کافر قرار دینے پر حکومت کارروائی کرے گی

چودھری نثار علی خان2
DU

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پیر کے روز کہا کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے پر اب حکومت کارروائی کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرقہ ورایت پھیلانے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔مدارس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بیرونی امداد کا طریقہ کار حکومت وضع کرے گی جبکہ رجسٹریشن کے حوالے سے اتفاق رائے ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا مدارس کی رقوم کی ترسیل بینکوں کے ذریعے کی جائے گی جس پر رضامندی ظاہر کردی گئی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مدارس کی آسان رجسٹریشن کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ تین ماہ میں ان کے تمام کوائف حاصل کیے جائیں گے۔چوہدری نثار نے کہا کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے مذہب اور ملک سے مخلص نہیں، دہشت گردی میں ملوث افراد یا ادارے کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، انہیں بدنام کرکے مالی امداد حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے علما کرام کا کردار قابل تحسین ہے، انہوں نے ہی خود کش حملوں کو حرام قرار دیا۔چوہدری نثار نے مزید کہا کہ سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردمدارس سے نہیں یونیورسٹی سے پڑھے تھے۔

دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے
دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں لڑی جانے والی جنگ کامیابی سے جاری ہے اور دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔وزیراعظم نے یہ گفتگو وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ پاکستان مدارس کی پانچ تنظیموں کے اتحاد کے نمائندہ علما سے خطاب کرتے ہوئے کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان ہمارے ملک کا اہم ایجنڈا ہے جس کے متفقہ نکات پر ہم بتدریج عمل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بامعنی عمل کے لیے ضروری تھا کہ مختلف مکتبہ فکر کے علما سے مشاورت کی جائے۔

اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات بھی شریک تھیں۔
نوازشریف
وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب مل کر اس ملک کو دہشت گردی سے پاک کررہے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے اتھ کی ضرورت ہے۔انہوں نے وفد کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سکون اور امن آنے سے ساری خرابیاں دور ہوں گی، ہم نیشنل ایکشن پلان کے ایجنڈے کی سیاست سے بالاتر ہوکر تکمیل چاہتے ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مدرسوں کے تقدس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، ہم دل سے محسوس کرتے ہیں کہ مدرسے مثبت کردار ادا کررہے ہیں اور ان کی اصلاحات کے لیے ہر قسم کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں مل جل کر امن قائم کرنا ہوگا اور دہشت گردی اور فرقہ واریت کے زہر کو ختم کرنا ہوگا۔اجلاس میں مولانا تقی عثمانی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مفتی منیب الرحمان سمیت دیگر علمائے کرام بھی موجود تھے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s