بھارت: پنچایت کا دو لڑکیوں سے حرام کاری کا حکم

31 August,2015
31Aug15_AA ریپ02al-Arabia

بھارت کی ریاست اُترپردیش (یو پی) میں ایک گاؤں کی پنچایت کونسل نے دونوجوان لڑکیوں کے ساتھ حرام کاری کا حکم دیا ہے۔پنچایت نے فیصلہ ان دونوں لڑکیوں کے بھائی کے اعلیٰ ذات کی ایک عورت کے ساتھ بھاگ جانے کی پاداش میں دیا ہے۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق تیئیس سالہ مناکشی کماری اور اس کی پندرہ سالہ چھوٹی بہن کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ نیچ ذات دلت سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا بھائی جٹ برادری کی ایک شادی شدہ عورت کو بھگا کر لے گیا تھایا وہ خود اس کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔گاؤں کی پنچایت کونسل نے ان کے بھائی کے اس جُرم کی پاداش میں نہ صرف ان دونوں لڑکیوں کے ساتھ حرام کاری کا حکم دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ انھیں مُنھ کالا کرکے گاؤں میں ننگے پھرایا جائے۔پنچایت کے اس حکم اور دھمکیوں کے بعد مناکشی کماری اور ان کا خاندان اترپردیش کے ضلع بھاگ پت سے بھاگ کر دارالحکومت نئی دہلی آ گئے ہیں۔یہ معاملہ انسانی حقوق کی عالم تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے مداخلت کے بعد سامنے آیا ہے۔ایمنسٹی نے مقامی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہونے سے روکیں۔

ایمنسٹی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس قابل نفرین سزا کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ہے ،یہ منصفانہ ہے اور نہ ہی درست ہے اور یہ قانون کے بھی خلاف ہے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مناکشی کماری نے بھارت کی عدالت عظمیٰ میں بھی ایک درخواست دائر کی ہے جس میں اس نے استدعا کی ہے کہ اس کو اور اس کے خاندان کو تحفظ مہیا کیا جائے۔اس نے الزام عاید کیا ہے کہ مقامی پولیس نے بھاگنے والی لڑکی کے جٹ خاندان کے دباؤ پر اس کے بھائی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا ہے۔مقامی عدالت اس کے بھائی کو ضمانت دے چکی ہے لیکن وہ اس کی رہائی کے لیے ضمانتی دستاویزات کی تیاری کی غرض سے گاؤں جانے سے خوف زدہ ہیں۔
31Aug15_DU ریپ01
عدالت عظمیٰ کی ایک بینچ نے حکام کو نوٹس جاری کردیا ہے اور انھیں واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔مناکشی کماری نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا بھائی اور جاٹوں کی لڑکی گذشتہ تین سال سے ایک دوسرے سے محبت کررہے تھے لیکن اس لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کسی اور لڑکے سے کردی گئی تھی۔

شادی کے ایک ماہ کے بعد وہ لڑکی اپنے خاوند کے گھر سے بھاگ کر اس کے بھائی کے ساتھ چلی گئی تھی۔ان دونوں نے بعد میں لڑکی کے خاندان اور یوپی پولیس کے تشدد کے بعد خود کو حوالے کردیا۔اس لڑکی کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیا گیا اور مناکشی کے بھائی کو منشیات کے جھوٹے کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔یہ لڑکی مبینہ طور پر حاملہ ہے اور اپنے اس عاشق کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔مناکشی کماری کے خاندان کے جانیں بچا کر نئی دہلی چلے جانے کے بعد جٹ برادری کے افراد نے ان کے مکان کو نذرآتش کردیا ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے۔واضح رہے کہ بھارت کے دیہات میں ہندوؤں میں اس جدید دور میں بھی ذات پات کا نظام قائم ہے۔برہمن ،ویش ،کھشتری اور شودر اعلیٰ ذات کے ہندو مانے جاتے ہیں جبکہ باقی قوموں کو اُچھوت قرار دیا جاتا ہے۔دلّت ان میں سب سے نچلے درجے پر ہیں اور ان کے ساتھ معاشرتی سطح پر غیر مساوی اور بعض مقامات پر انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s