وکیل کا قتل: رینجرز ہیڈ کوارٹرز پر دھرنا

30 August, 2015
RT14a
30Aug15_DU امیر05DU

کراچی: سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایڈووکیٹ کے قتل کے خلاف وکلا نے رینجرز کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے وکیل سید امیر حیدر شاہ کو جمعہ کی شام کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔سید امیر حیدر شاہ ایڈووکیٹ کے قتل کے خلاف وکلاء نے سٹی کورٹ میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء نے سٹی کورٹ میں داخلی راستوں پر تالے ڈال دئیے ، جس کے باعث کوئی بھی سائل یا پیشی پر آنے والے افراد کورٹ میں داخل نہ ہو سکے۔
30Aug15_DU امیر02
کراچی: گلشن اقبال میں وکیل قتل
وکلاء کے احتجاج اور تالہ بندی کے باعث عدالتوں میں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی۔بعد سٹی کورٹ کے احاطے میں ہی امیرحیدر شاہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔غائبانہ نماز جنازہ کے بعد وکلاء کی جانب سے ریلی بھی نکالی گئی۔ریلی میں شریک وکلاء احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے قریب ریڈ زون میں داخل ہو گئے۔مظاہرین ریلی کی صورت میں رینجرز ہیڈ کوارٹرز جناح کورٹس کے سامنے پہنچے اور وہاں دھرنا دے دیا۔احتجاج کرنے والے وکلا امیر حیدر شاہ ایڈووکیٹ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
30Aug15_DU امیر04
دھرنے کے دوران رینجرز حکام کی جانب سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے وفد کو مذاکرات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد کراچی بار کے 6 رکنی وفد نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سندھ رینجرز میجر جنرل بلال اکبر سے ملاقات کی۔وکلاء کا وفد کی قیادت کراچی بار کونسل کے صدر نعیم قریشی کر رہے تھے۔
30Aug15_DU امیر03
رینجرز کے ترجمان کے مطابق میجر جنرل بلال اکبر نے وکلاء کو قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دھانی کروائی۔ڈی جی رینجرز نے کہا کہ قاتلوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وکلاء کو سیکیورٹی خدشات پر میجر جنرل بلال اکبر کا کہنا تھا کہ وکلاء کو ملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے ایک ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے جس کی سربراہی رینجرز کے لیفٹننٹ کرنل کے عہدے کا افسر کرے گا۔کراچی بار کے رینجرز حکام سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔واضح رہے کہ مقتول سید امیر حیدر شاہ سندھ ہائی کورٹ میں وکالت کر رہے تھے جبکہ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق عہدیدار بھی تھے۔خیال رہے کہ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قتل کی وجہ ان کا پیشہ ہوسکتا ہے کیوں کہ امیر حیدر شاہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے کیسز بھی لیا کرتے تھے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s