اردو شاعر منور رانا نے بھی سرکاری اعزاز واپس کر دیا

October 19, 2015
19Oct15_BBC منور رانا01BBC

بھارت کے معروف اردو شاعر منور رانا نے بھی بھارت کے موجودہ حالات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے بطور احتجاج اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کر دیا ہے۔
منور رانا سے قبل بھارت کے 40 سے زیادہ معروف ادیب اپنے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کر چکے ہیں۔اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے منور رانا نے کہا کہ وہ یہ ایوارڈ موجودہ حالات کے خلاف بطور احتجاج واپس کر رہے ہیں۔کچھ دن پہلے ہی منور رانا نے فیس بک پر پوسٹ کیا تھا کہ ایوارڈ واپس کرنے سے حالات نہیں بدلیں گے اور ادیبوں کو اس کے خلاف اپنا قلم اٹھانا ہو گا۔لیکن اب ایوارڈ واپسی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یا تو منور رانا ڈر گئے ہیں یا بک چکے ہیں، اگر مجھے بكنا ہوتا تو میں 40 برس پہلے بک گیا ہوتا، اب کون میری قیمت لگائے گا۔ میرے لیے یہ ایوارڈ بوجھ بن گیا تھا۔ بس وہی بوجھ اتارا ہے۔‘
19Oct15_BBC منور رانا02
انھوں نے کہا: ’یہ حکومت کے خلاف احتجاج نہیں ہے، یہ تو پورے معاشرے کے خلاف احتجاج ہے، لیکن معاشرے کی دیکھ بھال تو حکومت ہی کرتی ہے۔ اگر سو آدمی یہ فیصلہ کریں کہ اس گھر میں گائے یا بھینس کا گوشت ہے یا اس نے لو جہاد کیا ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ حکومت یا پھر پولیس کا کوئی کردار ہی نہیں رہ گیا۔یہ پوچھنے پر کہ کیا واقعی ملک میں حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں ادیب مخالفت پر اتر آئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ’حالات ابھی اتنے خراب نہیں ہوئے لیکن تیزی سے انتہائی خراب ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کینسر کا علاج پہلے سٹیج پر ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد نہیں۔رانا نے اپنا ادبی ایوارڈ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل اے بی پی نیوز چینل پر براہ راست نشر ہونے والے ایک پروگرام کے دوران واپس کیا۔انھوں نے کہا: ’میں یہ ایک لاکھ کا بلینک چیک حکومت کو دیتا ہوں، وہ چاہے تو اسے کسی اخلاق کو بھجوا دیں، کسی كلبرگي، پنسارے کو یا کسی اس مریض کو جو ہسپتال میں موت کا منتظر ہو۔انھوں نے کہا: ’میں نے شاید غلطی سے یہ ایوارڈ لے لیا تھا، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب زندگی میں کبھی کوئی سرکاری ایوارڈ قبول نہیں کروں گا۔‘
19Oct15_BBC منور رانا03
رانا نے کہا: ’لوگ گھما کر بحث کو نریندر مودی پر لے جاتے ہیں لیکن ملک کا ماحول خراب کرنے کے لیے مودی نہیں بلکہ ملک کے لوگ ذمہ دار ہیں۔ نفرت کے اس ماحول کو دور کرنے کی ذمہ داری تمام شہریوں پر ہے۔ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈز کو بطور احتجاج واپس کرنے کی ابتدا مصنف ادے پرکاش نے کی تھی۔ انھوں نے منور رانا کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔اس سے قبل بنارس کے مصنف کاشی ناتھ سنگھ نے اپنا اعزاز واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حال میں بھارت کے بہت سے مصنفین نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف یا تو ایوارڈ واپس کیے ہیں یا اہم سرکاری اداروں سے ناطہ توڑ لیا ہے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s