شادی کے انتظار میں بیٹھے’بیکار نوجوان

November 02, 201502Nov15_BBC شادی01BBC

آج کل دنیا بھر میں لڑکے لڑکیاں اسی کوشش میں ہیں کہ وہ جلد از جلد اتنی رقم اکھٹی کر لیں کہ اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیں، شادی کریں، بچے پیدا کریں اور اپنا گھر بسا لیں۔ یہ لڑکے لڑکیاں اب بچّے نہیں رہے اور نہ ہی انھیں بالغ سمجھا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ ’انتظار کے برسوں‘ میں پھنس چکے ہیں۔
’جب آپ مصر یا اس خطے کے دیگر ممالک میں شادی کرتے ہیں تو آپ کا گھر مکمل دکھائی دیتا ہے اور لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ آپ کے باورچی خانے میں تمام مصالحہ جات بھی موجود ہوتے ہیں، آپ کے گھر میں گلاس بھی ہوتے ہیں، فرنیچر بھی ہوتا ہے، اگر آپ دولت مند ہوں تو آپ کو نوکر نوکرانی کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے، اور آپ کے لیے ہر چیز سجی سجائی ہوتی ہے۔‘
سنہ 1990 کی دہائی میں امریکی ماہرِ سیاسیات ڈیان سِنگرمین قاہرہ میں خاندانی سیاست کے موضوع پر تحقیق کر رہی تھی تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ جن لوگوں سے سوالات کر رہے تھیں، ان کی اکثریت کو ایک ہی مسئلے کا سامنا تھا، اور وہ یہ کہ شادی کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔
بات صرف شادی کے دن کے اخراجات کی نہیں، بلکہ شادی کے لیے ’اچھا لڑکا‘ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دولہا اور اس کے والدین کے پاس اتنے پیسے ہونے چاہئیں کہ وہ دلہن کو اچھا جہیز دیں اور اس کے لیے زیورات بھی خرید سکیں۔اس کے علاوہ انھیں ایک مکان بھی تلاش کرنا ہوتا ہے اور اسے اتنے آرائشی ساز وسامان سے بھرنا ہوتا ہے جو ایک شادی شدہ جوڑے کی تمام ضروریات کو پورا کر سکے۔
سِنگرمین کے مطابق انھوں نے جب تمام اخراجات کو جمع کیا تو معلوم ہوا کہ مصر میں اوسط شادی کے لیے آپ کو 21,194 مصری ڈالر (یا چھ ہزار برطانوی پاؤنڈ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنہ 1999 کے اعداد وشمار کے مطابق یہ رقم ایک اوسط درجے کے مصری خاندان کے سالانہ اخراجات سے تقریباً اڑہائی گنا زیادہ بنتی ہے۔
02Nov15_BBC شادی02
اور اگر آپ اسے اس تناظر میں دیکھیں کہ مصر میں نوجوانوں میں بیروزگاری کا تناسب بہت زیادہ ہے، تو مصر میں شادی کرنا تقریباً ایک ناممکن کام بن جاتا ہے۔ سنگرمین کے بقول اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ایک قدرے غریب نوجوان اور اس کے والد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سات سال تک بچت کرتے رہیں اور ان سالوں میں اپنی کمائی کا ایک دھیلہ بھی کسی دوسرے کام پر خرچ نہ کریں۔سنگرمین کے بقول ’مجھے معلوم ہوا کہ مصر میں نوجوانوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ ان کے پاس شادی کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن اس کے علاوہ انھیں کئی دیگر مسائل کا بھی سامنا تھا۔‘

’ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں پر نفسیاتی دباؤ تھا۔ چونکہ مصر میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو اب بھی بہت بُرا سمجھا جاتا ہے، نتیجتاً مستقبل کے دولہا اور دلہن کے لیے شادی سے پہلے کے دس سال تنہائی اور اکیلے پن کے سال ثابت ہوتے ہیں۔

لیکن شادیوں میں تاخیر کے اثرات معاشی اور رومانی مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ سنگر مین کہتی ہیں کہ ’مصر میں جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی نوجوان اپنے والدین کے گھر میں ہی رہتے ہیں اور انھیں اس وقت تک بالغ نہیں تصور کیا جاتا جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی۔ خاص طور خواتین کے معاملے میں یہی ہوتا ہے۔‘

