داعش نے چارعراقی جنگجوؤں کو زندہ جلا دیا

1Sep15_AA داعش00
Video


al-Arabia

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اپنے مخالف جنگجوؤں اور یرغمالیوں کو تہ تیغ کرنے یا زندہ جلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ان کی سفاکیت کا مظہر ایک نئی ویڈیو انٹرنیٹ کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے۔اس میں انھوں نے زنجیروں میں جھکڑے ہوئے چار عراقی شیعہ جنگجوؤں کو زندہ جلا دیا ہے۔ ان چاروں افراد کی شناخت حکومت نواز ملیشیا حشد الشعبی کے جنگجو کے طور پر کی گئی ہے۔انھیں پشت پر ہتھکڑی لگائی گئی ہے اوران کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں۔ داعش نے کہا ہے کہ ان افراد کو حکومت نواز فورسز کے ہاتھوں چار سنی جنگجوؤں کو اسی طرح زندہ جلائے جانے کے ردعمل میں ہلاک کیا جارہا ہے۔  ویڈیو میں ایک نقاب پوش جنگجو کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ آج انتقام کا وقت آگیا ہے۔ہم ان پر اسی طرح حملہ کریں گے جس طرح وہ ہم پر حملہ آور ہوں گے۔انھیں اسی انداز میں سزا دیں گے جس انداز میں وہ ہمیں سزا دیں گے۔
1Sep15_AA داعش03
اس ویڈیو پر کوئی تاریخ ہے اور نہ کسی خاص مقام کا ذکر ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہ کب اور کہاں فلمائی گئی تھی۔البتہ اس کے ساتھ ایک ٹیگ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عراق کے مغربی صوبے الانبار میں داعش کے میڈیا یونٹ نے تیار کی ہے۔اس ویڈیو میں ایک سُنی شخص کا ایک کلپ بھی شامل ہے۔حکومت نواز شیعہ ملیشیا کے جنگجوؤں نے اس کو زندہ حالت میں آگ لگا دی تھی۔اس موقع پر حکومت نواز فورسز کے جنگجو بھی موجود تھے۔ایک اور کلپ مشہور شیعہ جنگجو ابوعزرائیل کا ہے۔اس نے اپنی تلوار کے ساتھ جلی ہوئی لاش کا ٹکڑا اٹھایا ہوا ہے۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجو ان مبینہ ملزموں یا اپنے مخالفین کو بھیانک انداز میں سزائیں دینے کی ویڈیوز گاہے گاہے جاری کرتے رہتے ہیں۔انھوں نے مختلف اوقات میں یرغمال مغربی صحافیوں ،امدادی کارکنوں یا شامی اور عراقی فوجیوں کو ذبح کرنے ،انھیں قطاروں میں کھڑا کرکے اکٹھے گولیاں مارنے اورعورتوں کو سنگسار کرنے کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔
1Sep15_AA داعش02
شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ داعش نے اپنے کنٹرول والے علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔داعش کے زیرنگیں علاقوں میں لوگوں پر دہشت کے ذریعے حکمرانی کی جارہی ہے،ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے،سرقلم کیے جارہے ہیں،عورتوں کو باندیاں بنایا جا رہا ہے اور انھیں جبری حاملہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ جہادی بچے جنیں۔رپورٹ کے مطابق داعش کے کمانڈر ان جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے ارتکاب کے ذاتی طور پر ذمے دار ہیں۔پینل نے جرائم میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
1Sep15_AA داعش01
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s