چینی، برطانوی اور افغان خواتین کی ناقابل یقین کہانیاں

October 19, 2015
19Oct15_AA حیرت01al-Arabia

ہر گذرتے لمحے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی لاکھوں خبریں سامنے آتی اور پرانی نئی خبروں کے بوجھ تلے دبتی چلی جاتی ہیں۔ مگر بعض ایسے محیر العقول واقعات خبروں کی شکل میں ایسے بھی سامنے آتے ہیں کہ انہیں کسی طور پر فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایسے ہی تین واقعات کو رپورٹ کی شکل میں مرتب کیا جن کے مبنی بر حقیقت ہونے میں کوئی کلام نہیں مگر انسانی عقل اس پر یقین کرنے میں تامل سے کام لیتی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تین ناقابل یقین خبروں میں پہلی خبر ایک 62 سالہ چینی خاتون کی ہے جو ایک ایسی انوکھی بیماری میں مبتلا ہے جس کے باعث وہ بولنے اور لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ مگر اس نے اپنی اس جسمانی معذوری کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اگر وہ بول نہیں سکتی یا ہاتھ سے لکھ نہیں سکتی مگر اس نے آنکھوں کے اشاروں کو ہاتھ اور قلم بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔

اس کے برعکس ایک دوسری حقیقی کہانی ایک برطانوی خاتون کی ہے جو ترکی سے عراق کے صوبہ کردستان جانے والی پرواز چھوٹنے پر اتنی دلبرداشتہ ہوئی کہ اس نے خودکشی کر لی۔ تیسری خبر بھی پہلی اسٹوری کی طرح سراپا ہمت افغانی لڑی کی ہے جو جرات اور حوصلے کی ایک زندہ مثال ہے۔ افغان لڑکی نابینا ہونے کے باوجود کابل سے نشریات پیش کرنے والے ایک ٹی وی ٹاک شو کی میزبان ہے۔

آنکھوں کے اشاروں سے کتاب کی تالیف
برطانوی اخبار “دی ٹائمز” نے بھی یہ تینوں واقعات اپنی ایک رپورٹ میں شائع کیے ہیں۔ رپورٹ میں چینی خاتون گونگ ژین ھو” کا تذکرہ بھی ہے جس نے آنکھوں کے اشاروں سے کتاب تالیف کی۔ گونگ ایمی او ٹراپک لیٹرل سیروسزنامی ایک اعصابی مرض کی شکار ہیں، جو بول سکتی ہے اور نہ اس کے ہاتھ کام کرتے ہیں تاہم اس کا دماغ سلامت ہے۔ بالکل جسمانی طور پر مفلوج اور مشلول معروف طبیعات دان ‘اسٹیفن ہوکینگ’ کی طرح جو ایک وہیل چیئر پر نصب جدید ترین کمپیوٹرائز مواصلاتی نظام اور وہیل چیئر کو اپنے ہاتھوں سے نہیں بلکہ دماغ سے کنٹرول کرتا ہے۔ اسٹیفن ہوکینگ کا جسم بھی مفلوج ہے۔ حتیٰ کہ وہ بات بھی نہیں کر سکتا، مگر اس کے سائنسی تجربات اور سائنس کی دنیا میں پیشن گوئیوں کو دنیا مانتی ہے۔
19Oct15_AA حیرت02
آنکھ کے اشاروں سے کتاب تالیف کرنے والے چینی شہری بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں اور کئی سال تک انہوں نے طب کی دنیا میں بطور سرجن خدمات انجام دیں۔ اس وقت ان کی عمر 62 سال ہے مگر 13 سال سے وہ اس پراسرار بیماری کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔ وہ صرف آنکھ کے اشاروں کنایوں سے مافی الضمیر کے اظہار کا کام لیتی ہیں۔ چین کے سی سی ٹی وی نیوز نے بھی اس کی ایک فوٹیج نشر کی جس میں اسے آنکھ کے اشاروں سے کمپیوٹر پر حروف لکھنے،حروف کو الفاظ میں متشکل اور ان کے جملے بناتے دکھایا گیا۔ وہ روزانہ صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک ایک کرسی پر بیٹھے آنکھ کے اشاروں سے کتاب تالیف کرتی رہیں اور 13 ماہ میں روزانہ 3000 حروف کے تناسب 318 صفحات پر محیط کتاب لکھی۔ مجموعی طور پر اس عرصے میں اس نے آنکھ کے اشاروں سے ڈیڑھ لاکھ الفاظ لکھے۔آنکھ کے اشاروں سے حروف کو جوڑ کر کتاب کی تالیف کوئی معمولی کام نہیں مگر چین کی معمر خاتون نے اسے بھی ممکن کر دکھایا۔ اپنی کتاب کے لیے اس نے “مفلوج خوبصورت شخص” کا عنوان چنا۔ کتاب کے دیباچے میں وہ رقمطراز ہیں کہ آنکھ کے اشاروں سے کتاب لکھ کر میں نے ان لوگوں کو حوصلہ دیا ہے جو باصلاحیت ہونے کے باوجود کسی نہ کسی جسمانی عارضے یا معذوری کا شکار ہیں۔

