حکو مت ایم کیو ایم کے مذا کرا ت نا کام

September 04, 2015
04Sep15_KH ایم کیو ایم
Khabrain

اسلام آباد، کراچی (نامہ نگار خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی مومنٹ اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی، ایم کیوایم نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے دوران 2مطالبے پورے نہ ہونے پر مذاکرات ختم کئے ۔نجی ٹی وی مطابق گزشتہ روز حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کا عمل شکایات ازالہ کمیٹی کے قیام کے اتفاق پر شروع ہوا تھا تاہم اس دوران ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کی جانب سے 2 مطالبات پیش کئے گئے ،ایم کیو ایم جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ خدمت خلق فاﺅنڈیشن ایک عوامی فلاح وبہبود کا ادارہ ہے ،اس ادارے کو کراچی میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی اجازت دی جائے،خدمت خلق فاﺅنڈیشن پر پابندی کی وجہ سے ایم کیو ایم کے 8 فیصد وسائل کم ہو چکے ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خدمت خلق فاﺅنڈیشن پر فنڈنگ پرپابندی عائد کررکھی ہے جبکہ دوسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر پر فوری طور پر پابندی ہٹائی جائے ،کراچی میں ماورائے آئین کارکنوں کا قتل عام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے الطاف حسین نے اداروں کے خلاف بیان غصے میں دیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے ان مطالبات کو ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے جو مذاکراتی کی ناکامی کا سبب بنا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کی آڑمیں ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے،حکومت کا رویہ سنجیدہ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ماورائے عدالت کارروائیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہم نے ہر دروازے پر دستک دی مگر کوئی داد رسی نہیں ہوئی۔ کارکنوں کو بازیاب کرانے کے لیے اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ بے بنیادالزامات کے ذریعے ایم کیوایم کامیڈیاٹرائل کیاجارہااورسیاسی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کارکن الطاف حسین کو سننا چاہتے ہیں، الطاف حسین کی تقریر پر پابندی ختم کی جائے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ہم نے آئینی اور قانونی معاملات اٹھائےہیں، ہمارے مطالبات پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اس لیے مذاکرات کو آگے بڑھانا بے سود ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم کی فلاحی سرگرمیوںپر غیر اعلانیہ پابندی ختم کی جائے۔انھوںنے کہاکہہمارے ایک سو پچاس کارکنوں کو بازیاب کرانے کیلئے اقدامات نہیں کئے جارہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکن قائد الطاف حسین کو سننا چاہتے لیکن ان کی تقاریر پر پابندی عائد کردی گئی ہے جسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف سے معاملات کے حل کیلئے دلچسپی لینے کی اپیل کی تھی اس معاملے پر انہیں اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے چاہیے، وہ کس طرح اپنی ذمہ داری سے صرف نظر کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بتادیا ہے کہ ہمارے تین معاملات ہیں جو بیس دن ہو گئے ہیں حل نہیں ہورہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف سے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملاقات کی، جس میں ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مشاورت کی گئی، وزیرخزانہ نے وزیراعظم کو ایم کیو ایم سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور متحدہ کی شرائط سے آگاہ کیا، وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے کردار کو فعال کرنے کی ہدایت کر دی۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف سے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملاقات کی، ملاقات میں ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیرخزانہ نے وزیراعظم کو ایم کیو ایم سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور متحدہ کی شرائط سے آگاہ کیا، جس پر وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے کردار کو فعال کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت کے بعد وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے انہیں دوبارہ استعفوں کے معاملے پر فعال ہونے اور مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے خاتمے کےلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کریں گے۔ ایم کیو ایم کی طرف سے مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد وزیر اعظم اور اسحاق ڈار نے آپس میں صلاح مشورہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمٰن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لئے ایک بار پھر مولانا فضل الرحمٰن کو ذمہ داری سونپ دی۔ اسحاق ڈار نے فضل الرحمن سے درخواست کی ہے کہ وہ بات چیت کے لئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے رابطہ کریں۔ اس سے پہلے فضل الرحمن نے خود بھی اعلان کیا تھا کہ وہ ثالثی کا کردار جاری رکھیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ تمام مذاکرات غیر مشروط کرنے کی بات ہوئی تھی اور آج ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جانا تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی نے اس سارے عمل کو سبوتاڑ کر دیا ہے۔ الطاف حسین کے خطاب پر پابندی حکومت نے نہیں ہائیکورٹ نے لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کیلئے ازالہ کمیٹی آج صبح تک بنا دی جائے گی۔ ایم کیو ایم کے رہنما کنور نوید نے کہا کہ ہم نے ایوانوں میں استعفے واپس لینے کےلئے نہیں دئیے تھے ہم پاکستان کی عدلیہ اور حکومت سے مایوس ہوگئے یہ ہمیں انصاف دینے کے لئے تیار نہیں ہیں پھر ہم نے استعفے دئیے تاکہ پاکستان کے عوام اور دنیا بھر کے سامنے اپنی مشکلات لیکر جائیں ہم نے جب استعفے دئیے تو اسمبلی میں چیلنج نہیں کیا تھا کہ یہ بوگس اسمبلی ہے اس وقت ہم نے اپنے 19 مطالبات بتائے تھے۔ انہوں نے ہم سے رابطہ کر کے ان کو دور کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس کو 20 دن ہوگئے اس سے قبل ہم جو مذاکرات کا دور کر کے گئے تھے اس میں سات آٹھ دن کا فرق آ گیا اور ہم مایوس ہو گئے تھے کہ شاید ان کا ہمارے مطالبات کو دیکھ کر اس کو آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات سیاسی نکتہ نظر اور ایم کیو ایم کے نکتہ نظر سے اچھے نہیں ہیں۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s