مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنے کے بعد نذرآتش کررہے ہیں۔

لیکن دوسری جانب کرد سکیورٹی فورسز البیشمرکہ کے سنجار میں کمانڈر نے مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار اور انھیں نذرآتش کیے جانے کی اطلاعات سے انکار کیا ہے جبکہ ان بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔یادرہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوری میں سنجار کے شمال میں واقع سنی عربوں کی آبادی والے دو دیہات پر یزیدی مسلح لشکریوں کے حملوں کی اطلاع دی تھی۔انھوں نے اکیس افراد کو ہلاک کردیا تھا اور متعدد گھروں کو جلا دیا تھا۔

عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران داعش سے واپس لیے گئے دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی لُوٹ مار اور املاک کو نذرآتش کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ عراق میں جاری خانہ جنگی ان واقعات کے بعد نسلی اور فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرسکتی ہے اور اس سے تشدد کو تقویت مل سکتی ہے۔واضح رہے کہ یزیدی بھی نسلی اعتبار سے کرد ہیں مگر شمالی عراق میں مسلمانوں کی آمد کے بعد انھوں نے دین اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اپنے قدیم مذہب ہی پر قائم رہے تھے۔یزیدی شمالی عراق میں چند قصبوں اور دیہات میں آباد ہیں۔داعش کے ہاتھوں یزیدیوں کی بڑی تعداد کی ہلاکتوں کو اقوام متحدہ نے نسل کشی سے تعبیر کیا تھا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s