پرواز چھوٹنے پر خودکشی

چینی خاتون غونگ [گونگ] کی ہمت افزاء داستان کے ساتھ ایک ایسی خبر بھی سامنے آئی جس میں ایک خاتون نے محض اس لیے خود کشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا کہ وہ جس پرواز پر سفر کرنا چاہتی تھی وہ اس کے ہوائی اڈے پر تاخیر سے پہنچنے کے باعث روانہ ہو چکی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ خبر”بی بی سی” سے منسلک ایک سابق صحافیہ جیکی سٹن کی ہے جو ان دنوں عراق میں انسٹیٹیوٹ آف وار اینڈ پیس کی ڈائریکٹر تھیں۔ کاش نے اس نے چینی غونگ کی ہمت اور حوصلے پر مبی کاوش کا احوال پڑھا ہوتا تو شاید یہ انتہائی خطرناک قدم نہ اٹھاتی۔

اخبار “دی ٹائمز” کے مطابق جیکی نے چند روز قبل ترکی کے “اتا ترک” بین الاقوامی ہوائی اڈے سے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے کی ایک پرواز کے ذریعے عراق کے صوبہ کردستان کے صدر مقام اربیل جانا تھا۔ مگر بہ وجوہ وہ اس ہوائی جہاز کی روانگی سے قبل ہوائی اڈے نہ پہنچ سکی۔
19Oct15_AA حیرت03

رپورٹ میں بتایا گہا ہے کہ جیکی سوٹون جب اتا ترک ہوائی اڈے پہنچی تو اس کی پرواز روانہ چکی تھی۔ اس نے عراق میں اپنے ادارے سے رابطہ کر کے انتظامیہ کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ اسے دوسری پرواز کے لیے نئی ٹکٹ خرید کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس نے جیپ میں دیکھا تو نئی ٹکٹ کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ وہ وہیں سے ہوائی اڈے کے ایک ٹوائلٹ میں گئی اور اپنے جوتوں کے تسمے نکال کر ان کا پھندا بنایا اور دروازے کے ساتھ لٹک کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ برطانوی خاتون کے اس اقدام کو ترک اور مغربی اخبارات نے غیر معمولی کوریج دی ہے اور اس پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جیکی ماضی میں بی بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ساتھ کام کرنے ساتھ ساتھ عراق میں “آئریکس” نامی تنظیم کی پروگرام ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔ گذشتہ مئی میں عراق میں عمار الشابندر اور اس کے ساتھیوں کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد اسے انسٹیٹوٹ آف وار اینڈ پیس کا ڈائریکٹر لگایا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جیکی سوٹون کی عمر 50 سال تھی اور وہ ایک غیر شادی شدہ خاتون تھیں۔ ترک حکام نے اس کی میت پوسٹ مارٹم کے لیے قبضے میں لے لی ہے مگر اس کے سابقہ ساتھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے کبھی سوٹون کو کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا نہیں دیکھا۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ نفسیاتی دبائو کی وجہ سےاس نے خودکشی کا انتہائی قدم اٹھایا ہو۔

ٹاک شو کی نابینا میزبان

چینی معذور خاتون کی حوصلہ افزا داستان ہی کی طرح افغانستان کی ایک دوشیزہ بنفشی احمدی کی زندگی بھی ہڈ حراموں کے لیےاپنے اندربہت سا سبق لیے ہوئے ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بنفشی احمدی ایک نابینا صحافی ہے مگربصارت سے محرومی نے اس کی بصیرت پرکوئی اثر نہیں پڑنے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان دنوں کابل سے نشریات پیش کرنے والے صبا ٹی وی کے ایک ٹاک شو کی میزبان ہے۔ وہ اپنے شو میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو پہچان سکتی ہے اور نہ ہی اسے اسٹوڈیو میں لگے کیمروں کا پتا چلتا ہے مگر اس کے باوجود وہ ایک کامیاب اور مقبول ٹی وی شو کر رہی ہے۔
بنفشی الفاظ کی شناخت کے لیے اپنے سامنے ایک تختی رکھتی ہے جس پر بریل سسٹم کے ذریعے بنائے گئے الفاظ فٹ کیے ہوتے ہیں۔ بنفشی صاحب اولاد خاتون ہیں اور اس نے خود کو بینائی والوں سے زیادہ متاثر کن شخصیت بنانے میں کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ نابینا لوگ بھی ٹی وی میزبان بن سکتے ہیں۔
19Oct15_AA حیر04

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s