پیغمبرِ اسلام پر ایرانی فلم ریلیز کر دی گئی

28 August, 2015
28Aug2015_BBC فلم01
BBC

پیغمبرِ اسلام کے بچپن پر بننے والی ایران کی سب سے مہنگی فلم ’محمد‘ جمعرات کو ایران میں ریلیز کر دی گئی ہے جسے اب تک دیکھنے والوں نے کافی سراہا ہے۔
اس 171 منٹ کی فلم کے خالق ایران کے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم ساز اور ہدایت کار مجید مجیدی ہیں۔سات سال کے عرصے میں بننے ولی اس فلم پر تقریباً چار کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے جس میں سے آدھی رقم حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔یہ فلم پیغمبرِ اسلام کی زندگی پر بنی ہے اور اسے تین حصوں میں مکمل کیاگیا ہے۔جو فلم ریلیز ہوئی ہے وہ پہلا حصہ ہے اور اس میں پیغمبرِ اسلام کی پیدائش سے ان کے شام کے پہلے دورے تک کے واقعات کا احاطہ کیاگیا ہے جب ان کی عمر 12 برس تھی اور روایت کے مطابق راستے میں ایک عیسائی راہب نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک دن خدا کے نبی بنیں گے۔فلم کی بیشتر شوٹنگ تہران سے کچھ دور واقع ایک پہاڑی علاقے میں کی گئی ہے جہاں چھٹی اور ساتویں صدی کے مکہ اور مدینہ کا ایک وسیع سیٹ تیار کیا گیا۔مجیدی فلم کا کچھ حصہ بھارت میں شوٹ کرنا چاہتے تھے لیکن سابق من موہن سنگھ حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ فلم کا کچھ حصہ جنوبی افریقہ میں فلماياگیا ہے۔ فلم میں سپیشل ایفکٹس کیمرے اور موسیقی کے لیے دنیا کے نامور ماہرین کی مدد لی گئی ہے۔ اس فلم کو ایران کی سرکاری سرپرستی اور منظوری حاصل ہے۔مجید مجیدی کا کہنا ہے کہ فلم بین الاقوامی سطح پر پیغام پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ ہے، اور وہ اس فلم کے ذریعے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہےکہ انھوں نے سنی اور شیعہ دونوں مسلکوں کے علما سے صلاح و مشورے کے بعد متفقہ پہلوؤں کی بنیاد پر یہ فلم بنائی ہے اور اس کا مقصد اسلام کا اتحاد بھی ہے۔
28Aug2015_BBC فلم02
اسلام میں بالخصوص سنی مسلک میں پیغمبرِ اسلام کی تصویر یا شبیہ پیش کرنے کی ممانعت رہی ہے۔ شیعہ مسلک کا تصور سنیّوں کے مقابلے نسبتاً اعتدال پسند رہا ہے۔مجیدی نے اس فلم میں پیغمبرِ اسلام کےبچپن کا کردار ادا کرنے والے کا چہرہ نہیں دکھایا ہے۔ انھیں صرف پشت سے دکھایا گیا ہے اور واقعات کو پیش کرنےمیں دیگر کرداروں کی مدد لی گئی ہے۔مجیدی کی ان حساس کوششوں کے باوجود اس فلم کی ابتدا سے قبل سنیّوں کے سرکردہ مذہبی ادارے جامعہ الازہر نے اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ یہ فلم بننے کی اجازت نہ دے۔قطر نے تو یہاں تک اعلان تھا کہ وہ خود ایک ارب ڈالرکی مالیت سے پیغمبرِ اسلام پر اپنی ایک فلم بنائے گا۔سّنی آبادی والے بیشتر عرب ملکوں میں یہ فلم شاید ریلیز نہ ہو۔

اس فلم کی ریلیز پر بھارت اور پاکستان جبیسے ملکوں میں بھی مسلمانوں کے کچھ حلقوں کی طرف سے اعتراض کیے جانے کا قوی امکان ہے۔بہت ممکن ہے کہ حکومت سے اس فلم پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کیا جائے اوراگر ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو کوئی حیرانی نہیں ہوگی اگر حکومت بدامنی پھیلنے کے نام پر اس فلم کی نمائش پر پابندی بھی لگا دے۔لیکن اس فلم کے خلاف احتجاج مظاہرہ یا اس فلم پر پابندی کا مطالبہ غلط ہوگا۔ اس فلم پر کسی تنازع کا کوئی سبب نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب پیغمبروں پر فلم بنی ہو۔

فلم کے ڈائریکٹر مجیدی کا کہنا ہے کہ حضرت عیسٰی پر ڈھائی سو فلمیں بن چکی ہیں۔ حضرت موسیٰ پر سو سے زیادہ فلمیں ہیں، دوسرے پیغمبروں پر 80 سے زیادہ فلمیں بنی ہیں جبکہ ’دی مسیج‘ واحد فلم ہے جو پیغمبرِ اسلام پر بنی ہے اور وہ فلم اسلام کے بارے میں صرف جہاد اور تلوار کا تصور پیش کرتی ہے۔اس لیے دنیا کو پیغمبرِ اسلام سے روشناس کرانے کی یہ ان کی کوشش ہے۔سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے اس دور میں کتابوں، خیالات، تقریروں اور فلموں پر پابندی بے معنی ہو چکی ہے۔یہ صرف کسی ریاست یا گروپ کی اجتماعی ذہنیت اور تنگ نظری کی عکاس ہو سکتی ہے۔ کسی کتاب، تصور اور فلم سے لاتعلق ہو کر اسے مسترد کیا جا سکتا ہے یا پھر اسی شکل میں اس سے بہتر جواب دیا جا سکتا ہے۔یہ فلم کسی بھی دوسری فلم کی طرح ایک فلم ہے اور ہر شخص کو اسے دیکھنے یا نہ دیکھنے کی آزادی حاصل ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s