گرفتاری نے 14 سالہ طالبعلم کی زندگی بدل دی

September 18, 2015
احمد محمد اپنے والد محمد احسان کے ساتھ — اے پی فوٹو
DU

ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی، فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل کے درمیان اس نوعمر مسلم طالبعلم کے لیے جنگ شروع ہوگئی جسے گزشتہ روز اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنی تیار کردہ ایک گھڑی اسکول لے آیا جہاں اسے بم سمجھ لیا گیا۔
احمد محمد نامی 14 سالہ طالبعلم کو ٹیکساس کے میک آرتھر ہائی اسکول میں پیش آنے والے واقعے کے بعد ہر جانب سے حمایت ملی ہے جسے ہتھکڑیاں پہنا کر بچوں کے قید خانے میں لے جایا گیا تھا۔احمد محمد اپنی گھڑی کے ہمراہ ریاست کے شہر ارونگ میں واقع اپنے اسکول اس امید کے ساتھ گیا تھا کہ وہ اپنی اس کاوش سے اساتذہ کو متاثر کرسکے گا تاہم اسکول نے پولیس کو فون کردیا اور احمد محمد کو ہتھکڑیاں لگاکر بچوں کی جیل منتقل کردیا گیا، تاہم بعد ازاں گھڑی کی تصدیق ہونے پر اسے رہا کردیا گیا۔مگر اس ناخوشگوار تجربے نے لگتا ہے کہ اس طالبعلم کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اہم امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس تخلیقی سوچ رکھنے والے طالبعلم کو اپنے ادارے کا حصہ بنانے کے لیے بے چین ہیں۔ٹوئیٹر کی جانب سے اس حوالے سے ایک ٹوئیٹ میں احمد محمد کو انٹرن شپ کی پیشکش کی گئی۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s