’کیا آپ نے مناسب لباس پہن رکھا تھا؟

November 02, 201502Nov15_BBC لباس01BBC

مصر میں ہزاروں لوگ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے مبینہ واقعے کا شکار ہونے والی خاتون پر نامناسب لباس پہننے کاالزام لگانے والی ٹیلی ویژن میزبان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
مذکورہ ٹی وی پروگرام کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اس کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب یہ پُرتشدد واقعہ کلوز سرکٹ ٹی وی پر ریکارڈ ہوا۔ شاپنگ مال کی ریکارڈنگ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مرد اور خاتون ایک دوسرے سے بحث کرتے ہوئے کیمرے کے فریم میں داخل ہوتے ہیں، اور قبل اس کے کہ شاپنگ مال کے سکیورٹی اہلکار یا ارد گرد موجود لوگ انھیں روکیں، مرد اچانک خاتون کو تھپڑ مار دیتا ہے۔ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کی جانب سے پولیس میں مرد کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت درج کروائی گئی تھی۔تاہم مقامی پولیس کی جانب سے انھیں گرفتار نہیں کیا گیا جس کے بعد خاتون اپنا کیس عوام کی عدالت میں لے گئیں اور ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر پوسٹ کردی۔ اس ویڈیو کو اب تک تقریباً پانچ لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
02Nov15_BBC لباس02خاتون کئی ٹیلی وژن پروگراموں میں بھی شریک ہوچکی ہیں جن میں انھوں نےالزام لگایا ہے کہ ان پر مبینہ طور پر حملہ کرنے والے شخص اس علاقے کی مشہور شخصیت ہیں اور اسی وجہ پولیس نے انھیں گرفتار نہیں کیا۔تاہم ان میں سے کوئی بھی بات مصری باشندوں کی جانب سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کا سبب نہیں تھی۔

بلکہ جو واقعہ انٹرنیٹ پر وائرل ہوا وہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ خاتون نے (خاتون کا نام یہاں آن لائن برے برتاؤ کے باعث نہیں بتایا جا رہا) اشتعال دلانے والی ٹی وی میزبان ریحام سعید کو انٹرویو دیا۔ دوران گفتگو سعید کی جانب سے خاتون پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ خاتون کا لباس ان پر حملے کی وجہ بنا تھا۔

ریحام سعید نے اپنی مہمان سے پوچھا کہ ’کیا آپ کے خیال میں کیا آپ نے مناسب لباس پہن رکھا تھا؟‘ (شاپنگ مال کی سی سی ٹی وی ویڈیو ریکارڈنگ میں خاتون نے جینز اور بغیر آستین کے قمیض پہن رکھی ہے)۔ میزبان خاتون وہیں نہیں رکیں بلکہ انھوں نے اس کے بعد ان خاتون کی پرانی تصاویر بھی دکھائیں اور ان پر ’عریاں لباس‘ پہننے کا الزام لگایا۔ مثال کے طور پر ایک تصویر میں خاتون کو بِکینی میں دکھایا گیا تھا۔
02Nov15_BBC لباس03جمعے کے روز ٹی وی نیٹ ورک کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ریحام سعید کا پروگرام عارضی طور پر بند رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق پروگرام کو اشتہارات کے بائیکاٹ کا سامنا ہے۔تصاویر کسی بھی طرح حاصل کی گئی ہوں لیکن آن لائن کئی مصری شہری خواہ وہ اعتدال پسند ہوں یا قدامت پسند، ریحام سعید کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ تشدد اور ہراساں کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی تھیں۔اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 99 فیصد سے بھی زائد یعنی تقریباً تمام مصری خواتین کو کسی نہ کسی قسم کے جنسی ہراسانی کے تجربے کا سامنا ہوتا ہے۔ جون سنہ 2013 میں حکومت کی جانب سے جنسی تشدد کے تدارک کے لیے نئی سزاؤں پر مشتمل قانون متعارف کروایا گیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s