اللاذقیہ پر روسی بمباری، جیش الحر کا بھاری جانی نقصان

October 20, 2015
20Oct15_AA شام01al-Arabia

شام میں انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والی ‘آبزرویٹری’ نے بتایا ہے کہ اللاذقیہ میں اپوزیشن کے زیر نگین علاقوں پر روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے 45 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں شام کی جیش الحر کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔ادھر ‘شام لائیو’ نامی نیوز نیٹ ورک نے بتایا کہ روس کے لڑاکا طیاروں کی اپوزیشن جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے شامی علاقے اللاذقیہ کے نواح میں واقع ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے 12 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب حلب کے قریب متمرکز شامی اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ جنگجوؤں نے بتایا کہ انہیں امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی امدادی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔’شام لائیو’ نیٹ ورک نے بتایا کہ روسی فوج نے اپوزیشن کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف بارود سے لدے ہلکے طیارے جان بوجھ کر استعمال کئے۔ ادھر یو این ذرائع نے بتایا ہے کہ حلب کے علاقے میں جنگی صورتحال میں تیزی کے بعد علاقے سے 30 ہزار افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔روس کی شام پر بمباری کو بیس دن ہو چکے ہیں۔ اس بمباری کا مقصد اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ طاقت کا توازن بشار الاسد کے حق میں تبدیل کیا جا سکے۔ شامی حکومت بعض مبصرین کی رائے میں اب تک میدان جنگ میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے سے قاصر چلی آ رہی ہے۔’شام لائیو’ نیٹ ورک نے مزید بتایا کہ روسی بمباری میں جیش الحر کے 12 جنگجوؤں کی ہلاکت دراصل فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے جبل الترکمان میں ایک اجلاس کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ اس بمباری میں جیش الحر کے اس اہم یونٹ کے متعدد سرکردہ کمانڈر بھی ہلاک ہوئے۔ادلب کے نواح سے فیلڈ ذرائع نے بتایا کہ روسی فوج نے تحریک احرار الشام کے معرہ النعمان شہر میں متعدد ٹھکانوں پر بارود سے بھرے چھوٹے طیارے گرائے ہیں جس کے نتیجے میں تنظیم کے متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے ساتھ شامیرضاکاروں نے سوشل میڈیا میں ایسی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں جن میں روسی پرچم والی ایک انفنٹری کیرئر کو باغی حماہ کے نواحی گاؤں المنصرہ کے قریب نشانہ بناتے دیکھے جا سکتے ہیں۔شام میں روس اور ایران کی مداخلت کے جواب میں سامنے آنے والے ردعمل میں اپوزیشن نے بتایا کہ حلب کے قریب متمرکز ان کے جنگجوؤں کو امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی امدادی کھیپ موصول ہوئی ہے۔اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نئی کھیپ پہنچنے کے باوجود یہ امداد ناکافی ہے کیونکہ حلب کو سرکاری فوج کے ایک بڑے حملے کا سامنا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s