نئی ’مسلم لیگ‘ بنانے کی کوششیں تیز

27 August, 2015
پرویزشجاعت
DU

لاہور: بلدیاتی انتخابات سے قبل سابق صدر پرویز مشرف اور چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں ’متحدہ مسلم لیگ‘ کے ممکنہ نام سے ایک ’نئی سیاسی پارٹی‘ بنانے کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔
نئی پارٹی بنانے کا مقصد پی ایم ایل-ن، پی ٹی آئی اور پی پی پی کا مقابلہ کرنا ہے۔ڈان کو معلوم ہوا ہے کہ پی ایم ایل-ق کے سینئر رہنماؤں نے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہی کوآل پاکستان مسلم لیگ کے صدر پرویز مشرف، پی ایم ایل-ف کے سربراہ پیر پگاڑا صبغت اللہ شاہ راشدی، سندھ کے سابق وزیر اعلٰی سید غوث علی شاہ اور ن-لیگ کے کچھ ناراض رہنماؤں سے رابطہ کرنے اور مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔بدھ کو گجرات کے چوہدریوں نے متحدہ مسلم لیگ بنانے کے منصوبے پر غور کے لیے ق-لیگ کے رہنماؤں ایس ایم ظفر، خالد رانجھا، طارق بشیر چیمہ، بشارت راجا، چوہدری ظہیر الدین، علیم عادل شیخ، اسد جونیجو، انور بھنڈر اور سالک حسین سے مشاورت کی۔اس موقع پر شرکا نے چوہدری شجاعت اور پرویز الہی کو حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔چوہدری شجاعت نے پارٹی رہنماؤں کو ن-لیگ کے علاوہ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کی ’ضرورت‘ کے حوالے سے بتایا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک رہنما نے ڈان کو بتایا کہ چوہدری شجاعت مشرف، پیر پگاڑا اور غوث علی شاہ سے ملاقات کیلئے جمعہ کو کراچی جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ق-لیگ ذوالفقار کھوسہ جیسے ناراض ن-لیگیوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے گی۔انہوں نے نئی پارٹی کے سربراہ (شجاعت یا مشرف) سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس کا فیصلہ مشاورت سے ہو گا۔

فی الحال ہماری پوری توجہ تمام مسلم لیگی دھڑوں ،ماسوا ئےنون لیگ کے، ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے اور خود کو ایک مضبوط سیاسی قوت بنانے پر ہے۔جنوبی پنجاب کے سینئر سیاست دان سردار ذوالفقار کھوسہ نے ڈان کو بتایا کہ مائنس ن لیگ تمام دوسرے دھڑوں کا ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ہم نے پہلے تمام لیگی دھڑوں کا اتحاد بنانے پر غور کیاتھا لیکن بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک نئی پارٹی بنائی جائے۔

سابق گورنر نے بتایا کہ انہوں نے شریف بردران کی ’آمرانہ ذہنیت ‘ سے ناراض وسطی اور بالائی پنجاب کے کم از کم 75 ن-لیگی ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے ملاقات کی ہے۔کھوسہ کے مطابق، ون مین شو پر یقین رکھنے والے شریف برادران پارٹی کارکنوں کو عزت نہیں دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ غوث علی شاہ بھی کچھ ناراض ن-لیگی رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔نئی پارٹی میں مشاورت سے فیصلے ہوں گے اور پارٹی کی تشکیل کا طریقہ کار طے پانے کے بعد تمام رہنماؤں کی مشاورت سے قیادت منتخب کی جائے گی۔کھوسہ نے انکشاف کیا کہ نئی مسلم لیگ بلدیاتی انتخابات سے پہلے بن سکتی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s