پناہ گزینوں کے روپ میں “داعش” کی یورپ تک رسائی

September 04, 2015
04Sep15_AA داعش یورپ میں
al-Arabia

شرپسند عناصر شام کے جعلی پاسپورٹس کا استعمال کرنے لگے
یورپی ممالک سے شام اور عراق میں سرگرم سخت گیرجنگجو گروپ دولت اسلامی “داعش” میں جنگجوئوں کی شمولیت کے ہنگامے کے بعد اب تصویر کا دوسرا رخ سامنے آیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ شام سے “داعشی” عناصر پناہ گزینوں کے روپ میں یورپی ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں بلغاریہ کے “نووا” ٹیلی ویژن چینل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مقدونیا کی سرحد سے متصل Gyueshevo نامی علاقے سے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے افراد شامی پناہ گزینوں کے روپ میں یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس نے ان کے سامان اور موبائل فون کی تلاشی لی۔ تفتیش کے دوران ان کے قبضے سے داعش کے ہاں مخالفین کے سرقلم کرنے اور انہیں ذبح کرنے ویڈیو فوٹیجز، “داعشی ریاست” کے حق میں لٹریچر اور دیگر متنازع اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے پانچ مشتبہ داعشی عناصر کی عمریں 20 سے 24 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کوان پر شبہ اس وقت ہوا جب انہوں نے ایک ٹریفک پولیس کو ڈالر کا ایک بنڈل رشوت میں دینے کی پیشکش کی۔ اس پر پولیس نے ان کے سامان کی تلاشی لی تو پتا چلا کہ ان کا تعلق دولت اسلامی “داعش” کے ساتھ ہے اور وہ مقدونیا کے راستے یورپی یونین کے ممبر ملکوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ مشتبہ جنگجوئوں نے بتایا کہ مقدونیا میں ان کا ایک ساتھی ان کے انتظار میں ہے جو قانونی طریقے سے ان سے پہلے وہاں پہنچا تھا۔ اس نے اپنی گاڑی کے ذریعے ہمیں یورپی ملکوں تک پہنچانا ہے۔

ترکی میں جعلی شامی پاسپورٹس کا کاروبار
بلغارین ذرائع ابلاغ کی روپرٹس میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کے راستے یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کے علاوہ جنگجو گروپوں سے تعلق رکھنے والے عناصر کے پاس شام کے اصلی پاسپورٹس نہیں ہوتے بلکہ انہیں جعلی پاسپورٹس ترکی سے با آسانی مل جاتے ہیں۔ یہ پاسپورٹس شامی پناہ گزینوں کو یورپی ملکوں میں پناہ کے حصول میں مدد گار بھی ثابت ہوتے ہیں۔ ان پناہ گزینوں کی صفوں میں ایسے لوگ بھی یورپ درآتے ہیں جن کا تعلق “داعش” یا دوسرے سخت گیر جنگجوئوں کے ساتھ رہا ہوتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعشی عناصر کا یورپ میں آنے کامقصد بھی یہاں پر امن وامان کو خراب کرنا اور یورپی ملکوں میں بم دھماکے کرنا ہے۔فرانسیس کے ایک عہدیدار فابریس لوجیری نے بھی “یورپ ون” ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترکی سے شامی پناہ گزینوں کو شام کے پاسپورٹس با آسانی مل جاتے ہیں جنہیں وہ لوگ یورپ میں پناہ کے حصول میں استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں کو بھی شام سے آنے والے مہاجرین کے خطرات کا اندازہ ہے مگر وہ انسانی بنیادوں پر ان کی مدد کررہے ہیں۔

رواں سال فروری میں ترک پولیس کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شام اور عراق سے 3000 مشتبہ جنگجو ترکی کی سرزمین میں داخل ہوچکے ہیں۔ ممکنہ طورپر یہ جنگجو کسی دوسرے ملک کا رخ کرنے والے ہیں۔ ان میں سے ایک مشتبہ شخص کی بلغاریہ روانگی کی بھی اطلاعات ہیں۔ادھرلیبیا نے بھی متعدد مرتبہ خبردار کیا ہے کہ یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کی صفوں میں “جہادی” عناصر بھی ہوسکتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s