ایران شام وعراق میں ‘داعش’ کو اسلحہ فراہم کرتا ہے

October 16, 2015
16Oct15_AA داعش01al-Arabia

نوٹ: یہ یاد رہے کہ العربیہ حکومت سعودیہ کا ترجمان ہے

ایران کے ایک سابق سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کی فوجی مدد کر رہا ہے، حالانکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ شام اور عراق میں “داعش” کے خلاف لڑائی میں مصروف عمل ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے جاپان میں سابق سفیر ابو الفضل اسلامی نے لندن سے شائع ہونے والے فارسی جریدے”کیھان لندن” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراق اور شام میں داعش کے وجود سے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ تہران بغداد اور دمشق میں داعش کے خلاف کارروائی کی آڑ میں داخل ہوا ہے۔ دونوں عرب ملکوں میں داعش کی سرکوبی ایران کا مطمع نظر نہیں بلکہ ایران داعش کو اسلحہ اور فوجی سازو سامان مہیا کر رہا ہے۔ابو الفضل اسلامی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں ٹوکیو میں ایران کے سفیر تھے، تاہم بعد ازاں وہ ایرانی سرکار سے منحرف ہوگئےتھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں سفیر تھا تو میں نے خود دیکھا ہے کہ ایرانی حکومت مختلف عقائد ونظریات رکھنے والے عسکری گروپوں کی مالی اور فوجی مدد کرتا رہا ہے۔ ایران کا دوسرے ملکوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کی مدد کا مقصد ان ملکوں میں بحران پیدا کرکے تہران کے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔

داعش ایرانی مداخلت کا ذریعہ

ایرانی سفارت کار نے کہا کہ میں تھائی لینڈ کے صدر مقام بنکاک میں چار سال تک ایران کا سفیر رہا۔ میں نے یہ بات نوٹ کی کہ سفارت خانے کی جانب سے ہفتہ وار درخواست جاری کی جاتی جس میں پاسداران انقلاب کے طیاروں کو شمالی کوریا اسلحہ اور جنگی سامان لانے کے لے جاتے ہوئے ایندھن بھرنے کی اجازت مانگی جاتی تھی۔ بعد ازاں یہ اسلحہ لبنانی حزب اللہ کو مہیا کیا جاتا تھا۔سابق ایرانی سفارت کار نے بتایا کہ تہران شام میں داعش کے وجود کو اپنےلیے نعمت خیال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبے کی بات نہیں کہ عراق اور شام میں داعش ایران کے مفادات کے تحفظ کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے شام میں اور عراق میں داعش کو تواتر کے ساتھ اسلحہ اور جنگی سامان مہیا کیا جاتا ہے۔

روس ایران کی مدد سے شام میں سرگرم

شام میں روس کی فوجی مداخلت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ابو الفضل اسلامی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی طرح روس کے اپنے مفادات ہیں مگر روس کو اپنے دیرینہ اتحادی ایران کی ہرممکن معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ روس اس وقت مشرق وسطیٰ میں اہم ترین کھلاڑی کے طور پر کھیل رہا ہے۔اس سے قبل ایران اور یورپ مل کر شام میں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔ میں نے سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں بہ طورسفیر کام کیا۔ میری موجودگی میں یورپ اور ایران کے درمیان جوہری عدم پھیلائو کے معاہدے کے لیے مذاکرات ہوتے رہے۔ یورپی حکام کی طرف سے تہران کو بتایا گیا کہ روس کی عرب ایران اورعرب ملکوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ ماسکو ان ملکوں کے مالی فوائد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ روس کے مفادات اسی وقت تک ہیں جب تک تمہاری جیبیں خالی نہیں ہو جاتیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s