کراچی میں خاتون استاد اغوا کے بعد قتل

September 03, 2015
03Sep15_DU قتلDU

کراچی : کراچی میں بدھ کو ایک خاتون استاد کو اغوا کے بعد قتل کرنے کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ایس پی لانڈھی عفان امین نے بتایا تھا کہ اساس سے قبل ایس پی لانڈھی عفان امین نے بتایا تھا کہ اس خاتون استاد جس کی شناخت 26 سالہ قرة العین کے نام سے ہوئی، کی لاش کورنگی کے اللہ والا ٹاؤن کے سنسان علاقے میں دریافت ہوئی۔ایس پی لانڈھی نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے ملزمان کی شناخت اور مقصد کے حوالے سے ” اہم شواہد” حاصل کیے ہیں جبکہ ایک شخص کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

لاش کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں منتقل کردیا گیا ہے اور ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ موت کی وجہ کا تعین کیمیکل معائنے کے بعد ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ لاش پر خراشوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔تاہم اب ایس پی گلشن عابد قائم خانی نے بتایا کہ مقتول کے ورثاء نے پی آئی بی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی بیٹی صبح ساڑھے سات بجے سے پی آئی بی کالونی کے ایک نجی اسکول سے غائب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسکول کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے علم ہوا ہے کہ ایک لڑکی جس کی شناخت عالیہ کے نام سے ہوئی، صبح اپنی دوست رباب اور ایک شخص باقر کے ساتھ اسکول پہنچی۔ایس پی قائم خانی کے مطابق یہ تینوں قرة العین کو ڈیفنس میں سعودی قونصلیٹ کے پاس ایک ‘ریسٹ ہاؤس’ میں لے گئے۔اس علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ عالیہ، قرة العین اور ایک شخص گاڑی سے باہر آئے اور ریسٹ ہاؤس کے اندر چلے گئے جبکہ رباب اس گاڑی میں وہاں سے چلی گئی۔ بعد ازاں قرة العین کی لاش کورنگی سے دریافت ہوئی جس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے۔

ایس پی گلشن نے بتایا کہ پولیس نے عالیہ اور ایک شخص حسن کو حراست میں لے لیا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ مقتولہ کا منگیتر ہے۔عابد قائم خانی کے مطابق ” ابتدائی تفتیش سے عندیہ ملتا ہے کہ عالیہ نے قرة العین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ اس کے منگیتر حسن سے شادی کرسکے”۔تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ عالیہ نے قرة العین کی دوست رباب کی مدد لی تاکہ مقتولہ کو گروپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار کرسکے۔

ایس پی قائم خانی کا کہنا تھا کہ عالیہ نے مقتولہ کو ” قرة العین اور حسن کے درمیان کچھ غلط فہیموں کو دور کرانے کے وعدے کا جھانسا دے کر لے گئی”۔ ان کے مطابق حسن نے خود کو ایک سماجی رضاکار کے طور پر متعارف کرایا مگر اس کی سرگرمیاں ” مشتبہ ” ہیں اسی لیے اسے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایک اور تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو تفتیش کرے گی کہ ڈیفنس کے ریسٹ ہاؤس میں کون کون موجود تھا اور کیا مقتولہ کو اسی مقام پر تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا تھا یا نہیں۔

ملزمان کی شناخت چھپانے کے لیے ان کے نام تبدیل کردیے گئے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s