لیکن چونکہ یہ نوجوان بچًے نہیں ہوتے ، اسی لیے سنگرمین نے شادی سے پہلے کے انتظار کے طویل برسوں کے لیے چائیلڈ ہُُڈ، ایڈلٹ ہُڈ کے وزن پر ایک نیا لفظ متعارف کرایا، ’ویٹ ہُڈ‘ یعنی ’انتظار کی عمر‘۔
02Nov15_BBC شادی03
سنگرمین نے مصری نوجوانوں کے حوالے سے ’انتظار کے سال‘ کے الفاظ پہلی مرتبہ سنہ 2007 میں استعمال کیے۔ اگرچہ بعد کے برسوں میں اس بات کے ثبوت بھی منظر عام پر آئے ہیں کہ اب مصری نوجوان قدرے جلدی شادی کرنے لگے ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سنگرمین کے بعد اب دنیا بھر کے ماہرین میں سنگرمین کی دی ہوئی یہ نئی تعریف بہت مقبول ہو گئی ہے۔ اب یہ ماہرین دنیا کے مخلتف ممالک اور تہذیبوں میں بسنے والے نوجوانوں کو ’انتظار کے سالوں ‘ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہر ملک میں لوگوں نے ایسے نوجوانوں کو مختلف نام دے رکھے ہیں، جن میں سے اکثر نام ایسے ہیں جن میں شادی کے انتظار میں پڑے ہوئے نوجوانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔

اٹلی میں 20 اور 30 سال کی عمر کے ان نوجوانوں کو جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں ’بمبوسیانو‘ ( بڑی چوسنی والے بچے) کا لقب دیا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد واپس اپنے ماں باپ کے گھر آ جانے والے لڑکوں کو ’یو یو نسل‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جاپان میں ایسے نوجوانوں کو ’فریٹرز‘ اور امریکہ میں ان نوجوانوں کو ’سلیکرز‘ یا ’ڈھیلے‘ کہا جاتا ہے جو ’کوئی ڈھنگ کی نوکری‘ نہیں کرتے۔

اگرچہ مخلتف ممالک میں سرکاری ادارے کسی کے بالغ ہونے کا معیار اس کے 18 یا 21 برس کے ہونے کو سمجھتے ہیں لیکن مختلف تہذیبوں میں کسی کے بالغ ہونے کے معیار مختلف ہیں۔ مشسرق وسطیٰ میں آپ کی بلوغت کا معیار یہ ہے کہ آپ کی شادی ہوئی ہے یا نہیں جبکہ شمالی یورپ میں آپ کو بالغ تب سمجھا جاتا ہے جب آپ اپنے والدین کا گھر چھوڑ جاتے ہیں۔

موزمبق، جنوبی افریقہ، سینیگال اور تیونس میں نوجوانوں کے ’انتظار کے برسوں‘ پر تحقیق کرنے والی ماہرِ بشریات السینڈا ہونوانا کہتی ہیں کہ افریقہ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان برسوں میں پھنسی رہتی ہے، لیکن وہ اس سے اتفاق نہیں کرتیں کہ ان برسوں میں نوجوان بیکار پڑے رہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کرتے۔

’میں نے دیکھا ہے کہ اگرچہ یہ عرصہ نوجوانوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ ان کی زندگی کا وہ حصہ ہوتا ہے جب ان کی تخلیقی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں، کیونکہ ان برسوں میں والدین کے ساتھ زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں زمانے کے ساتھ چلنے کا ڈھنگ بھی سیکھ لیتے ہیں۔‘
02Nov15_BBC شادی04اس حوالے سے السینڈا ہونوانا ان نوجوانوں کی مثال دیتی ہیں جو شادی سے پہلے کے برسوں میں غیر رسمی (اِنفارمل) معیشت میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، بیرونِ ملک جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور ان انقلابی تحریکوں میں شامل ہونے کو تیار ہوتے ہیں جو ناکام معاشی پالیسیوں اور بد دیانت حکومتوں کے خلاف چلتی ہیں۔

سنہ 2011 میں عرب دنیا میں تبدیلی کی جو تحریک ’عرب سپرنگ‘ چلی، اس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت ایسے افراد کی تھی جو جوان تھے، پڑھے لکھے تھے مگر معاشرے سے کٹے ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں کے پاس فارغ وقت کی کمی نہیں تھی۔گزشتہ ایک دہائی میں ایسے مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے جن میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، چاہے یہ مظاہرے موزمبیق میں ہو رہے ہوں یا یونان اور برطانیہ میں۔

سنِگرمین کے خیال میں مشرقِ وسطی میں نوجوانوں کے بیرونِ ممالک جا کر ملازمت کرنے کا ایک بڑا مقصد بھی اپنی شادی کے لیے رقم اکھٹی کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عروج کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نوجوانوں کو شادی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے جن نوجوانوں کو بھرتی کرنا چاہتی ہے، انھیں بیویوں کا لالچ بھی دیا جاتا ہے۔ اسی لیے شام اور عراق کے ان علاقوں میں جہاں مختلف گروہ لڑ رہے ہیں، وہاں سے خواتین اور نوجوانوں لڑکیوں کے ریپ کیے جانے کی اطلاعات مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔

ان منفی نتائج کے علاوہ، سنگرمین کے خیال میں ’ انتظار کی عمر‘ کے کچھ فوائد بھی ہیں۔’اب لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں، کالجوں میں جا رہی ہے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔یوں یہ لڑکیاں نہ صرف مالی طور پر زیادہ آزاد ہو رہی ہیں بلکہ اب شادی پر بھی ان کا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔‘

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s